نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

Showing posts with label نگرنگر کی سیر. Show all posts
Showing posts with label نگرنگر کی سیر. Show all posts

شاہانِ مغل کی گزر گاہ بہ طرف کشمیر جنت نظیر ۔۔۔ بھمبر ، سماہنی ، جندی چونتڑہ

 شاہانِ مغل کی گزر گاہ بہ طرف کشمیر جنت نظیر ۔۔۔ بھمبر ، سماہنی ، جندی چونتڑہ 












بہت دنوں سے لکھنے کا من نہیں ہو رہا۔ شاہانِ مغل کے  قدموں پر قدم دھرتے ہوئے ہم  چند دوستوں کے ہمراہ  باغ سر   نذد جندی چونتڑہ ہو آئے۔ باغ سر کا قلع جہاں مرحوم ( غالباً  مغفور بھی ) شہنشاہ برِ صغیر  جناب عالی مرتبت جہانگیر کہ خاوند نور جہاں کے تھے (مسمات خاصی  ہوش یار پائی گئی تھیں ) کی انتڑیاں دفن ہیں ، ہماری پیاری پاک فوج کے انتظام و اختیار میں ہے۔ ہم ساٹھ سالہ سات بابوں کو بوجوہ پاکستان کے عام شہری ہونے کے باغ سر  جانے کی اجازت مرحمت نہ فرمائی گئی۔ خاصی منت سماجت کے باوجود بھی نہ فرمائی گئی۔ سو ہم  نے دن جنگل ہوٹل کے درختوں کی چھاؤں میں دھری چارپائیوں پر دراز و نیم دراز ہو کر گزارا۔

  کشمیری بکریوں اور گائیوں کے دودھ سے بنی کھیر کھائی ، ہندانہ کھایا ، ایک مولوی صاحب اور انکے ساتھ اس ہوٹل میں اترے  ہوئے پان سات  مریدان کی زیارت پر انوار کی۔ مولوی صاحب کی  شاہزادگان حسن وحسین ع  میں سنیوں اور  تشیوع کے ہاں  روا فرق پر  جاہلانہ و متعصبانہ  بلند اور پر جوش سمع  خراشی کو برداشت کیا ، ظہر کی نماز پڑھی ، کشمری آلو اور پنجابی نژاد کشمیری مرغیوں کے  انڈے اور کشمیری کنک کی روٹیاں کھائیں ، کچھ سوئے کچھ جاگے ، جاگتے رہنے والوں نے اک بار پھر کھیر کھائی اور سوئے ہوؤں کو جگا کر ایک بار پھر چائے پی اور دوپہر ٹھنڈی ہونے پر جندی چونتڑہ  میں سید پہاڑ شاہ اور بابا شادی پیر کی مزاروں پر حاضری دی ۔

 مزار کے پیچھے واقع ایک  پہاڑ پر چڑھنے کا پنگا لیا اور اندھیرا پھیلنے پر آزاد کشمیر ی محکمہ سیاحت کے ریسٹ ہاؤس میں آ ٹکے۔ آزاد کشمیر پر پاکستانی صحبت کے اثرات کا اندازہ ہمیں ریسٹ ہاؤس کی زبوں حالی اور عملے کے رویےً سے بہ خوبی ہوا۔ اگلی صبح ہم چندی چونتڑہ سے براستہ بھمبھر  مغلیہ دور کی نو دریافت شدہ باؤلی  دیکھنے کھاریاں وارد ہوئے۔ باؤلی مقفل تھی اور کنجی  بردار  باؤلی کے قریب موجود آبادی کے  کسی گھر  میں اپنی جان سے پیاری بیوی کے چرنوں میں پڑا سو رہا تھا ! 

پہلے گھر دریافت کیا ، پھر گھر ڈھونڈا ، پھر  کنجی بردار کو بیوی کے چنگل سے ( بہ مشکل )  چھڑایا ( تس پر وہ مردِ مردود ہمارا شکر گزار ہوا ، پہلے  مسکرایا پھر  آنکھ میں آنسو بھر لایا ، ہنسنے اور رونے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ بیوی سے آزادی پر مسکرایا ہوں اور آزادی کے عنقریب فنا ہو جانے پر رویا  ہوں  ، اسے تسلی دی کہ ہم سات مساکین بھی چند گھنٹوں میں لاہور پہنچنے پر اسی ’’فنا ‘‘ کے گھاٹ اترنے والے ہیں ’’ثبات اسی۔۔۔فنا ‘‘ کو ہے زمانے  میں ‘‘ ہم میں سے ایک دوست نے آگے بڑھہ کر یہ کہتے ہوئےاسے مزید دلاسہ دیا کہ مجھے تو  ’’فنا کے دو گھاٹوں میں ‘‘اترنا ہے ! 

