ادبی سرگرمیاں محدود، میڈیا آخری ہچکیاں لینے لگا :میم سین بٹ
٭....تمام مسودے مکمل کرکے اپنی کتابیں خود چھاپنا چاہتا ہوں،کرونا مجھے قدرتی وباءنہیں لگتی
صحافی و کالم نگاراورادیب میم سین بٹ سے طارق کامران کا لاک ڈاﺅن کے دوران آن لائن مکالمہ
میم سین بٹ کا نام ادب و صحافت کے شعبوں میں تعارف کا محتاج نہیں ،طنز و مزاح نگار اور صحافی وکالم نویس ہیں حلقہ ارباب ذوق اور لاہور پریس کلب کے ممبر بھی ہیں ان کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور نصف درجن کتابیں اشاعت کی منتظر ہیں ان کے ساتھ مختصر نشست کے دوران ادب و صحافت کے سفر بارے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے ۔
س۔ کتاب اور قلم کے ساتھ ناطہ کب اور کیسے جڑا ؟
ج۔ پرائمری میں بچوں کی کہانیاں پڑھنے سے آغاز کیا ،مڈل میں اے حمید اور ابن صفی کے ناول پڑھے اور میٹرک میں ڈائجسٹوں کی چاٹ لگ گئی ،کالج کے زمانے میں بڑے ادیبوں کو پڑھنا شروع کیا !
س۔ کن ادیبوں کو زیادہ پڑھا ؟
ج۔ منٹو ،بیدی،کرشن چندر ، احمد ندیم قاسمی، شفیق الرحمان، انتظار حسین ،عبداللہ حسین، اشفاق احمد، ابن انشائ، اے حمید اور عطاءالحق قاسمی کو بہت زیادہ پڑھا !
س۔ لکھنے لکھانے کی طرف کیسے آئے ؟
ج۔ لڑکپن میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ کراچی سے چھپنے والے سپورٹس جرائد اخبار وطن اور ماہنامہ کرکٹر بھی پڑھا کرتا تھا جب ماہنامہ کرکٹر کے مالک ریاض احمد منصوری نے جنوری 1985ءسے ماہنامہ ٹی وی ٹائمز جاری کیا تو اسے پڑھنا اور پھر اس میں لکھنا شروع کردیا میری پہلی تحریراگست 1986ءکے شمارے میں چھپی تھی تقریباََ پانچ برس تک مسلسل ماہنامہ ٹی ٹائمز میں لکھا یہ چونکہ شوبز کا رسالہ تھا اس لئے بعدازاں ہفت روزہ جرائد چٹان، حرمت اور زندگی میں سیاسی موضوعات پر لکھنا شروع کردیا تھا اس دوران نوائے وقت ،روزنامہ پاکستان اور روزنامہ خبریں کے سنڈے میگزین کے علاوہ پندرہ روزہ ٹی ہاﺅس، ماہنامہ اور سہ ماہی خیال وفن سمیت سمیت مختلف جرائدمیں ادبی مضامین بھی لکھے !
س۔ کالم نگاری کی طرف کیسے آنا ہوا ؟
ج۔ فیصل آباد میں ایوننگر اخبار روزنامہ صورتحال کے نیوزایڈیٹر جمیل سراج میرے دوست تھے اس اخبار سے کالم لکھنے کا آغاز کیا پھردیگر مقامی اخبارات ڈیلی بزنس رپورٹ ،ڈیلی کرنٹ رپورٹ، ڈیلی رپورٹ ، روزنامہ غریب اور روزنامہ امن میں بھی لکھتا رہا بعدازاں قومی اخبارات روزنامہ الاخبار ،روزنامہ خبریں اور روزنامہ جناح میں بھی برسوں کالم لکھتا رہا ہوں۔
س۔ عملی صحافت میں کب اورکیسے آئے ؟
ج۔میرا اخبار کے ساتھ لڑکپن میں ہی تعلق پیداہوگیا تھا مڈل کلاسز کے زمانے میں میرے خالو دکان پر نوائے وقت منگوایا کرتے تھے ہمسائے میں میرے دوست خواجہ عامر رشید کے گھر روزنامہ مشرق اور دوسرے دوست فاروق نسیم بٹ کے گھر روزنامہ امروز آتا تھا اور میں روزنامہ تینوں اخبارات کا مطالعہ کیا کرتا تھا بعدازاں سیالکوٹ سے میرا گھرانہ فیصل آباد منتقل ہو گیا تو وہاں نوائے وقت کے بیورو آفس سے بطور رپورٹر عملی صحافت کا آغاز کیا نوائے وقت کے بیورو چیف ان دنوںمجید نظامی مرحوم کے بھتیجے احمد کمال نظامی ہوتے تھے!
