نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

پنجاب ایمرجنسی سروس میں خدمات نوکری نہیں ، مشنری جذبہ

 پنجاب ایمرجنسی سروس میں خدمات نوکری نہیں ، مشنری جذبہ





 

٭ •••••یہ ادارہ  2004میں  قائم کیا گیا ، آغاز میں اس کا نام ایمرجنسی 

ایمبولینس سروس رکھا گیا 
٭ ••••• سولہ سال گزرنے کے بعداس ادارے سے  وابستہ افراد کی تعداد 14ہزار ہے
٭ ••••• پہلے یہ سروس پنجاب کے نوبڑے شہروں میں شروع کی گئی، اب  یہ پنجاب بھرمیں تحصیل لیول تک کام کررہی ہے 

٭ •••••پاکستان ریسکیو ٹیم آف ایمرجنسی سروسز اکیڈیمی کو جنوبی ایشیا میں پہلی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم کا سرٹیفکیٹ  مل چکا ہے ،جوبڑے اعزاز کی بات ہے
٭ ••••• دفتر آنے کے  وقت کا تو پتہ  ہے، لیکن دفتر سے گھر واپسی کا کوئی وقت میں نے مقرر نہیں کیا ، جب  تک میری ضرورت ہو اپنے آفس میں سروسز آپریشنز کی نگرانی کو ترجیح دیتا ہوں

  

(انٹرویوپینل:  طارق کامران، شاہدہ بٹ،تصاویر : نفیس قادری)

                    


پنجاب  ایمرجنسی  سروس کے  ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیرکو حکومت پاکستان نے مذکورہ  ادارے  کے لئے کی ان کی غیر معمولی  خدمات  پر2011میں ستارہ  امتیازعطا کیا ہے، وہ  ملک میںاپنی نوعیت کی  پہلی ایمرجنسی سروس کے بانی سربراہ ہیں اور گزشتہ سولہ سال سے  یہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے اپنے تعلیمی مراحل ایچ ای سن ، گورنمنٹ کالج لاہور اورکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں طے کیے، جہاں آپ  نے آرتھو پیڈک  سرجری میں سپیشلا ئز بھی کیااورپھر فیلو شپ کرنے امریکہ  اور کینیڈا گئے، بعدازاں  ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں متعدد کورسز کیے۔ سیفٹی پروموش ریسرچ میں سویڈن سے  پی ایچ ڈی کی، ایم بی اے اور پراجیکٹ مینجمنٹ میں بھی ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔بنیادی طور پروہ ایک آرتھوک پیڈک سرجن ہیں، اور اس حوالے سے  اپنا ایک مقام رکھتے  ہیں۔

 چوہدری  پرویز الٰہی کی  وزارت  اعلی کے  زمانے میں جب 2004میں پنجاب  ایمرجنسی ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا  تو ڈاکٹررضوان نصیر اس کے سربراہ مقر رکیے گئے۔’’نوائے درویش‘‘ کے پینل نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا جو قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔

س :پنجاب ایمرجنسی سروس کا قیا م کب عمل میں لایا گیا؟

ج:یہ ادارہ  2004میں  قائم کیا گیا ،اس وقت چوہدری پرویزالٰہی  پنجاب کے وزیراعلی تھے ،  آغاز میں اس کا نام ایمرجنسی ایمبولینس سروس رکھا گیا ، شروع میں صرف ایک فرد یعنی میں تھا پھر دوسوافراد کو بھرتی کیا گیا،اور اب سولہ سال  گزرنے کے بعداس ادارے سے  وابستہ افراد کی تعداد 14ہزار ہے، پہلے یہ سروس  پنجاب کے نوبڑے شہروں میں شروع کی گئی،جس کے بعد اس کادائرہ کار 36اضلاع تک پھیل گیا، اور اب  یہ پنجاب بھرمیں تحصیل لیول تک کام کررہی ہے، اور ایمرجنسی سروس نے مختلف  حادثات کا شکار ہونے والے  8  لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے،اور  بروقت رسپانس کرتے ہوئے پانچ ارب سے زائد کے  مالی نقصانات کوقوع پذیر ہونے سے  روکا  ہے ۔ ایک لاکھ سے زائد آتشزدگی کے واقعات پر قابو پایا اورقیمتی جانوں کا نقصان بچایا، ریسکیو 1122پر حادثے کی اطلاع ملنے کے تقریبا چارمنٹ بعد موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے ذریعے جائے حادثہ  پر پہنچ کرمتاثرہ افراد کوریلیف فراہم کیا گیا۔ ہماری سروس کی وجہ سے  ہسپتالوں پر ورک لوڈ کم ہوا، ہم نے  یونین کونسلوں میںآٹھ لاکھ سے زائد تشویشناک حالت  والے مریضوں کو مراکز صحت اورہسپتالوں تک پہنچایا  ۔