باؤلی کی  شاندار بحالی کی داد دیتے ہوئے ہم بہ طرف لاہور روانہ ہوئے۔ ایک جگہ رک کر ڈیرہ غازی خان والوں کی سردائی پی جو کہ  کافی زیادہ پانی زدہ دودھ اور بادام کے اسنس سے تیار کی گئی تھی۔ ڈیرہ غازی خان والوں کا شکریہ ادا کیا کہ  وہ پاکستان کے طول و عرض میں شاہرات کے کنارے اسی اعلی معیار کی سردائ پورے جذبے کے ساتھ پلا رہے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر ہماری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ہمارا یقین پختہ ہوا کہ پاکستان واقعی ناقابلِ تسخیر  ہے۔ راستے میں ایک جگہ رک کر کھانا کھایا اور پچھتائےکہ ایسا کھانا کیوں کھایا۔ ایمن آباد  کے قریب ایک گرودوارہ  اور ایک مسجد دیکھی جو کہ مغلوں کے سنہری دور سے پہلے کی تھی۔ قلفیاں کھائیں اور’’اپنی  اپنی فنا ‘‘ کے گھاٹ  اترنے لاہور پہنچے۔ میری ’’فنا ‘‘  اپنی’’ بقا ‘‘ کے لیے بیوٹی پارلر گئی ہے اور میں سکھ کا سانس لیتا ہوا  بے دلی سے  سفر نامے کا خلاصہ  لکھ رہا ہوں  !!!

عثمان امجد 
جون بارہ ، بیس سو تئیس 
رات آٹھ بجے

Share:

گلگت بلتستان کے لئے خوشخبری


 


گلگت بلتستان ہمارے ملک کی خوبصورت ترین جگہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کیلئے 370 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ 

وزیر اعظم پاکستان نے گلگت بلتستان کے لئے میگا ترقیاتی پراجیکٹس کا اعلان کیا ، احساس کے 3بڑے پروگراموں کا بھی آغاز کیاگیا ہے، جس میں احساس نشونما، احساس انڈرگریجویٹ وسیکنڈری ایجوکیشن سکالرشپ اور احساس ایک عورت ایک اکاؤنٹ شامل ہیں۔

وزیر اعظم فیز ٹوآپٹیکل فائبرکیبل کے منصوبے کا سنگ بنیادبھی رکھاگیا ہے، منصوبہ سی پیک کی 8ہزارکلومیٹرطویل شاہراؤں سے منسلک ہے۔ کے ٹوبیس کیمپ میں کونکورڈیا بی ٹی ایس کا بھی افتتاح کیاگیا، کونکورڈیا بی ٹی ایس کوہ پیماسد پارہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔ہنزہ میں سافٹ ویئرٹیکنالوجی پارک کا سنگ بنیاد بھی رکھاگیا۔پانچ سالہ ترقیاتی پیکج میں گلگت بلتستان کی جنگلی حیات کی افزائش اور نیشنل پارکس کے قیام کے حوالے سے بھی منصوبے شامل ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں تھری جی اور فور جی سروس مہیا کرنے کے حوالے سے پیکج میں خصوصی توجہ دی گئی ہے

گلگت بلتستان میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے شارٹ فال کا ہے، جس سے گھریلو صارفین کے علاوہ سیاحتی شعبہ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔اس ترقیاتی پیکج میں بجلی کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس سلسلے میں 11 منصوبے پیکج میں شامل کیے گئے ہیں۔

 اس پیکج میں شامل توانائی کے منصوبوں سے کافی حد تک بہتری آئے گی۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا گلگت بلتستان میں ترقی کے لئے  پیکیج لے کر آئےہیں۔گلگت بلتستان کی خوبصورتی نے مجھے ہمیشہ مسحور رکھا۔جی بی کا اصل پوٹینشل سیاحت ہے۔گلگت بلتستان میں سیاحت کے اتنے مواقع موجود ہیں کہ یہ مرکز سے پیسے لینے کی بجائے اسے دے سکتا ہے، گلگت بلتستان کیلئے 370 ارب روپے کا پیکیج شروعات ہے مزید بھی مدد کریں گے۔سکردو ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں چلائی جائیں گی۔میں نے سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے خوبصورت علاقے دیکھے تاہم مجھے فخر ہے کہ گلگت بلتستان ان سے بہت خوبصورت ہے، یہاں دنیا کے بڑے پہاڑی سلسلے، سرسبز میدان زیادہ خوبصورت ہیں۔




Share:

دبئی: سیاحوں کے لیے بڑی خوش خبری

 دبئی: سیاحوں کے لیے بڑی خوش خبری



 رواں ماہ دبئی شہر میں دنیا کے سب سے بڑے فوارے کا افتتاح ہونے جا رہا ہے۔دبئی میں دنیا کا سب سے بڑا فوارہ تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔فوارے کو النخلہ (پام فاؤنٹین) کا نام دیا گیا ہے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ اسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا جائے، فوارے کی افتتاح کے بعد دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک اور تفریحی مقام میسر آ جائے گا۔

یہ فوارہ 105 میٹر بلند ہے، اور یہ 14 ہزار اسکوائر فٹ کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے، اس کے نچلے حصے میں 3 ہزار سے زیادہ بلب لگائے گئے ہیں جن کی رنگا رنگ روشنی سے پانی کے ساتھ ایک دل فریب منظر دیکھنے کو ملے گا۔

رپورٹس کے مطابق النخلہ فوارے کے افتتاح کے موقع پر انتظامیہ نے مختلف قسم کے پروگرامز بھی ترتیب دیے ہیں جن میں آتش بازی، مختلف قسم کے مقابلے اور ڈانس شوز بھی ہوں گے۔اس تفریحی مقام پر کچھ پروگرامز مستقل بنیادوں پر بھی ہوں گے جیسا کہ انتظامیہ روزانہ بیس شو پیش کرے گی، اس کی شروعات مغرب کے بعد سے ہوگی جس کا سلسلہ آدھی رات تک جاری رہے گا، جب کہ ہر شو کا دورانیہ 3 منٹ ہوگا اور ایک شو سے دوسرے شو کے درمیان آدھے گھنٹے کا وقفہ ہوگا۔

واضح رہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مانا جانے والا فوارہ بھی اس وقت دبئی ہی میں ہے، یہ فوارہ دبئی مال کا ہے جسے دبئی فاؤنٹین کہا جاتا ہے، نئے فوارے کے افتتاح کے بعد یہ اعزاز پام فاؤنٹین کو منتقل ہو جائے گا۔

فوارے کے سلسلے میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا عملہ بھی متحرک ہے، مشرق وسطیٰ کے لیے گنیز کے انچارج شادی جاد نے پام فاؤنٹین پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دبئی کے پرکشش اور قابل دید مقامات میں ایک اور شان دار اضافہ ہو جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں بنایا جانے والا میوزیم آف دی فیوچر تکمیل کے قریب ہے، میوزیم کو رواں برس ہی کھول دیا جائے گا۔دبئی کے شیخ زائد روڈ کے ساتھ نمایاں نظر آنے والا بیضوی نما، میوزیم آف دی فیوچر تکمیل کے قریب ہے۔ اس ہفتے اس کے بیرونی حصے میں آخری پیس بھی نصب کردیا گیا۔

میوزیم 30 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے اور اس کی اونچائی 77 میٹر ہے، میوزیم کے بیرونی حصے میں مستقبل کے جمالیاتی سٹیل پر روشن عربی خطاطی کی گئی ہے۔ یہ کام روبوٹ سے تیار کردہ ایک ہزار 24 ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔

میوزیم آف دی فیوچر میں نمائش کے لیے 7 منزلیں ہوں گی اور اس کے ڈیزائن میں کوئی ستون نہیں ہے، اسے شمسی توانائی سے 4 ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔ یہ میوزیم اربن انجینئرنگ کا سنگ میل ثابت ہوگا۔امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا کہنا ہے کہ میوزیم آف دی فیوچر گلوبل آرکیٹکچرل آئیکون ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی معجزات ممکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ میوزیم ہماری عربی ثقافت اور عزائم کا ملاپ ہے، یہ انجینئرنگ کا ایک عالمی نمونہ ہے جس میں عربی زبان کی جھلک ملتی ہے۔میوزیم کو رواں برس ہی کھول دیا جائے گا۔


Share:

سیاحت کا عالمی دن

 سیاحت کا عالمی دن



آج دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ، پاکستان کا شمار قدرتی حسن سے مالا مال ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں، ہریالی ، جنگل، خشک و بیابان صحرا، برفیلے پہاڑ ، شور مچاتے دریا، آبشاریں اور طویل ساحل رکھنے والا سمندر موجود ہے۔ہمارا پیارا پاکستان اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی کےلئے دنیا بھر میں مشہور ہے، گلگت بلتستان کی سرزمین پر دنیا کے خطرناک اوربلند ترین پہاڑوں کا سلسلہ جابجا پھیلا ہے۔خیبر پختونخوا کے مزے دار پکوان کے ساتھ ساتھ حسین وادیاں بھی آپ کو دعوت نظارہ دیتی نظر آتی ہیں ۔

پنجاب کی ہری بھری دھرتی اور دریا، چولستان کے صحرا اور جنگلات کہتے ہیں کہ خوبصورت تو کچھ کم ہم بھی نہیں۔سندھ بھی تہذہب و ثقافت کا مرکز ہے،5 ہزارسالہ قدیم موئن جو دڑو شہر، تھری ثقافت اور اس کی خوبصورتی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، سندھ کی سیاحت مہران کی پلا مچھلی کا ذائقہ چکھے بغیر ادھوری ہے۔بلوچستان میں سمندر دیکھیں یا دیکھیں کسی عجوبے کی طرح ایستادہ پرنسس آف ہوپ،،یا طویل پہاڑی سلسلے،یہ ہے ہم سب کا پیارا پاکستان ۔



Share:

’’شعبہ سیاحت کا فروغ ترجیحات میں شامل‘‘

 ’’شعبہ سیاحت کا فروغ ترجیحات میں شامل‘‘



لاہور(نوائے درویش) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ سیاحت کو صنعت کا درجہ دے کر نئی پالیسی تشکیل دی گئی، سیاحت کا شعبہ ہماری ترجیحات میں ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سیاحت کے عالمی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ سیاحت کا شعبہ سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحت غیرملکی زر مبادلہ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، سیاحت کے فروغ سے مقامی افراد کو روزگار ملتا ہے، پاکستان کے پر کشش مقامات سیاحوں کو راغب کرتے ہیں، سیاحت کا شعبہ ہماری ترجیحات میں ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیاحوں کو سہولتوں کی فراہمی کے مؤثر اقدامات کیے ہیں، پنجاب میں 179 ریسٹ ہاؤسز کو عوام کے لیے کھولا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مربوط پالیسی کے تحت پنجاب میں نئے مقامات کو ترقی دی جارہی ہے۔

 پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سیاحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ پاکستان سیاحتی مقامات اور قدرتی مناظر کے حسن سے مالا مال ملک ہے اور وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پر ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے بے شمار اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

سیاحت کا عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد سے 1970 سے ہر سال 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔


Share:

سیاحت کے عالمی دن پر ٹورازم ایپ کا افتتاح

 سیاحت کے عالمی دن پر ٹورازم ایپ کا افتتاح 



لاہور(نوائے درویش) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سیاحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اسی مناسبت سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سیاحت کے عالمی دن پر ٹورازم پنجاب ایپ کا افتتاح کردیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ٹورازم ایپ سمیت سیاحت کے فروغ کے لیے دیگر حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر ٹورازم پنجاب ایپ کا آغاز کیا۔

عثمان بزدار نے ڈی ٹی ایس سسٹم کی ایپ کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 511سیاحتی مقامات کی معلومات پنجاب ٹور ازم ایپ پرمیسرہوگی، شہری سیاحت کی معلومات اور خدمات آن لائن حاصل کرسکیں گے، ایپ کے ذریعے سیاحتی مقام کا روٹ بھی معلوم ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہری ٹورازم کارپوریشن پنجاب کی سہولتوں سے مستفید ہوں گے، ٹی ڈی سی پی کے ہوٹلز کی بکنگ بھی آن لائن کرائی جا سکے گی۔عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ڈی ٹی ایس سسٹم ایپ ٹورسٹ آپریٹرز کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹورسٹ آپریٹر ز اب آن لائن رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اسی ضمن میں ای پیمنٹ کی سہولت بھی فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔


Share:

سیاحت کا فروغ: 3 سیاحتی علاقوں کے لیے اہم فیصلہ

سیاحت کا فروغ: 3 سیاحتی علاقوں کے لیے اہم فیصلہ



پشاور(نوائے درویش) ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے صوبہ خیبر پختونخواہ کے 3 سیاحتی علاقوں کے لیے اہم فیصلہ کرلیا گیا، فیصلہ مذکورہ علاقوں کا قدرتی حسن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات کالام، کمراٹ اور کیلاش کے لیے الگ اتھارٹیز کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹیز کے قیام سے ان علاقوں کی سیاحت کو مزید تقویت ملے گی، اتھارٹیز علاقوں کا قدرتی حسن برقرار رکھنے کے لیے کردار ادا کریں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں ہر اتھارٹی 11 ارکان پر مشتمل ہوگی، اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو قوانین کی خلاف ورزی پر کارورائی کا اختیار ہوگا۔

دستاویزات کے مطابق سیل تعمیرات یا عمارت کی خلاف ورزی پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، بغیراجازت رہائشی اسکیموں سے متعلق 3 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

اسی طرح تجاوزات کے مرتکب افراد کو 3 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ہوں گی۔

خیال رہے کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں، سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سنہ 2022 تک پاکستان میں 60 نئے سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سیاحت کے شعبے میں نقصان اٹھانا پڑا، سردیوں میں سیاحتی مقامات میں سیاحوں کے لیے سہولیات کو یقینی بنائیں گے۔


 

Share:

ٹراؤٹ مچھلی کے شکار اور خریدو فروخت پر پابندی

 ٹراؤٹ مچھلی کے شکار اور خریدو فروخت پر پابندی



کاغان(نوائے درویش)خیبر پختونخوا کی مشہور سیاحتی وادی کاغان میں ٹراؤٹ مچھلی کے شکار  اور خرید و فروخت پر  2 سال کے لیے پابندی عائد کر دی گئی۔کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین ڈاکٹر ایمل زمان کا کہنا ہے کہ بے دریغ شکار کی وجہ سے مقامی ٹراؤٹ معدوم ہو رہی ہے اس لیے ہم  اسے محفوظ بنا کر سپورٹس ٹرافی فشنگ کے طور پر متعارف کروانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر ایمل زمان کا کہنا ہے کہ جب ٹراؤٹ کی تعداد زیادہ ہو گی تو ایک سیاحتی مرکز کے طور پر ہم یہاں ٹرافی فشنگ کا انعقاد کر سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ میں ایسے لوگ ہیں جو اس کے لیے بہت رقم دیتے ہیں اور وہ ایسی جگہ جا کر مچھلی پکڑتے ہیں اور تصویر اتار کر اسے دوبارہ پانی میں چھوڑ دیتے ہیں۔دوسری جانب ٹراؤٹ پر پابندی سے بیسر اور ناران میں جھیلوں اور دریائے کنہار کی تازہ ٹراؤٹ فروخت کرنے والے ہوٹل اور ریستورانوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ پابندی کی وجہ سے ٹراؤٹ مچھلی دستیاب نہیں ہے اور اب ہم گاہکوں کو دیسی ٹراؤٹ تو دے نہیں سکتے تو ہم فارمی ٹراؤٹ  دے رہے ہیں مگر سیاحوں کی مانگ ابھی تک دیسی ٹراؤٹ مچھلی ہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نادر نسل کی مقامی ٹراؤٹ کو بچانے کے اقدامات دور رس نتائج کے حامل ہیں۔


Share:

کتنے سیاحتی مقامات کھولنے کی تیاری کرلی گئی؟

 کتنے سیاحتی مقامات کھولنے کی تیاری کرلی گئی؟



اسلام آباد(نوائے درویش)سیاحت کو فروغ دینے کے لیے 2022 تک پاکستان میں 60 نئےسیاحتی مقامات کھولنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

سیاحت کے فروغ کیلئےنیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی این سی سی کا پہلا اجلاس ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے کنوینر زلفی بخاری نے کی۔اجلاس میں چاروں صوبوں،گلگت بلتستان، آزاد کشمیر،وفاقی محکموں کےنمائندوں نے شرکت کی۔

زلفی بخاری نے کہا کہ چاروں صوبے میں10نئےسیاحتی مقامات کی نشاندہی کریں، ہرصوبہ اگلے اجلاس میں نئے سیاحتی مقامات کی رپورٹ کمیٹی کوجمع کرائے ان مقامات پر سیاحوں کیلئےسہولیات کا بندوبست کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال میں نئے سیاحتی مقامات عوام کیلئےکھولنے کو یقینی بنائیں، صوبوں کی مددکیلئےکمیٹی عالمی اداروں کی مفت کنسلٹنسی دینےکوتیار ہے،بدھا ٹریل پر میپنگ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جاپان، چائنا اور کوریا اس ٹریل پر فنڈز دینےکو تیارہیں۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحتی مقامات نقصان اٹھانا پڑا ، سردیوں میں سیاحتی مقامات میں سیاحوں کیلئے سہولیات کو یقینی بنائیں اور تمام صوبے تجاوزات سےمتعلق رپورٹ کمیٹی کو پیش کریں، قلیل اور طویل منصوبوں کی تفصیلات بھی کمیٹی کو جمع کرائیں ہر صوبہ اور محکمہ کمیٹی کے لئے مستقل فوکل پرسن نامزد کرے۔


Share:

قومی و بین الاقوامی سیاحوں کیلئے بڑی خوشخبری

قومی و بین الاقوامی سیاحوں کیلئے بڑی خوشخبری


چترال(نوائے درویش )قومی و بین الاقوامی سیاحوں کے لئے ایک اور اچھی خبر سامنے آگئی، پاکستان تاجکستان اور افغانستان کو ملانے والی واخان پٹی کو دیکھنے اور وہاں کی مقامی ثقافت اور مقامی کھیلوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرنے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت نے دو روزہ بروغل فیسٹیول کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔
بروغل خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کا انتہائی شمال میں چترال سٹی سے تقریبا 250 کلومیٹر دور واقع واخان کی پٹی پرآخری سرحدی گائوں ہے اور یہی تاریخی واخان کی پٹی پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان سے جدا کرتے ہوئے سرحدی لکیر کا کام کرتی ہے اس لئے بروغل کے لوگوں کے رہن سہن اور طرز زندگی میں وسطی ایشائی رنگ کا حسین امتزاج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیراعلی محمود خان کی خصوصی ہدایات پر محکمہ سیاحت اور کھیل نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کے لئے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ فیسٹیول کا انعقاد 5 اور 6 ستمبر کوبروغل نیشنل پارک میں کیا جائے گاجس میں سیاح مقامی روایتی کھیلوں ہارس پولو، یاک پولو، ڈونکی پولو، بزکشی، رسہ کشی، کشتی اور آتش بازی کے علاوہ فٹبال، کرکٹ اور میراتھن ریس کے مقابلوں سے محظوظ ہونگے۔ علاوہ ازیں فیسٹیول میں مقامی روایتی کھانوں کی نمائش اور محفل موسیقی سمیت قدیم واخی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے متعدد دیگر سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا جبکہ سیاحوں کی سہولت کے لئے فیسٹویل کے مقام پر ایک ٹینٹ ویلج بھی قائم کیا جائے گا۔
علاقے کی مخصوص اور منفرد جعرافیائی و علاقائی خدوخال کی وجہ سے بروغل فیسٹیول ایڈونچر ٹورازم کے شائقین کے لئے انتہائی کشش کا باعث ہے جہاں پر سیاح دیگر سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ گلیشئیرز، دریاوں، ندی نالوں، جھیلوں، اونچے اونچے پہاڑی سلسلوں، متنوع جنگلی حیات اور قدرت کے دیگر سحر انگیز مناظر کا انتہائی قریب سے نظارہ کر سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں وزیر اعلی محمود خان نے محکمہ سیاحت کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ بروغل فیسٹویل کے کامیاب انعقاد کو ممکن بنانے اور وہاں پر سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ترضروری تیاریاں اور انتظامات بر وقت مکمل کیے جائیں۔

Share:

