نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

Showing posts with label انٹرویو/ خاص لوگ/انمول رتن. Show all posts
Showing posts with label انٹرویو/ خاص لوگ/انمول رتن. Show all posts

اگر ہم ایمان، عدل اور دیانت پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو ہمیں خود میدان عمل میں اترنا ہوگاـ:ناظمہ اجتماعِ عام و ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید

  اگر ہم ایمان، عدل اور دیانت پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو ہمیں خود میدان عمل میں اترنا ہوگاـ:ناظمہ اجتماعِ عام و ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید



چترال (انٹرویو:شاہدہ بٹ)جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی ناظمہ اجتماعِ عام و ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید نے اپنے خصوصی انٹرویو میں آئندہ اجتماعِ عام کے مقاصد، اہمیت اور مرکزی پیغام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا اجتماع گیارہ سال بعد نئی روح اور نئے عزم کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل چہروں کے نہیں بلکہ نظام کے بدلنے میں ہے۔

ثمینہ سعید نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کردار کی تبدیلی سے ممکن ہے، اور خواتین معاشرے کی بنیاد ہیں، اگر وہ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی سطح پر اسلامی اقدار کو زندہ کریں تو حقیقی تبدیلی ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجتماعِ عام کا محور اسلامی نظام عدل و حکمرانی، خاندانی نظام کا استحکام، اور نوجوان نسل کی نظریاتی تربیت ہوگا۔ اجتماع میں خواتین، نوجوانوں اور بچوں کے لیے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں “جہان آباد تم سے ہے” خواتین کانفرنس، “یوتھ ایرینا” اور بچوں کے لیے اصلاحی و تفریحی پروگرام شامل ہیں۔

ثمینہ سعید نے کہا کہ اجتماع کے بعد “بدل دو نظام” کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا اور ملک گیر فکری مہم چلائی جائے گی۔ آخر میں انہوں نے خواتین کو پیغام دیتے ہوئے کہا اب  کردار، قیادت اور قربانی کا وقت ہے۔ اگر ہم ایمان، عدل اور دیانت پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو ہمیں خود میدان عمل میں اترنا ہوگا۔





Share:

’’ انصاف صحت کارڈ عوام کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں‘‘

 


’’ انصاف صحت کارڈ عوام کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں‘‘


چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے وژن کے تحت عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل


 ڈیوٹی سے غفلت، نااہلی، بدانتظامی،فرض میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ،محکمہ صحت کی ٹیمیں مریضوں کو دن رات طب کی معیاری اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، ہسپتالوں کی کارکردگی مانیٹر کرتا رہوں گا: صوبائی وزیر صحت کا خصوصی انٹرویو



لاہور(انٹرویو:شاہدہ بٹ)ڈیوٹی سے غفلت، نااہلی، بدانتظامی،فرض میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،محکمہ صحت کی ٹیمیں مریضوں کو دن رات طب کی معیاری اور جدیدسہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، ہسپتالوں کی کارکردگی مانیٹر کرتا رہوں گا۔یہ باتیں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے انٹرویو کے دوران کہیں۔

انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ ڈیوٹی سے غفلت، نااہلی، بدانتظامی،فرض میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیںکی جائے گی ،محکمہ صحت کی ٹیمیں مریضوںکو دن رات طب کی معیاری اور جدیدسہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاںہیں، ہسپتالوں کی کارکردگی مانیٹر کرتا رہوں گا۔

میں خود ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کرتا ہوں اورخدمت کے لئے کوشاں ہوں۔ میں نے گزشتہ دنوں 4 مختلف سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کیا تھا اور مریضوں کو فراہم کردہ طبی سہولیات کا جائزہ لیاتھا۔ واہ کینٹ جنرل ہسپتال اور ٹیکسلا ٹی ایچ کیو ہسپتال میں میڈیکل وارڈز، شعبہ ایمرجنسی اور ڈسپنسریز گیاتھا۔میں جب سے اس پوسٹ پر تعینات ہوا ہوں میری کوشش ہے کہ میری وجہ سے لوگوںکی خدمت میںکوئی کمی نہ رہے۔مجھے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کسی قسم کی کوتاہی ہرگز ہرگز برداشت نہیںہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈیوٹی سے غفلت برتنے پر ٹیکسلا ہسپتال کے تین ڈاکٹروں، فارماسسٹ اور ایڈمن آفیسر کو معطل کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔نااہلی اور بدانتظامی کی بنا پر واہ کینٹ اور ٹیکسلا ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کو شوکاز نوٹس جاری کروائے تھے۔ ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ہسپتالوں میں بدانتظامی اور مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں غفلت برداشت نہیں کی جائیگی۔ فرض شناس اور اہل ڈاکٹرز و عملہ ہی محکمہ صحت میں کام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام ہیلتھ فیسلیٹیز میں محکمہ صحت کی ٹیمیں دن رات ہسپتالوں کی کارکردگی مانیٹر کرنے کے سلسلہ میں مصروف عمل ہیں۔عوام کو جدید اور معیاری میڈیکل ہیلتھ کیئر کی فراہمی پر کوئی  سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

میں نے گوجر خان ٹی ایچ کیو ہسپتال کا بھی دورہ کیاتھا اور بہترین طبی سہولیات اور شاندار انتظامات پر ایم ایس گوجرخان ہسپتال اور انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہاتھا۔جو لوگ اپنے فرائض میںکوتاہی نہیں برتتے اور لوگوں کی خدمات کرتے ہیں،مجھے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں۔

 ٹی ایچ کیو ہسپتال سوہاوہ کے دورہ کے دوران طبی سہولیات کے فقدان پر میں نے برہمی کا اظہار بھی کیا تھا، سی ای او ہیلتھ جہلم کو ہدایت کی تھی کہ وہ ڈاکٹروں و دیگر عملہ کی کمی کو پورا کرکے شہریوں کی مشکلات کم کی جائیں اور سرجن کی فوری تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔میں نے تین سال سے سرجن کی تعیناتی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیاتھا۔

میں نے آپریشن تھیٹر، وارڈز اور ڈسپنسری میں ادویات اور میڈیکل ایکوپمنٹس کی فراہمی کا بھی معائنہ کیا تھااور کہاتھا کہ اس ہسپتال میں ڈیجیٹل ایکسرے سمیت دیگر مشینری کو فوری فعال کرنے رپورٹ دی جائے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے وژن کے تحت عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انصاف صحت کارڈ عوام کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں جس کے تحت لاکھوں شہری سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں اپنا مفت علاج معالجہ کی سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں۔

میں نے سوہاوہ ہسپتال کے لیے فی الفور ڈیجیٹل ایکسرے سمیت تمام ضروری مشینری کو جلد فعال کرنے کی ہدایت کی تھی ۔صحت عامہ کی سہولیات مہیا کرنے میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔


Share:

’وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 3 ارب روپے سے 23 سکیمیں ترجیحاً جلد مکمل کرلی جائیں گی


’وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 3 ارب روپے سے 23 سکیمیں ترجیحاً جلد مکمل کرلی جائیں گی

  تعمیراتی کام میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی

رجب طیب اردگان ہسپتال ٹرسٹ کو 85 کروڑ 50 لاکھ روپے کا چیک دے دیاگیا

دوسوبیڈز پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال  دسمبر کے پہلے ہفتہ میں مکمل فعال ہوجائے گا 


عوام سے کورونا کے ساتھ ساتھ ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی اپنانے کی اپیل :سیکریٹری صحت پنجاب ڈاکٹر ارشاد احمد کی خصوصی گفتگو


لاہور(انٹرویو:شاہدہ بٹ )سیکرٹری صحت پنجاب ڈاکٹر ارشاد احمدکاکہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 3 ارب روپے سے 23 سکیمیں ترجیحاً  جلد مکمل کرلی جائیں گی۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی 235 ترقیاتی منصوبوں پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے انٹرویو میںکہاکہ ہماری کوشش ہے کہ  نامکمل منصوبوںکو جلد مکمل کیاجائے ۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 3 ارب روپے سے 23 سکیمیں ترجیحاً  جلد مکمل کرلی جائیں گی۔ ہر ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لئے کے افسران ریگولر رپورٹ کررہے 
ہیں۔ تعمیراتی کام میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔



انہوں نے انٹرویو میں ڈینگی کے تدارک اور صوبائی حکومت کی کاوشوں کے بارے
 میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کی ڈینگی پر قابو پانے کیلئے صوبہ بھرمیں موثر انسدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔محکمہ صحت صوبہ بھر میں ڈینگی لاروا کو تلف کرنے اور افزائش روکنے کے لیے کاروائیاں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام سے کورونا کے ساتھ ساتھ ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی اپنانے کی اپیل کرتے ہیں۔ 
پنجاب کے تمام علماء کرام سے مساجد میں آنے والے نمازیوں کو ڈینگی  کے بارے آگاہی دینے کی اپیل کی ہے۔ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔ گھر کے اندر اور باہر پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ عوام صفائی کا خیال رکھ کر ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں۔ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میانوالی کی انتظامی مینجمنٹ رجب طیب اردگان ہسپتال ٹرسٹ کے حوالہ کرنے کے سلسلہ میں معاہدہ طے پاگیاہے۔ رجب طیب اردگان ہسپتال ٹرسٹ کو 85 کروڑ 50 لاکھ روپے کا چیک دیاگیا ہے۔ 200 بیڈز پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال 30 اکتوبر 2022 تک نئی انتظامیہ کے حوالہ کردیا جائے گا۔نئی انتظامیہ دسمبر کے پہلے ہفتہ میں ہسپتال کو مکمل فعال کردے گی۔
 مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی تعمیر کے بعد صحت کے شعبہ میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیاہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عوام کو انکی دہلیز پر جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے پر عزم ہیں۔سیکرٹری صحت  کاکہنا تھا کہ میانوالی کی عوام کو اب علاج معالجہ کے لئے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑےگا۔ہسپتال میں مریضوں کو مفت ادویات اور ٹیسٹوں کی سہولیات حاصل ہوں گی۔ رجب طیب اردگان ہسپتال ٹرسٹ اور انڈس ہسپتال نیٹ ورک کو سرکاری ہیلتھ کی سہولیات حوالے کرنا حکومت پنجاب کا ان پر اعتماد کا مظہر ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پنجاب کے 5 منتخب اضلاع میں 5 سال سے زائد عمر کے بچوں کےلئے پیڈیاٹرک کرونا ویکسی نیشن مہم کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہے۔5 سال سے زائد عمر کے تمام شہری  کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لازمی اور فوری لگوائیں۔


Share:

صحافت کا شعبہ اختیار کرنے پر مشکلات اور مسائل کا سامناکرناپڑا لیکن میں ڈ ٹا رہا:محمد نواز

 


صحافت کا شعبہ اختیار کرنے پر مشکلات اور مسائل کا سامناکرناپڑا لیکن میں  ڈ ٹا رہا:محمد نواز




پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز 1968 میںجنگ گروپ کے  ہفت روزہ اخبار جہاں سے کیا ، صحافی و سفرنامہ نگار سید وجاہت علی نے انہیں اس شعبے میں متعارف کرایا


تعلیمی مراحل گورنمنٹ ڈگری کالج اوکاڑہ ، اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور اور اسلامیہ کالج کراچی میں طے کئے، وہ اوکاڑہ کالج کے رسالے جواہر پارے کے طالب علم مدیر بھی رہے


  مختلف جرائد کے اوکاڑہ ایڈیشنز نکالے، جن میں  ہفت روزہ مستقبل لاہور، پندرہ روزہ احتساب لاہور،  ہفت روزہ پاک پنجاب  اوکاڑہ اور کتابی سلسلہ قرطاس شامل ہیں


پیشہ وارانہ فرائض کے ادائیگی کے دوران جیل یاتر ا بھی کرنی پڑی، جرنلسٹ کمیونٹی کی سیاست بھی کی، پریس کلب کے انتخابات میں حصہ بھی لیتے رہے



(انٹرویو:طارق کامران )


محمد نواز سینئر صحافی  ہیں، انہوں نے اپنے  پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز 1968 میںجنگ گروپ کے  ہفت روزہ  اخبار جہاں سے کیا ، صحافی و سفرنامہ نگار سید وجاہت علی نے انہیں اس شعبے میں متعارف کرایا، نواز نے ایک سال تک مذکورہ جریدے میں خدمات انجام دیں ، اور پھر لاہور چلے آئے ، ملک کے اس بڑے صحافتی مرکز میں روزنامہ مغربی پاکستان اور جناب ظہور عالم شہید کے ذاتی اخبار جاوداں میں کام کرتے رہے، کچھ عرصے بعد دوبارہ کراچی آگئے ، اور مختلف اخبارات وجرائد میں کام کرنے لگے، سید وجاہت علی  سے ان کے قریبی مراسم  استوار ہوگئے، اپنے قیام کراچی کے دوران وہ ان کے گھر پر ہی مقیم رہے، نواز وجاہت کواپنا استاد اور محسن قرار دیتے ہیں،  کچھ عرصہ بعدنواز کو  اپنے  بعض خاندانی مسائل  کی بنا پر آبائی  شہر اوکاڑہ  واپس آنا  پڑا۔

