نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

Showing posts with label ٹیکس/کامرس/بزنس. Show all posts
Showing posts with label ٹیکس/کامرس/بزنس. Show all posts

تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری، مگر بجٹ میں متبادل ریونیو کا دباؤ برقرار

 تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری، مگر بجٹ میں متبادل ریونیو کا دباؤ برقرار



اسلام آباد(ویب ڈیسک)آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے انکم ٹیکس کی شرحوں میں قابلِ ق کمی کی سفارشات تیار کرلی ہیں، جنہیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مثبت انداز میں سراہا ہے، تاہم آئی ایم ایف نے متبادل ریونیو ذرائع پیش کرنے پر زور دیا ہے۔


ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج ہونے والے ورچوئل مذاکرات میں بجٹ اہداف، صنعتی و زرعی شعبوں کی سہولت اور ٹیکس ریلیف کی تجاویز پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔


تجاویز میں ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے تک ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے گھٹا کر 2.5 فیصد اور 1 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ آمدنی پر 15 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کرنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، 2 لاکھ 67 ہزار روپے پر 25 فیصد کی جگہ 22.5 فیصد اور 3 لاکھ 33 ہزار روپے پر 30 فیصد کی بجائے 27.5 فیصد کی شرح متوقع ہے۔


صنعتی شعبے کے لیے خام مال پر عائد 200 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی ختمی کا بھی منصوبہ ہے جبکہ تعمیراتی صنعت کو بھی ٹیکس میں کمی دی جا سکتی ہے۔ زرعی شعبے کو قرض اسکیموں کے ذریعے مدد فراہم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔


وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر تیار کردہ ان تجاویز کو معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کو پیش کیا، جس پر آئی ایم ایف نے حمایت کا اظہار کیا لیکن اس کے ساتھ متبادل آمدنی کے ذرائع فراہم کرنے کی شرط بھی رکھی ہے۔

گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں بجٹ اہداف اور ممکنہ ریونیو پلان پر تفصیلی غور کیا گیا تھا، اور آج کے اجلاس میں ان امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Share:

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کردی گئی۔۔۔۔ ٹیکس نہ دینے والوں پر اب کیا پابندی عائد کی جائے گی؟

 

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کردی گئی۔۔۔۔ ٹیکس نہ دینے والوں پر اب کیا پابندی عائد کی جائے گی؟




اسلام آباد:ایف بی آر نے نان فائلرزکی کیٹیگری ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ٹیکس نہ دینے والوں پر  پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جن میں ابتدائی طور پر 5 اہم پابندیاں شامل ہوں گی۔ یہ پابندیاں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ)، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پر لگائی جائیں گی۔

چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لانگریال نے بتایا کہ نان فائلرز کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر 5 شعبوں پر توجہ دی جائے گی، یہ اقدامات وزیر اعظم کی منظوری سے ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ایف بی آر کا مقصد ٹیکس کمپلائنس کو بڑھانا اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، جس کے تحت نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ یہ اقدام ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، ایف بی آر اس کے قواعد و ضوابط پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو بھی شامل کر رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور پر تنقید کی اور کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں، اس لیے انہیں ختم کر دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا، ”ہم جدید مشین لرننگ اور الگورڈمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے کی فیس جمع کی گئی جبکہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں ہوا۔ نئی پالیسی کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس کے۔

2023 میں نان فائلرز نے 20 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ ایف بی آر نے 423 ارب روپے سے زائد کا غیر دعوے دار ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا، اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اصلاحات میں کیش کے چیک جاری کرنے کی ایک حد ہوگی، ایف بی آر ٹیکس گوشواروں میں افراد کی ظاہر کردہ آمدنی کی بنیاد پر تمام بینکوں کو معلومات فراہم اور مخصوص حد قائم کرے گا، حد سے زیادہ کوئی بھی مالیاتی ٹرانزیکشنز کی اطلاع ایف بی آر کو دی جائے گی، یہ نظام چند ماہ میں نافذ ہونے کی امید ہے۔


Share:

فنانس بل 2024 میں ترامیم:ٹیکس نیٹ وسیع کرنے سے کیا نان فائلر کی اختراع ختم ہوجائے گی ؟ کیا حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی؟

 فنانس بل  2024 میں ترامیم:ٹیکس نیٹ وسیع کرنے سے کیا نان فائلر کی اختراع ختم ہوجائے گی ؟ کیا حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی؟


ْْ


فنانس بل  2024 میں ترامیم سے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے سے کیا نان فائلر کی اختراع ختم ہوجائے گی ؟ کیا حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی؟۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کے مزید بوجھ پر اعتراضات کے باوجود مالی سال 25-2024 کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔

صدر مملکت نے فنانس بل پر دستخط کردیے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب  کاکہنا ہے کہ  ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اختراع ہی ختم کر دیں گے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میکرو استحکام پر بہت باتیں ہوچکی ہیں، سمجھنا چاہیے کہ میکرو استحکام ہمیں کیوں چاہیے، نئے مالی سال میں جانے سے پہلے کوشش تھی کہ ہم سارا بیک لاگ ختم کر سکیں، مئی کے آخر تک سارا بیک لاگ ختم کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی بینک نے داسو منصوبے کیلئے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، انٹرنیشل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے پی ٹی سی ایل کیلئے 40 کروڑ ڈالرز منظور کئے ہیں، ملک میں معاشی استحکام آ رہا ہے، حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر ہیں، مہنگائی کی شرح 38 سے کم ہو کر 12 فیصد پر آئی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ میکرو اسٹیبلٹی اس وقت بڑا چیلنج ہے، میکرو اسٹیبلٹی کو ہم نے مستقل کرنا ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے، جو میکرو اشارے ہیں وہ آگے پیچھے ہوگئے تو ہم مائیکرو مغیرات پر ضرور آئیں گے لیکن اگر میکرو اسٹیبلٹی لڑکھڑا گئی تو بڑا نقصان ہوگا۔

فنانس بل میں ابتدائی طور پر پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم اب 80 کے بجائے یہ حد 70 روپے ہوگی۔ مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل اور ای ٹین پیٹرول پر لیوی کی حد 50 روپے رہے گی۔فنانس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد گوشت، موبائل فون، ہربل اور ہومیوپیتھک ادویات مہنگی ہوجائیں گی۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔


ٹیکس فراڈ پر 5 سے 10سال قید کی سزا ملے گی


 آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے ساتھ مالیاتی بل کی پارلیمنٹ نے منظوری دیدی جس کے بعد ٹیکس فراڈ پر 5 سے 10سال قید کی سزا ملا کرے گی۔ایف بی آر افسران کے اختیارات میں ٹیکس فراڈ روکنے کیلئے مزید اضافے کی ترمیم منظور کرلی گئی ہے۔یکم جولائی سے ایف بی آر کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار ، سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے ٹیکس فراڈ کی صورت میں ایف بی آر افسران کے اختیارات میں مزید اضافے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد ایف بی آر کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا متعلقہ شخص ادارے یا کمپنی سے حاصل کرنے کا اختیار ہو گا، سیلز ٹیکس آڈٹ کے دوران انفرادی حیثیت یا مجاز اتھارٹی کو یہ سارا ریکارڈ اور ڈیٹا پیش ہونا ہوگا۔ سیلز ٹیکس آڈٹ میں 6 سال سے پرانا ٹیکس ریکارڈ ایف بی آر کی مجاز اتھارٹی طلب نہیں کر سکے گی۔ٹیکس فراڈ پکڑنے کیلئے ایف بی آر میں یکم جولائی سے ٹیکس فراڈ انوسٹی گیشن ونگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



پراپرٹی الاٹمنٹ اور انتقال پر فائلرز اور نان فائلرز کیلئے فیڈرل ایکسائز ٹیکس عائد


