شاہانِ مغل کی گزر گاہ بہ طرف کشمیر جنت نظیر ۔۔۔ بھمبر ، سماہنی ، جندی چونتڑہ
بہت دنوں سے لکھنے کا من نہیں ہو رہا۔ شاہانِ مغل کے قدموں پر قدم دھرتے ہوئے ہم چند دوستوں کے ہمراہ باغ سر نذد جندی چونتڑہ ہو آئے۔ باغ سر کا قلع جہاں مرحوم ( غالباً مغفور بھی ) شہنشاہ برِ صغیر جناب عالی مرتبت جہانگیر کہ خاوند نور جہاں کے تھے (مسمات خاصی ہوش یار پائی گئی تھیں ) کی انتڑیاں دفن ہیں ، ہماری پیاری پاک فوج کے انتظام و اختیار میں ہے۔ ہم ساٹھ سالہ سات بابوں کو بوجوہ پاکستان کے عام شہری ہونے کے باغ سر جانے کی اجازت مرحمت نہ فرمائی گئی۔ خاصی منت سماجت کے باوجود بھی نہ فرمائی گئی۔ سو ہم نے دن جنگل ہوٹل کے درختوں کی چھاؤں میں دھری چارپائیوں پر دراز و نیم دراز ہو کر گزارا۔
کشمیری بکریوں اور گائیوں کے دودھ سے بنی کھیر کھائی ، ہندانہ کھایا ، ایک مولوی صاحب اور انکے ساتھ اس ہوٹل میں اترے ہوئے پان سات مریدان کی زیارت پر انوار کی۔ مولوی صاحب کی شاہزادگان حسن وحسین ع میں سنیوں اور تشیوع کے ہاں روا فرق پر جاہلانہ و متعصبانہ بلند اور پر جوش سمع خراشی کو برداشت کیا ، ظہر کی نماز پڑھی ، کشمری آلو اور پنجابی نژاد کشمیری مرغیوں کے انڈے اور کشمیری کنک کی روٹیاں کھائیں ، کچھ سوئے کچھ جاگے ، جاگتے رہنے والوں نے اک بار پھر کھیر کھائی اور سوئے ہوؤں کو جگا کر ایک بار پھر چائے پی اور دوپہر ٹھنڈی ہونے پر جندی چونتڑہ میں سید پہاڑ شاہ اور بابا شادی پیر کی مزاروں پر حاضری دی ۔
مزار کے پیچھے واقع ایک پہاڑ پر چڑھنے کا پنگا لیا اور اندھیرا پھیلنے پر آزاد کشمیر ی محکمہ سیاحت کے ریسٹ ہاؤس میں آ ٹکے۔ آزاد کشمیر پر پاکستانی صحبت کے اثرات کا اندازہ ہمیں ریسٹ ہاؤس کی زبوں حالی اور عملے کے رویےً سے بہ خوبی ہوا۔ اگلی صبح ہم چندی چونتڑہ سے براستہ بھمبھر مغلیہ دور کی نو دریافت شدہ باؤلی دیکھنے کھاریاں وارد ہوئے۔ باؤلی مقفل تھی اور کنجی بردار باؤلی کے قریب موجود آبادی کے کسی گھر میں اپنی جان سے پیاری بیوی کے چرنوں میں پڑا سو رہا تھا !
پہلے گھر دریافت کیا ، پھر گھر ڈھونڈا ، پھر کنجی بردار کو بیوی کے چنگل سے ( بہ مشکل ) چھڑایا ( تس پر وہ مردِ مردود ہمارا شکر گزار ہوا ، پہلے مسکرایا پھر آنکھ میں آنسو بھر لایا ، ہنسنے اور رونے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ بیوی سے آزادی پر مسکرایا ہوں اور آزادی کے عنقریب فنا ہو جانے پر رویا ہوں ، اسے تسلی دی کہ ہم سات مساکین بھی چند گھنٹوں میں لاہور پہنچنے پر اسی ’’فنا ‘‘ کے گھاٹ اترنے والے ہیں ’’ثبات اسی۔۔۔فنا ‘‘ کو ہے زمانے میں ‘‘ ہم میں سے ایک دوست نے آگے بڑھہ کر یہ کہتے ہوئےاسے مزید دلاسہ دیا کہ مجھے تو ’’فنا کے دو گھاٹوں میں ‘‘اترنا ہے !
باؤلی کی شاندار بحالی کی داد دیتے ہوئے ہم بہ طرف لاہور روانہ ہوئے۔ ایک جگہ رک کر ڈیرہ غازی خان والوں کی سردائی پی جو کہ کافی زیادہ پانی زدہ دودھ اور بادام کے اسنس سے تیار کی گئی تھی۔ ڈیرہ غازی خان والوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ پاکستان کے طول و عرض میں شاہرات کے کنارے اسی اعلی معیار کی سردائ پورے جذبے کے ساتھ پلا رہے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر ہماری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ہمارا یقین پختہ ہوا کہ پاکستان واقعی ناقابلِ تسخیر ہے۔ راستے میں ایک جگہ رک کر کھانا کھایا اور پچھتائےکہ ایسا کھانا کیوں کھایا۔ ایمن آباد کے قریب ایک گرودوارہ اور ایک مسجد دیکھی جو کہ مغلوں کے سنہری دور سے پہلے کی تھی۔ قلفیاں کھائیں اور’’اپنی اپنی فنا ‘‘ کے گھاٹ اترنے لاہور پہنچے۔ میری ’’فنا ‘‘ اپنی’’ بقا ‘‘ کے لیے بیوٹی پارلر گئی ہے اور میں سکھ کا سانس لیتا ہوا بے دلی سے سفر نامے کا خلاصہ لکھ رہا ہوں !!!




