س: ایمرجنسی سروس اکیڈمی کی خدمات پر روشنی ڈالیں؟

ج:ایمرجنسی سروس اکیڈمی ریسکیو ورکرز کی تربیت کے حوالے ملک بھر کے لئے اہم خدمات انجام دے رہی ہے ،اس ادارے نے بیس ہزار سے زائد افراد کی  ٹریننگ کی ہے ،ان میں خیبر پختونخوا میں شروع ہونے والی ایمرجنسی سروس کے ریسکیوورکرز کی تربیت بھی شامل  ہے، اس کے علاوہ  پانچ  ہزار کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں  بھی تشکیل  دی گئی ہیں۔

س: پنجاب ایمرجنسی سروس کواقوام متحدہ کی جانب سے ملنے والے  اعزاز کے حوالے سے  بتائیں؟

 ج:پاکستان ریسکیو ٹیم آف ایمرجنسی سروسز  اکیڈیمی کو  اقوام متحدہ کے ادارے  انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزری گروپ کی  جانب سے  جنوبی ایشیا میں پہلی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے،جو بلاشبہ ہمارے لئے ایک بڑے اعزاز کی بات ہےجبکہ بھارت سمیت دیگرہمسائیہ ممالک نے بھی ہمارے ادارے کی کارکردگی کو سراہا  ہے اور اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش ان کے ملک میں بھی اس  نوعیت کی سروس جلد شروع ہوسکے۔

س:کورونا کی لہر کے دوران پنجاب ایمرجنسی سروس کی خدمات  پرروشنی ڈالیں؟

 ج: ہمارے ادارے نے کورونا جیسی مہلک وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے  ہوئے فرنٹ لائن سروس کاکردار اداکیا  ہے، سب سے پہلے ہم نے 1190کے نام سے ہیلپ لائن قائم کی،  جس کے ذریعے کورونا کا شکار مریضوں اور ان کے عزیزوں کی رہنمائی کی گئی، اس وائرس سے  جاں بحق ہونے والے تقریبا ڈھا ئی ہزار  افراد کی عزت واحترام کے ساتھ تدفین کا اہم فریضہ انجام دیا۔کورونا سے متاثر ہ14ہزار  افراد کوقرنطینہ اور بحالی صحت مراکزتک پہنچایا، ایکسپوٹریج سنٹرقائم کیااور  آٹھ ہزار کورونا مریضوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی میں غیرمعمولی کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ  ایک لاکھ سے زائد مقامات پر جراثیم کش ادویات کا سپرے کرکے کورنا پھیلنے  کے امکانات کو محدودکیا، لاک ڈائون کے دوران گھروں میں مقیم خاندانوں تک راشن  پہنچایا۔

 س:  ایمرجنسی  سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت پنجاب کے کردار پر کیا کہنا  چاہیں گے؟

ج: صوبے بھر میں  ہمارے ادارے کی سروس کو  تیز تر اور موثر بنانے میں حکومت پنجا ب  نے ہمیشہ  ایک  کلیدی کردار ادا کیا  ہے، جس کا ا عتراف کرنا ازحد ضروری ہے،  یہ سچی  بات ہے کہ اگر1122کو صوبائی حکومت کا غیرمعمولی عملی تعاون حاصل نہ ہوتا،تو  ہم اتنی اچھی  اور سبک  رفتار سروس  فراہم کرنے کے قابل  نہ ہوسکتے ،ہمارے مقاصد کی تکمیل میں آسانی پیداکرنے کے لئے حکومت نے دوسو پچاس نئی ایمبولینسز فراہم کیں، ریسکیوسروس کو پنجاب کے تمام تحصیل ہیڈکوارٹرز تک توسیع دی،  27 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرزتک موٹربائیک ریسکیو سروس کی توسیع کو ممکن بنایا۔ 

  س:کچھ اپنے  کام کرنے کے انداز پر روشنی ڈالیں؟

ج: میرے نردیک پنجاب ایمرجنسی سروس میں خدمات انجام دینا محض ایک نوکری کرنا نہیں ہے، بلکہ  یہ دکھی انسانیت کی خدمت  کا ایک ذریعہ بھی ہے، اس لئے میں  نے شروع  دن سے اس ادارے  میں ایک مشنری جذبے کے تحت کام کیا ہے، مجھے اپنے دفتر آنے کے  وقت  کا تو پتہ  ہے، لیکن دفتر سے گھر واپسی کا کوئی وقت میں نے مقرر نہیں کیا ہے، اس کا فیصلہ میں سروسز کی فراہمی کی صورتحال کو پیش نظررکھ کر رکھتا ہوں، جب  تک میری ضرورت ہو اپنے آفس میں موجود رہ کر سروسز آپریشنز کی نگرانی کو ترجیح  دیتا ہوں، اپنے ساتھ کام کرنے والے رفقا کار سے بھی اسی جذبے کی توقع کرتا ہوں، اور خدا وندکریم کا شکر ہے کہ اکثرو بیشتر وہ میری توقعات پر پورا اترتے  ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ  ہمارے ادارے کی کارکردگی کو عوام اور خواص کی سطح پر یکساں طورپر سراہا جاتا ہے۔


                 












Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts