’’کرونا ادب عالیہ کی تخلیق کا باعث بنے گا‘‘
تازہ عالمی وبا نے ہماری دنیا تبدیل کرکے رکھ دی
آن لائن اجلاس ایک آپشن ہے، براہ راست محفلوں کا متبادل نہیں
انگلش لٹریری سوسائٹی جلد اپنی سرگرمیاں بحال کردے گی
انگلش لٹریری سوسائٹی کے صدر پروفیسر انوارالحق ، سیکرٹری روبیہ جیلانی سے خصوصی ملاقات
انٹرویو ٹیم نوائے درویش:طارق کامران ،تصاویر نفیس قادری
انگلش لٹریری سوسائٹی لاہور شہر کی ایک جانی پہچا نی ادبی وعلمی تنظیم ہے ، یہ گزشتہ بیس سال سے اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، محترمہ روبیہ جیلانی اس کی بانی وسیکرٹری ہیں جبکہ پروفیسر انوارالحق گزشتہ ایک دہائی سے زائد مدت سے اس فورم کے صدر ہیں، اور علم وادب کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں، وہ ایک سرکاری کالج میں انگریزی ادب پڑھاتے ہیں، ان کے شاگردوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، پروفیسر صاحب جرائد اور اخبارت میں ادبی موضوعات پر مضامین بھی لکھتے ہیں۔
روبیہ جیلانی کئی برس تک انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ایک رسالے ، وائس آف رائٹس کی مدیر اعلیٰ بھی رہ چکی ہیں، ادبی تنظیم حلقہ تصنیف ادب میں بطور جوا ئنٹ سیکرٹری ایک فعال کرداراداکرچکی ہیں، ملک کے سرکردہ اخبارات اور سائل میں عالمی ادب کے مختلف پہلوئوں آرٹیکل لکھنے کا سلسلہ بھی کافی عرصے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے دیگر اداروں کی طرح انگلش لٹریری سوسائٹی نے بھی کرونا کی وبا کے باعث ان دنوں اپنی ادبی سرگرمیاں معطل کی ہوئی ہیں۔ تاہم اس ممتاز ادبی فورم کے صدر اور سیکرٹری کاعزم ہے کہ وہ اپنی باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز بہت جلد کردیں گے۔
ٹیم نوائے درویش نے گزشتہ دنوں انگلش لٹریری سوسائٹی کے صدر پروفیسر انوارالحق اور سیکرٹری روبیہ جیلانی سے ایک خصوصی گفتگو کی ، جو ذیل میں نذر قارئین کی جارہی ہے۔
محترمہ روبیہ جیلانی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان دنوں دنیا بھرکی طرح پاکستان کو بھی کرونا کی دوسری لہر کا سامنا ہے، جس کے باعث دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی وعلمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی، اور تقریبا تمام ادبی تنظیموں نے اپنے اجلاس غیر معینہ مد ت کے لئے بند کردئیے، کا فی مہینوں تک یہ صورت حال برقراررہی ،پھر لاک ڈائون ختم ہونے پر بہت سی ادبی تنطمیوں نے اپنے آن لائن اجلاس شروع کردیئے ، جس سے علمی ادبی سرگرمیاں کسی حد تک بحال ہوئیں۔ تاہم آن لائن اجلاس ایک آپشن تو ہیں، مگر یہ براہ راست اجلاس کا کسی صورت متبادل نہیں ہوسکتے ، اس لئے صورتحال میں بہتری آتے ہی انگلش لٹریری سوسائٹی دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر ے گی اور توقع ہے کہ یہ جلدہوگا۔ روبیہ جیلانی کے مطا بق ابھی ہم آن لائن سرگرمیو ںسے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہوسکے ہیں۔
پروفیسر انوارالحق نے مستقبل میں اپنے فورم کی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا کہ ہم اپنے فورم پر دنیا کی مختلف زبانوں میں تخلیق کئے جانیوالے عالمی ادب پرخصوصی پروگرام کروائیں گے تاکہ ہمارے ہاں کے اہل ذوق اس سے بہتر طورپر آشنا ہوسکیں، انگلش لٹریری سوسا ئٹی نے بتایا کہ یہ افسوسناک مگر سچی بات ہے کہ ہمارے لکھاریوں کی اکثریت کا ادبی مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے، ادبی حلقوں میں داخل ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ان کی کتاب تو آجاتی ہے، مگرانہیں ادب کاکچھ پتہ نہیں ہوتا، ہمارے شاعروں کی اکثریت غزل کہتی ہے جبکہ عالمی سطح پر نظم زیادہ کہی جارہی ہے، دنیا میں تخلیق ہونے والے ادب کے حوالے سے توان کی آگاہی نہ ہونے کے برابرہے، اس ادبی منظر نامے میں ہم نے اپنے اہل قلم کی تربیت کے نکتہ نظر سے خصوصی نشستوں کے اہتمام کا فیصلہ کیا، انگلش لٹریری سوسائٹی نے چینی ،جاپانی ،افریقی،روسی اور لاطینی امریکی انگریزی ادب سمیت دیگر زبانو ںکے ادب پرخصوصی سیمینارز شروع کیے ہیں۔
روبیہ جیلانی نے انگلش لٹریری کے زمانہ آغاز پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا جب ہم نے اپنی ادبی تنظم کا آغازکیا تو اس وقت ہمار ے ساتھ یونس علی دلشاد، اشفاق رشید ، پروفیسر آغا یمین، پروفیسر بشیر چوہدری،الطاف چاہ ،ناصر صدیقی ، محمود گیلانی تھے، جبکہ پروفیسر انوارالحق نے 2005میں ہمیں جوائن کیا، جب انہوں نے ہمارے اجلاسوں میں آنا شروع کیا تو میںان سے بہت متاثرہوئی ،ان کی انگریزیری بہت اچھی تھی، اور وہ اپنے مضامین اور مقالہ جات بہت محنت سے تیار کرکے لاتے تھے،کچھ عرصے بعد میں نے انہیں انگلش لٹریری کا صدر بنانے کی تجویز پیش کی ،جس سے بانی اراکین نے اتفاق کیا اور اس طرح وہ ہمارے فورم کے صدر بن گئے، وہ ایک کمنٹ کے ساتھ کام کرنیوالے دانشور اور لکھاری ہیں، توقع ہے کہ ان کی سربراہی ہمارا فورم علم وادب کے فروغ کی مزید منازل طے کریگا۔
انگلش لٹریری سوسائٹی کے صدر پروفیسر انوارالحق نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جب بھی دنیا کو کسی بڑے واقعہ کا سامنا ہوا ہے تو اہل قلم نے اس کو اپنا موضوع بنایا ہے، اس پر نظم ونثر میں بے شمار تخلیقات بھی سامنے آئی ہیں،اور بسا اوقات اس پس منظرمیں بلند پایہ ادب بھی تخیلق ہوا ہے تاہم یہ سب مذکورہ غیرمعمولی حادثے کے رونما کے کچھ عرصے بعد ہوا ہے۔فوری طورلکھا جانیوالا مواد ادب عالیہ نہیں ہوسکتا ،اس وقت بھی کرونا وائرس کے نتیجے میں ہماری زندگیوں پر مرتب ہونے والا اثرات پر بعض اہل قلم طبع آزمائی کررہے ہیں، تاہم وبا کے حوالے سے بڑا ادب اس کے گزرنے کے کافی عرصے بعد تخلیق ہوگا۔












No comments:
Post a Comment