بجٹ میں ایک سے دو ہزار گز کے رہائشی گھروں پر 10 لاکھ اور دو ہزار گز سے بڑے گھروں پر 15 لاکھ روپے ٹیکس لگایا گیا ہے۔ فوٹو فائلوفاقی بجٹ میں پراپرٹی کی الاٹمنٹ اور انتقال پر فائلرز کے لیے 3 فیصد اور نان فائلرز کے لیے 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ٹیکس (ایف ای ڈی) لگا دیا گیا۔گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے وفاقی بجٹ میں ایک سے دو ہزار گز کے رہائشی گھروں پر 10 لاکھ اور دو ہزار گز سے بڑے گھروں پر 15 لاکھ روپے ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ سرونگ اور ریٹائرڈ وفاقی اور صوبائی ملازمین، مسلح افواج اور جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی فروخت اور انتقال پر ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے 56 لاکھ سے زیادہ کمانے والوں کے لیے انکم ٹیکس 45 سے کم کر کے 40 فیصد کر دیا گیا ہے تاہم ایک کروڑ سالانہ سے زیادہ کمانے والوں کے لیے انکم ٹیکس پر 10 فیصد سر چارج لگایا گیا ہے۔بجٹ میں بلڈرز اور ڈیویلپرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے، قابل ٹیکس بلڈرز اور ڈیویلپرز کے لیے حاصل کی گئی رقم پر 10 سے 15 فیصد تک ٹیکس لگایا گیا ہے، قابل ٹیکس آمدن پر 10 سے 15 فیصد لگا دیا گیا ہے۔

 فارم ہاؤسز پر کیپٹل ویلیو ٹیکس بھی ادا کرنا پڑے گا اور گاڑیوں کے انجن آئل پر بھی پانچ فیصد لیوی عائد کر دی گئی ہے۔ترامیم کے تحت ایک کروڑ روپے سالانہ آمدن پر 10 فیصد سرچاج عائد کر دیا گیا ہے جبکہ سول و فوجی ملازمین کو جائیداد پر ایڈوانس ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔حکومت نے فنانس بل میں ترامیم کے ذریعے بیرون ملک سفر کے لیے ایئر ٹکٹس پر ٹیکس شرح میں اضافہ جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینل پر ٹیکس چھوٹ کی شرح کو برقرار رکھا ہے۔

ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح برقرار

فنانس ترمیمی بل میں ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 30 جون 2026 تک سیلز ٹیکس کی شرح کو ساڑھے آٹھ فیصد برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم 1801 سی سی سے 2500 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ساڑھے 12 فیصد کی شرح سے عائد ہو گا۔

یک کروڑ آمدن پر 10 فیصد انکم سرچارج عائد

فنانس بل 2024 میں مزید ترمیم کرتے ہوئے ایسوسی ایشن آف پرسنز یا غیر تنخواہ دار انفرادی طور پر ایک کروڑروپے سالانہ کی آمدن پر 10 فیصد سرچاج عائد کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایسوسی ایشن آف پرسن کی سالانہ 56 لاکھ روپے آمدن پر تجویز کیا گیا 45 فیصد انکم ٹیکس کم کر کے 40 فیصد کر دیا گیا ہے۔

سٹیشنری پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم

وفاقی حکومت نے ترمیمی فنانس بل 2024 میں سٹیشنری پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرتے ہوئے 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔ کلر پنسل کے سیٹ، مختلف اِنکس، ای ریزر، پنسل، شاپنرز پر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

ہربل اور ہومیو پیتھک ادویات پر ٹیکس رعایت ختم

حکومت نے فنانس بل 2024 میں ترامیم پیش کرتے ہوئے نزلہ، زکام اور کھانسی کے جوشاندے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ ہربل معجون، مربے اور سفوف پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔ جبکہ یکم جولائی سے مختلف ہربل شربت اور گولیوں پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔علاوہ ازیں فنانس ترمیمی بل میں ہومیو پیتھک کی سینکڑروں ادویات پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گیا ہے۔

ہومیو پیتھک کے تمام قطروں والی ادویات پر سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔ ہومیو پیتھک کے تمام شربت اور کریم پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔


Share:

حکومت کا نان فائلرز کے خلاف مزید سختیاں کرنے کا فیصلہ، نان فائلر کے بیرون ملک سفر پرپابندی کی تجویز


حکومت کا نان فائلرز کے خلاف مزید سختیاں کرنے کا فیصلہ، نان فائلر کے بیرون ملک سفر پرپابندی کی تجویز



وفاقی حکومت کی بجٹ میں نان فائلرکےبیرون ملک سفر پرپابندی کی تجویز دے دی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کے مطابق ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاورڈویژن سے تفصیلات مانگ رہے ہیں کس گھر میں بجلی میٹر کس کےنام ہے، کچھ کیسز میں گھر کسی اور کے نام اور بجلی میٹر کسی اور کے نام ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 کیلئے 85 کھرب خسارے پر مشتمل 188 کھرب 87 ارب سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔12 ہزار ارب سے زائد ٹیکس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

فنانس بل کے مطابق بجٹ میں نان فائلرز کے بیرون ملک سفرپرپابندی لگانے کی تجویز ہے، تاہم حج عمرہ اور تعلیمی مقاصد کے لیے بیرون ملک جانے والے نان فائلرز کو چھوٹ ہوگی۔نان فائلرز چھوٹے بچوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت ہوگی۔

نان فائلرز کو ٹکٹ جاری کرنے پر ٹریول ایجنسی پر 10 کروڑ روپے جرمانہ لگانےکی تجویز ہے، جبکہ دوسری مرتبہ ڈیفالٹ پر ٹریول ایجنسی پر 20 کروڑ روپے جرمانہ لگانے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ تاجر دوست سکیم میں رجسٹریشن نہ کرانے پر دکان کو سیل کرنے کی تجویز ہے جبکہ دکانداروں کو 6 ماہ قید یا جرمانے کی سزا کی تجویز ہے


Share:

جائیدادکی خریدوفروخت پر فائلر پر 15اور نان فائلر پر 45 فیصد تک ٹیکس لگےگا

 جائیدادکی خریدوفروخت پر فائلر پر 15اور نان فائلر پر 45 فیصد تک ٹیکس لگےگا



بجٹ 25-2024 میں جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلرز  اور نان فائلرز  پر ٹیکس کی شرح میں اضافےکی تجویز ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال پراپرٹی پر کیپٹل گین پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلر  پر 15 فیصد ٹیکس لگےگا جب کہ نان فائلرز کے جائیداد خریدنے اور بیچنے پر 45 فیصد تک ٹیکس لگےگا۔غیرمنقولہ جائیدادوں پر فائلرز، نان فائلرز  اور  تاخیر سے فائل ہونے والوں کے لیے الگ الگ ریٹ لانےکی تجویز ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس اقدام سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی اور ہاؤسنگ سیکٹر میں افواہوں کا خاتمہ ہوگا۔ اس طرح عوام کو بھی مناسب رہائش ملےگی۔

خیال رہے کہ  بجٹ 25-2024 میں جائیدادوں پر انکم ٹیکس سے477ارب 11کروڑ روپے حاصل ہونےکا ہدف ہے۔

Share:

پچاس ہزار روپے ماہانہ آمدن والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار

 پچاس ہزار  روپے ماہانہ آمدن والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار




اسلام آباد:بجٹ 25-2024، حکومت نے ٹیکس ہدف پورا کرنے کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر لاد دیا

آئندہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو اضافہ کیا گیا ہے تاہم نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھنےکی کوئی گارنٹی نہیں۔


پچاس ہزار  روپے ماہانہ آمدن والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ کمانے والوں کا انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ایک لاکھ روپے تک ماہانہ آمدن پر انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ماہانہ انکم ٹیکس 1250 سے بڑھا کر 2500 روپے کر دیا گیا ہے۔

سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپےآمدن پر ٹیکس 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار 344 روپےتنخواہ والوں پر انکم ٹیکس 15 فیصد عائد کردیا گیا ہے۔ ان افراد کا انکم ٹیکس 11667 سے بڑھا کر 15 ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔

سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 25 فیصد عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ 2 لاکھ67 ہزار 667  روپے تنخواہ  پر ٹیکس 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان کا انکم ٹیکس 28 ہزار 770 سے بڑھا کر 35 ہزار 834 ماہانہ کر دیا گیا ہے۔

سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 30 فیصد عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار 667 تک تنخواہ پر ٹیکس 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کا ٹیکس 47 ہزار 408 روپے سے بڑھ کر 53 ہزار 333 روپے ماہانہ ہوگیا ہے۔سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ پر 35 فیصد ٹیکس لاگو کیا جائےگا۔

حکومت نے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کے لیے سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر لاد دیا ہے اور بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو پیس کر رکھ دیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق گریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین کی قوت خرید بہتر بنانے کے لیے تنخواہوں میں پچیس  فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ 17 سے 22 گریڈ تک افسران کی تنخواہوں بائیس اضافہ کیا جا رہا ہے۔

Share:

85 کھرب خسارے پر مشتمل 188 کھرب 87 ارب کا بجٹ پیش، کیا مہنگا، کیا سستا ہوا،تنخواہ دار طبقہ کتنی چھوٹ اور کتنا ٹیکس ادا کرنا پڑے گا؟

 85 کھرب خسارے پر مشتمل 188 کھرب 87 ارب کا بجٹ پیش، کیا مہنگا، کیا سستا ہوا،تنخواہ دار طبقہ کتنی چھوٹ اور کتنا ٹیکس ادا کرنا پڑے گا؟



اسلام آباد:وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 کیلئے 85 کھرب خسارے پر مشتمل 188 کھرب 87  ارب سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

قومی اسمبلی کا اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔ وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ جاری رہا اورسنی اتحاد کونسل کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔

تاہم وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ تقریر کرتے رہے اور کہا کہ گزشتہ حکومت کے سٹینڈ بائی معاہدہ کرنے پر اس کی تعریف کرنا ہوگی، سٹیڈ بائی معاہدے سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی، اسٹینڈ بائی معاہدے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا، مہنگائی مئی میں کم ہوکر 12فیصد تک آگئی اور اشیائے خورد و نوش عوام کی پہنچ میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید کمی کا امکان ہے، ہماری مالیاتی استحکام کی کوششیں ثمر آور ہورہی ہیں، سرمایہ کار متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔

وزیرخزانہ نے بتایاکہ وفاقی حکومت کا ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 12ہزار 970روپے مقرر کیا ہے،  نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 4ہزار 845ارب روپے، براہ راست ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5ہزار 512 ارب روپے اور انکم ٹیکس کی مد میں 5ہزار 454 ارب 6کروڑ روپے کا ہدف مقرر ہے جبکہ گراس ریونیو کا ہدف 17ہزار 815ارب روپے مقرر کیا گیا ، اس کے علاوہ سکوک بانڈ، پی آئی بی اور ٹی بلز سے 5 ہزار 142 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ جاری اخراجات کا ہدف 17ہزار 203ارب روپے، سود کی ادائیگی پر 9 ہزار 775 ارب روپے کےاخراجات ہوں گے۔

اگلے سال بجٹ خسارہ 8ہزار 500 ارب روپے رہنے اور رواں مالی سال بجٹ خسارہ 8 ہزار 388ارب روپے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر بجٹ خسارہ 7ہزار 283ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔


تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس بڑھا دیا گیا

آئندہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا اور 50 ہزار روپے ماہانہ آمدن والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ کمانے والوں کا انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ایک لاکھ روپے تک ماہانہ آمدن پر انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ماہانہ انکم ٹیکس 1250 سے بڑھا کر 2500 روپے کر دیا گیا ہے۔

سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپےآمدن پر ٹیکس 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار 344 روپےتنخواہ والوں پر انکم ٹیکس 15 فیصد عائد کردیا گیا ہے۔ ان افراد کا انکم ٹیکس 11667 سے بڑھا کر 15 ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔

سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 25 فیصد عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ 2 لاکھ67 ہزار 667 روپے تنخواہ پر ٹیکس 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان کا انکم ٹیکس 28 ہزار 770 سے بڑھا کر 35 ہزار 834 ماہانہ کر دیا گیا ہے۔

سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 30 فیصد عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار 667 تک تنخواہ پر ٹیکس 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کا ٹیکس 47 ہزار 408 روپے سے بڑھ کر 53 ہزار 333 روپے ماہانہ ہوگیا ہے۔سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ پر 35 فیصد ٹیکس لاگو کیا جائےگا۔


بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

 

حکومت نے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کردیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اور گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 22 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جبکہ کم از کم ماہانہ تنخوا ہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پینشن پر 1ہزار 14ارب روپے خرچ ہوں گے۔


وفاقی بجٹ 25-2024 کے اہم نکات

بجٹ کا مجموعی حجم 188 کھرب سے زائد

گریڈ 1 سے16 کے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ

گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد اضافہ

سرکاری ملازمین کی پنشن میں 22 فیصد اضافے کی تجویز

کم سےکم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار روپےکردی گئی

سولر پینل کیلئے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایت کا اعلان

ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 12 ہزار 970 ارب روپے مقرر

سکوک بانڈ، پی آئی بی اور ٹی بلز سے 5 ہزار142 ارب روپے کا ہدف مقرر

دفاع کیلئے 2ہزار 122 ارب روپے مختص

سود کی ادائیگیوں کیلئے 9 ہزار 775 ارب روپے مختص

سبسڈی کی مد میں ایک ہزار 363 ارب روپے مختص

ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے 313 ارب روپے مختص

وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 1400 ارب روپے مختص

آزاد کشمیر کو بجلی کی مد میں 108 ارب روپے سبسڈی دی جائے گی

انجن کپیسٹی کے بجائےگاڑی کی قیمت کی بنیاد پر ٹیکس لینےکا فیصلہ

موبائل فونز پر یکساں ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

پنشن اخراجات میں کمی کیلئے اسکیم متعارف

 انجن کپیسٹی کے بجائےگاڑی کی قیمت کی بنیاد پر ٹیکس لینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بجٹ میں گاڑیوں کی خریدار ی اور رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس انجن کپیسٹی (Engine Capacity) کے بجائےگاڑی کی قیمت کی بنیاد پر لینےکا فیصلہ کیا ہے۔


بجٹ دستاویز کے مطابق موجودہ قانون کے تحت 2 ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کی خریداری اور رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی انجن کپیسٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اس لیے یہ تجویز دی جارہی ہےکہ تمام موٹر گاڑیوں کے لیے ٹیکس وصولی انجن کپیسٹی کے بجائے گاڑیوں کی قیمت کے تناسب پر کی جائے۔

سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کیلئے درآمد پر رعایت کو برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی حکومت نے اگلے بجٹ میں سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کیلئے درآمد پر رعایت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ سولر پینلز کی تیاری کیلئے پلانٹ، مشینری پر رعاتیں دی جا رہی ہیں، سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال خال مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعاتیں دی جا رہی ہیں۔ان کا کہناتھاکہ اس کا مقصد درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کم کر کے قیمتی زر مبادلہ بچانا ہے۔

جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز

بجٹ 25-2024 میں جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلر پر 15 فیصد ٹیکس لگےگا جب کہ نان فائلرز کے جائیداد خریدنے اور بیچنے پر 45 فیصد تک ٹیکس لگےگا۔

Share:

ٹیکس نادہندگان کیخلاف ایکشن کی تیاری مکمل

 ٹیکس نادہندگان کیخلاف ایکشن کی تیاری مکمل




لاہور(نوائے درویش رپورٹ) ایف بی آر نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف ایکشن کی تیاری مکمل کر لی۔ تاجروں کا 10 سال کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے۔ عدالتوں سے لیے گئے سٹے بھی خارج ہو جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق چند روز تک ٹیکس نادہندہ تاجروں اور صنعت کاروں کو حتمی نوٹس مل جائیں گے، جن تاجروں اور صنعت کاروں کو نوٹسز بھیجے جائیں گے ان کا رہن سہن، شاہانہ اخراجات ان کے ٹیکس ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتا، ان تاجروں کا ٹیکس چند ہزار جبکہ سالانہ آمدن کروڑوں میں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر تاجروں اور صنعتکاروں نے متعدد پلاٹس لے رکھے ہیں اور ان کے بیرون ملک بھی بزنس ہیں، کئی بار ان تاجروں اور صنعتکاروں کو پورا ٹیکس دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔

اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لاہور کی اکبری منڈی، شاہ عالم مارکیٹ، اعظم کلاتھ، انارکلی اور لبرٹی کے تاجروں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جبکہ مال روڈ، گلبرگ، فیروز پور روڈ، ماڈل ٹاؤن اور دیگر علاقوں کے تاجروں کی فہرستیں بھی تیار ہیں۔

ذرائع کے مطابق تاجروں کا 10 سال کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، دوسرے مرحلے میں پنجاب بھر کی مارکیٹوں اور بازاروں کے تاجروں کو شامل کیا جائے، عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا، جس کے بعد اسٹے خارج ہو جائیں گے۔

ایف بی آر حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہے، نہ کسی سے زیادتی ہو گی نہ زائد ٹیکس لیں گے، تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں، ٹیکس لیے بغیر اب گزارا نہیں، حکومت سنجیدہ ہے۔

Share:

پچاس ہزار روپے سے کم تنخواہ پر ٹیکس لگے گا یا نہیں؟۔۔۔۔عالمی بینک نےواضح بتادیا


پچاس ہزار روپے سے کم تنخواہ پر ٹیکس لگے گا یا نہیں؟۔۔۔۔عالمی بینک نےواضح بتادیا



کراچی(نوائے درویش رپورٹ)عالمی بینک نے 50 ہزار روپے سے کم ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس لگانے سے متعلق سفارش واپس لے لی ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اس کی سفارش 2019 کے اعداد و شمار پر مبنی تھی، جسے حالیہ مہنگائی اور لیبر مارکیٹ کے حالات کی روشنی میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے، موجودہ قابل ٹیکس سلیب کی حد میں کسی قسم کی کمی کی سفارش نہیں کرتے۔

عالمی بینک نے مزید کہا کہ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پسماندہ تنخواہ دارطبقے نے امیر ترین برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں 3 ماہ میں ادا کیے گئے مشترکہ ٹیکس سے زیادہ ٹیکس دیا۔

ترجمان عالمی بینک نے میڈیا کو رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک انکم ٹیکس میں چھوٹ کے لیے کسی خاص نئی سطح کی سفارش نہیں کرتا۔

عالمی بینک نے اس سطح کا اندازہ لگانے کے لیے ایک تازہ سروے کرنے کی تجویز بھی دی ہے اور کہا کہ ٹیکس کی حدوں میں مناسب تبدیلیوں کا اندازہ نئے سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

عالمی بینک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 5 لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں پر 35 فیصد شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔عالمی بینک کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ان شعبوں پر خرچ نہ کرے جو صوبوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں، ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کا دوبارہ جائزہ لے کر وفاقی و صوبائی دائرہ کار میں فنانسنگ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں ساڑھے 12 ایکڑ زمیںنوں کے مالکان پر ٹیکس لگایا جائے، مناسب تیاری اور جائزے کے بغیر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے ختم کر دیے جائیں۔





Share:

ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کو مہلت۔۔۔۔ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع


ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کو مہلت۔۔۔۔ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع




اسلام آباد:ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کو مہلت مل گئی ہے۔رواں مالی سال کے لیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی گئی ہے۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع تجارتی اداروں، ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر کی گئی ہے۔


Share:

روسی معیشت کا مشرق کی طرف قدم۔۔۔۔اسلامی بینکنگ کا رخ کرلیا۔۔۔۔ پائلٹ پروگرام کا جمہوریہ تاتارستان، باشکورتوستان، چیچنیا اور داغستان سےآغاز



روسی معیشت کا مشرق کی طرف قدم۔۔۔۔اسلامی بینکنگ کا رخ کرلیا۔۔۔۔ پائلٹ پروگرام کا جمہوریہ تاتارستان، باشکورتوستان، چیچنیا اور داغستان  سےآغاز 



روس نے بھی اسلامی بینکنگ کا رخ کرلیا ہے۔روسی معیشت کا مشرق کی طرف اہم قدم ہے۔ اس سلسلے میں پائلٹ پروگرام کا جمہوریہ تاتارستان، باشکورتوستان، چیچنیا اور داغستان  سےآغاز کیاگیا ہے۔  پائلٹ پروگرام یکم ستمبر سے شروع ہوا ہے۔  روس یکم ستمبر کو دو سالہ پائلٹ پروگرام کے حصے کے طور پر پہلی بار اسلامی بینکاری کا آغاز کر رہا ہے۔25 ملین تک مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کے ساتھ، روس میں اب تک اسلامی مالیاتی ادارے موجود ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی قانون سازی نے باضابطہ طور پر اس کے آغاز کی توثیق کی ہے۔4 اگست کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے  جس میں اسلامی بینکاری کی  فزیبلٹی  کا جائزہ لیا گیاتھا۔

اگر یہ پروگرام کامیاب ثابت ہوتا ہے، تو باقی ملک میں بھی اس حوالے سے  نئے ضابطے متعارف کرا  ئے جائیں گے۔ 


اسلامی بینکاری میں کیا فرق ہے؟


اسلامی بینکنگ شریعت کے تحت کام کرتی ہے، اسلامی قانونی نظام جو سود پر مشتمل لین دین، یا سود وصول کرنے سے منع کرتا ہے کیونکہ اسے ایک غیر منصفانہ تبادلہ سمجھا جاتا ہے۔جبکہ روایتی فنانس قرض پر مبنی ہے اور کلائنٹ لین دین میں تمام خطرات اور ذمہ داری برداشت کرتا ہے، اسلامی بینکاری اثاثہ پر مبنی ہے، جس میں مالیاتی ادارے اور کلائنٹ کے درمیان شراکت داری کے حصے کے طور پر منافع اور خطرات کا اشتراک کیا جاتا ہے۔کوئی بھی بینک کلائنٹ کے مالی مسائل اور دیوالیہ پن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو اکثر روایتی مالیات میں ہوتا ہے۔ 

اسلامی فنانس شراکت داری پر مبنی تعلقات کو فروغ دیتا ہے، جو کہ روایتی مالیات میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ اسلامی بینکنگ فنانسنگ قیاس آرائیوں، مالی مشتقات، یاکوئی حقیقی اثاثہ کے ساتھ معاملات کی اجازت نہیں دیتی ہے، جس نے پہلے عالمی مالیاتی بحران کو جنم دیا تھا۔ اسلامی بینکنگ سیکٹر کی سالانہ شرح نمو 40 فیصد ہے اور مبینہ طور پر 2025 تک اس کی مالیت 7.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو ریگولیشن اور سرمایہ کاروں اور کلائنٹس کے تحفظ کی ضرورت ہے لیکن اسلامی فنانس مارکیٹ مارگیج فنانسنگ اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے ریاستی سپورٹ پروگرام کے فوائد کو استعمال نہیں کر سکتی کیونکہ یہ سب سود والے قرضوں پر مبنی ہیں اور خلاف شریعت ہیں۔یہ رکاوٹیں جزوی طور پر منظور شدہ قانون میں رہن کی مالی اعانت کے لیے حل ہو گئی ہیں۔ امید ہے کہ یہ تجربہ اسلامی مالیاتی ترقی کے لیے مزید حالات پیدا کرنے کی اجازت دے گا

اسلامی بینکاری پر روس میں 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے بحث جاری تھی جب بینکوں کو لیکویڈیٹی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور نقد کے متبادل ذرائع تلاش کرنے لگے۔ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں۔2014 میں یوکرین سے کریمیا کے الحاق کے بعد، روسی بینکوں نے مغربی پابندیوں کے دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے۔روسی بینکوں کی ایسوسی ایشن نے روسی فیڈریشن میں اسلامی بینکاری کی اجازت دینے اور شرعی بینکوں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے مرکزی بینک کے اندر ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔یوکرین میں جنگ اور روس کے اقتصادی شعبے پر مغربی دباؤ صرف تازہ ترین پیش رفت ہیں جنہوں نے اسلامی بینکاری کی طرف رجوع کرنے کے عمل کو تیز کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں ہر نئی لہر کے بحران نے روس کو مغرب سے اور مشرق کی طرف رخ کرنے پرراغب  کیا ہے۔اس اقدام سے روسی معیشت یا اقتصادی تعلقات کو کس طرح مدد ملے گی؟روس کی معیشت مغربی پابندیوں کے خلاف کیوں مزاحم رہی ہے اس کی اہم وضاحت اس کی توانائی کی آمدنی اور "اسلامی بینکاری کے مقابلے میں، بہت کم براہ راست اثر پڑے گی۔لیکن نئے دو سالہ تجربے کے ساتھ روسی معیشت تیزی سے مشرق کا رخ کرے گی، کیونکہ اصل مقصد روس اور خاص طور پر ان خطوں کو مشرق وسطیٰ اور شرعی مالیات کے ساتھ دیگر ممالک سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بنانا ہے۔ نیا پروگرام "اثاثوں پر مبنی فنانسنگ اور رسک شیئرنگ پارٹنرشپ تعلقات" کو فروغ دے گا۔"نئی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے والا پہلا گروپ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے ہیں، جن کی مالی اعانت اکثر کم ہوتی ہے۔


Share:

نان ایکٹیو ٹیکس فائلرز کے لیے شرح تبدیل۔۔۔۔پچاس ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر اب کتنا ٹیکس کٹے گا؟

  نان ایکٹیو ٹیکس فائلرز  کے  لیے  شرح تبدیل۔۔۔۔پچاس  ہزار سے زائد  رقم نکلوانے پر اب  کتنا ٹیکس کٹے گا؟ 



کراچی :حکومت نے نان ایکٹیو ٹیکس فائلرز کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح تبدیل کر دی ہے۔بینک سے رقوم نکلوانے والے نان فائلرز پرصفراشاریہ چھ فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کردیا گیا۔ 

یہ  رقم  ٹیکس ایکٹوٹیکس پیئرزلسٹ میں شامل نہ ہونے والوں سے لی جائے گی ۔ایف بی آرسرکلرکےمطابق بینک سے 50 ہزارروپے تک رقم نکلوانے پرٹیکس کی شرح صفر ہوگی،50 ہزار 500 روپے تک رقم نکلوانے پر 303 روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔

ایف آئی بی آرکے مطابق 55 ہزارروپے نکلوانے پر330 روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا، 75 ہزار روپے نکلوانے والے نان فائلرز سے 450 روپے ٹیکس لیا جائے گا۔ایک دن میں بینک سے نکلوائی گئی 50 ہزار سے زیادہ پوری رقم پر ٹیکس ہوگا ۔

ایف بی آر  کاکہنا ہے کہ حکومتی ادارے اور پاکستان میں مقیم غیر ملکی سفارت کار اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے، 2125 سی سی گاڑی پر 6 فیصد کی شرح سے اور 2501 سے 3 ہزار سی سی انجن والی گاڑی پر 8 فیصد کی شرح سے ٹیکس لگے گا۔ 3001 سی سی گاڑیوں پر 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہو گا، نان رہائشی پاکستانیوں کے لیے اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد کر دی گئی ہے۔


Share:

ایف بی آر کا پراپرٹی کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا فیصلہ


ایف بی آر کا پراپرٹی کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا فیصلہ




ایف بی آر کانے پراپرٹی کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کا فیصلہ  کیا ہے۔ یکم اگست 2023 سےنئے شہروں کے تخمینہ قدر کےگوشوار بھی مرتب کیے جائیں گے۔

ورلڈ بینک کی شرائط کے تحت  ایف بی آر نے مختلف شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن میں اوسطاً 13 سے 15فیصد تک اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ شہر جن کے حوالے سے ایف بی آر تخمینہ قدر جاری کرتا ہے ان کی تعداد بھی 42 سے بڑھا کر 51 کرد ی گئی ہے۔ صوبائی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد نیا تخمینہ قدریکم اگست 2023 سے موثر بہ عمل ہوگا۔

فی الوقت ایف بی آر جن شہروں میں املاک کا تخمینہ قدر مرتب کرتی ہے ان کی تعداد 40 ہے جن میں ایبٹ آباد، اٹک، بہاولنگر، بہاولپور، چکوال، ڈیرہ اسماعیل خان ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گھوٹکی، گجرانوالہ، گجرات، گوادر، حافظ آباد ، ہری پور، حیدرآباد، اسلام آباد، جھنگ، جہلم، کراچی، قصور، خوشا ب ، لاہور ، لاڑکانہ، لسبیلہ ، لودھراں، منڈی بہاؤالدین، مانسہرہ، مردان ، میر پور خاص ، ملتان ، ننکانہ، نارووال، پشاور، کوئٹہ، رحیم یارخان، راولپنڈی، ساہیوال ،سرگودھا، شیخوپوری، سیالکوٹ، سکھر اور ٹوبہ ٹیک سندھ شامل ہیں۔

اب ان تمام شہروں میں تخمینہ قدر کےگوشواروں پر اوپر کی جانب نظر ثانی کی جائےگی اور اس کی رینج 13 سے 15 فیصد رہے گی جب کہ اس فہرست میں مزید 9 شہر بھی شامل کیے گئے ہیں اور یکم اگست 2023 سےاب ان نئے شہروں کے تخمینہ قدر کےگوشوار بھی مرتب کیے جائیں گے۔تمام ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ کلکٹرزکے ساتھ ایک اجلاس میں بتا دیا گیا تھا کہ وہ ڈی سی صاحبان اپنے تخمینہ قدر کے گوشوارے ایف بی آر کے نمائندوں کے ساتھ صلاح مشورے سے مرتب کریں۔


Share:

پنجاب میں پراپرٹی ٹیکس اورگاڑیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے اہم خبر۔۔۔موٹر سائیکلیں ٹرانسفر کرانے کی فیسوں میں کتنا اضافہ ہوا؟۔۔۔۔ اب کتنے مرلے کے گھرہوگا تو ٹیکس دینا پڑے گا؟

 پنجاب میں پراپرٹی ٹیکس  اورگاڑیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے اہم خبر۔۔۔موٹر سائیکلیں ٹرانسفر کرانے کی فیسوں میں کتنا  اضافہ ہوا؟۔۔۔۔ اب کتنے  مرلے کے گھرہوگا تو ٹیکس دینا پڑے گا؟



لاہور(نوائے درویش رپورٹ )پنجاب میں پراپرٹی اور موٹر وہیکل ٹیکس میں متعدد ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔محکمہ ایکسائزپنجاب کے مطابق پنجاب کابینہ نےحالیہ اجلاس میں تجاویز کی منظوری دی ہے جس کے بعد پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص کے لیے نئے سروےکی اجازت دے دی گئی ہے۔

 نیا سروے جولائی تا دسمبر 2023 تک کرانےکا منصوبہ ہے۔محکمہ ایکسائز کے مطابق یکم جنوری2024 سے نئے سروے کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص ہوگی۔اس کے علاوہ  پنجاب میں 1500 تا 2 ہزار سی سی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 3 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دی گئی ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کے ٹیکس میں دی گئی95 فیصد چھوٹ میں 2 سال کی توسیع کی گئی ہے اور 7 سیٹوں والی گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس 2500 روپے فکس کرنےکے بجائےانجن کیپسٹی کے مطابق وصول کیاجائیگا جب کہ  2004 کے بعدگاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں نظر ثانی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ 1500 سے 2 ہزار سی سی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 3 فیصد سےگھٹا کر 2 فیصد کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کے ٹیکس میں دی گئی 95 فیصد چھوٹ میں مزید 2 سال توسیع کر دی گئی ہے۔ پنجاب کابینہ نے حالیہ اجلاس میں تجاویز کی منظوری دی ہے،۔

ڈی جی محکمہ ایکسائز نے بتایاپراپرٹی ٹیکس کی تشخیص کیلئے نئے سروے کی اجازت دے دی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز کے مطابق سال 2004 کے بعد گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں نظر ثانی کی اجازت دے دی گئی ہے


موٹر سائیکلز، گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس نمایاں اضافہ


موٹر سائیکلز، گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں نمایاں اضافہ کیاگیا ہے۔  محکمہ ایکسائز نے ٹوکن ٹیکس وصولی کیلئے فی سیٹ کا نظام ختم کردیا، محکمہ ایکسائز نے کہاہے کہ ہارس پاور کی بنیاد پر ٹوکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔

موٹر سائیکل، سکوٹر کی ملکیت تبدیلی فیس 150 روپے سے بڑھا کر 500روپے کردی گئی ،ایک ہزار سی سی تک کی گاڑی کی ملکیت تبدیلی فیس 1200سے بڑھا کر 2500 روپے کر دی گئی ،1001سے 1800سی سی تک ملکیت تبدیلی فیس 2ہزار سے بڑھا کر5ہزار روپے کر دی گئی،1800سی سی سے زائد ہارس پاور کی گاڑیوں کی ملکیت فیس 10ہزار روپے کردی گئی۔

1501سی سی سے 2ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس میں ایک فیصد کمی کر دی گئی،1501 سے 2ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر رجسٹریشن پر فیس کو 3فیصد سے کم کرکے 2فیصد کر دیا گیا،2001سی سی ، زائد پاور کی گاڑیوں کی نیو رجسٹریشن، ٹرانسفر پر نئے وود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ کر دیاگیا۔

 نان فائلر کیلئے2000سے2500سی سی گاڑیوں کا ودہولڈنگ ٹیکس 18فیصدمقرر جبکہ فائلر کیلئے 2500سے3000سی سی گاڑیوں کا ودہولڈنگ ٹیکس 8فیصدمقرر کیا گیا ہے۔نان فا ئلر کیلئے 2500سے3000سی سی گاڑیوں کا ودہولڈنگ ٹیکس 24فیصد کر دیا گیا،فائلر کیلئے3000سے زائد سی سی گاڑیوں کا ودہولڈنگ ٹیکس 10فیصدمقرر کیا گیا،نان فائلر کیلئے3000سے زائد سی سی گاڑیوں کا ودہولڈنگ ٹیکس 20فیصد کر دیا گیاہے۔


 کابینہ نے پوش علاقوں میں واقع 5 مرلہ گھروں کی کیٹیگری بی  اور سی  کو پراپرٹی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے وزارتی کمیٹی تشکیل دے کر اس سے سفارشات طلب کر لی ہیں۔ متوسط علاقوں میں واقع 5 مرلہ گھروں کے لیے پراپرٹی ٹیکس استثنا برقرار رکھا جائے گا۔حکومت نے9 سال کے بعد صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلیو ایشن ٹیبل کے اطلاق کے لیے سروے کی اجازت بھی دے دی ہے جس کے بعد محکمہ ایکسائز کو پراپرٹی ٹیکس کی مد میں8500 ملین روپے کی اضافی آمدن کا تخمینہ ہے جب کہ حکومت نے الکوحل کی تیاری اور فروخت پر عائد وینڈ فیس اورسٹل ہیڈ فیس  میں بھی بڑا اضافہ کیا ہے۔

پنجاب کے پسماندہ اور متوسط علاقوں میں واقع5 مرلہ گھروں کے لیے پراپرٹی ٹیکس استثنا برقرار رہے گا۔ نگراں کابینہ نے 2014 ءمیں پراپرٹی ٹیکس پر دی جانے والی ری میشن  ختم کرنے اور ذاتی استعمال اور کرایے پر دی گئی جائیداد کے پراپرٹی ٹیکس کی موجودہ شرح میں فرق1/5 میں کمی کر کے اسے1/4 کرنے کی تجویز پر حتمی فیصلے کے لیے وزارتی کمیٹی سے سفارشات طلب کر لی ہیں۔

نئے ویلیو ایشن ٹیبل کے اطلاق سے حکومت کو سالانہ8500 ملین اضافی ریونیو کی توقع ہے۔پنجاب میں پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلیو ایشن ٹیبل کا اطلاق یکم جنوری2024 سے کیا جائے گا۔



Share:

فائلر اور نان فائلر کتنا ٹیکس بھریں گے؟، ٹیکس ریٹ مقرر کردئے گئے


فائلر اور نان فائلر کتنا ٹیکس بھریں گے؟، ٹیکس ریٹ مقرر

کردئے گئے


 

ایف بی آر نے  آئندہ مالی سال کے لیے  فائلر اور نان فائلر کے ٹیکس ریٹ مقرر کر دیئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جولائی 2023 سے 30جون 2024 کے مالی سال میں سب سے زیادہ ٹیکس پرائز بانڈز کی آمدنی پرہو گا۔ سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے کا  انعامی بانڈ نکلنے پر 15 فیصد  جبکہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے کا انعام نکلنے پر 30فیصد کٹوتی کی جائیگی۔اسی طرح سیونگ اکاؤنٹ منافع پرٹیکس گوشوارے جمع کرانیوالوں کیلئے ٹیکس  شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد جب کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے کے سیونگ اکاؤنٹ پرافٹ سے 30 فیصد کٹوتی کی جائیگی۔

دودھ کے ڈبے پر سیلز ٹیکس 500 روپے سے بڑھا کر 600 روپے کردیا گیاہے،فائلر سے رینٹ انکم  پر 5 سے 15 فیصد جب کہ نان فائلر کی رینٹ انکم پر 10سے 15 فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ بونس شیئرز کے اجراء پر فائلر سے 10 فیصداور  نان فائلر سے 20فیصد ٹیکس کٹے گا۔

 پراپرٹی آکشن کی رقم پر فائلر سے 5 فیصد اور نان فائلر سے 10فیصد کٹوتی ہو گی۔موٹر وہیکل لیزنگ پر فائلر سے زیرو ٹیکس جبکہ نان فائلر سے 12 فیصد ٹیکس کٹوتی ہوگی۔ موٹر گاڑیوں کی رجسٹریشن پر فائلر سے 10 ہزار روپے سے لیکر 5 لاکھ  جب کہ نان فائلر کو چھوٹی سے چھوٹی گاڑی کی خریداری پر 30ہزار اور بڑی گاڑی کی خریداری پر 15 لاکھ روپے ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہو گی۔علاوہ ازیں مخصوص سروسز پر فائلر سے 3 فیصد ، نان فائلر سے 6 فیصد جبکہ سروسز پر عمومی ٹیکس فائلر سے 7فیصد اور نان فائلر سے 14 فیصد ٹیکس لیا جائیگا، 25 ہزار ماہانہ بجلی بل ادا کرنیوالے فائلر سے زیرو ٹیکس زیرو جب کہ نان فائلر سے بجلی کے بل پر ساڑھے 7 فیصد ٹیکس وصولی ہو گی۔

اسی طرح سیونگ اکاؤنٹ پرافٹ پر ٹیکس کی شرح جو پہلے 10فیصد ہوا کرتی تھی اب سالانہ انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے والوں کا سیونگ اکاؤنٹ پرافٹ پر 15فیصد بطور انکم ٹیکس منہا کیا جائیگا جب کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے کے سیونگ اکاؤنٹ پرافٹ سے 30فیصد کٹوتی ہوگی۔

 گاڑی کا سالانہ ٹوکن ٹیکس فائلر سے 800 روپے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ 10ہزار روپے لیا جائیگا جب کہ نان فائلر سے کم سے کم 1600 روپے اور زیادہ سے زیادہ 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس وصول ہوگا۔ انٹرنیشنل ٹرانزیکشن بذریعہ ڈیبٹ کریڈٹ کارڈ فائلر 2 فیصد اور نان فائلر سے 10فیصد ٹیکس وصول ہوگاکمیشن پر ٹیکس کی شرح فائلر سے 12فیصد وصول ہو گی جب کہ نان فائلر سے 24فیصد وصول ہوا کریگی۔ بینکنگ ٹرانزکشن اور کیش نکلوانے پر فائلر سے زیرو اور نان فائلر سے زیرو اعشاریہ 6فیصد ٹیکس منہا ہو گا۔ انٹرنیشنل ٹرانزیکشن بذریعہ ڈیبٹ کریڈٹ کارڈ فائلر 2 فیصد اور نان فائلر سے 10فیصد ٹیکس وصول ہوگا۔

 پراپرٹی کی خریداری پر فائلر سے 2فیصد نان فائلر سے 7فیصد ٹیکس وصول ہوا کریگا۔ پراپرٹی کی فروخت پر فائلر سے 2 فیصد نان فائلر سے 4 فیصد ٹیکس وصول ہو گا۔ مخصوص سروسز پر فائلر سے 3فیصد نان فائلر سے 6 فیصد ٹیکس کی وصولی ہو گی۔ سروسز پر عمومی ٹیکس فائلر سے 7فیصد نان فائلر سے 14فیصد ٹیکس وصول ہوا کریگی۔ جن صارفین کا بجلی کا ماہانہ بل 25 ہزار روپے تک ہو گا اس پر ٹیکس زیرو فیصد ہو گا جب کہ نان فائلر سے بجلی کے بل پر ساڑھے 7 فیصد ٹیکس لیا جائیگا۔

 مینو فیکچرر اور کمرشل امپورٹرز کی طرف سے ڈسٹری بیوٹرز‘ ڈیلرز‘ ہول سیلرز کو کی جانیوالی سیل پر ٹیکس زیرو کر دیا گیا ہے۔ مینو فیکچررز‘ ڈسٹری بیوٹرز‘ ڈیلرز‘ ہول سیلرز‘ کمرشل امپورٹرز کی طرف سے رٹیلرز کو کی گئی سیل پر فائلر سے صفر اعشاریہ پانچ فیصد‘ نان فائلر سے ایک فیصد ٹیکس کی وصولی ہو گی۔ ایجوکیشن فیس‘ رینٹ آف ہیوی مشینری پر اس ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔



Share:

بجٹ میں کیا سستا کیا مہنگا ہوا ؟،نان فائلرز کے گرد شکنجہ تیار ۔۔۔بیرون ملک والوں کےلیے خوشخبری ۔۔۔ٹیکس نہیں اب سپر ٹیکس؟


بجٹ میں کیا سستا کیا مہنگا ہوا ؟،نان فائلرز کے گرد شکنجہ تیار ۔۔۔بیرون ملک والوں کےلیے خوشخبری ۔۔۔ٹیکس نہیں اب سپر ٹیکس؟



وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 24-2023 کےلیے 14 ہزار 460 ارب کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں کن چیزوں پر کتنا ٹیکس عائد کیا گیا کیا،سستاکیا مہنگا ہوا۔کس کو خوشخبری ملی اور کس کے لئے بری خبر ہے۔

بجٹ میں18 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد  ٹیٹرا پیک دودھ، پیکٹ کی دہی، ڈبے میں بند مکھن، پنیر، ٹِن پیک مچھلی، ڈبے میں بند مرغی کا گوشت اور انڈوں کے پیکٹ کی قیمت بھی بڑھ جائے گی۔برانڈڈ کپڑوں پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا۔بجٹ میں کافی ہاؤسز، شاپس اور فوڈ آؤٹ لیٹس پر 5 فیصد ٹیکس لگے گا، ٹیکس ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے کی گئی ادائیگی پر ہوگا۔

اگر کوئی نان فائلر بینک سے 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکلوائے گا تو اس رقم پر صفر اعشاریہ 6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرے گا۔ 

تعمیرات کے شعبے سے منسلک افراد کیلئے ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہوگی، لسٹڈ کمپنیوں کا کم سے کم ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کر دیا گیاہے۔15 کروڑ سالانہ سے زائد کمانے والوں پر عائد سپر ٹیکس کے ریٹس بڑھائے جائیں گے، کریڈٹ کارڈ کے ذریعے غیر ملکی کرنسی بیرون ملک بھیجنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کیاگیا ہے۔

لیدر اور ٹیکسٹائل کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے بڑھا کر 15فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اگر پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد خریدے گا تو اس پر موجود 2 فیصد ٹیکس اب نہیں لگے گا، اپنی ذاتی تعمیرات کروانے والے شخص کو 3 سال تک ٹیکس میں 10 فیصد چھوٹ ملے گی۔ترسیلات زر میں جو ایک لاکھ ڈالر لائے گا اس سے آمدن کا نہیں پوچھا جائے گا، ڈالر باہر لے جانے کیلئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجويز دی گئی ہے۔حکومت نے ڈالر اور غیر ملکی کرنسی کی ذخیرہ اندروزی پر قانون بنانے کا فیصلہ کرلیا، غیر ملکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی پر قید اور جرمانہ ہوگا، نئے قانون کا اطلاق غیر ملکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے اداروں اور افراد پر ہوگا۔ سمندر پار پاکستانیوں کی کرائے کی آمدن اور پراپرٹی خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2 سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی سالانہ 2 کروڑ کی کرائے کی آمدن پر فکس 10 فیصد ٹیکس مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی، سالانہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے کے منافع پر اضافی ایک فیصد سپر ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔اب صرف ٹیکس دینا ہی کافی نہیں، وقت پر ٹیکس ریٹرن بھرنا بھی لازمی ہوگا، ٹیکس ریٹرن نہ بھرا تو جرمانہ ہوگا اور اگر وقت پر نہ بھرا تو بھی جرمانہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق ٹیکس ڈیفالٹ کرنے پر یومیہ 200 روپے اضافی جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی، سیکشن 165 کے تحت ود ہولڈنگ سٹیٹمنٹ فائل نہ کرنے پر 2 ہزار روپے جرمانے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے۔

آئی ٹی ایکسپوٹرز کو 50 ہزار ڈالر کے ہارڈ ویئر ڈیوٹی فری منگوانے کی اجازت ہوگی، 24 ہزار ڈالر سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ پر فری لانسرز کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے استثنیٰ ہوگا۔آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے 0.25 فیصد کی رعایتی شرح اگلے تین سال تک برقرار رہے گی۔

اسلام آباد کی حدود میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی، آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے بینکوں کو قرض دینے پر 20 فیصد رعایتی ٹیکس دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئی ٹی کو ترقی دینے کیلئے ایس ایم ایز کا درجہ دے دیا گیا۔

ہربل اور یونانی ادویات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے، سولر پینل سستے ہوں گے، مینوفیکچرنگ کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کردی گئی، سولر پینل کی مشینری کی درآمد پر بھی ڈیوٹی ختم کردی گئی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400 ارب کردیا گیا، بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور شہدا اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے کی حد 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کردی گئی، مقروض بیواؤں کے ذمے ہاؤس بلڈنگ فنانس کے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے بھی حکومت ادا کرے گی۔

مہمند ڈیم کی تکمیل کیلئے مزید ساڑھے 10 ارب روپے رکھ دیے گئے، دیامر بھاشا ڈیم کیلئے اگلے سال صرف 20 ارب روپے بچ سکیں گے۔

اگلے مالی سال کے دوران وفاقی حکومت ملک بھر میں 1150 ارب روپے کے ترقیاتی کام کروائے گی، صوبے اپنے اپنے ترقیاتی پروگراموں پر 15 سو 59 ارب روپے خرچ کریں گے۔ٹرانسپورٹ کے شعبے اور سڑکوں کی تعمیر پر 267 ارب روپے صرف کیے جائیں گے، پانی کی فراہمی کیلئے 100 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، بجلی و گیس سمیت توانائی کے منصوبوں کیلئے 89 ارب روپے رکھ دیے گئے۔

بجٹ میں تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کیلئے 82 ارب روپے اور صحت کے شعبے کیلئے 26 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کیے جانیوالے بجٹ میں اگلے مالی سال کیلئے ملکی ترقی کی شرح ساڑھے تین فیصد رہنے کا ہدف طے کر لیا گیا۔

مہنگائی کی شرح 21 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا، ملکی برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر مقرر کر دیا گیا، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 33 ارب ڈالر رہنے کا ہدف رکھا گیا ہے بجلی، گیس اور دیگر شعبوں کو سبسڈی دینے کیلئے ایک ہزار 74 ارب روپے مختص کیے گئے۔


