نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

موٹاپا خطرناک،شوگرکےبارے میں لوگوں کو آگہی نہیں:پروفیسر رضوان ظفرا حمد

  

 موٹاپا خطرناک،شوگرکےبارے میں لوگوں کو آگہی نہیں:پروفیسر رضوان ظفرا حمد






 کمر اور پیٹ کے اعضا سے متعلقہ چربی ، ہپس اور تھائی میں پائی جانے والی چربی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے


اگر مردوں میں کمر کا سائز40 انچ اور عورتوں میں35 انچ سے بڑھ جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے


خوراک کی بد نظمی،سیر نہ کرنا،پلکی پھلکی ورزش نہ کرنا اور لائف سٹائل یہ سب موٹاپے کا سبب بنتا ہے 


 جسم میں کولیسٹرول کی زیادتی،یورک ایسڈ کا بڑھنا، سانس کی بیماریاں، سینے میں جلن،جوڑوں کی تکالیف خصوصا کمر،فیٹی لیور،بلڈ پریشران سب کی وجہ موٹاپا ہے

 

 




(انٹرویو پینل:محمدنویداسلم،شاہدہ بٹ،تصاویر: نفیس قادری)


 تعارف
پروفیسر رضوان ظفرا حمد
MBBS   ,FCPS
FRCP(UK), MSC(ME)


 آپ اخترسعید میڈیکل کالج میں پروفیسر آف میڈیسن اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ میڈیکل یونٹ2 ہیں۔ پچھلے25 برسوں سے طبعی شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوںنے موٹاپے اور شوگر کے حوالے سے آگہی پر ’’ نوائے درویش ‘‘کی ٹیم سے بات کی جو قارئین کے لیے پیش جارہی ہے۔
س:موٹاپا کیا ہے؟
ج:موٹاپا ایک ایسی بیماری کا نام ہے جس میں ا نسان کا جسم فربہ ہوجاتا ہے اور وزن ایک خاص تناسب سے بڑھ جاتا ہے۔ چربی، جلد اور پیٹ کے اعضا کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔
س: ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ بی ایم آئی کیا ہے؟
ج:یہ ایک ایسی پیمائش کا نام ہے جو انسانی قد اور وزن کے تناسب سے اخذ کی جاتی ہے۔ ایک نارمل یامناسب وزن کے انسان کا18.5-24.9BMI ہوتاہے۔اگربی ایم آئی25سے29.9 کے درمیان تک ہو تو انسان  کا وزن بڑھنے کی عکاسی ہوتی ہے لیکن یہ موٹاپانہیں کہلاتا ہے۔اگر بی ایم آئی30 سے34.9 تک ہو تو یہ کلاس ون موٹاپا کہلاتا ہے۔ اگر35 سے39.9 تک ہوتو یہ کلاس 2 موٹاپا کہلاتا ہے۔ اگر بی ایم آئی40 ہوتو یہ کلاس3 یا شدید موٹاپا کہلاتا ہے۔
بی ایم آئی کا فارمولا یہ ہے       وزن کلوگرام/قد کی لمبائ(سینٹی میٹر سکوائر)
س: جسم کے  کس حصے کی چربی انتہائی خطرناک ہوتی ہے؟
ج: انسان کی کمر اور پیٹ کے اعضا سے متعلقہ چربی انسان کی ہپس اور تھائی میں پائی جانے والی چربی سے زیادہ خطرناک اور اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
س: کمر کے سائز کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟
ج: اگر مردوں میں کمر کا سائز40 انچ اور عورتوں میں35 انچ سے بڑھ جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے کیونکہ اس سے پیچیدگیاں بڑھنےکا خطرہ ہوتا ہے۔
س: موٹاپا کتنا عام ہے اور کتنے لوگ موٹاپے کاشکار ہیں؟
ج: موٹاپا ایک ایسی بیماری ہے جو دنیا میں بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں30 فی صد لوگ موٹاپے کاشکار ہیں۔ امریکہ میں40 فی صد لوگ موٹاپے کاشکار ہیں۔ پاکستان اس وقت اس فہرست میں نویںنمبر پر ہے۔
س:موٹاپے کاشکار عورتیں ہیں یا مرد؟
ج:پاکستان میں عورتوں میں موٹاپا مردوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔
س:ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں موٹاپے کی وجوہات کیا ہیں؟
ج:بعض لوگوں میں موٹاپا موروثی ہوتا ہے۔تاہم لائف سٹائل اور خوراک بھی اہم ہے۔ خوراک میں ضرورت سے زیادہ کھانا،باربار کھانا،مرغن غذائوں کا کثرت سے استعمال، جوس،میٹھی اشیا کا استعمال، فاسٹ فوڈکابکثرت استعمال موٹاپے کی وجوہات ہیں۔اس کے علاوہ فیملی فنکشنز میں بے ربط کھانا اور سویٹ ڈش ہماری طرز زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہیں اور یہ سب موٹاپے کا سبب ہے۔
س: کووڈ کے دوران زیادہ تر لوگ گھر رہے ان کا لائف سٹائل ہی بدل گیا، اس بار ے میں کیا کہیں گے؟
ج: کووڈ کی وبا کے دوران زیادہ تر لوگ گھروں میں رہے اور ہوم ڈلیوری، فاسٹ فوڈاور رات کودیر تک جاگنا ان کامعمول بن گیا۔اس وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا وزن نا صرف معمول سے بڑھا بلکہ وہ موٹاپے کاشکار ہوئے کیونکہ گھر سے باہر نکلنے اور واک کی روٹین کو سب نے ترک کردیا تھا۔
س: کونسی عادات ہیں جو موٹاپے کی طرف لے جاتی ہیں؟
ج:خوراک کی بد نظمی،سیر نہ کرنا،پلکی پھلکی ورزش نہ کرنا اور لائف سٹائل یہ سب موٹاپے کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ یورک ایسڈ کا بڑھنا،کولیسٹرول کی زیادتی بھی موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔
س: ادویات بھی وزن بڑھاتی ہیں، اس بارے میں کیا کہیں گے؟
ج:جی ہاں ادویات مثلاانسولین،شوگر کنٹرول کرنے کی گولیاں، ڈپریشن کے علاج کی ادویات اور سٹیرائیڈز وزن بڑھاکی عادم ادویات ہیں۔ ان کے علاوہ حمل سے روکنے کی ادویات بھی وزن بڑھا سکتی ہیں۔
س:موٹاپے کے  نقصانات پرروشنی ڈالیں؟
ج: موٹاپا نہ صرف بذات خود ایک بیماری ہے بلکہ دوسری بہت سی بیماریوں کا پیش خیمہ بھی ہے۔ مثلا جسم کی کولیسٹرول کی زیادتی،یورک ایسڈ کا بڑھنا، سانس کی بیماریاں، سینے میں جلن،جوڑوں کی تکالیف خصوصا کمر، گھٹنے کی درد،ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھنا،فیٹی لیور،بلڈ پریشران سب کی وجہ موٹاپا ہے۔
س: موٹاپے پرقابو پانے کے لئے کیا کیاجائے؟
ج: موٹاپے کو نہ ہی ہونے دیں تو بہتر ہے کیونکہ موٹاپا ہونے کے بعد اس کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ موٹاپے سے بچنے کے لئے خوراک کا عمل دخل بہت اہم ہے۔ مرغن غذائوں،مشروبات،فاسٹ فوڈ ،گوشت کم لینااور گائے کے گوشت سے پرہیز کرنا چاہئے۔تاہم مرغی اور مچھلی کاگوشت کھانے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے، اس کوڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