وادی گوجال

وادی گوجال

اعجاز فاروق بھٹی


وادی گوجال چین اور افغانستان کے ساتھ واقع پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے۔ چین کے ساتھ گوجال کی سرحد خنجراب کے مقام پر ملتی ہے جو سطح سمندرے11 فٹ بلندی پر ہونے کی وجہ سے سالہا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ گوجال کے سرحدی گاو ¿ں، مسگر، بھی چین کے صوبے سنکیانگ کے ساتھ براہ راست منسلک ہے۔ شمال مغرب میں گوجال کا علاقہ چپورسن واقع ہے جس کی سرحدیں براہ راست افغانستان کے علاقے، واخان، سے لگتی ہیں۔ وخان کا علاقہ 2 میل چوڑا ہے، جس کے بعد تاجکستان کی سرحد شروع ہو تی ہے۔ پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ قراقرم بھی وادی گوجال سے گزرتے ہوئے خنجراب کے سیاحتی مقام پر چین میں داخل ہوتی ہے۔ اپنے جغرافیائی خصوصیات کی بنیاد پر وادی گوجال دفاعی اور کاروباری اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
 انتظامی تاریخ اور بندوبست 
انیس سو سینتالیس سے قبل وادی گوجال ریاست ہنزہ کا حصہ تھا اور اس علاقے پر ریاست ہنزہ کے والی کی حکومت تھی۔ ریاست ہنزہ میں وادی گوجال کو دفاعی اور زراعتی اعتبار سے اہم مقام حاصل تھا۔ وادی گوجال کا ایک گاو ¿ں، گلمت (گل مت) ریاست ہنزہ کے گرمائی صدر مقام کی حیثیت رکھتاتھا اور میر آف ہنزہ یہاں پر دربار بھی منعقد کرتا تھا، جس میں مقدمات کے فیصلے سنانے کے علاوہ مختلف مسائل پر گفت و شنید بھی کی جاتی تھی۔ میر آف ہنزہ کے دربار میں علاقائی رقص و موسیقی کا بندوبست بھی کیا جاتا تھا، جبکہ محل کے سامنے موجود مخصوص مستطیل میدان میں علاقے کا مشہور کھیل، پولو، بھی کھیلا جاتا تھا۔
1947 میں پاکستان وجود میں آیا جس کے بعد والی ہنزہ، میر محمد غزن خان نے گلمت سے ایک ٹیلیگرام کے ذریعے اپنی ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کیا۔ الحاق کے باوجود وادی ہنزہ ایک الگ ریاست کے طور پر 1947 تک اپنی جداگانہ شناخت قائم رکھ سکی۔ تاہم، 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی سیاسی اصلاحات کے نتیجے میں سقوط ریاست ہنزہ واقع ہوا اور تب سے لے کر آج تک وادی گوجال انتظامی طور پر ایک تحصیل کی حیثیت سے گلگت بلتستان کے سب ڈویزن ہنزہ میں شامل ہے۔ مقامی سطح پر اسے بالائی ہنزہ بھی کہا جاتا ہے، تاہم سرکاری کاغذات میں علاقے کا نام "گوجال" ہے۔

گوجال کے باسی


وادی گوجال کی آبادی 30ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں تین ثقافتی گروہ آباد ہیں، جن میں زیادہ تعداد وخی زبان بولنے والوں کی ہے۔ گوجال میں وخی کے علاوہ بروشو نسل کے لوگ بھی آباد ہیں، جنکی مادری زبان بروشسکی کہلاتی ہے۔ ایک اور منفرد ثقافتی گروہ ڈوماکی زبان بولنے والوں کی ہے، جو تعداد میں بہت کم ہیں اور ان کی زبان اور ثقافت کو شدید اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہیں۔ گوجال میں آباد سو فیصد افراد مسلمان ہیں اور آبادی کا زیادہ ترحصہ شیعہ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتا ہے اور یہ پرنس کریم آغا خان کو اپنا موروثی امام مانتے ہیں۔

گوجال کے دیہات


وادی گوجال بنیادی طور پر چھوٹے دیہاتوں پر مشتمل ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ مرکزی ہنزہ کے قصبے، علی آباد سے شمال کی جانب جاتے ہوئے وادی گوجال کے دیہات درج ذیل ترتیب میں واقع ہیں۔

ششکٹ ،گلمت،غلکن
بوریت
سیسونی (حسینی )
پھسو
شمشال (وادی) ، خیبر ، غلاپن
مورخون ،افگرچ
جمال آباد
سرتیز
سوست
خدا آبا د
مسگر (وادی)
خنڑراف

قدرتی وسائل


وادی گوجال رقبے کے لحاظ سے گلگت بلتستان کی سب سے بڑی تحصیل ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ خطہ ارضی اپنے دامن میں خزینے مدفون رکھتی ہے، جن سے فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوشش ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔ معدنی وسائل کے اعتبار سے گوجال کا سب سے امیر علاقہ وادی چپورسن ہے جہاں کوئلے کی وافر مقدار میں موجودگی کا انکشاف چند سال پہلے ہوا تھا، تاہم کوئلے کی کان کنی اس وقت نہیں ہو رہی۔

بین الاقوامی اقتصادی گزرگاہ


پاکستان اور چین کی حکومتوں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران اقتصادی تعاون بڑھانے اور چینی مصنوعات کو براستہ پاکستان عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں سب سے اہم اقدام بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک جدید بندرگاہ کی تعمیر ہے۔ پچھلے سال اس بندرگاہ کو چین کے ایک کمپنی کے حوالے کر دیا گیا گیا ہے تاکہ وہ اس کا انتظام و انصرام سنبھال سکے۔ گوادر تک زمینی راستے سے مصنوعات پہنچانے کے لیے شاہراہ قراقرم (شاہراہ ریشم) کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ شاہراہ قراقرم کے علاوہ ان دو ممالک کے درمیان کوئی دوسرا زمینی راستہ نہیں ہے۔

پاکستان کے سابق صدور، جنرل (ر) مشرف اور آصف علی زرداری کے دور سے شروع ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان اور چین کی حکومتیں شاہراہ قراقرم کی استعداد بڑھاکر اس پوری وادی کو بطور "اقتصادی راہداری" استعمال کرنے کے ایک بہت بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

انیس سو اسی کی دہائی میں پاکستان اور چین کے باہمی اشتراک سے بننے والی اس سڑک کی حالت کو بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے پچھلے آٹھ سالوں سے شاہراہ قراقرم کی مرمت اور توسع کا کام جاری ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے بعد وادی گوجال عملا ایک اقتصادی راہداری میں بدل جائیگا، جس کے علاقے کی معیشت، ثقافت اور رسم و رواج کے ساتھ ساتھ سماجی اور قدرتی ماحول پر انتہائی دور رس منفی اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔


Share:

اسلامی تہذیب وتمدن کامرکز۔۔۔۔بخارا

اسلامی تہذیب وتمدن کامرکز۔۔۔۔بخارا



مرزا جنیداسلم بیگ


 بخارا، ازبکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔بخارا جسے اسلامی تہذیب و تمدن میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ آج بھی یہاں کئی مساجد اور مدرسے قائم ہیں لیکن شہر کا سب سے بڑا تعارف امام بخاری ہیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ یہیں پیدا ہوئے اور پھر علم کے حصول کے لیے کئی مقامات کے دورے کئے۔یہ شہر چنگیز خان کی بربریت کا نشانہ بھی بنا جس کے بعد مختلف ادوار میں یہ چغتائی سلطنت، تیموری سلطنت اور خان بخارا کی حکومت میں شامل ہوا۔
یوں تو بخارا شہر اب کافی پھیل چکا ہے لیکن یہاں دیکھنے کے لائق تاریخی عمارتیں اور یادگاریں شہر کے مرکز ہی میں ہیں۔ بخارا شہر کا مرکزی مقام ’پوئی کلیان سکوائر‘ ہے، جو 3 اطراف سے عظیم الشان تاریخی ورثے سے گھرا ہوا ہے۔ خدائے برحق کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے پرشکوہ مسجد، علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے شاندار مدرسہ اور ان دونوں عمارتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے والوں کی عظمت بیان کرتا بلند و بالا مینار، یہ سب ہی کچھ بلاشبہ متاثر کن ہے۔یہاں موجود وسیع و عریض اور خوبصورت تاریخی مسجد کا نام کلیان مسجد ہے۔ اس مسجد کو 1514 میں تعمیر کیا گیا اور یہاں 12 ہزار سے زائد افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ یہ مسجد تیموری دور کے منفرد طرزِ تعمیر کی خوبصورت مثال ہے۔ مسجد کے دونوں اطراف 2 بڑے، نیلے رنگ کے دیدہ زیب گنبد موجود ہیں جبکہ مسجد کے اندرونی صحن کے اطراف میں 208 ستون اور 280 سے زائد چھوٹے گنبد موجود ہیں جو اس مسجد کو دیگر روایتی مساجد سے منفرد اور ممتاز بناتے ہیں۔
کلیان مسجد کے بالکل سامنے، میر عرب مدرسہ موجود ہے۔ مدرسہ کی تعمیر یہاں کے حکمران عبیداللہ خان کے حکم سے سن 1535 میں ہوئی۔پوئی کلیان سکوائر کی تیسری اہم یادگار، کلیان مینار ہے۔ تقریباً 9 صدی پرانا یہ بلند مینار شہر کی پہچان ہے۔
بخارا صدیوں سے تہذیبی اور ثقافتی مرکز تو رہا ہی ہے لیکن اس شہر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم پہلو، اس شہر کا تجارتی ورثہ بھی ہے۔ شاہراہِ ریشم کے اہم مقام پر موجود ہونے کے سبب، تجارتی قافلے یہاں آتے، منڈیاں سجتی اور خوب خرید و فروخت ہوتی۔ یہ روایت آج بھی چلی آرہی ہے۔بخارا کے قدیم بازار، اسی طرح آباد ہیں اور یہاں ہر وقت چہل پہل رہتی ہے۔
تاریخی طور پر بخارا ایک طویل عرصے تک مختلف فنون اور مہارتوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں کی تعمیراتی یادگاروں کے ساتھ ساتھ یہاں بسنے والے افراد کی محنت اور کاریگری بھی کسی سے کم نہیں۔ بخارا کے قدیم شہر میں موجود ’سلک کارپٹ فیکٹری‘ جانے کا بھی موقع ملا جہاں کے ہاتھ سے بنے قالین کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔ یہ فیکٹری ابھی تک دستکاری کے قدیم ورثہ کو سنبھالے ہوئے ہے۔بخارا میں کی جانے والی سنہری کڑھائی کی دھوم بھی دور دور تک ہے۔ اس اہم فن کے راز کو نسل در نسل نہایت جانفشانی کے ساتھ منتقل کیا گیا۔لیکن اب بھی ایک فن ایسا ہے جس کے لیے مرد ہی زیادہ موزوں ہیں۔ لوہے اور مختلف دھاتوں کو محنت اور مہارت سے مختلف شکلوں میں ڈھالنے اور پھر استعمال میں لانے کا ہنر۔ نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ ہنر بھی بخارا کے قدیمی شہر کا ورثہ ہے اور آج بھی یہاں ایسے کارخانے موجود ہیں جہاں ماہر کاریگر اس فن کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ 
بخارا میں رات کے ایسے راہی، مختلف علاقوں کی آوارہ گردی کے بعد ’لب حوض سکوائر‘ میں جمع ہوجاتے ہیں، جہاں کے نظارے اور پ ±رسکون ماحول تھکان اتارنے کے لیے کافی ہے۔ حوض کے اردگر کرسیاں اور میزیں پڑی ہیں جہاں بیٹھ کر رات گئے تک گپ شپ کی جاسکتی اور ساتھ ازبک چائے یا قہوہ کے دور بھی چلتے ہیں۔16ویں صدی سے آباد یہ چوک تاریخی طور پر مسافروں کی آرام گاہ رہا ہے۔ طویل مسافتوں سے آنے والے افراد، تالاب کے کنارے کچھ دیر سستا لیتے یا یہاں موجود سرائے میں رہائش اختیار کرتے۔ ’آرک فورٹرس‘ یا ’بخارا آرک‘ کے نام سے معروف یہ قلعہ بعض روایات کے مطابق پانچویں صدی میں تعمیر ہوا۔ بخارا کے اس قدیم اور وسیع و عریض قلعے کو کئی بار شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا۔ کتنی ہی بار یہ تباہ ہوا اور کتنی ہی بار اس کی دوبارہ تعمیر کی گئی۔ قلعے کے بالکل سامنے ’بولو حوض مسجد‘ ہے۔ یہ تاریخی مسجد 1712 میں، بخارا کے امیر کی جانب سے تعمیر کروائی گئی۔
مسجد کا طرزِ تعمیر اگرچہ سادہ ہے لیکن پھر بھی یہ خوبصورتی اور جاذبیت میں کسی اور مسجد سے کم نہیں۔ ایک لمبے عرصہ تک خواص اور عوام کے زیرِ استعمال رہنے والی یہ مسجد آج بھی عبادت کے لیے کھلی ہے۔ اسے 40 ستونوں والی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد کے عین سامنے ایک حوض ہے اور مسجد کے برآمدے میں لکڑی کے 20 ستون نصب ہیں۔ بخارا ہی نہیں بلکہ موجودہ ازبکستان کے ہر ہر شہر میں علم، تہذیب، ثقافت اور اسلامی جاہ و جلال کی نشانیاں موجود ہیں ۔