Share:

زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی۔۔۔امیدوں کا مـحور دوست ممالک

 زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی۔۔۔امیدوں کا مـحور دوست ممالک



سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 31 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 4 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

 مرکزی بینک کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کمی کے بعد 9 ارب 76 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس ذخائر میں 2 کروڑ ڈالر گر کر 5 ارب 56کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 17 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں سال کی بُلند سطح 4 ارب 59 کروڑ ڈالر پر پہنچنے کے بعد 35 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا بڑا انخلا دیکھا گیا، جس کے بعد یہ 4 ارب 24 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے۔

مرکزی بینک کے پاس اپریل 2022 میں 10 ارب 50 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تھے جب ملک میں بدترین سیاسی عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی ۔گزشتہ برس اپریل میںپی ڈی ایم کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اب تک ڈالر کی قدر میں 101 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی کا سلسلہ جاری رہا۔اسحاق ڈار کے ستمبر 2022 میں وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ڈالر 54 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔

قرض بحالی پروگرام کےلیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شرائط کے پیش نظر دوست ملکوں سے 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے دو ارب ڈالرکی فنڈنگ کا گرین سگنل  دیاہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف شرح سود میں مہنگائی کے حساب سے مزید اضافہ کے مطالبے پر قائم ہے جبکہ سالانہ 900 ارب روپے کی سبسڈی پر تاحال اعتراض ہے۔ آئی ایم ایف پٹرولیم لیوی کی مد میں 850 ارب روپے جمع کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔

وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے آئی ایم ایف پٹرول اور ڈیزل کی امپورٹ کم کرنے کا مطالبہ کررہا ہے، آئی ایم ایف نےپٹرولیم لیوی اورٹیکسز کا شارٹ فال پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے فنڈنگ کے بعد بھی پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے سٹاف لیول معاہدے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کا بتانا ہے کہ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر فنڈنگ کرنے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے جبکہ پاکستان کو 3 ارب ڈالر فنڈنگ کی ضرورت ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کاکہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے عندیا دیا ہے کہ سعودی عرب نے ان سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ ان کا پاکستان کو رقم دینے کا ارادہ ہے۔ہمیں یہ عندیا ملا ہے کہ ان کا رقم دینے کا ارادہ ہے تو وہ معاملہ آگے بڑھ گیا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے بات چیت چل رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک پارلیمانی خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا تھا آئی ایم ایف بیل آؤٹ فنڈز کے اجرا سے قبل دوست ممالک سے بیرونی فنانسنگ کے وعدے پورے کرنا چاہتا ہے۔بین الاقوامی قرض دہندہ نومبر سے شروع ہونے والی 1.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے دوبارہ آغاز کرنے کے لیے فروری کے اوائل سے پاکستان سے ساتھ بات چیت کر رہا ہے جہاں یہ قسط 2019 میں طے پانے والے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہے۔سٹیٹ بینک کے ذخائر کم ترین سطح پر آ گئے ہیں جس سے چار ہفتوں کی درآمدات کے لیے رقم باقی رہ گئی ہے۔آئی ایم ایف کی قسط پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ دیگر بیرونی مالیاتی راستے بھی کھول دے گا۔




Share:

تنخواہ دار طبقے پر بڑا وار

 تنخواہ دار طبقے پر بڑا وار




تنخواہ دار طبقے کے لئے بری خبر۔۔۔ تنخواہ دار طبقے کے لئے بریلیف ختم کردیاگیا ہے۔ نئی ٹیکس تجاویز کے مطابق اب کتنی آمدنی پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟

آپ کا تعلق اگر تنخواہ دار طبقے سے ہے اور ماہانہ آمدن پچاس ہزار روپے ہے توآپ کو انکم ٹیکس کے حوالے سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وفاقی حکومت نے  ٹیکس کی شرح میں کمی کے فیصلے پر آئی ایم ایف کے اعتراضات کے بعد تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح میں کچھ تبدیلیوں کا فیصلہ کیا جس کے تحت 50 ہزار روپے ماہانہ یعنی سالانہ 6 لاکھ روپے کمانے والوں کو انکم ٹیکس کی ادائیگی میں چھوٹ دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سات سلیب رکھے گئے  جن میں کہیں فکسڈ اور کہیں پر فیصد کے حساب سے ٹیکس کی شرح رکھی گئی ہے۔پہلے سلیب کے تحت 6 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں لاگو نہیں ہوتا۔ اس لیے اگر کسی کی آمدن 6 لاکھ سے کم ہے تو اسے انکم ٹیکس کی مد میں کچھ بھی رقم ادا نہیں کرنا پڑتی۔ تاہم گوشوارے پھر بھی لازمی جمع کرانا ہوں گے۔ 


50 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر 2.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا

 ایک لاکھ سے زائد اور 2 لاکھ روپے تنخواہ تک 15 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس دینا ہوگا

 2  سے 3 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ایک لاکھ 65 ہزار روپے سالانہ، 20 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہوگا۔

 3  لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 32.5 فیصد ماہانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔

10 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ پر 35 فیصد ٹیکس ہوگا۔


اب نئے مالی سال میں آپ کا آجر ٹیکس سلیب میں کی جانے والی تبدیلیوں اور نئی شرح کے حساب سے ٹیکس کٹوتی کرے گا لیکن یاد رکھیے گا کہ ٹیکس کٹوتی کے باوجود آپ بری الذمہ نہیں ہو جاتے بلکہ آپ کو ہر صورت اپنے ٹیکس گوشوارے فائل کرنا ہوتے ہیں۔  










Share:

ایف بی آر کا گھر کی خریداری کے حوالے سے اہم فیصلہ

 ایف بی آر کا گھر کی خریداری کے حوالے سے اہم فیصلہ 



کراچی (نوائے درویش) فیڈرل بیورو آف ریونیو نے گھر یا جائیداد کی نقد خریداری کو رجسٹر کرانے کے عمل کو لازمی قرار دیدیا۔

 ایف بی آر نے ایک اور اہم فیصلہ کرلیا، فیصلے کے مطابق شہریوں کا گھر یا جائیداد کی نقد خریداری کو رجسٹر کرانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ایف بی آر تمام ڈیویلپرز کو کیش کی صورت کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ لازمی کرنی ہوگی، بیس لاکھ سے زائد کیش پر گھر یا جائیداد کی خرید و فروخت رپورٹ کرنی ہوگا۔

سٹیٹ ایجنٹ بیس لاکھ سے زائد نقد پر جائیداد کی خرید و فروخت بتانے کے پابند ہوں گے، فیڈرل بیورو آف ریونیو کا کہنا ہے کہ خرید و فروخت بینک کرنے پر کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ نہیں کرنی ہوگی۔


Share:

نومبر: ریونیو کی وصولی 346 ارب روپے کے ساتھ ہدف سے قریب


نومبر: ریونیو کی وصولی 346 ارب روپے کے ساتھ ہدف سے قریب



اسلام آباد(نوائے درویش) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ عبوری اعداد و شمار کے مطابق نومبر کے مہینے میں ریونیو کلیکشن کا 348 ارب روپے کا ہدف حاصل نہیں ہوسکا اور 346 ارب روپے تک کی وصولی کی گئی۔

تاہم یہ سالانہ بنیادوں پر گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 335 ارب روپے کے مقابلے میں 3 فیصد ترقی کو ظاہر کر رہی ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا نومبر) کے دوران ایف بی آر نے 16 کھرب 86 ارب روپے تک کی کلیکشن کی جو 16 کھرب 69 ارب روپے کے متوقع ہدف سے 17 ارب روپے یا 1.01 فیصد تک تجاوز کرگئی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود خان نے بتایا کہ ایف بی آر اپنے ماہانہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوششیں کررہا ہے تاہم معاشی سرگرمیوں پر جزوی لاک ڈاؤن ہونے کے باعث معیشت سست روی کا شکار ہے۔



Share:

Recent Posts