س: کھانے میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کیسا ہے؟
ج: اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اوراس کو اپنا معمول بنائیں
س: روزمرہ کاشیڈول کیا سیٹ کیاجائے؟
ج: روزانہ سیر کومعمول بنائیں اور ہفتے میں150 منٹ کی سیر ضرور کریں۔بچوں کو شروع سے ہی سیر کی عادت ڈالیں تاکہ وہ مستقبل میں موٹاپے سے بچ سکیں۔
س: پرہیز سے موٹاپا کنٹرول نہ ہوتو کیا کیا جائے؟
ج: اگر پرہیز سے موٹاپا کنٹرول نہ ہوتوبیریاٹک سرجری ایک اچھا طریقہ علاج ہے اوران لوگوں کو تجویز کیاجاتا ہے جن کاوزن کنٹرول نہیں ہورہا ہوتا۔یا جن کا بی ایم آئی40 سے زیادہ ہوجاتا ہےیابی ایم آئی35 ہو لیکن کچھ پیچیدگیاں ہوں۔ اس کے علاج  کے لیے ماہر امراض معدہ وآنت سے بی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
س: اس کے مزید طریقہ علاج کیا کیا ہیں؟
ج: جدید طریقہ علاج میں جنیاتی تحقیق بذریعہ نیوٹری جینیکٹس اور نیوٹری جینومکس پر ریسرچ جاری ہے اور مستقبل میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
س:شوگر کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
ج: اس بارے میں لوگوں کوآگہی نہیں ہے۔ شوگر سیر،نظم وضبط اور ادویات کے باقاعدہ استعمال کرنے سے کنٹرول کی جاسکتی ہے۔
س:انسولین کس حد تک ضروری ہے؟
ج: شوگر کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک وقت آتا ہے کہ انسولین بہت ضروری ہوجاتی ہے اس وجہ سے اس پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کرنا چاہئے۔
س:کیاشوگر کنٹرول کرنےکا کوئی اصول ہے؟
 ج:میرے نزدیک شوگر کنٹرول کرنے کے لئے تین چیزیں زیادہ اہم ہیں۔ پہلے نظم وضبط،پھر ادویات اور آخر میں خوراک، ان تین باتوں پر عمل کرکے شوگر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
س:وہ کونسی چیزیں ہیں جو شوگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں؟
ج:ضرورت سے زیادہ میٹھا کھانا اور لائف سٹائل شوگر کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔
س:لائف سٹائل سے کیا مراد لی جاتی ہے؟
ج: لائف سٹائل سے مراد یہ ہے کہ  آپ کی روٹین کیسی ہے ، دیر سے کھانا اور دیر تک جاگنا اانتہائی نقصان دہ ہے۔زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا بھی خطرناک ہوتا ہے۔
س: کووڈ کے دنوں میں شوگر کے مریضوں کو کیا مسائل رہے؟
ج: شوگر کے مریض کووڈ کے دنوں میں انتہائی پریشانی کا شکار تھے کیونکہ لائف سٹائل ہی تبدیل ہوگیا تھا۔ گھر سے باہر نکلنا محدود تھا اس وجہ سے شوگر کے مریضوں کے لئےکسی قسم کی کوئی ایکٹیویٹی نہیں تھی۔ شوگر کے مریض خاصے پریشان رہے ، ان حالات میں شوگر کے مریضوں کو ناصرف ادویات کا زیادہ استعمال کرنا پڑا بلکہ ان کی پریشانی بھی بڑی۔
س:شوگر کی وجہ سے دیگر کون کونسے امراض لاحق ہوتے ہیں؟
ج:شوگر کی وجہ سے آنکھوں کا موتیا،اعصاب سن ہوجاتے ہیں۔ زخم بن جائے تو جلدی ٹھیک نہیںہوتا۔ اس کی وجہ احساس کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ اس سب میں کیٹا بولزم بہت اہم ہوتا ہے۔تاہم ا گر عمر زیادہ ہوتو شوگر پرکنٹرول پانے کے لئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔




Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts