عالمی ادب کے فروغ کےلئے کوشاں انگلش لٹریری سوسائٹی
٭....مجھے جب انگلش لٹریری سوسائٹی کا صدر منتخب کیا گیا تو میں نے اسے اپنے لئے اعزاز سمجھا کہ مجھے ایک ادبی تنظیم کا صدر بنا یا گیا ہے،اس کے بعد میں نے زیادہ محنت اور احساس ذمہ داری سے کام کیا، میں روبیہ جیلانی اوردیگر احباب کے ساتھ مل کر اپنے فورم کی علمی ادبی خدمات کےلئے زیادہ متحرک ہوگئے ،میرے خیال میں انگلش لٹریری کا بنیادی مقصد عالمی ادب کے فروغ کے لئے کام کرنا ہے:پروفیسر انوار الحق
٭....ہمارے لئے یہ بہت اعزاز کی با ت ہے کہ یونیسکو نے لاہور کو سٹی آف لٹریچر قراردیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس عالمی ادارے نے اس شہر میں ہونے والی علمی وادبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے، اس اعزاز کے بعد تو اس شہر کے ادبی حلقوں کو زیادہ محنت اور توجہ سے لٹریچر کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا، ہماری تنظیم نے تو اس حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے، ہم نے لاہور سٹی آف لٹریچر نیٹ ورک کے اشتراک سے دو خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا ،مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا: روبیہ جیلانی
انٹرویو :طارق کامران
انگلش لٹریری سوسائٹی گزشتہ 19سال سے فروغ ادب کےلئے کوشاں ہے، اس فورم نے ادبی ذوق رکھنے کو والوں عالمی ادب کے قریب لانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے،جبکہ قومی اورعلاقائی زبانوں کے ادب کے حوالے سے بھی اہم فکری نشستوں کا اہتمام کیا ہے، تاہم عالمی ادب کے فروغ پر ہماری خصوصی توجہ ہے،دنیا بھر کے ادب میں جس جس اہم موضوع اور قدرتی آفات کے تناظر میں جوکچھ لکھا گیا ہے، ہم نے اس پرمتعدد سیمینار کرائے ہیں، جس میں دلچسپی رکھنے والے علم دوست احباب کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے، جبکہ دنیا بھر میں جن اہل قلم کو ادب کانوبل پرائز ملا ہے،ان کے تخلیقی کام کو بھی اہل ذوق کے سامنے لائے ہیں،ان خیالات کا اظہار انگلش لٹریری سوسائٹی کے صدرپروفیسرانوارالحق اورسیکرٹری جنرل روبیہ جیلانی نے نوائے درویش سے مشترکہ انٹرویو میں کیا۔
نوائے درویش: پروفیسر انوارالحق صاحب ، جب آپ کو انگلش لٹریری سوسائٹی کا صدر بنا یا گیا تواس وقت آپ کے احساسات کیا تھے؟
ج: مجھے جب انگلش لٹریری سوسائٹی کا صدر منتخب کیا گیا تو میں نے اسے اپنے لئے بات اعزاز کی بات سمجھا کہ مجھے ایک ادبی تنظیم کا صدر بنا یا گیا ہے،اس کے بعد میں نے زیادہ محنت اور احساس ذمہ داری سے کام کیا، میں روبیہ جیلانی دیگر احباب کے ساتھ مل کر اپنے فورم کی علمی ادبی خدمات کےلئے زیادہ متحرک ہوگئے ،میرے خیال میں انگلش لٹریری کا بنیادی مقصد عالمی ادب کے فروغ کے لئے کام کرنا ہے، اسی بنا پر ہم نے اپنے بیشتر پروگرام بھی اس بات کو پیش نظررکھتے ہوئے ترتیب دیئے اور ہمیں خوشی ہے کہ پڑھے لکھے حلقوں کی جانب سے ہماری ان کاوشوں کو سراہا گیا، جبکہ میڈیا نے بھی ہمارے کام کی ستائش کی ہے۔
نوائے در ویش : یہ بتائیں کہ دنیا بھر میں تخلیق ہونے والے ادب اور پاکستان کے قومی ادب میں کوئی فرق ہے ؟
ج:عالمی ادب اور ہمارے ہاںلکھے جانیوالے ادب میں فرق صرف سکوپ کا ہے ہمارا ادب بھی عالمی ادب ہی کا حصہ ہے،دنیامیں ہمارے ادبی کام کوسراہا گیا ہے، ہمارے تخلیق کاربھی عالمی سطح پر اپنی ایک پہچان اور شناخت رکھتے ہیں، جیسا کہ علامہ اقبالؒ،فیض احمد فیض ؒ، سعادت حسن منٹو، احمدندیم قاسمی ہیں،انتظارحسین ہیں، یہ دنیا کے ادبی حلقوں میںبھی اپنا ایک مقام رکھتے ہیں،اور پروفیسر جیلانی کامران کابھی ورلڈ انسائیکلوپیڈیا آف لٹریچر میں ذکرکیا گیا ہے، تاہم ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اردوادب کا دنیا کی دیگر زبانوں میں زیادہ سے زیادہ ترجمہ کیا جائے، تاکہ یہ عالمی سطح پر بھی ادب دوستوں حلقوں تک پہنچ سکے ۔
نوائے درویش : پاکستان کے ادبی حلقوں دنیا کے ادب دوست حلقوں کو قریب لانے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
ج :اس مقصد کےلئے زیادہ سے زیادہ ادبی کانفرنسز اور سیمینار زکرا نے کی ضرورت ہے،جس میں دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے اہل قلم شرکت کریں ، اپنے خیالات کا اظہارکریں ،اپنی تخلیقات پیش کریں اور ہمارے رائٹرز انہیںاپنی تخلیقی سرگرمیوں سے آگاہ کریں، جیساکہ لاہور لٹریری فیسٹیول ہوا ،جس میںترک نوبل انعام یافتہ ادیب اورہان پیمک نے خصوصی شرکت کی اور ا پنے ادبی کام سے شرکا کو آگاہ کیا ، انگلش لٹریری جلد اورہان پیمک کے ادبی کارناموں کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،انشا اللہ کورونا گزرنے کے بعد جلد یہ محا فل ہوں گی۔
روبیہ جیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انگلش لٹریری سوسائٹی کی بنیاد ہی اس لئے رکھی ہے کہ پاکستان کے علم دوست حلقوں کو عالمی ادب کے قریب لایا جائے۔
نوائے درویش :روبیہ جیلانی آپ یہ بتائیں کہ ہم اپنے ادبی پلیٹ فارمز سے فروغ ادب کا کام کس طرح سے زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں؟
ج: ہمارے لئے یہ بہت اعزاز کی با ت ہے کہ یونیسکو نے لاہور کو سٹی آف لٹریچر قراردیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس عالمی ادارے نے اس شہر میں ہونے والی علمی وادبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے، اس اعزاز کے بعد تو اس شہر کے ادبی حلقوں کو زیادہ محنت اور توجہ سے لٹریچر کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا، ہماری تنظیم نے تو اس حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اور ہم نے لاہور سٹی آف لٹریچر نیٹ ورک کے اشتراک سے دو خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا ہے مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہیگا، اس حوالے سے میری شہر کی دیگر ادبی تنظیموں سے گزارش ہے کہ وہ شہر کے ٹاﺅن ہال کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں، دنیا بھر کے بڑے شہروں کے ٹاﺅن ہالز ہی ان کی ادبی سرگرمیوں کا پلیٹ فارم بنتے ہیں۔لاہور سٹی آف لٹریچر کا نیٹ ورک سٹی گورنمنٹ چلارہی ہے، کمشنر لاہور اس کے سربراہ ہیں، اور وہ اس کام میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، میں نے ان سے گزارش کی ہے کہ اس میں شہر کی ادبی تنظیموں کو موثر نمائندگی دی جائے، اوران کے عہدیداروں کو اس کا حصہ بنایا جائے، جبکہ ادبی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فورم سے ہونے والے مشاعروں کے سلسلے کوذرا کم کریں اور علمی ادبی نوعیت کے دیگر پروگرامز پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کریں۔








No comments:
Post a Comment