صحافت کا شعبہ اختیار کرنے پر مشکلات اور مسائل کا سامناکرناپڑا لیکن میں ڈ ٹا رہا:محمد نواز
پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز 1968 میںجنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبار جہاں سے کیا ، صحافی و سفرنامہ نگار سید وجاہت علی نے انہیں اس شعبے میں متعارف کرایا
تعلیمی مراحل گورنمنٹ ڈگری کالج اوکاڑہ ، اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور اور اسلامیہ کالج کراچی میں طے کئے، وہ اوکاڑہ کالج کے رسالے جواہر پارے کے طالب علم مدیر بھی رہے
مختلف جرائد کے اوکاڑہ ایڈیشنز نکالے، جن میں ہفت روزہ مستقبل لاہور، پندرہ روزہ احتساب لاہور، ہفت روزہ پاک پنجاب اوکاڑہ اور کتابی سلسلہ قرطاس شامل ہیں
پیشہ وارانہ فرائض کے ادائیگی کے دوران جیل یاتر ا بھی کرنی پڑی، جرنلسٹ کمیونٹی کی سیاست بھی کی، پریس کلب کے انتخابات میں حصہ بھی لیتے رہے
(انٹرویو:طارق کامران )
محمد نواز سینئر صحافی ہیں، انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز 1968 میںجنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبار جہاں سے کیا ، صحافی و سفرنامہ نگار سید وجاہت علی نے انہیں اس شعبے میں متعارف کرایا، نواز نے ایک سال تک مذکورہ جریدے میں خدمات انجام دیں ، اور پھر لاہور چلے آئے ، ملک کے اس بڑے صحافتی مرکز میں روزنامہ مغربی پاکستان اور جناب ظہور عالم شہید کے ذاتی اخبار جاوداں میں کام کرتے رہے، کچھ عرصے بعد دوبارہ کراچی آگئے ، اور مختلف اخبارات وجرائد میں کام کرنے لگے، سید وجاہت علی سے ان کے قریبی مراسم استوار ہوگئے، اپنے قیام کراچی کے دوران وہ ان کے گھر پر ہی مقیم رہے، نواز وجاہت کواپنا استاد اور محسن قرار دیتے ہیں، کچھ عرصہ بعدنواز کو اپنے بعض خاندانی مسائل کی بنا پر آبائی شہر اوکاڑہ واپس آنا پڑا۔
محمد نواز نے اپنے تعلیمی مراحل گورنمنٹ ڈگری کالج اوکاڑہ ، اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور اور اسلامیہ کالج کراچی میں طے کئے، وہ اوکاڑہ کالج کے رسالے جواہر پارے کے طالب علم مدیر بھی رہے، جبکہ اسکے انچارج مدیر پروفیسر ابوالاعجاز حفیظ صدیقی تھے، یہ 1966کا زمانہ تھا، کالج کے پرنسپل کلیم صاحب تھے، وہ اپنے اساتذہ میں جناب ممتاز محی الدین غوری سے بہت متاثر ہیں، ان کاکہنا ہے کہ میں نے غوری صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے، اوکاڑہ آمد پر نواز نے اپنی صحافتی سرگرمیوں کاا زسرنو کاآغاز کیا،یہ 1971-72 کا زمانہ اور بھٹو صاحب کا عہد اقتدار تھا، قوم ابھی سانحہ مشرقی پاکستان کے صدمے میں تھی ، اس ماحول میں انہوں نے مختلف جرائد کے اوکاڑہ ایڈیشنز نکالے، جن میں ہفت روزہ مستقبل لاہور، پندرہ روزہ احتساب لاہور، ہفت روزہ پاک پنجاب اوکاڑہ اور کتابی سلسلہ قرطاس شامل ہیں، آپ اوکاڑہ کے دوسرے ہفت روزہ اخبار گرفت کے بانی ایڈیٹر بھی ہیں، خالد مسعود رائو اس کے پبلشر تھے، جبکہ1989میںپریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی ننس کے منسوخ پر اوکاڑہ سے پندرہ روز ندرت کا ڈیکلریشن حاصل کیا، اس شہر میں محمد نواز کی صحافتی سرگرمیاں دس سال پر محیط ہیں۔ان دنوں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں، اور اپنی یاد داشیں لکھنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
گزشتہ دنوں اوکاڑہ میں ہونے والی ایک خصوصی ملاقات کے دوران محمد نواز نے بتایا کہ وہ زمانہ طا لب علمی سے ہی سیاست دان بننا چاہتے تھے، لیکن جب بوجہ ایسانہ ہوسکا تو صحافت کے خار زار میں قد م رکھ دیا ، ان کے مطابق جب اوکاڑہ ضلع بنا تو میں نے ہفت روزہ پاک پنجاب پنجاب کا ڈسٹرکٹ اوکاڑہ نمبر نکا لا، جس کی عوامی اورعلمی وادبی حلقوں میں بہت پذیرائی کی گئی ،سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اپنی صحافتی زندگی کو خوب انجوائے کیا ، اگر چہ یہ شعبہ اختیار کرنے پر بے پناہ مشکلات اور مسائل کا سامنا بھی کرناپڑا ، تاہم میں ڈ ٹا رہا ، اور مجھے اس حوالے سے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، شاید میں یہ ہی کام کرنا چاہتا تھا ، مدیر’’ ندرت‘‘ نے بتایا کہ جب انہوں نے اوکاڑہ میں صحافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو شہر کا ماحول اس کے لئے کچھ زیادہ سازگار نہ تھا تاہم ہم لوگوں نے کوشش کی ، ماحول کو سازگار بنایا اور شکرہے ہمارے شہر اور ضلع کے باسیوں نے ہماری کاوشوں کو سر اہا ، نواز کوا پنے پیشہ وارانہ فرائض کے ادائیگی کے دوران جیل یاتر ا بھی کرنی پڑی، انہوں نے جرنلسٹ کمیونٹی کی سیاست بھی کی، پریس کلب کے انتخابات میں حصہ بھی لیتے رہے، محمد نواز نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ ایک دفعہ ہمارے گروپ نے مشہور شاعر، صحافی اور کالم نگار ظفرا قبال کے گروپ کو اوکاڑہ پریس کلب کے انتخابات میں شکست سے دوچار کیا ،اوکاڑہ پریس کلب کا احیا ہمارے زمانے میں ہوا،میں اس کا پہلا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا، مرزا بشیر محمد ہمارے صدر منتخب ہوئے ، جبکہ سینئر صحافی اور ٹریڈ یونین رہنما کامریڈ عبدالسلام جو ہمارے گروپ کی جانب سے سینئر نائب صدر کے امیدوار تھے، یہ الیکشن ہار گئے تھے ،تھے۔
نواز نے بتایاکہ اوکاڑہ کے پہلے ، ہفت روزہ اخبار پاک پنجاب کے پبلشر مدیر مرزا بشیر محمد تھے، اخبار کا اعزا ز ہے کہ اس کے پہلے مدیر مشہورشاعراور کالم نگار اسرار زید ی تھے، میں کئی سال تک اس کا مدیر رہا، ان دنوں ہمارے شہر سے متعدد اخبارات شائع ہوتے تھے، اسلم شیخ واردات نکالتے تھے، ، اکمل مرزا خزینہ مشرق شائع کرتے تھے، لالہ بھائی اور بشیرہمدرد بھی شہر کے صحافتی حلقوں کے جانے پہچانے نام تھے، اور بھی کئی دوست اس شعبے سے وابستہ تھے، جن میں کامریڈ عبدالسلام ایک نمایاں نام تھے ، کامریڈ ہمارے شہر کی صحافت،سیاست اور ٹریڈ یونین کا ایک بڑا حوالہ تھے، وہ ہمارے اساتذہ جیسے دوست تھے، ان سے اختلافات بھی ہوجاتے تھے، تاہم باہمی احترام کا رشتہ ہمیشہ برقرار رہتا، وہ میرے اخبار کے لئے کالم بھی لکھ بھی کرتے تھے، کامریڈا یک پکے نظریاتی شخص تھے۔






No comments:
Post a Comment