 محمد نواز  نے اپنے  تعلیمی مراحل گورنمنٹ  ڈگری کالج اوکاڑہ ، اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور اور اسلامیہ کالج کراچی میں طے کئے، وہ اوکاڑہ کالج کے رسالے جواہر پارے کے طالب علم مدیر بھی رہے، جبکہ اسکے انچارج مدیر پروفیسر ابوالاعجاز حفیظ صدیقی  تھے، یہ 1966کا زمانہ تھا، کالج کے پرنسپل کلیم صاحب تھے، وہ  اپنے اساتذہ میں جناب ممتاز محی الدین غوری سے بہت متاثر ہیں، ان کاکہنا ہے کہ میں نے غوری صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے، اوکاڑہ آمد پر نواز نے اپنی صحافتی  سرگرمیوں کاا زسرنو کاآغاز کیا،یہ 1971-72 کا زمانہ اور بھٹو صاحب کا عہد اقتدار تھا، قوم ابھی سانحہ مشرقی پاکستان کے صدمے میں تھی  ، اس ماحول میں انہوں نے  مختلف جرائد کے اوکاڑہ ایڈیشنز نکالے، جن میں  ہفت روزہ مستقبل لاہور، پندرہ روزہ احتساب لاہور،  ہفت روزہ پاک پنجاب  اوکاڑہ اور کتابی سلسلہ قرطاس شامل ہیں، آپ اوکاڑہ کے دوسرے  ہفت روزہ اخبار  گرفت کے  بانی ایڈیٹر بھی ہیں، خالد مسعود رائو  اس کے  پبلشر تھے، جبکہ1989میںپریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی ننس کے منسوخ پر اوکاڑہ سے پندرہ روز  ندرت کا ڈیکلریشن حاصل کیا، اس شہر میں محمد نواز کی صحافتی سرگرمیاں دس سال پر محیط ہیں۔ان دنوں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے  ہیں، اور اپنی یاد داشیں لکھنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

 گزشتہ دنوں اوکاڑہ میں ہونے والی ایک خصوصی ملاقات کے دوران محمد نواز نے بتایا کہ وہ زمانہ طا  لب علمی سے ہی سیاست دان بننا چاہتے تھے، لیکن جب بوجہ ایسانہ ہوسکا تو صحافت کے خار زار میں قد م رکھ دیا ، ان کے مطابق جب اوکاڑہ ضلع  بنا تو میں نے  ہفت روزہ  پاک پنجاب پنجاب کا ڈسٹرکٹ اوکاڑہ نمبر نکا لا، جس کی عوامی اورعلمی وادبی حلقوں میں بہت  پذیرائی کی گئی ،سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اپنی صحافتی  زندگی کو خوب انجوائے کیا ، اگر چہ یہ شعبہ اختیار کرنے  پر بے پناہ  مشکلات اور مسائل کا سامنا بھی کرناپڑا ، تاہم میں  ڈ ٹا رہا ، اور مجھے اس حوالے سے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، شاید میں یہ ہی کام کرنا چاہتا تھا ، مدیر’’ ندرت‘‘  نے  بتایا کہ جب انہوں نے  اوکاڑہ  میں صحافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو شہر کا ماحول اس  کے لئے کچھ زیادہ سازگار نہ تھا تاہم ہم لوگوں نے کوشش کی ، ماحول کو سازگار  بنایا اور شکرہے ہمارے شہر اور ضلع کے باسیوں نے ہماری کاوشوں کو سر اہا ، نواز کوا پنے پیشہ وارانہ فرائض کے ادائیگی کے دوران جیل یاتر ا بھی کرنی پڑی، انہوں نے جرنلسٹ کمیونٹی کی سیاست بھی کی، پریس کلب کے انتخابات میں حصہ بھی لیتے رہے، محمد نواز نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ ایک دفعہ ہمارے گروپ نے مشہور شاعر، صحافی اور کالم نگار ظفرا قبال کے گروپ کو اوکاڑہ  پریس کلب  کے انتخابات میں شکست  سے دوچار کیا ،اوکاڑہ پریس کلب کا احیا ہمارے زمانے میں ہوا،میں اس کا پہلا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا، مرزا بشیر محمد ہمارے صدر منتخب ہوئے ، جبکہ سینئر صحافی اور ٹریڈ یونین رہنما کامریڈ عبدالسلام جو ہمارے گروپ کی جانب سے سینئر نائب  صدر کے امیدوار تھے، یہ الیکشن ہار گئے تھے ،تھے۔

 نواز نے بتایاکہ اوکاڑہ کے پہلے ، ہفت روزہ اخبار پاک پنجاب کے پبلشر مدیر مرزا بشیر محمد تھے، اخبار کا اعزا ز ہے کہ اس کے پہلے مدیر مشہورشاعراور کالم  نگار اسرار زید ی تھے، میں کئی سال تک اس کا مدیر رہا، ان دنوں ہمارے شہر سے متعدد اخبارات شائع ہوتے تھے، اسلم شیخ  واردات نکالتے تھے، ، اکمل مرزا خزینہ مشرق شائع کرتے تھے، لالہ بھائی اور بشیرہمدرد بھی شہر کے صحافتی حلقوں کے جانے پہچانے نام تھے، اور بھی کئی دوست اس شعبے سے وابستہ تھے، جن میں کامریڈ عبدالسلام  ایک نمایاں نام تھے ، کامریڈ ہمارے شہر کی صحافت،سیاست اور ٹریڈ یونین کا ایک بڑا حوالہ تھے، وہ ہمارے  اساتذہ جیسے دوست تھے، ان سے اختلافات بھی ہوجاتے تھے، تاہم باہمی احترام کا رشتہ ہمیشہ برقرار رہتا، وہ میرے اخبار کے لئے کالم بھی لکھ بھی کرتے تھے، کامریڈا یک پکے نظریاتی شخص تھے۔ 


Share:

موٹاپا خطرناک،شوگرکےبارے میں لوگوں کو آگہی نہیں:پروفیسر رضوان ظفرا حمد

  

 موٹاپا خطرناک،شوگرکےبارے میں لوگوں کو آگہی نہیں:پروفیسر رضوان ظفرا حمد






 کمر اور پیٹ کے اعضا سے متعلقہ چربی ، ہپس اور تھائی میں پائی جانے والی چربی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے


اگر مردوں میں کمر کا سائز40 انچ اور عورتوں میں35 انچ سے بڑھ جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے


خوراک کی بد نظمی،سیر نہ کرنا،پلکی پھلکی ورزش نہ کرنا اور لائف سٹائل یہ سب موٹاپے کا سبب بنتا ہے 


 جسم میں کولیسٹرول کی زیادتی،یورک ایسڈ کا بڑھنا، سانس کی بیماریاں، سینے میں جلن،جوڑوں کی تکالیف خصوصا کمر،فیٹی لیور،بلڈ پریشران سب کی وجہ موٹاپا ہے

 

 




(انٹرویو پینل:محمدنویداسلم،شاہدہ بٹ،تصاویر: نفیس قادری)


 تعارف
پروفیسر رضوان ظفرا حمد
MBBS   ,FCPS
FRCP(UK), MSC(ME)


 آپ اخترسعید میڈیکل کالج میں پروفیسر آف میڈیسن اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ میڈیکل یونٹ2 ہیں۔ پچھلے25 برسوں سے طبعی شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوںنے موٹاپے اور شوگر کے حوالے سے آگہی پر ’’ نوائے درویش ‘‘کی ٹیم سے بات کی جو قارئین کے لیے پیش جارہی ہے۔
س:موٹاپا کیا ہے؟
ج:موٹاپا ایک ایسی بیماری کا نام ہے جس میں ا نسان کا جسم فربہ ہوجاتا ہے اور وزن ایک خاص تناسب سے بڑھ جاتا ہے۔ چربی، جلد اور پیٹ کے اعضا کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔
س: ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ بی ایم آئی کیا ہے؟
ج:یہ ایک ایسی پیمائش کا نام ہے جو انسانی قد اور وزن کے تناسب سے اخذ کی جاتی ہے۔ ایک نارمل یامناسب وزن کے انسان کا18.5-24.9BMI ہوتاہے۔اگربی ایم آئی25سے29.9 کے درمیان تک ہو تو انسان  کا وزن بڑھنے کی عکاسی ہوتی ہے لیکن یہ موٹاپانہیں کہلاتا ہے۔اگر بی ایم آئی30 سے34.9 تک ہو تو یہ کلاس ون موٹاپا کہلاتا ہے۔ اگر35 سے39.9 تک ہوتو یہ کلاس 2 موٹاپا کہلاتا ہے۔ اگر بی ایم آئی40 ہوتو یہ کلاس3 یا شدید موٹاپا کہلاتا ہے۔
بی ایم آئی کا فارمولا یہ ہے       وزن کلوگرام/قد کی لمبائ(سینٹی میٹر سکوائر)
س: جسم کے  کس حصے کی چربی انتہائی خطرناک ہوتی ہے؟
ج: انسان کی کمر اور پیٹ کے اعضا سے متعلقہ چربی انسان کی ہپس اور تھائی میں پائی جانے والی چربی سے زیادہ خطرناک اور اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
س: کمر کے سائز کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟
ج: اگر مردوں میں کمر کا سائز40 انچ اور عورتوں میں35 انچ سے بڑھ جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے کیونکہ اس سے پیچیدگیاں بڑھنےکا خطرہ ہوتا ہے۔
س: موٹاپا کتنا عام ہے اور کتنے لوگ موٹاپے کاشکار ہیں؟
ج: موٹاپا ایک ایسی بیماری ہے جو دنیا میں بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں30 فی صد لوگ موٹاپے کاشکار ہیں۔ امریکہ میں40 فی صد لوگ موٹاپے کاشکار ہیں۔ پاکستان اس وقت اس فہرست میں نویںنمبر پر ہے۔
س:موٹاپے کاشکار عورتیں ہیں یا مرد؟
ج:پاکستان میں عورتوں میں موٹاپا مردوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔
س:ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں موٹاپے کی وجوہات کیا ہیں؟
ج:بعض لوگوں میں موٹاپا موروثی ہوتا ہے۔تاہم لائف سٹائل اور خوراک بھی اہم ہے۔ خوراک میں ضرورت سے زیادہ کھانا،باربار کھانا،مرغن غذائوں کا کثرت سے استعمال، جوس،میٹھی اشیا کا استعمال، فاسٹ فوڈکابکثرت استعمال موٹاپے کی وجوہات ہیں۔اس کے علاوہ فیملی فنکشنز میں بے ربط کھانا اور سویٹ ڈش ہماری طرز زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہیں اور یہ سب موٹاپے کا سبب ہے۔
س: کووڈ کے دوران زیادہ تر لوگ گھر رہے ان کا لائف سٹائل ہی بدل گیا، اس بار ے میں کیا کہیں گے؟
ج: کووڈ کی وبا کے دوران زیادہ تر لوگ گھروں میں رہے اور ہوم ڈلیوری، فاسٹ فوڈاور رات کودیر تک جاگنا ان کامعمول بن گیا۔اس وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا وزن نا صرف معمول سے بڑھا بلکہ وہ موٹاپے کاشکار ہوئے کیونکہ گھر سے باہر نکلنے اور واک کی روٹین کو سب نے ترک کردیا تھا۔
س: کونسی عادات ہیں جو موٹاپے کی طرف لے جاتی ہیں؟
ج:خوراک کی بد نظمی،سیر نہ کرنا،پلکی پھلکی ورزش نہ کرنا اور لائف سٹائل یہ سب موٹاپے کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ یورک ایسڈ کا بڑھنا،کولیسٹرول کی زیادتی بھی موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔
س: ادویات بھی وزن بڑھاتی ہیں، اس بارے میں کیا کہیں گے؟
ج:جی ہاں ادویات مثلاانسولین،شوگر کنٹرول کرنے کی گولیاں، ڈپریشن کے علاج کی ادویات اور سٹیرائیڈز وزن بڑھاکی عادم ادویات ہیں۔ ان کے علاوہ حمل سے روکنے کی ادویات بھی وزن بڑھا سکتی ہیں۔
س:موٹاپے کے  نقصانات پرروشنی ڈالیں؟
ج: موٹاپا نہ صرف بذات خود ایک بیماری ہے بلکہ دوسری بہت سی بیماریوں کا پیش خیمہ بھی ہے۔ مثلا جسم کی کولیسٹرول کی زیادتی،یورک ایسڈ کا بڑھنا، سانس کی بیماریاں، سینے میں جلن،جوڑوں کی تکالیف خصوصا کمر، گھٹنے کی درد،ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھنا،فیٹی لیور،بلڈ پریشران سب کی وجہ موٹاپا ہے۔
س: موٹاپے پرقابو پانے کے لئے کیا کیاجائے؟
ج: موٹاپے کو نہ ہی ہونے دیں تو بہتر ہے کیونکہ موٹاپا ہونے کے بعد اس کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ موٹاپے سے بچنے کے لئے خوراک کا عمل دخل بہت اہم ہے۔ مرغن غذائوں،مشروبات،فاسٹ فوڈ ،گوشت کم لینااور گائے کے گوشت سے پرہیز کرنا چاہئے۔تاہم مرغی اور مچھلی کاگوشت کھانے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے، اس کوڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

س: کھانے میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کیسا ہے؟
ج: اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اوراس کو اپنا معمول بنائیں
س: روزمرہ کاشیڈول کیا سیٹ کیاجائے؟
ج: روزانہ سیر کومعمول بنائیں اور ہفتے میں150 منٹ کی سیر ضرور کریں۔بچوں کو شروع سے ہی سیر کی عادت ڈالیں تاکہ وہ مستقبل میں موٹاپے سے بچ سکیں۔
س: پرہیز سے موٹاپا کنٹرول نہ ہوتو کیا کیا جائے؟
ج: اگر پرہیز سے موٹاپا کنٹرول نہ ہوتوبیریاٹک سرجری ایک اچھا طریقہ علاج ہے اوران لوگوں کو تجویز کیاجاتا ہے جن کاوزن کنٹرول نہیں ہورہا ہوتا۔یا جن کا بی ایم آئی40 سے زیادہ ہوجاتا ہےیابی ایم آئی35 ہو لیکن کچھ پیچیدگیاں ہوں۔ اس کے علاج  کے لیے ماہر امراض معدہ وآنت سے بی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
س: اس کے مزید طریقہ علاج کیا کیا ہیں؟
ج: جدید طریقہ علاج میں جنیاتی تحقیق بذریعہ نیوٹری جینیکٹس اور نیوٹری جینومکس پر ریسرچ جاری ہے اور مستقبل میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
س:شوگر کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
ج: اس بارے میں لوگوں کوآگہی نہیں ہے۔ شوگر سیر،نظم وضبط اور ادویات کے باقاعدہ استعمال کرنے سے کنٹرول کی جاسکتی ہے۔
س:انسولین کس حد تک ضروری ہے؟
ج: شوگر کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک وقت آتا ہے کہ انسولین بہت ضروری ہوجاتی ہے اس وجہ سے اس پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کرنا چاہئے۔
س:کیاشوگر کنٹرول کرنےکا کوئی اصول ہے؟
 ج:میرے نزدیک شوگر کنٹرول کرنے کے لئے تین چیزیں زیادہ اہم ہیں۔ پہلے نظم وضبط،پھر ادویات اور آخر میں خوراک، ان تین باتوں پر عمل کرکے شوگر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
س:وہ کونسی چیزیں ہیں جو شوگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں؟
ج:ضرورت سے زیادہ میٹھا کھانا اور لائف سٹائل شوگر کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔
س:لائف سٹائل سے کیا مراد لی جاتی ہے؟
ج: لائف سٹائل سے مراد یہ ہے کہ  آپ کی روٹین کیسی ہے ، دیر سے کھانا اور دیر تک جاگنا اانتہائی نقصان دہ ہے۔زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا بھی خطرناک ہوتا ہے۔
س: کووڈ کے دنوں میں شوگر کے مریضوں کو کیا مسائل رہے؟
ج: شوگر کے مریض کووڈ کے دنوں میں انتہائی پریشانی کا شکار تھے کیونکہ لائف سٹائل ہی تبدیل ہوگیا تھا۔ گھر سے باہر نکلنا محدود تھا اس وجہ سے شوگر کے مریضوں کے لئےکسی قسم کی کوئی ایکٹیویٹی نہیں تھی۔ شوگر کے مریض خاصے پریشان رہے ، ان حالات میں شوگر کے مریضوں کو ناصرف ادویات کا زیادہ استعمال کرنا پڑا بلکہ ان کی پریشانی بھی بڑی۔
س:شوگر کی وجہ سے دیگر کون کونسے امراض لاحق ہوتے ہیں؟
ج:شوگر کی وجہ سے آنکھوں کا موتیا،اعصاب سن ہوجاتے ہیں۔ زخم بن جائے تو جلدی ٹھیک نہیںہوتا۔ اس کی وجہ احساس کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ اس سب میں کیٹا بولزم بہت اہم ہوتا ہے۔تاہم ا گر عمر زیادہ ہوتو شوگر پرکنٹرول پانے کے لئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔




Share:

پنجاب ایمرجنسی سروس میں خدمات نوکری نہیں ، مشنری جذبہ

 پنجاب ایمرجنسی سروس میں خدمات نوکری نہیں ، مشنری جذبہ





 

٭ •••••یہ ادارہ  2004میں  قائم کیا گیا ، آغاز میں اس کا نام ایمرجنسی 

ایمبولینس سروس رکھا گیا 
٭ ••••• سولہ سال گزرنے کے بعداس ادارے سے  وابستہ افراد کی تعداد 14ہزار ہے
٭ ••••• پہلے یہ سروس پنجاب کے نوبڑے شہروں میں شروع کی گئی، اب  یہ پنجاب بھرمیں تحصیل لیول تک کام کررہی ہے 

٭ •••••پاکستان ریسکیو ٹیم آف ایمرجنسی سروسز اکیڈیمی کو جنوبی ایشیا میں پہلی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم کا سرٹیفکیٹ  مل چکا ہے ،جوبڑے اعزاز کی بات ہے
٭ ••••• دفتر آنے کے  وقت کا تو پتہ  ہے، لیکن دفتر سے گھر واپسی کا کوئی وقت میں نے مقرر نہیں کیا ، جب  تک میری ضرورت ہو اپنے آفس میں سروسز آپریشنز کی نگرانی کو ترجیح دیتا ہوں

  

(انٹرویوپینل:  طارق کامران، شاہدہ بٹ،تصاویر : نفیس قادری)

                    


پنجاب  ایمرجنسی  سروس کے  ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیرکو حکومت پاکستان نے مذکورہ  ادارے  کے لئے کی ان کی غیر معمولی  خدمات  پر2011میں ستارہ  امتیازعطا کیا ہے، وہ  ملک میںاپنی نوعیت کی  پہلی ایمرجنسی سروس کے بانی سربراہ ہیں اور گزشتہ سولہ سال سے  یہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے اپنے تعلیمی مراحل ایچ ای سن ، گورنمنٹ کالج لاہور اورکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں طے کیے، جہاں آپ  نے آرتھو پیڈک  سرجری میں سپیشلا ئز بھی کیااورپھر فیلو شپ کرنے امریکہ  اور کینیڈا گئے، بعدازاں  ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں متعدد کورسز کیے۔ سیفٹی پروموش ریسرچ میں سویڈن سے  پی ایچ ڈی کی، ایم بی اے اور پراجیکٹ مینجمنٹ میں بھی ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔بنیادی طور پروہ ایک آرتھوک پیڈک سرجن ہیں، اور اس حوالے سے  اپنا ایک مقام رکھتے  ہیں۔

 چوہدری  پرویز الٰہی کی  وزارت  اعلی کے  زمانے میں جب 2004میں پنجاب  ایمرجنسی ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا  تو ڈاکٹررضوان نصیر اس کے سربراہ مقر رکیے گئے۔’’نوائے درویش‘‘ کے پینل نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا جو قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔

س :پنجاب ایمرجنسی سروس کا قیا م کب عمل میں لایا گیا؟

ج:یہ ادارہ  2004میں  قائم کیا گیا ،اس وقت چوہدری پرویزالٰہی  پنجاب کے وزیراعلی تھے ،  آغاز میں اس کا نام ایمرجنسی ایمبولینس سروس رکھا گیا ، شروع میں صرف ایک فرد یعنی میں تھا پھر دوسوافراد کو بھرتی کیا گیا،اور اب سولہ سال  گزرنے کے بعداس ادارے سے  وابستہ افراد کی تعداد 14ہزار ہے، پہلے یہ سروس  پنجاب کے نوبڑے شہروں میں شروع کی گئی،جس کے بعد اس کادائرہ کار 36اضلاع تک پھیل گیا، اور اب  یہ پنجاب بھرمیں تحصیل لیول تک کام کررہی ہے، اور ایمرجنسی سروس نے مختلف  حادثات کا شکار ہونے والے  8  لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے،اور  بروقت رسپانس کرتے ہوئے پانچ ارب سے زائد کے  مالی نقصانات کوقوع پذیر ہونے سے  روکا  ہے ۔ ایک لاکھ سے زائد آتشزدگی کے واقعات پر قابو پایا اورقیمتی جانوں کا نقصان بچایا، ریسکیو 1122پر حادثے کی اطلاع ملنے کے تقریبا چارمنٹ بعد موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے ذریعے جائے حادثہ  پر پہنچ کرمتاثرہ افراد کوریلیف فراہم کیا گیا۔ ہماری سروس کی وجہ سے  ہسپتالوں پر ورک لوڈ کم ہوا، ہم نے  یونین کونسلوں میںآٹھ لاکھ سے زائد تشویشناک حالت  والے مریضوں کو مراکز صحت اورہسپتالوں تک پہنچایا  ۔

س: ایمرجنسی سروس اکیڈمی کی خدمات پر روشنی ڈالیں؟

ج:ایمرجنسی سروس اکیڈمی ریسکیو ورکرز کی تربیت کے حوالے ملک بھر کے لئے اہم خدمات انجام دے رہی ہے ،اس ادارے نے بیس ہزار سے زائد افراد کی  ٹریننگ کی ہے ،ان میں خیبر پختونخوا میں شروع ہونے والی ایمرجنسی سروس کے ریسکیوورکرز کی تربیت بھی شامل  ہے، اس کے علاوہ  پانچ  ہزار کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں  بھی تشکیل  دی گئی ہیں۔

س: پنجاب ایمرجنسی سروس کواقوام متحدہ کی جانب سے ملنے والے  اعزاز کے حوالے سے  بتائیں؟

 ج:پاکستان ریسکیو ٹیم آف ایمرجنسی سروسز  اکیڈیمی کو  اقوام متحدہ کے ادارے  انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزری گروپ کی  جانب سے  جنوبی ایشیا میں پہلی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے،جو بلاشبہ ہمارے لئے ایک بڑے اعزاز کی بات ہےجبکہ بھارت سمیت دیگرہمسائیہ ممالک نے بھی ہمارے ادارے کی کارکردگی کو سراہا  ہے اور اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش ان کے ملک میں بھی اس  نوعیت کی سروس جلد شروع ہوسکے۔

س:کورونا کی لہر کے دوران پنجاب ایمرجنسی سروس کی خدمات  پرروشنی ڈالیں؟

 ج: ہمارے ادارے نے کورونا جیسی مہلک وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے  ہوئے فرنٹ لائن سروس کاکردار اداکیا  ہے، سب سے پہلے ہم نے 1190کے نام سے ہیلپ لائن قائم کی،  جس کے ذریعے کورونا کا شکار مریضوں اور ان کے عزیزوں کی رہنمائی کی گئی، اس وائرس سے  جاں بحق ہونے والے تقریبا ڈھا ئی ہزار  افراد کی عزت واحترام کے ساتھ تدفین کا اہم فریضہ انجام دیا۔کورونا سے متاثر ہ14ہزار  افراد کوقرنطینہ اور بحالی صحت مراکزتک پہنچایا، ایکسپوٹریج سنٹرقائم کیااور  آٹھ ہزار کورونا مریضوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی میں غیرمعمولی کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ  ایک لاکھ سے زائد مقامات پر جراثیم کش ادویات کا سپرے کرکے کورنا پھیلنے  کے امکانات کو محدودکیا، لاک ڈائون کے دوران گھروں میں مقیم خاندانوں تک راشن  پہنچایا۔

 س:  ایمرجنسی  سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت پنجاب کے کردار پر کیا کہنا  چاہیں گے؟

ج: صوبے بھر میں  ہمارے ادارے کی سروس کو  تیز تر اور موثر بنانے میں حکومت پنجا ب  نے ہمیشہ  ایک  کلیدی کردار ادا کیا  ہے، جس کا ا عتراف کرنا ازحد ضروری ہے،  یہ سچی  بات ہے کہ اگر1122کو صوبائی حکومت کا غیرمعمولی عملی تعاون حاصل نہ ہوتا،تو  ہم اتنی اچھی  اور سبک  رفتار سروس  فراہم کرنے کے قابل  نہ ہوسکتے ،ہمارے مقاصد کی تکمیل میں آسانی پیداکرنے کے لئے حکومت نے دوسو پچاس نئی ایمبولینسز فراہم کیں، ریسکیوسروس کو پنجاب کے تمام تحصیل ہیڈکوارٹرز تک توسیع دی،  27 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرزتک موٹربائیک ریسکیو سروس کی توسیع کو ممکن بنایا۔ 

  س:کچھ اپنے  کام کرنے کے انداز پر روشنی ڈالیں؟

ج: میرے نردیک پنجاب ایمرجنسی سروس میں خدمات انجام دینا محض ایک نوکری کرنا نہیں ہے، بلکہ  یہ دکھی انسانیت کی خدمت  کا ایک ذریعہ بھی ہے، اس لئے میں  نے شروع  دن سے اس ادارے  میں ایک مشنری جذبے کے تحت کام کیا ہے، مجھے اپنے دفتر آنے کے  وقت  کا تو پتہ  ہے، لیکن دفتر سے گھر واپسی کا کوئی وقت میں نے مقرر نہیں کیا ہے، اس کا فیصلہ میں سروسز کی فراہمی کی صورتحال کو پیش نظررکھ کر رکھتا ہوں، جب  تک میری ضرورت ہو اپنے آفس میں موجود رہ کر سروسز آپریشنز کی نگرانی کو ترجیح  دیتا ہوں، اپنے ساتھ کام کرنے والے رفقا کار سے بھی اسی جذبے کی توقع کرتا ہوں، اور خدا وندکریم کا شکر ہے کہ اکثرو بیشتر وہ میری توقعات پر پورا اترتے  ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ  ہمارے ادارے کی کارکردگی کو عوام اور خواص کی سطح پر یکساں طورپر سراہا جاتا ہے۔


                 












Share:

’’کرونا ادب عالیہ کی تخلیق کا باعث بنے گا‘‘

’’کرونا  ادب عالیہ کی تخلیق کا باعث بنے گا‘‘

 



تازہ عالمی وبا نے ہماری دنیا تبدیل کرکے رکھ دی  

آن لائن اجلاس ایک آپشن ہے، براہ  راست محفلوں کا متبادل نہیں 

انگلش  لٹریری سوسائٹی جلد اپنی سرگرمیاں بحال کردے گی

انگلش  لٹریری سوسائٹی کے صدر پروفیسر انوارالحق ، سیکرٹری روبیہ جیلانی سے خصوصی ملاقات



انٹرویو ٹیم نوائے درویش:طارق کامران ،تصاویر نفیس قادری


انگلش لٹریری سوسائٹی لاہور شہر کی ایک جانی پہچا نی ادبی  وعلمی تنظیم  ہے ، یہ گزشتہ بیس سال سے اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے  ہے، محترمہ روبیہ  جیلانی اس کی بانی وسیکرٹری ہیں جبکہ پروفیسر انوارالحق گزشتہ ایک دہائی سے زائد مدت سے اس  فورم کے صدر ہیں، اور علم وادب  کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں،  وہ ایک سرکاری کالج میں انگریزی ادب پڑھاتے ہیں، ان کے شاگردوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، پروفیسر صاحب جرائد اور اخبارت میں ادبی موضوعات پر مضامین بھی لکھتے  ہیں۔

 روبیہ جیلانی کئی برس تک انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ایک رسالے ، وائس آف رائٹس کی مدیر اعلیٰ بھی رہ چکی ہیں، ادبی تنظیم حلقہ تصنیف ادب  میں بطور جوا ئنٹ سیکرٹری ایک فعال کرداراداکرچکی ہیں، ملک  کے سرکردہ اخبارات اور سائل میں عالمی  ادب کے مختلف پہلوئوں آرٹیکل لکھنے کا سلسلہ بھی کافی  عرصے جاری  رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے دیگر اداروں کی طرح  انگلش لٹریری سوسائٹی نے بھی کرونا کی وبا کے باعث  ان دنوں اپنی ادبی سرگرمیاں معطل کی ہوئی ہیں۔ تاہم اس ممتاز ادبی فورم کے صدر اور سیکرٹری کاعزم ہے کہ وہ اپنی باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز بہت جلد کردیں گے۔

 ٹیم نوائے درویش نے گزشتہ دنوں انگلش لٹریری سوسائٹی  کے صدر پروفیسر انوارالحق اور سیکرٹری  روبیہ جیلانی سے ایک خصوصی گفتگو کی ، جو ذیل میں نذر قارئین کی جارہی ہے۔

محترمہ روبیہ جیلانی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان دنوں دنیا بھرکی طرح پاکستان کو بھی کرونا کی دوسری لہر کا سامنا ہے، جس کے باعث دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی وعلمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی، اور تقریبا  تمام ادبی تنظیموں نے  اپنے اجلاس غیر معینہ مد ت کے لئے بند کردئیے، کا فی  مہینوں تک یہ صورت حال برقراررہی ،پھر لاک ڈائون ختم ہونے پر بہت سی ادبی تنطمیوں نے اپنے آن لائن اجلاس شروع کردیئے ، جس سے علمی ادبی سرگرمیاں کسی حد تک بحال ہوئیں۔ تاہم  آن لائن اجلاس ایک آپشن تو ہیں، مگر یہ  براہ راست اجلاس کا کسی صورت متبادل نہیں ہوسکتے ، اس لئے صورتحال میں بہتری آتے  ہی انگلش لٹریری  سوسائٹی دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر ے گی اور توقع ہے کہ یہ جلدہوگا۔ روبیہ  جیلانی کے مطا بق ابھی ہم آن لائن سرگرمیو ںسے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہوسکے  ہیں۔

پروفیسر انوارالحق نے مستقبل میں اپنے فورم کی  سرگرمیوں کے  حوالے سے بتایا کہ  ہم اپنے فورم پر دنیا کی مختلف زبانوں میں تخلیق کئے جانیوالے عالمی ادب پرخصوصی پروگرام کروائیں گے تاکہ ہمارے ہاں کے اہل ذوق اس سے بہتر طورپر آشنا ہوسکیں، انگلش  لٹریری  سوسا ئٹی نے بتایا کہ یہ افسوسناک مگر سچی بات ہے کہ ہمارے لکھاریوں کی اکثریت کا ادبی مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے، ادبی حلقوں میں داخل ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ان کی کتاب تو آجاتی ہے، مگرانہیں ادب کاکچھ پتہ نہیں ہوتا، ہمارے شاعروں کی اکثریت غزل کہتی ہے جبکہ عالمی سطح پر نظم زیادہ کہی جارہی ہے، دنیا میں تخلیق ہونے والے  ادب  کے حوالے سے توان کی آگاہی نہ ہونے کے برابرہے، اس ادبی منظر نامے میں ہم نے اپنے اہل قلم کی تربیت کے نکتہ نظر سے  خصوصی نشستوں کے اہتمام کا فیصلہ کیا، انگلش لٹریری سوسائٹی  نے چینی ،جاپانی ،افریقی،روسی اور لاطینی امریکی انگریزی ادب سمیت دیگر زبانو ںکے ادب پرخصوصی سیمینارز  شروع کیے ہیں۔







روبیہ جیلانی  نے انگلش لٹریری کے  زمانہ آغاز پرروشنی ڈالتے  ہوئے کہا  جب ہم نے اپنی ادبی تنظم کا آغازکیا تو اس وقت ہمار ے ساتھ یونس علی دلشاد، اشفاق رشید ، پروفیسر آغا یمین، پروفیسر بشیر چوہدری،الطاف چاہ ،ناصر صدیقی ، محمود گیلانی تھے، جبکہ پروفیسر انوارالحق نے 2005میں ہمیں جوائن کیا، جب انہوں نے ہمارے اجلاسوں میں آنا شروع کیا تو میںان سے بہت متاثرہوئی ،ان کی انگریزیری بہت اچھی تھی، اور وہ اپنے مضامین اور مقالہ جات بہت محنت سے تیار کرکے لاتے تھے،کچھ عرصے بعد میں نے انہیں انگلش لٹریری کا  صدر بنانے کی تجویز پیش کی ،جس سے بانی اراکین نے اتفاق کیا اور اس طرح وہ  ہمارے فورم کے صدر بن گئے، وہ  ایک کمنٹ کے ساتھ کام کرنیوالے دانشور اور لکھاری  ہیں، توقع  ہے کہ ان کی سربراہی  ہمارا فورم  علم وادب کے فروغ  کی مزید منازل طے کریگا۔



انگلش لٹریری سوسائٹی کے صدر پروفیسر انوارالحق نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جب بھی دنیا کو کسی بڑے واقعہ کا سامنا ہوا ہے تو اہل قلم نے اس کو اپنا موضوع بنایا  ہے، اس پر نظم ونثر میں بے شمار تخلیقات بھی سامنے آئی  ہیں،اور بسا اوقات  اس پس منظرمیں  بلند پایہ ادب بھی تخیلق  ہوا  ہے تاہم یہ سب  مذکورہ  غیرمعمولی حادثے  کے رونما کے کچھ عرصے  بعد ہوا  ہے۔فوری طورلکھا جانیوالا مواد ادب عالیہ نہیں ہوسکتا ،اس  وقت بھی کرونا وائرس  کے نتیجے  میں  ہماری زندگیوں پر مرتب ہونے والا اثرات پر  بعض اہل  قلم  طبع آزمائی کررہے  ہیں، تاہم وبا  کے حوالے سے  بڑا ادب  اس کے گزرنے کے کافی عرصے بعد تخلیق ہوگا۔



Share:

سیاسی جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں، کامریڈ امر لال

 سیاسی جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں، کامریڈ امر لال 



سوشل ڈیموکریٹک فورم پاکستان بنیادی طور پرایک تھنک ٹینک ہے،جس میں ملک اورعوام کودرپیش مسائل کے حوالے سے غوروخوض کیا جاتا ہے

 قائداعظم ؒ نےپاکستان تمام  مذاہب اور طبقات کے لئے بنایا تھا، لیکن افسوس ان کےرخصت ہونے کے بعد حکمرانوں اور بالادست طبقات نے اس وژن کو فراموش کردیا

قومی ترقی کے لیے ضروری ہے  ملک کے قدرتی۔معدنی وسائل کو پوری طرح سے کسی دبائو کےبغیر استعمال میں لایا جائے



(انٹرویو: طارق کامرن،تصاویر نفیس قادری)


سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کے معاون خصو صی کامریڈ امر لال کا تعلق وادی مہران کے شہر حیدرآباد سےہے ۔آپ بائیں بازو کی جانی پہچانی سیاسی شخصیت ہیں۔امر لال پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور حیدرآباد میں پریکٹس کرتےہیں۔کامریڈ امر لال کو اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نےجام ساقی جیسے سچے اورکھرے انسان کی قیادت میں نظریاتی سیاسی جہدوجہد کی۔ اورانہیں اپنے لڑکپن میں بھٹوصاحب سے سیاسی مکالمے کا موقع میسر آیا۔گزشتہ دنوں سوشل ڈیموکر یٹک فورم پاکستان کے سیمینار میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تو ان سے  نمائندہ ’’نوائے درویش ‘‘کومکالمےکا موقع ملا جو ذیل میں نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔


نوائے درویش: کیا سیاسی جماعتیں عوامی مسائل حل کررہی ہیں؟

امرلال : سوشل ڈیموکریٹک فورم پاکستان کے روح رواں اور ترقی پسند رہنما کامریڈ امر لال نے کہا  سیاسی جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوتی جارہی ہیں،اسی بنا پر عوام ان سے بتدریج لاتعلق ہوتے جارہے  ہیں،جب وہ ڈیلیور کرنا کردیں گیں تو عوام بھی انہیں ری جوائن کرنا شروع کردیں گے۔

نوائے درویش:کیا سیاسی جماعتوں کا کوئی لائحہ عمل ہے؟

امرلال : عوام کو بے روزگاری،مہنگائی، صحت اور تعلیمی سہولتوں کے فقدان کا سامنا ہے، لیکن سیاسی جماعتیں صرف نعرے بازی کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہیں،ان کے پاس ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی پروگرام ،کوئی لائحہ عمل اور صلاحیت نہیں ہے،سیاسی پارٹیوں کو اس صورتحال کوایڈریس کرنا ہوگا۔

نوائے درویش: سیاسی سرگرمیوں کاآغاز کب کیا؟

امرلال :  سیاسی سرگرمیوں کا آغاززمانہ طالب علمی سے ہی کردیا تھا۔ اس دور میں لیفٹ کی  مختلف طلبا تنظیمو ں سےوابستہ رہے۔انہوں نے کہا اپنےسیاسی نظریات کی وجہ سے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مارشل لا میں روپوش بھی ہونا پڑا مگر اپنی نظریاتی وابستگی پر حرف نہیں آنے دیا۔


نوائے درویش:سوشل ڈیمو کریٹک فورم کے بارے میں بتائیں؟

امرلال :  سوشل ڈیموکریٹک فورم پاکستان بنیادی طور پرایک تھنک ٹینک ہے،جس میں ملک اورعوام کودرپیش مسائل کے حوالے سے غوروخوض کیا جاتا ہےاوران کے حل کے راستے تلاش کئے جاتے ہیں، ہمارے اس فورم  میں ترقی پسند نظریاتی لوگوں کے ساتھ ساتھ  دیگرروشن خیال افراد بھی شامل ہیںکیونکہ ملک اور اس کے شہریوں کی فلاح وبہبود تو سبھی مکاتب فکر کی خواہش اور کوشش ہے۔

نوائے درویش:کیا سیاسی لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن پر کام کررہے ہیں؟

امرلال :  ترقی پسند رہنما کا کہنا ہے قائداعظم ؒ نےپاکستان تمام  مذاہب اور طبقات کے لئے بنایا تھا، جہاں ہر مذہب اور رنگ ونسل کے لوگوں کو اپنے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی اور صلاحیتوں کے اظہار کے مساوی مواقع دستیاب ہوں گے لیکن افسوس قائداعظمؒ کےرخصت ہونے کے بعد حکمرانوں اور بالادست طبقات نے  قائداعظم ؒکے اس وژن کو فراموش کردیا۔

نوائے درویش: سوشل ڈیموکریٹک پروگریسو فورسز کو کیا کرنے کی ضرورت  ہے؟

امرلال : عوام کو سو شل ڈیموکریٹک پروگریسو فورسز کے اتحاد کی ضرورت ہے۔

نوائے درویش: قومی ترقی کے لئے کس بات کی ضرورت ہے؟

امرلال : کامریڈ امر لال نے کہا قومی ترقی کے لیے ضروری ہے  ملک کے قدرتی۔معدنی وسائل کو پوری طرح سے کسی دبائو کےبغیر استعمال میں لایا جائے۔

نوائے درویش: کیا اردو کے علاوہ بھی  دیگر زبانوں کو بھی قومی درجہ ملنا چاہئے؟

امرلال :  اردو ہماری قومی اور رابطے کی زبان ہے اس کا اپنا ایک مقام ہے لیکن ملک میں بولی جانیوالی دیگر زبانوں سندھی۔پنجابی۔بلوچی اورپشتو کوبھی قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے۔


Share:

اہل صحافت میں مشنری جذبہ اور پروفیشنل ازم ختم ہوتاجارہا ہے:نواز عالم

 

اہل صحافت میں مشنری جذبہ اور پروفیشنل ازم ختم ہوتاجارہا ہے:نواز عالم


’’دھنک‘‘  میرا پہلا ادارہ تھا، سرور  سکھیرا صاحب  اس کے مالک  اور مدیر اعلیٰ تھے


 سب ایڈیٹر کے طو ر پرکام شروع کیا، شوق کی بنا پر فوٹو گرافی کی طرف آگیا،سرور سکھیرا نے میری بہت  حصلہ افزائی کی


جس وقت ہم  دنیائے صحافت  میں آئے اس وقت یہ  آسانیاں میسر نہیں تھیں،ا پنے  پیشے  سے کمٹمنٹ ختم ہوتی جارہی ہے


(انٹرویو پینل:طارق نور۔۔تصاویر:نفیس قادری)


















نواز عالم صاحب کا شمار لاہور کی صحافی برادری کی محترم اور معروف شخصیات میں ہوتا ہے، آپ  نے اپنی زندگی کی نصف  صدی  اس شعبے کی نذرکی ہے،اس دوران دھنک، نوائے وقت، نیشن اوردیگر اہم اخبارات وجرائد سے وابستہ رہے ہیں، اس میدان میں آپکے  شاگردوں کی تعداد بھی درجنوں میں  ہے،جنہوں نے آپ سے فوٹوگرافی کے اسرار ورموز اور ہنر سیکھا ہے،  شہر کے حلقہ صحافت میں آپ کو پاجی نوازعالم کے نام سے پکارا جاتا ہے، آپ کا تعلق ایک علمی ،ادبی اور فلمی گھرانے سے ہے، ممتاز فلم رائٹر اورگیت نگار بابا عالم سیاہ آپ کے نانا تھے ،جبکہ  والد اسماعیل ظفر بھی ایک فلم رائٹر تھے، متعدد کامیاب  فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں،جن میں اپنے وقت کی سپرہٹ پنجابی فلم

’’دل دا جانی ‘‘ خاص طور پر قابل  ذکر ہے۔

ِ  نواز صاحب  سے ملاقات کا اعزاز مجھے اپنے دوست  اور معروف فوٹو جرنلسٹ نفیس قادری  کے توسط  سے ہوا، نواز صاحب ان  دنوں صاحب  فراش ہیں،  ہم دونوں عیادت کے لیئے انکی  رہائش گاہ گئے  تھے ۔’’ نوائے درویش‘‘ سے کی گئی گفتگو  شائقین کی نذر ہے۔

نوائے درویش : سر ،جرنلزم کے شعبے میں کب آئے؟

ج: میں نے صحافت میں اپنے کیریئر کا  آغازستر کی دھائی میں کیا، یہ  بھٹو صاحب کا زمانہ تھا،  اس وقت ایک ہی  میگزین کا طوطی بولتا تھا، نام تھا ، دھنک،  یہ میرا پہلا ادارہ تھا، سرور  سکھیرا صاحب  اس کے مالک  اور مدیر اعلیٰ تھے، جبکہ  ادارتی اور رپورٹنگ ٹیم میں آج کی  نامور صحافتی  شخصیات شامل تھیں،ان میں حسن نثار، پرویز حمید، طفیل اختردادا، ظفراقبال سمیت بہت سے  لوگ  تھے، میں اس  سے سب ایڈیٹر کے طو ر پر وابستہ  ہوا تھا، تاہم بعدازاں حالات اور اپنے شوق کی بنا پر فوٹو گرافی کی طرف آگیا، اس حوالے سے جناب سرور سکھیرا نے میری  بہت  حوصلہ افزائی کی،وہ کہا کرتے تھے ،جو کام بھی کرو پورے جذبے،لگن اور اخلاص کے ساتھ کرو،کامیابی تمہارا مقدر ہوگی۔دھنک اپنے مواد اور خوبصورت لے  آئوٹ  کی وجہ سے ملک  کا پسنددیدہ ترین رسالہ تھا،جس کی اشاعت  بھی غیرمعمولی تھی، سیاست ، ادب اور شوبز کی سرکردہ  شخصیات کی خواہش  ہواکرتی تھی کہ  ان کے بارے میں  کوئی  فیچریا مضمون کسی طرح سے دھنک میں چھپ جائے، ہمیں کسی بھی سلیبرٹی کا انٹرو یو کرنے کے لیے  اس کے گھر نہیں جاناپڑتا، لوگ ہمارے دفتر آنا پسند کرتے تھے،یہ  ایک روایت شکن اور روایت ساز جریدہ تھا، بعد میں آنے والے بہت سے میگزین اور جرائد نے  اس کے گیٹ اپ  اور سٹائل کو کاپی کیا تاہم کوئی بھی دھنک سا نہ بن سکا۔

سکھیرا  صاحب  ایک نظریاتی صحافی  ہیں، وہ  سیاسی طورپر پیپلزپارٹی کے ہم نوا تھے، اور انہوں نے اپنی اس وابستگی کو کبھی  چھپایا نہیں ، بلکہ اپنے جریدے کے صفحات پر اس کا اظہار بھی کیا، ا ورجنر ل ضیا الحق کے مارشل لا کے دور میں بھی اپنی اس روش اور جرات رندانہ کو ترک نہ کیا، انہیں اس بات کی قیمت بھی  ادا کر نی  پڑی، فوجی حکمرانوں نے انہیں سبق سیکھانے کے لیے  ایسے حالات  پیدا کردیئے کہ آخرکار’’دھنک ‘‘ کواپنی  اشاعت  بند کرنا پڑی ۔

نوائے درویش : آ پ کئی  سال دھنک  سے وابستہ رہے، اس دوران پیش آنیوالا کوئی دلچسپ  واقعہ ہم سے شیئر کریں گے ؟

ج۔ویسے تو دھنک  میں ملازمت کے دوران کئی دلچسپ واقعات پیش آئے، تاہم ایک واقعہ تو میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا، جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ یہ جریدہ سیاسی امورپر بھی اپنی رائے کا اظہار کھل کرتا تھا، جو ظاہر ہے کہ بہت سے سیاسی گروپس کو ناگوار گزرتی تھی، اور ان کی خواہش ہوتی تھی کہ اس رسالے کے مالکان اور ادارتی ٹیم کو سبق سیکھا جائے،تاہم اکثر تو یہ خواہش کرکے ہی رہ جاتے تھے ، اوربوجہ اس پر عمل کرنے گریز کرتے تھے ،تاہم ایک سیاسی مذہبی  جماعت  کے مسلح  ونگ کے کارکنوں نے اس ضمن میں عملی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مین مارکیٹ  میں واقع دھنک کے دفتر (جوبالائی منزل پر واقع تھا ) پردھاوا بول دیا، اور وہاں موجود سامان کی توڑ پھوڑ  شروع کردی، اور اس کے ساتھ وہاں موجود سٹاف کو مختلف قسم کی دھمکیاں بھی دیتے رہے، حملہ آوروں کے چند ساتھی ایڈیٹر کے کمرے میں داخل  ہوگئے ،اور مدیر دھنک سے پوچھنے لگے، یہ سرور  سکھیرا  کون ہے سکھیرا صاحب نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے  کہا، وہ  ذرا کام سے باہر گئے ہیں؟،  اچھا، دیکھ لیں گے  اسے بھی۔پھر وہاںموجود چیز وں کو اٹھا اٹھا کر پٹخنا شروع کردیا ،اس دوران جانے سکھیرا صاحب کو کیا سوجھی کہ  انہوں نے  پین سٹینڈ سے سرخ روشنائی والا ایک پین  اٹھا کر اپنی عقبی کھلی کھڑکی سے نیچے  اچھال دیا، دفتر کے عین نیچے  دودھ  دھی کی دکان تھی، جس کا مالک ایک پہلوان  نما شخص تھا،سرور صاحب کی جانب سے اچھالا گیا پین سیدھا  کھولتے ہوئے دودھ کی کڑاہی میں گرا، اوراس میں موجود سرخ روشنائی کی وجہ سے  دودھ کارنگ  سرخ  ہونے  لگا، تو دودھ کاڑھنے  والے پہلوان کو غصہ آگیا، اور  وہ سمجھا کہ ہم اوپر والوںنے کوئی شرارت کی ہے۔ اس پر مشتعل ہوکر  پہلوان نے  دودھ  کاڑھنے والا کھرپا اٹھایا اور غصے  میں آگ بگو لہ  ہوکر  اوپر آگیا، اور کہنے  لگا،اوئے ، ہمارے ساتھ مسخریاں کرتے ہو، کرتا ہوں ابھی سیدھا کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میں پکڑے کھرپے  سے وہاں موجود سیاسی  جماعت  کے کارندوں کو  مارنا شروع کردیا، وہ لوگ سمجھے کہ ہم لوگوں نے کسی بدمعاش کو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے  بلالیا ہے  ،اس خیال کے آتے  ہی ان لوگوں نے راہ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی خیریت سمجھی اورفورا دفتر کی سیڑھیاں  اتر گئے۔اس طرح اللہ نے دھنک کے کارکنوں کو اس سیاسی جماعت کے مسلح  کارکنوں کے چنگل سے نجات دلائی، یہ واقعہ  جب بھی یاد آتا ہے، بے ساختہ  لبوں پر ایک مسکراہٹ سی  آجاتی ہے۔

نوائے درویش :  سر،آپ نے ایک طویل عرصہ  شعبہ صحافت  کودیا ہے، جس وقت آپ  اس میں آئے،اور آج کے ماحول میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

ج:الحمداللہ آج کے دورمیں ہمیںاپنے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی سہولت میسر ہے، ہمارے پاس کمپیوٹر اور ڈیجیٹل کیمرے  ہیں،ایک منٹ  سے بھی کم وقت میں ہماری خبریا تصویرہزاروں میل دور پہنچ سکتی ہے،جس وقت ہم  دنیائے صحافت  میں آئے اس وقت یہ  آسانیاں میسر نہیں تھیں، اوراخبار کی اشاعت کے مراحل زیادہ وقت اور مشکل سے طے ہوتے ہیں،تاہم اس وقت ایک چیز تھی ہمارے پاس ضرور موجود تھی وہ تھی ہمارا پروفیشنل ازم ، میرا مطلب  ہے  اپنے کام سے پرخلوص لگن کا جذبہ ، اس وقت ہر اسائمنٹ  ہمارے لیے ایک چیلنج  کادرجہ  رکھتی تھی ،اب شائد یہ  خوبی بتدریج پس منظر میں جارہی ہے، اگرچہ ہماری اقتصادی صورتحال ماضی  کی نسبت قدرے بہتر ہے، مگر معاف کیجیے گا اب ہماری  اکثریت نوکریاںکررہی ہیں، ا پنے  پیشے  سے کمٹمنٹ  ہم میں ختم ہوتی جارہی ہے، یہ صورتحال  ہمارے لئے  لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔

سینئر فوٹو جرنلسٹ اور لاہور پریس کلب کےلائف ممبر نواز عالم نےکہا اہل صحافت میں مشنری جذبہ اور پروفیشنل ازم ختم ہوتا ہے ، یہ بات ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے، انہوں ںنے کہا کہ ہمارےزمانے میں تنخواہیں اور مراعات کم تھیں لیکن جذبہ اور لگن بہت زیادہ تھی، ہراسائنمنٹ ایک چیلنج کا درجہ رکھتی تھی، اورہم اس پر پورا اترنے کی ہرممکن کوشش کرتے تھے،اب ماضی کی نسبت اگرچہ اقتصادی صورتحال قدرے بہتر ہے، پہل ہم ذوق وشوق سے کام کرتے تھے۔ ا پنے  پیشے  سے کمٹمنٹ  ہم میں ختم ہوتی جارہی ہے۔


Share:

میک اپ آخری حربہ اند رکی خوبصورتی چہرے پر چمک لانے کا باعث بنتی ہے:ماہر بیوٹیشن نبیلہ


 میک اپ آخری حربہ اند رکی خوبصورتی چہرے پر چمک لانے کا باعث بنتی ہے:ماہر بیوٹیشن نبیلہ



٭....کم از کم مہینے میں ایک بارفیشل ضرور کروائیں تاکہ سکن صاف ہوجائے

٭....اچھا پارلر میسر نہ ہوتوصرف قدرتی طریقوں سے استفادہ کریں



(انٹرویووتصاویر: شاہدہ بٹ)


 نبیلہ معروف بیوٹیشن ہیں۔وہ کافی عرصے سے اس شعبے سے وابستہ ہیں اور پارلر چلارہی ہیں۔حا ل ہی میں ٹیم نوائے درویش نے بیوٹیشن نبیلہ سے ایک ملاقات کی،ان کا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔

نوائے درویش :بطور بیوٹیشن کیریئر شروع کرنے کا خیال کیسے آیا؟
ج:میںآئے روز کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں اسی وجہ سے اس فیلڈ میںآئی۔
نوائے درویش :آپ کے خیال میں خوبصورتی کی پہچان کیا ہے؟ 
ج:یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے ،جسے لفظوں میں بیان کیا جا سکے۔ہر انسان کا معیار حسن دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔اس لئے اس کی کوئی تعریف نہیں کی جا سکتی۔
نوائے درویش:کیا میک اپ خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنتا ہے؟
ج:میرا خیال ہے کہ میک اپ آخری حربہ ہے۔سب سے پہلے آپ کے اند رکی خوبصورتی ہے جو آپ کے چہرے پر چمک لانے کا باعث بنتی ہے۔
نوائے درویش: یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ میک اپ کرنے کی وجہ سے سکن سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوتا ہے ،آپ کیا کہیں گی؟ 
ج:بالکل ایسا کچھ نہیں ہے۔جو لوگ غیر معیاری اور سستا میک اپ استعمال کرتے ہیں وہ میک اپ کے ہاتھوں شکار ہو جاتے ہیں۔آپ اچھا معیاری اور برانڈڈ میک اپ جس کے بارے میں آپ کو پتا ہوکہ آپ کی سکن کو سوٹ کرتا ہے وہ خر یدیں،روز رات کو اچھی طرح کلینزنگ کرکے میک اپ اتاریں۔ہو سکے تو دن میں دوبار کلینزنگ کریں۔میک اپ کبھی آپ کی سکن کو خراب نہیں کر سکے گا۔
نوائے درویش:فیشل اور پالش کم از کم کتنے عرصے بعد کروانی چاہئے؟ 
ج:کم از کم مہینے میں ایک بار اچھا سا فیشل ضرور کروائیں تاکہ آپ کی سکن صاف ہوجائے۔
نوائے درویش:بازار سے ملنے والی کریمیں اور فیشل پیکس وغیرہ کا استعمال خود کرنے سے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
ج:آج کل ہم سکن کینسر کے بارے میں بہت سن رہے ہیں،یہ سب سکن کی بیماریاں بھی بازاروں اور اشتہاروں سے ملنے والی کریمیں اور ٹوٹکے ہیں۔ان سے جس حد تک ممکن ہو خود کو بچائیں،کبھی بھی غیر معیاری کاسمیٹکس اور نائٹ کریمیں مت خریدیں۔
نوائے درویش:اچھا پارلر میسر نہ ہوتو کیا کریں؟
ج: صرف قدرتی طریقوں سے استفادہ کریں۔
نوائے درویش :گرمیوں کے موسم میں جلد کو کیسے خوبصورت اور ترو تازہ رکھا جا سکتا ہے؟
ج:گرمی اور دھوپ سے خود کو بچا کر رکھیں۔عرقِ گلاب سے تین چار دفعہ دن میں چہرہ ضرور صاف کریں،باقاعدگی کے ساتھ فیشل کرواتی رہیں۔




Share:

ادبی سرگرمیاں محدود، میڈیا آخری ہچکیاں لینے لگا :میم سین بٹ


ادبی سرگرمیاں محدود، میڈیا آخری ہچکیاں لینے لگا :میم سین بٹ


٭....تمام مسودے مکمل کرکے اپنی کتابیں خود چھاپنا چاہتا ہوں،کرونا مجھے قدرتی وباءنہیں لگتی   
صحافی و کالم نگاراورادیب میم سین بٹ سے طارق کامران کا لاک ڈاﺅن کے دوران آن لائن مکالمہ


 میم سین بٹ کا نام ادب و صحافت کے شعبوں میں تعارف کا محتاج نہیں ،طنز و مزاح نگار اور صحافی وکالم نویس ہیں حلقہ ارباب ذوق اور لاہور پریس کلب کے ممبر بھی ہیں ان کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور نصف درجن کتابیں اشاعت کی منتظر ہیں ان کے ساتھ مختصر نشست کے دوران ادب و صحافت کے سفر بارے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے ۔
س۔ کتاب اور قلم کے ساتھ ناطہ کب اور کیسے جڑا ؟
ج۔ پرائمری میں بچوں کی کہانیاں پڑھنے سے آغاز کیا ،مڈل میں اے حمید اور ابن صفی کے ناول پڑھے اور میٹرک میں ڈائجسٹوں کی چاٹ لگ گئی ،کالج کے زمانے میں بڑے ادیبوں کو پڑھنا شروع کیا !
س۔ کن ادیبوں کو زیادہ پڑھا ؟
ج۔ منٹو ،بیدی،کرشن چندر ، احمد ندیم قاسمی، شفیق الرحمان، انتظار حسین ،عبداللہ حسین، اشفاق احمد، ابن انشائ، اے حمید اور عطاءالحق قاسمی کو بہت زیادہ پڑھا !
س۔ لکھنے لکھانے کی طرف کیسے آئے ؟
ج۔ لڑکپن میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ کراچی سے چھپنے والے سپورٹس جرائد اخبار وطن اور ماہنامہ کرکٹر بھی پڑھا کرتا تھا جب ماہنامہ کرکٹر کے مالک ریاض احمد منصوری نے جنوری 1985ءسے ماہنامہ ٹی وی ٹائمز جاری کیا تو اسے پڑھنا اور پھر اس میں لکھنا شروع کردیا میری پہلی تحریراگست 1986ءکے شمارے میں چھپی تھی تقریباََ پانچ برس تک مسلسل ماہنامہ ٹی ٹائمز میں لکھا یہ چونکہ شوبز کا رسالہ تھا اس لئے بعدازاں ہفت روزہ جرائد چٹان، حرمت اور زندگی میں سیاسی موضوعات پر لکھنا شروع کردیا تھا اس دوران نوائے وقت ،روزنامہ پاکستان اور روزنامہ خبریں کے سنڈے میگزین کے علاوہ پندرہ روزہ ٹی ہاﺅس، ماہنامہ اور سہ ماہی خیال وفن سمیت سمیت مختلف جرائدمیں ادبی مضامین بھی لکھے !
س۔ کالم نگاری کی طرف کیسے آنا ہوا ؟
ج۔ فیصل آباد میں ایوننگر اخبار روزنامہ صورتحال کے نیوزایڈیٹر جمیل سراج میرے دوست تھے اس اخبار سے کالم لکھنے کا آغاز کیا پھردیگر مقامی اخبارات ڈیلی بزنس رپورٹ ،ڈیلی کرنٹ رپورٹ، ڈیلی رپورٹ ، روزنامہ غریب اور روزنامہ امن میں بھی لکھتا رہا بعدازاں قومی اخبارات روزنامہ الاخبار ،روزنامہ خبریں اور روزنامہ جناح میں بھی برسوں کالم لکھتا رہا ہوں۔
س۔ عملی صحافت میں کب اورکیسے آئے ؟ 
ج۔میرا اخبار کے ساتھ لڑکپن میں ہی تعلق پیداہوگیا تھا مڈل کلاسز کے زمانے میں میرے خالو دکان پر نوائے وقت منگوایا کرتے تھے ہمسائے میں میرے دوست خواجہ عامر رشید کے گھر روزنامہ مشرق اور دوسرے دوست فاروق نسیم بٹ کے گھر روزنامہ امروز آتا تھا اور میں روزنامہ تینوں اخبارات کا مطالعہ کیا کرتا تھا بعدازاں سیالکوٹ سے میرا گھرانہ فیصل آباد منتقل ہو گیا تو وہاں نوائے وقت کے بیورو آفس سے بطور رپورٹر عملی صحافت کا آغاز کیا نوائے وقت کے بیورو چیف ان دنوںمجید نظامی مرحوم کے بھتیجے احمد کمال نظامی ہوتے تھے!
س۔ فیصل آباد میں کتنا عرصہ صحافت کی ،کن اخبارات کے ساتھ منسلک رہے اور لاہور کب آئے ؟
ج۔فیصل آبادمیں دس برس تک نوائے وقت ، روزنامہ الاخبار ، روزنامہ اوصاف ، روزنامہ پاکستان کے بیورو ز سمیت مقامی اخبارات روزنامہ غریب، شیلٹر اور روزنامہ پنجاب نیوز کے ساتھ منسلک رہا اس کے بعد جون 2002ءمیں اپنے صحافی دوست قمرالزمان بٹ کی وساطت سے لاہور آکر روزنامہ خبریں کے ساتھ وابستہ ہو گیا تھا آج کل بھی اسی اخبار سے منسلک ہوں البتہ درمیان میں روزنامہ الشرق اور روزنامہ جناح کے سات چھ سات برس منسلک رہا ہوں!
س:روزنامہ خبریں کے ساتھ طویل وابستگی کی کوئی خاص وجہ ہے ؟
ج۔ روزنامہ خبریں صرف اخبار نہیں یہ باقاعدہ میڈیایونیورسٹی کا درجہ رکھتاہے جس کے وائس چانسلر ضیا شاہد ہیں موجودہ عہد میں ان جیسا کوئی دوسرا پیشہ ور صحافی دکھائی نہیں دیتا متعدد کامیاب اخبارات ان کے کریڈٹ پر ہیں انہوں نے مجھے بطور کالم نگار شناخت دی مجھ سے اخبار میں کالم کے علاوہ سنڈے میگزین میں بھی لکھوایا وہ حقیقی معنوں میں جوہری ہیں ان سے زیادہ کوئی ایڈیٹر نہیں جانتا کہ کس کارکن صحافی سے کیا کام لیا جا سکتا ہے جناب ضیا شاہد کے تیارکردہ صحافی تقریباََ تمام بڑے اخبارات میں اہم عہدوں پر فائز ہیں !
س۔ آپ کی اب تک تین کتابیں چھپ چکی ہیں مزید کتابیں کب شائع ہو ں گی ؟
ج۔ میں نصف درجن کتابوں کے مسودے مکمل کرچکا ہوں ان میں سے ایک کتاب طنزومزاح پر مشتمل ہوگی دوسری سفرنامہ ہوگا تیسری قلمی خاکوں اورچوتھی فیصل آبادکی یادوں پر مبنی ہوگی، پانچویں پاک ٹی ہاﺅس اور چھٹی کتاب لاہور شہر کے بارے میں ہو گی!
س۔آپ کی پہلی کتاب بھی طنزومزاح پر مبنی تھی اورلاہور پر پہلے بھی آپ کی ایک کتاب چھپ چکی ہے ،لاہور شہر کے حوالے آپ نے بہت زیادہ لکھا ہے میرا اندازہ ہے کہ لاہور کے موضوع پر آپ کی مزید چار پانچ کتابیں چھپ سکتی ہیں ؟
ج۔ آپ کا اندازہ درست ہے میں لاہور کے حوالے سے چھپنے والی کتابوں پر تبصرے بھی لکھتا رہتا ہوں اب تک تقریباََ پینتالیس کتابوں پر میرے تبصرے چھپ چکے ہیں تقریباََپندرہ کتابیں باقی رہ گئی ہیں جس کے بعد ان کا مجموعہ شائع کروں گا !
س۔ادب و صحافت کی طرف نہ آئے ہوتے تو کیا ہوتے ؟
ج۔شاید ٹاپ ٹین ہوتا اورغالبا“اب تک کسی اصلی یا جعلی پولیس مقابلے میں پار ہو چکا ہوتا ،ادب و صحافت نے میرے مزاج کا غصیلہ پن ختم کردیا تھا ۔۔۔!
س۔ ختم نہیں کچھ کم کیا ہوگا !(قہقہے )
ج۔ بہرحال اسے بھی غنیمت سمجھتا ہوں !
س۔ کرونا وائرس کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟
ج۔ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں مجھے تو یہ قدرتی وباءنہیں لگتی اس میں عالمی انسانی سازش کارفرما لگتی ہے شاید یہ دنیا کی آبادی گھٹانے کا منصوبہ ہے لیکن باربار لاک ڈاﺅن کرنے سے یہ آبادی بڑھانے کا منصوبہ بن چکا ہے !
س۔ کرونا وباءاور لاک ڈاﺅن سے آپ نے لکھنے پڑھنے کا کام بڑھا دیا ہے یا کم کردیا ہے ؟
ج۔ اب تو لکھنے پڑھنے کو جی ہی نہیں چاہتا بلکہ زندگی سے ہی جی اچاٹ ہوتا جا رہا ہے !
س۔ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے ؟
ج۔یہ آن لائن یعنی محدود ہو کررہ گئی ہیں،کرونا کی وباءکے خاتمے تک یہی سلسلہ چلے گا!
س۔ صحافت کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں ؟
ج۔ تاریک۔۔۔ حکومت نے میڈیا کا گلا گھونٹ ڈالا ہے اب تو یہ آخری ہچکیاں لے رہاہے ہم اجڑے
 باغوں کے گالڑھ پٹواری ہیں ہمارے بعد اجالا نہیں مکمل اندھیرا دکھائی دیتاہے !







Share:

عالمی ادب کے فروغ کےلئے کوشاں انگلش لٹریری سوسائٹی


عالمی ادب کے فروغ کےلئے کوشاں انگلش لٹریری سوسائٹی

 ٭....مجھے جب انگلش لٹریری سوسائٹی کا صدر منتخب کیا گیا تو میں نے اسے اپنے لئے اعزاز سمجھا کہ مجھے ایک ادبی تنظیم کا صدر بنا یا گیا ہے،اس کے بعد میں نے زیادہ محنت اور احساس ذمہ داری سے کام کیا، میں روبیہ جیلانی اوردیگر احباب کے ساتھ مل کر اپنے فورم کی علمی ادبی خدمات کےلئے زیادہ متحرک ہوگئے ،میرے خیال میں انگلش لٹریری کا بنیادی مقصد عالمی ادب کے فروغ کے لئے کام کرنا ہے:پروفیسر انوار الحق
٭....ہمارے لئے یہ بہت اعزاز کی با ت ہے کہ یونیسکو نے لاہور کو سٹی آف لٹریچر قراردیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس عالمی ادارے نے اس شہر میں ہونے والی علمی وادبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے، اس اعزاز کے بعد تو اس شہر کے ادبی حلقوں کو زیادہ محنت اور توجہ سے لٹریچر کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا، ہماری تنظیم نے تو اس حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے، ہم نے لاہور سٹی آف لٹریچر نیٹ ورک کے اشتراک سے دو خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا ،مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا: روبیہ جیلانی


انٹرویو :طارق کامران


انگلش لٹریری سوسائٹی گزشتہ 19سال سے فروغ ادب کےلئے کوشاں ہے، اس فورم نے ادبی ذوق رکھنے کو والوں عالمی ادب کے قریب لانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے،جبکہ قومی اورعلاقائی زبانوں کے ادب کے حوالے سے بھی اہم فکری نشستوں کا اہتمام کیا ہے، تاہم عالمی ادب کے فروغ پر ہماری خصوصی توجہ ہے،دنیا بھر کے ادب میں جس جس اہم موضوع اور قدرتی آفات کے تناظر میں جوکچھ لکھا گیا ہے، ہم نے اس پرمتعدد سیمینار کرائے ہیں، جس میں دلچسپی رکھنے والے علم دوست احباب کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے، جبکہ دنیا بھر میں جن اہل قلم کو ادب کانوبل پرائز ملا ہے،ان کے تخلیقی کام کو بھی اہل ذوق کے سامنے لائے ہیں،ان خیالات کا اظہار انگلش لٹریری سوسائٹی کے صدرپروفیسرانوارالحق اورسیکرٹری جنرل روبیہ جیلانی نے نوائے درویش سے مشترکہ انٹرویو میں کیا۔

نوائے درویش: پروفیسر انوارالحق صاحب ، جب آپ کو انگلش لٹریری سوسائٹی کا صدر بنا یا گیا تواس وقت آپ کے احساسات کیا تھے؟
ج: مجھے جب انگلش لٹریری سوسائٹی کا صدر منتخب کیا گیا تو میں نے اسے اپنے لئے بات اعزاز کی بات سمجھا کہ مجھے ایک ادبی تنظیم کا صدر بنا یا گیا ہے،اس کے بعد میں نے زیادہ محنت اور احساس ذمہ داری سے کام کیا، میں روبیہ جیلانی دیگر احباب کے ساتھ مل کر اپنے فورم کی علمی ادبی خدمات کےلئے زیادہ متحرک ہوگئے ،میرے خیال میں انگلش لٹریری کا بنیادی مقصد عالمی ادب کے فروغ کے لئے کام کرنا ہے، اسی بنا پر ہم نے اپنے بیشتر پروگرام بھی اس بات کو پیش نظررکھتے ہوئے ترتیب دیئے اور ہمیں خوشی ہے کہ پڑھے لکھے حلقوں کی جانب سے ہماری ان کاوشوں کو سراہا گیا، جبکہ میڈیا نے بھی ہمارے کام کی ستائش کی ہے۔
نوائے در ویش : یہ بتائیں کہ دنیا بھر میں تخلیق ہونے والے ادب اور پاکستان کے قومی ادب میں کوئی فرق ہے ؟
ج:عالمی ادب اور ہمارے ہاںلکھے جانیوالے ادب میں فرق صرف سکوپ کا ہے ہمارا ادب بھی عالمی ادب ہی کا حصہ ہے،دنیامیں ہمارے ادبی کام کوسراہا گیا ہے، ہمارے تخلیق کاربھی عالمی سطح پر اپنی ایک پہچان اور شناخت رکھتے ہیں، جیسا کہ علامہ اقبالؒ،فیض احمد فیض ؒ، سعادت حسن منٹو، احمدندیم قاسمی ہیں،انتظارحسین ہیں، یہ دنیا کے ادبی حلقوں میںبھی اپنا ایک مقام رکھتے ہیں،اور پروفیسر جیلانی کامران کابھی ورلڈ انسائیکلوپیڈیا آف لٹریچر میں ذکرکیا گیا ہے، تاہم ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اردوادب کا دنیا کی دیگر زبانوں میں زیادہ سے زیادہ ترجمہ کیا جائے، تاکہ یہ عالمی سطح پر بھی ادب دوستوں حلقوں تک پہنچ سکے ۔ 
نوائے درویش : پاکستان کے ادبی حلقوں دنیا کے ادب دوست حلقوں کو قریب لانے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
ج :اس مقصد کےلئے زیادہ سے زیادہ ادبی کانفرنسز اور سیمینار زکرا نے کی ضرورت ہے،جس میں دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے اہل قلم شرکت کریں ، اپنے خیالات کا اظہارکریں ،اپنی تخلیقات پیش کریں اور ہمارے رائٹرز انہیںاپنی تخلیقی سرگرمیوں سے آگاہ کریں، جیساکہ لاہور لٹریری فیسٹیول ہوا ،جس میںترک نوبل انعام یافتہ ادیب اورہان پیمک نے خصوصی شرکت کی اور ا پنے ادبی کام سے شرکا کو آگاہ کیا ، انگلش لٹریری جلد اورہان پیمک کے ادبی کارناموں کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،انشا اللہ کورونا گزرنے کے بعد جلد یہ محا فل ہوں گی۔
روبیہ جیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انگلش لٹریری سوسائٹی کی بنیاد ہی اس لئے رکھی ہے کہ پاکستان کے علم دوست حلقوں کو عالمی ادب کے قریب لایا جائے۔
نوائے درویش :روبیہ جیلانی آپ یہ بتائیں کہ ہم اپنے ادبی پلیٹ فارمز سے فروغ ادب کا کام کس طرح سے زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں؟
ج: ہمارے لئے یہ بہت اعزاز کی با ت ہے کہ یونیسکو نے لاہور کو سٹی آف لٹریچر قراردیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس عالمی ادارے نے اس شہر میں ہونے والی علمی وادبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے، اس اعزاز کے بعد تو اس شہر کے ادبی حلقوں کو زیادہ محنت اور توجہ سے لٹریچر کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا، ہماری تنظیم نے تو اس حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اور ہم نے لاہور سٹی آف لٹریچر نیٹ ورک کے اشتراک سے دو خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا ہے مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہیگا، اس حوالے سے میری شہر کی دیگر ادبی تنظیموں سے گزارش ہے کہ وہ شہر کے ٹاﺅن ہال کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں، دنیا بھر کے بڑے شہروں کے ٹاﺅن ہالز ہی ان کی ادبی سرگرمیوں کا پلیٹ فارم بنتے ہیں۔لاہور سٹی آف لٹریچر کا نیٹ ورک سٹی گورنمنٹ چلارہی ہے، کمشنر لاہور اس کے سربراہ ہیں، اور وہ اس کام میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، میں نے ان سے گزارش کی ہے کہ اس میں شہر کی ادبی تنظیموں کو موثر نمائندگی دی جائے، اوران کے عہدیداروں کو اس کا حصہ بنایا جائے، جبکہ ادبی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فورم سے ہونے والے مشاعروں کے سلسلے کوذرا کم کریں اور علمی ادبی نوعیت کے دیگر پروگرامز پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کریں۔





Share:

والدین تنقید بھی کرتے ہیں اور بچہ بھی پرائیویٹ سکول میں بھیجتے ہیں:عثمان امجد بھٹی


 والدین تنقید بھی کرتے ہیں اور بچہ بھی پرائیویٹ سکول میں بھیجتے ہیں:عثمان امجد بھٹی


٭....میری پیدائش پاکستان بننے کے 18 سال بعد کی ہے ، والدہ تقسیم کے وقت ہجرت کر کے آئی تھیں جبکہ میرے دادا 1920 میں یہاں آ گئے تھے، ہجرت بارے اپنی والدہ سے سنا۔ یہ بھی ایک طویل داستان ہے جو بہت المناک ہے
٭....میں کاروبار کرنا چاہتا تھا اور میرے والد کی خواہش تھی کہ استاد بنوں۔ سو انکی دعا سے مری چاہت بھی پوری ہوئی اور انکی خواہش بھی۔ میں استاد بھی ہوںاور کاروبار بھی کررہا ہوں
٭....میں اصل میں تو ایک استاد ہوں اور میرا ماننا ہے کہ استاد ہر فن مولا نہ بھی ہو اسے ہر فن کی درک ضرور ہوتی ہے، شکار کرتے ہوئے مجھے اپنے اندر کے نرم انسان کو سلانا پڑتا ہے
٭.... میں اوائل عمری سے ہی ایک اچھا مقرر رہا ہوں۔ مجھے پہلا انعام پہلی جماعت میں ملا تھا۔ میں نے اپنے شہر کے ہائی سکول میں جلسے میں ایک نظم پڑھی تھی۔ ڈائس کے پیچھے ایک کرسی رکھی گئی تھی اس پر کھڑے ہو کر میں نے نظم پڑھی۔ انعام کے طور پر مجھے ایک لفافہ ملا۔ گھر جا کر اسے کھولا تو اس میں پانچ روپے کا نوٹ تھا۔ یہ بات غالباً 1970 کی ہے۔ اسکے بعد بیسیوں انعامات ملے۔
٭.... بچہ گھر کے ماحول اور خصوصاً ماں اور باپ سے سیکھتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ پہلے وہ طے کریں کہ وہ اپنے بچے کو کن خوبیوں والا انسان بنانا چاہتے ہیں۔ پھر وہ خوبیاں اس میں پیدا کرنے کی کوشش اسکے بچپن سے ہی کریں۔ اللہ سے مدد مانگیں۔ ان شاءاللہ بچہ ویسا ہی بنے گا۔
٭....پرائیویٹ سکول کا الگ ڈائریکٹوریٹ ہے، وہاں تک رسائی کا کوئی سادہ یا آسان طریقہ نہیں ہے۔ سرکار نجی سکولوں سے تین نمائندے لیتی ہے مگر وہ عموماً کافی چھوٹی سوچ رکھنے والے لوگ ثابت ہوئے ہیں۔ کسی وزیر یا سیکرٹری کے ساتھ تصویر چھپوا لینا انکی زندگی کی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔جن کی سوچ اتنی پست ہو وہ بات کرنے کی جرائت کیسے کر سکتے ہیں۔ حکومت سپورٹ کرنے کی بجائے دشمنی کرتی ہے
٭....حکومت اور میڈیا کی پرائیویٹ سکول بارے منفی پالیسی نے بھی والدین کے دل سے نجی سکول کی عزت کو کم کیا ہے۔والدین کے پرائیویٹ سکول کے ساتھ اس رویے نے تدریسی عمل کی روحانیت کو ختم کر دیا ہے
 ایس ایم ایس(سٹینڈرڈماڈل سکول) کے چیئرمین عثمان امجد بھٹی کانوائے درویش کے لئے خصوصی انٹرویو


 پینل: عبدالمعز، عبداللہ، وقار


چاہت اور خواہش کا پورا ہونا دعاﺅں اور اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیںہوتا۔چاہت اور خواہش ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن ضروری نہیںکہ ہر شخص کی چاہت اور خواہش پوری ہوجائے کوئی نہ کوئی کسک رہ جاتی ہے۔ اولاداگر والدین کے شعبے سے وابستہ ہوجائے اور باصلاحیت بھی ہو توپنجابی میںیہ کہا جاتا ہے کہ”بوڑھ دی تھانویں بوڑھ لگ گیا اے“۔۔اچھرہ ، سمن آباد کے معروف سکول ایس ایم ایس(سٹینڈرڈماڈل سکول) کے چیئرمین عثمان امجد بھٹی کی شخصیت بھی بالکل ایسی ہے جیسے ”بوڑھ کی جگہ پربوڑھ“۔۔۔ وہ اس درخت کی مانند ہیں جو انتہائی گھنا ہے اور اس درخت نے نجانے کتنے لوگوںپر صحر امیں چھاﺅں کی ہوئی ہے۔گذشتہ دنوں ”نوائے درویش“ کی ٹیم نے ان سے خصوصی نشست کی اور ان کے اوراق زیست سے پردہ اٹھایا۔ یہ خصوصی انٹرویو شائقین کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔
نوائے درویش : آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے؟
ج:میرا تعلق چیچہ وطنی ضلع ساہیوال سے ہے۔
نوائے درویش : اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں؟
ج:میں راجپوت ہوں اور میری گوت بھٹی ہے ۔میرے خاندان کا رجحان پڑھنے اور پڑھانے کی طرف رہا ہے۔ میرے والد محترم اردو اور فارسی کے استاد تھے۔ اس وقت میرے خاندان میں کافی لوگ پی ایچ ڈی ہیں اور پاکستان کے سکولوں اور جامعات سے لیکر امریکہ ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے ہیں۔
نوائے درویش : اپنے آبائی علاقے اور جوانی کی کچھ یادوں کی بارے میںبتائیں؟
ج:میرا علاقہ اور میری جوانی کی یادیں ایک ناول کی متقاضی ہیں ۔
نوائے درویش :آپ کے آباﺅ اجداد ہجرت کرکے پاکستا ن آئے ، کچھ اس بارے میںدھندلی یادوں کا تذکرہ کریں؟
ج:میری پیدائش پاکستان بننے کے 18 سال بعد کی ہے۔ میری والدہ تقسیم کے وقت ہجرت کر کے آئی تھیں جبکہ میرے دادا 1920 میں یہاں آ گئے تھے۔ ہجرت بارے اپنی والدہ سے سنا۔ یہ بھی ایک طویل داستان ہے جو بہت المناک ہے۔ 
نوائے درویش : کیاآپ کے پاس والدہ کا کچھ سامان جو ان کے پاس ہجرت کے وقت تھا ہے؟
ج:ہجرت کے وقت تو لوگ بمشکل جانیں بچا پائے ، سامان کی کسے ہوش تھی۔
نوائے درویش :آپ کے خاندان نے قربانی دی آپ تحریک پاکستان کوکس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج: پاکستان ناگزیر تھا اس لیے تحریک تو اٹھنی ہی تھی۔15 /16 سال کی عمر میں مطالعہ کا شوق پیدا ہوا۔ 1984 میں ایک تقریری مقابلے میں میں نے ایک جملہ بولا تھا کہ پاکستان اگر 1947 میں نہ بنتا تو 1984 میں بن جاتا۔ یہ بات آج بہت واضح ہو کر ہمارے سامنے ہے۔
نوائے درویش :پاکستان آکر آباﺅ اجداد کا گزر بسر کیسے ہوا؟
ج:میرے آباﺅ اجداد نے ابتدامیں کھیتی باڑی کی ۔وقت گزرنے کے سا تھ ملازمت اور پھر اسکے ساتھ کاروبار کیا۔
نوائے درویش :وطن کی محبت کے بارے میں کیا کہیںگے؟
ج:وطن سے محبت ہونی چاہئے، جیسے اپنے والدین سے ہوتی ہے۔ 
نوائے درویش : آپ کے چودہ اگست پر کیا جذبات ہوتے ہیں؟
ج:توقف کے بعد۔۔۔۔وہی جو فیض کے ان کی ایک نظم میں ” تم ہی کہو کیا کرنا ہے“ میں ہیں۔
نوائے درویش :آج کے پاکستان کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ج:عام آدمی کے لیے یہ ایک ناکام ریاست ہے























کچھ سوال ذاتی نوعیت کے

نوائے درویش:آپ کی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش کہاں ہے؟
ج:میری تاریخ پیدائش26 جولائی 1965ہے، میں چیچہ وطنی میں پیدا ہوا۔
نوائے درویش: آپ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں آپ نے یہ شعبہ کیوں چنا؟

ج:میں کاروبار کرنا چاہتا تھا اور میرے والد کی خواہش تھی کہ استاد بنوں۔ سو انکی دعا سے مری چاہت بھی پوری ہوئی اور انکی خواہش بھی۔ میں استاد بھی ہوںاور کاروبار بھی کررہا ہوں۔
نوائے درویش:اپنی ذات کے بارے میںکچھ بتائیں آپ کس قسم کے انسان ہیں؟
ج:میری بارے میں اگر دوسروں سے پوچھا جائے تو بہتر ہے۔ بہر حال میں ایک محبت کرنے والا اور نرم دل انسان ہوں۔ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اپنی باطنی خباثتوں کے ساتھ بر سرِ پیکار رہتا ہوں۔ درویشی اور دنیا داری کی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ اگر کوئی مجھے کسی مجمعہ میں آگے بیٹھنے کو کہے اور میری تعریف کرے تو میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ مجھے عام رہنا اچھا لگتا ہے لیکن اگر کوئی مجھے پیچھے بٹھا دے اور مجھے اہمیت نہ دے تو مجھے بہت برا لگتا ہے۔ یہ میری شخصیت کا تضاد ہے۔ اصل میں یہ وہی درویشی اور دنیا داری کی کشمکش ہے جو میرے اندر چل رہی ہے۔ 
نوائے درویش:عمر گزر گئی آپ کوپڑھاتے ہوئے آپ کو اپنے کوئی سٹوڈنٹس یاد ہیںاور کیاان سے رابطہ ہے؟
ج:جی ایسے بہت سے طالب علم ہیں۔ 
نوائے درویش:کہا جاتا ہے کہ زندگی آسان نہیںہوتی اس کوبنایا جاتا ہے آپ اس بارے میںکچھ تجربات شیئر کریںگے اور مشکلات کاتذکرہ کریںگے؟
ج:ہر شخص کے لیے آسان زندگی کا معیار الگ الگ ہو سکتا ہے۔ میری دانست میں زندگی آسان نہیں بنائی جا سکتی البتہ مشکلیں کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ چار عادات آپکی زندگی کی مشکلیں کم کر سکتی ہیں۔ ایک ، آپ بنا طلب کئے مشورہ نہ دیں۔ دوسری ، بحث میں نہ الجھیں ، تیسری دوسروں کی غلطیاں معاف کریں اور چوتھی ، جو بات آپ چاہتے ہیں کہ کسی کو پتہ نہ چلے وہ کسی سے نہ کریں یعنی غیبت مت کریں۔ 
نوائے درویش:کتب دوستی کے بارے میںکچھ بتائیں، آپ سنا ہے بک ریڈر ہیںاور شائد اسی وجہ سے حلقہ احبا ب میں لیڈر(قائد) بھی مشہور ہیں؟
ج:کتاب واقعی بہترین ساتھی ہے۔ یہ آپ کا دل بھی بہلاتی ہے ، آپکو علم ، آگہی اور سوچ دیتی ہے۔ آپ پر طنز نہیں کرتی ، آپ کو تنگ نہیں کرتی بلکہ آپ کا کہنا مانتی ہے۔ آپ جب چاہیں پڑھنا چھوڑ دیں اور جب چاہیں اسے پھر سے اٹھا لیں۔ اس میں رقابت کے جذبات بھی پیدا نہیں ہوتے، یعنی آپ دو یا تین کتابیں بھی بیک وقت پڑھ سکتے ہیں یہ آپس میں ہنسی خوشی رہ لیتی ہیں۔ آپ سونا چاہیں تو یہ آپکو جاگنے پر مجبور نہیں کرتی اور اگر جاگنا چاہیں تو لائٹ بجھانے پر اسرار نہیں کرتی اور نہ کبھی یہ تھکتی ہے۔ آپ جب بھی اسکو پڑھنے کو اٹھائیں یہ مچل کر آپ کے ہاتھ آجاتی ہے۔ اب ایسی خصوصیات آپ کو کتاب کے علاوہ اور کہیں نہیں ملتیں !۔
لیڈر کے لیے تو قائدانہ صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ میرے فہم کے مطابق لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے لوگوں میں کسی کام کے کرنے کے جذبہ کو ابھار سکتا ہو اور مشکل ترین وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ ہو۔ اسکی باقی بہت سی خوبیاں ہیں جو ان دو خوبیوں کے بعد شمار ہوتی ہیں۔ 
نوائے درویش:کتاب دوست شخص جب ہاتھ میں شکار والی گن پکڑتا ہے تو کیسا لگتا ہے اور یہ شوق کب اور کیسے ہوا اس بارے میں کچھ بتائیں؟
ج:میں اصل میں تو ایک استاد ہوں اور میرا ماننا ہے کہ استاد ہر فن مولا نہ بھی ہو اسے ہر فن کی درک ضرور ہوتی ہے۔ شکار کرتے ہوئے مجھے اپنے اندر کے نرم انسان کو سلانا پڑتا ہے۔ بندوق پکڑنا اور نشانہ داغنا شائد میرے خون میں رہا ہو کہ اپنے آبا کا پیشہ تو سپاہ گری ہی تھا۔ یہ بہت جوشیلا کام ہے۔ میں نے پہلا شکار 22 سال کی عمر میں کیا تھا۔ تب میرے پاس نہ تو اپنی بندوق تھی اور نہ ہی شکار کا باقی سامان۔ 
نوائے درویش: آپ سیرو سیاحت کے شوقین ہیں اس بارے میں تفصیل سے کچھ بتائیں؟
ج:جی سیرو سیاحت میری ذات کا حصہ ہے۔ پاکستان میں بلوچستان کا تھوڑا حصہ دیکھا ہے۔ باقی سارا پاکستان دیکھا ہے اور شمالی حصہ میں تو بہت سے علاقے بہت بار دیکھے ہیں اور تب دیکھے ہیں جب راستے دشوار تھے اور سہولتیں کم تھیں۔ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب ، تھائی لینڈ ، جنوبی افریقہ ، ویت نام اور کمبوڈیا کی سیاحت کی ہے۔ 
نوائے درویش:آپ اب انعامات تقسیم کرتے ہیں خود کبھی انعام ملااور اگر ملا توکیا تھا؟
ج:میں اوائل عمری سے ہی ایک اچھا مقرر رہا ہوں۔ مجھے پہلا انعام پہلی جماعت میں ملا تھا۔ میں نے اپنے شہر کے ہائی سکول میں جلسے میں ایک نظم پڑھی تھی۔ ڈائس کے پیچھے ایک کرسی رکھی گئی تھی اس پر کھڑے ہو کر میں نے نظم پڑھی۔ انعام کے طور پر مجھے ایک لفافہ ملا۔ گھر جا کر اسے کھولا تو اس میں پانچ روپے کا نوٹ تھا۔ یہ بات غالباً 1970 کی ہے۔ اسکے بعد بیسیوں انعامات ملے۔ 
نوائے درویش:والد بچے کی زندگی بناتا ہے اس بارے میںکچھ بتائیں؟
ج:بچہ گھر کے ماحول اور خصوصاً ماں اور باپ سے سیکھتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ پہلے وہ طے کریں کہ وہ اپنے بچے کو کن خوبیوں والا انسان بنانا چاہتے ہیں۔ پھر وہ خوبیاں اس میں پیدا کرنے کی کوشش اسکے بچپن سے ہی کریں۔ اللہ سے مدد مانگیں۔ ان شاءاللہ بچہ ویسا ہی بنے گا۔ 
نوائے درویش:آپ بحیثیت والد اور شوہر گھر پرکس قسم کے ہیں؟
ج:میں بہت محبت کرنے والا ، نرمی کرنے والا اور عزت دینے والا باپ اور شوہر ہوں۔ 
نوائے درویش:حلقہ یاراںاور حلقہ احباب کی رائے آپ کے بارے میںکیا ہے؟
ج:کسی کے سامنے تو کوئی بھی بری رائے کا اظہار نہیں کرتا۔ میری غیر موجودگی میں میرے دوست میرے بارے کیا کہتے ہیں وہی اصل ہے اور اس رائے تک میری رسائی کیسے ہو سکتی ہے۔ 
نوائے درویش: آپ ایک متوسط علاقے میں ایک انتہائی اچھا اور کامیاب سکول چلارہے ہیں ، آپ نے بہت سے ذہنوں کی آبیاری کی پرائیویٹ سکولز کی تنظیم کے چیئر مین بھی ہیں، اس بارے میں کچھ بتائیں؟
ج:معاشرے میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ استاد کی عزت میں واضح کمی آئی ہے۔ صرف استاد کی عزت ہی نہیں ، والدین اور اپنے سے بڑوں کی عزت میں بھی کمی آئی ہے۔
حکومت اور میڈیا کی پرائیویٹ سکول بارے منفی پالیسی نے بھی والدین کے دل سے نجی سکول کی عزت کو کم کیا ہے۔ ہم پر تنقید بھی کرتے ہیں اور بچہ بھی پرائیویٹ سکول میں ہی بھیجتے ہیں۔ والدین کے پرائیویٹ سکول کے ساتھ اس رویے نے تدریسی عمل کی روحانیت کو ختم کر دیا ہے۔ 
نوائے درویش:آپ کے مسائل کے لئے حکومت تک رسائی کیسے ہوتی ہے اور پرائیویٹ تعلیمی ادارہ چلانا حکومتی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیںہے،علاقے کے مخیر حضرات کیا آپ کی مدد کے لئے کبھی آگے آئے؟
ج:یہ آپ کے چار سوال ہیں۔میںاس بارے میںیہ کہوں گاکہ باوجود اسکے کہ پرائیویٹ سکول کا الگ ڈائریکٹوریٹ ہے، وہاں تک رسائی کا کوئی سادہ یا آسان طریقہ نہیں ہے۔ سرکار نجی سکولوں سے تین نمائندے لیتی ہے مگر وہ عموماً کافی چھوٹی سوچ رکھنے والے لوگ ثابت ہوئے ہیں۔ کسی وزیر یا سیکرٹری کے ساتھ تصویر چھپوا لینا انکی زندگی کی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔جن کی سوچ اتنی پست ہو وہ بات کرنے کی جرائت کیسے کر سکتے ہیں۔ حکومت سپورٹ کرنے کی بجائے دشمنی کرتی ہے۔ میرے علم میں نہی ہے کہ کبھی کسی مخیر حضرت نے کسی نجی سکول کی مالی مدد کی ہو۔ 
نوائے درویش: آپ اپنی خوشگوار ازدواجی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیںگے اورگھر پر کتنا وقت دیتے ہیں؟
ج:گھریلو زندگی کی خوشگواریت کا تعلق محبت ، باہمی احترام اور درگزر پر ہے۔میں اگر لاہور میں ہوںتو اپنی شادی کے 26 سالوں میں کوئی رات گھر سے باہر نہیں گزری۔ اگر میں ایک روز شام ڈھلے گھر لوٹوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اگلی شام میری گھر پر گزرے اور ہم اکٹھے چائے پئیں۔میں اس بات کو بہت بڑی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ آپ اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھیں اور بچوں کے ساتھ گپ شپ لگائیں۔
نوائے درویش: بحیثیت استاد اور ایک محب الوطن قوم کے نام کیا پیغام دینا چاہیںگے؟ 
ج:میں اس بارے میں یہ کہوں گاکہ خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دینا چھوڑیں۔


Share:

Recent Posts