س۔ فیصل آباد میں کتنا عرصہ صحافت کی ،کن اخبارات کے ساتھ منسلک رہے اور لاہور کب آئے ؟
ج۔فیصل آبادمیں دس برس تک نوائے وقت ، روزنامہ الاخبار ، روزنامہ اوصاف ، روزنامہ پاکستان کے بیورو ز سمیت مقامی اخبارات روزنامہ غریب، شیلٹر اور روزنامہ پنجاب نیوز کے ساتھ منسلک رہا اس کے بعد جون 2002ءمیں اپنے صحافی دوست قمرالزمان بٹ کی وساطت سے لاہور آکر روزنامہ خبریں کے ساتھ وابستہ ہو گیا تھا آج کل بھی اسی اخبار سے منسلک ہوں البتہ درمیان میں روزنامہ الشرق اور روزنامہ جناح کے سات چھ سات برس منسلک رہا ہوں!
س:روزنامہ خبریں کے ساتھ طویل وابستگی کی کوئی خاص وجہ ہے ؟
ج۔ روزنامہ خبریں صرف اخبار نہیں یہ باقاعدہ میڈیایونیورسٹی کا درجہ رکھتاہے جس کے وائس چانسلر ضیا شاہد ہیں موجودہ عہد میں ان جیسا کوئی دوسرا پیشہ ور صحافی دکھائی نہیں دیتا متعدد کامیاب اخبارات ان کے کریڈٹ پر ہیں انہوں نے مجھے بطور کالم نگار شناخت دی مجھ سے اخبار میں کالم کے علاوہ سنڈے میگزین میں بھی لکھوایا وہ حقیقی معنوں میں جوہری ہیں ان سے زیادہ کوئی ایڈیٹر نہیں جانتا کہ کس کارکن صحافی سے کیا کام لیا جا سکتا ہے جناب ضیا شاہد کے تیارکردہ صحافی تقریباََ تمام بڑے اخبارات میں اہم عہدوں پر فائز ہیں !
س۔ آپ کی اب تک تین کتابیں چھپ چکی ہیں مزید کتابیں کب شائع ہو ں گی ؟
ج۔ میں نصف درجن کتابوں کے مسودے مکمل کرچکا ہوں ان میں سے ایک کتاب طنزومزاح پر مشتمل ہوگی دوسری سفرنامہ ہوگا تیسری قلمی خاکوں اورچوتھی فیصل آبادکی یادوں پر مبنی ہوگی، پانچویں پاک ٹی ہاﺅس اور چھٹی کتاب لاہور شہر کے بارے میں ہو گی!
س۔آپ کی پہلی کتاب بھی طنزومزاح پر مبنی تھی اورلاہور پر پہلے بھی آپ کی ایک کتاب چھپ چکی ہے ،لاہور شہر کے حوالے آپ نے بہت زیادہ لکھا ہے میرا اندازہ ہے کہ لاہور کے موضوع پر آپ کی مزید چار پانچ کتابیں چھپ سکتی ہیں ؟
ج۔ آپ کا اندازہ درست ہے میں لاہور کے حوالے سے چھپنے والی کتابوں پر تبصرے بھی لکھتا رہتا ہوں اب تک تقریباََ پینتالیس کتابوں پر میرے تبصرے چھپ چکے ہیں تقریباََپندرہ کتابیں باقی رہ گئی ہیں جس کے بعد ان کا مجموعہ شائع کروں گا !
س۔ادب و صحافت کی طرف نہ آئے ہوتے تو کیا ہوتے ؟
ج۔شاید ٹاپ ٹین ہوتا اورغالبا“اب تک کسی اصلی یا جعلی پولیس مقابلے میں پار ہو چکا ہوتا ،ادب و صحافت نے میرے مزاج کا غصیلہ پن ختم کردیا تھا ۔۔۔!
س۔ ختم نہیں کچھ کم کیا ہوگا !(قہقہے )
ج۔ بہرحال اسے بھی غنیمت سمجھتا ہوں !
س۔ کرونا وائرس کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟
ج۔ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں مجھے تو یہ قدرتی وباءنہیں لگتی اس میں عالمی انسانی سازش کارفرما لگتی ہے شاید یہ دنیا کی آبادی گھٹانے کا منصوبہ ہے لیکن باربار لاک ڈاﺅن کرنے سے یہ آبادی بڑھانے کا منصوبہ بن چکا ہے !
س۔ کرونا وباءاور لاک ڈاﺅن سے آپ نے لکھنے پڑھنے کا کام بڑھا دیا ہے یا کم کردیا ہے ؟
ج۔ اب تو لکھنے پڑھنے کو جی ہی نہیں چاہتا بلکہ زندگی سے ہی جی اچاٹ ہوتا جا رہا ہے !
س۔ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے ؟
ج۔یہ آن لائن یعنی محدود ہو کررہ گئی ہیں،کرونا کی وباءکے خاتمے تک یہی سلسلہ چلے گا!
س۔ صحافت کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں ؟
ج۔ تاریک۔۔۔ حکومت نے میڈیا کا گلا گھونٹ ڈالا ہے اب تو یہ آخری ہچکیاں لے رہاہے ہم اجڑے
باغوں کے گالڑھ پٹواری ہیں ہمارے بعد اجالا نہیں مکمل اندھیرا دکھائی دیتاہے !







No comments:
Post a Comment