Share:

موٹر سائیکل ٹور ازم اور لاہور سے کھاجوٹ

موٹر سائیکل ٹور ازم اور لاہور سے کھاجوٹ


اعجاز فاروق بھٹی

پاکستان میں موٹر سائیکل پر ٹورزم بہت ہی عجیب سوچ کا حامل تصور کیا جاتا رہاہے۔لیکن چند سالوں سے کچھ سر پھرے نوجوان ،بوڑھوں نے اسے ایک ایسا مشغلہ بنا دیا ہے کہ ٹورازم کا دل دادہ ہر فرد اس کا دیوانہ ہوتا چلا جا رہا ہے
موٹر سائیکل ایک موٹر سے چلنے والی ذاتی سواری کا نام ہے۔ پہلا پٹرولیم ایندھن موٹر سائیکل ڈیملر ریئٹ ویگن تھا۔ یہ 1885 میں جرمنی کے برا کننٹٹ میں جرمن آڈیٹروں کے گوتلیب ڈیمرر اور ویلہیل میببچ کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس گاڑی میں کسی بھی حفاظتی بائیسکل یا اس دور کے ہونسیکیک سائیکل سائیکلوں کے برعکس تھا، اس میں اسٹیئرنگ محور زاویہ اور کوئی ٹاسک آفسیٹ کے صفر ڈگری موجود نہیں تھے اور اس طرح اس سائیکل اور موٹر سائیکل کی ڈھانچے کے اصولوں کا استعمال تقریبا 70 سال پہلے نہیں تھا۔ اس کی بجائے، اس نے دو پہاڑی پہیوں پر بھروسا کیا جبکہ رخ بدلنے کے لیے. انوینٹریز نے ان کے ایجاد کو ریت ویگن (سواری کار) کہا۔یہ ایک حقیقی پروٹوٹائپ گاڑی کی بجائے ان کے نئے انجن کے لیے ایک وسیع پیمانے پر testbed کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا
لیکن آج کے اس جدید دور میں موٹر سائیکل کا شمار luxurious سواریوں میںہوتاہے اور یہ ایک بہت مہنگا شوق بھی تصور کیا جاتاہے
موٹر سائیکلوں پر خوبصورت دل رکھنے والے خوبصورت افراد کے ساتھ ایک خوبصورت سفر کی کچھ تصویری جھلکیاں

Share:

Recent Posts