نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

پاکستانی ٹیم ون ڈے کی’’ سلطان‘‘ تو بن گئی۔۔۔اب اگلا ہدف کیا ہے؟۔۔۔یہ پاکستان کرکٹ کا بہترین دور ہے

 پاکستانی ٹیم ون ڈے کی’’ سلطان‘‘ تو بن گئی۔۔۔اب اگلا ہدف کیا ہے؟۔۔۔یہ پاکستان کرکٹ کا بہترین دور ہے




پاکستانی ٹیم نے افغانستان سے ون ڈے سیریز کے لیے ایک ہدف مقرر کیا اور وہ تھا کہ ون ڈے میں حکمرانی، یہ خواب اس وقت پورا ہوسکتا تھا کہ جب افغانستان کو تین ون ڈے کی سیریز میں وائٹ واش کیاجاتا۔ کرکٹ ماہرین کے نزدیک افغانستان کوئی آسان ٹیم نہیں ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ بہت بہتر ہورہی ہے۔ بابراعظم کاتو یہ کہنا ہےکہ یہ ٹیم آسان نہیں  ہے یہ تو صرف سمجھاجاتا ہے۔ افغانستان کےساتھ پہلا ون ڈے جیتا، دوسری جیت پاکستان کے ساتھ بہت کلوز تھی اگر نسیم شاہ کی بائونڈری وقت پر نہ لگتی تو نجانے نتیجہ کیا ہوتا لیکن کرکٹ میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ہے اس وجہ سےکہاجاتا ہےکہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ دوسرا ون ڈے بھی جیت گئے۔

تیسرے ون ڈے سے قبل سیریز تو جیت گئے تھے لیکن اگر وائٹ واش ہوتا تو کرکٹ ون ڈے پر پاکستان کی حکمرانی ہوتی۔بہرحال ایشیاکپ اور ورلڈکپ سے قبل پاکستان ٹیم ایک بار پھر ون ڈے کرکٹ کی نمبر ون ٹیم بن گئی ہے۔  پاکستان ٹیم نے یہ کارنامہ افغانستان کے خلاف سیریز میں تین ۔ صفر کی جیت کے ساتھ انجام دیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم افغانستان کے خلاف تین میچز کی سیریز سے قبل 116 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھی۔سیریز میں تین۔ صفر کی فتح پاکستان کو نمبر ون پوزیشن پر لے آئی ہے، اب پاکستان آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں 119 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر آگیا ہے جب کہ آسٹریلیا کی ٹیم 118 پوائنٹس کے ساتھ دوسری اور بھارت 113 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان ٹیم دوسری مرتبہ ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر آئی ہے، پاکستان نے اس سال مئی میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیت کر  تاریخ میں پہلی بار ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی۔پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس سال 11 میں سے 8 ون ڈے میچز جیتے ہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگلا ون ڈے اسائنمنٹ ایشیاکپ ہے۔پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف نے پاکستان ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نمبر ون ٹیم بننا پاکستان کی محنت اور شاندار کھیل کا نتیجہ ہے۔ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ  ہمارے شائقین کا جوش و جذبہ ٹیم کے حوصلے بڑھانے میں مثالی رہا ہے،  یقین ہے پاکستان ٹیم ایشیا اور ورلڈکپ میں بھی اس پوزیشن کو برقرار  رکھے گی۔


قومی ٹیم نے مقرررہ 50 اوورز میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 268 رنز بنائے تھے، 269 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی ٹیم 48.4  اوورز میں 209 رنز بناسکی اور اس کے تمام کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستان کی جانب سے محمد رضوان نے 67 اور بابراعظم نے 60 رنز کی اننگز کھیلی، محمد رضوان نے اپنی اننگز میں ایک چھکا اور 6 چوکے لگائے جب کہ بابراعظم کی اننگز میں ایک چھکا اور 4 چوکے شامل تھے۔ان کے علاوہ آغا سلمان نے 38، محمد نواز نے 30، فخر زمان نے 27 رنز کی اننگز کھیلی، امام الحق 13، سعود شکیل 9، شاداب خان 3 اور فہیم اشرف 2 رنز بناسکے۔

افغانستان کی جانب سے گلبدین نائب نے 2 ، فرید احمد نے 2، فضل حق فاروقی، مجیب الرحمان اور راشد خان نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ان کے علاوہ آغا سلمان نے 38، محمد نواز نے 30، فخر زمان نے 27 رنز کی اننگز کھیلی،  امام الحق 13، سعود شکیل 9، شاداب خان 3 اور فہیم اشرف 2 رنز بناسکے۔افغانستان کی جانب سے گلبدین نائب نے 2 ، فرید احمد نے 2، فضل حق فاروقی، مجیب الرحمان اور  راشد خان نے ایک  ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ قومی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئیں، ٹیم میں محمد نواز، فہیم اشرف، وسیم جونیئر اور سعود شکیل کو شامل کیا گیا ہے، سعود شکیل کا یہ ڈیبیو میچ ہے۔269 رنز کے تعاقب میں افغانستان کی ٹیم 49 ویں اوور میں 209 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

مجیب الرحمٰن نے 64 رنز کی اننگز کھیلی، ان کے علاوہ  شاہد اللہ 37 اور ریاض حسن 34 رنز بناکر نمایاں رہے۔راشد خان 16 اور حشمت اللہ شاہدی 13 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، رحمٰن اللہ گرباز 5 اور محمد نبی 3 رنز بناسکے، ابراہیم زدران اور گلبدین نائب صفر پر آؤٹ ہوئے۔

 پاکستان کی جانب سے شاداب خان نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین روانہ کیا، شاہین آفریدی، فہیم اشرف اور محمد نواز نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس سال 11 میں سے 8 ون ڈے میچز جیتے ہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگلا ون ڈے اسائنمنٹ ایشیاکپ ہے۔

دو دہائیوں میں اب دوبارہ ایک ایسا موقع آیا ہے کہ ابھی ورلڈ کپ شروع ہونے میں چند ماہ باقی ہیں اور پاکستانی شائقین کو ٹیم پر بھروسہ ہے کہ وہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ ٹیموں میں سے ہے۔ان دو دہائیوں میں یہ ٹیم کئی مرتبہ پاکستانی مداحوں کے دل دکھا چکی ہے اور انھیں صدموں سے دوچار کر چکی ہے۔ 2007 میں بھی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے کا صدمہ ہو یا  2011 موہالی میں انڈیا سے سیمی فائنل ہارنے کا رنج۔  2015 میں کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد سنہ 2019 میں بھی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونا، دکھوں کا وہ تسلسل ہے جو کسی کے لیے بھی سہنا مشکل ہے۔

تاہم اس مرتبہ پاکستان ٹیم سے امید لگانے والے مداحوں کے پاس آئی سی سی ون ڈے رینکنگز میں ٹیم کا سرِفہرست ہونے کا جواز بھی ہے۔یہ پوزیشن پاکستان نے گذشتہ رات افغانستان کو سیریز میں تین صفر سے شکست دے کر حاصل کی ہے اور یہ ون ڈے میں رینکنگ سسٹم آنے کا بعد دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان اس درجہ بندی میں سرِفہرست آیا ہو۔ اس سے قبل رواں برس نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیتنے کے بعد پاکستان کچھ عرصے کے لیے سرِ فہرست آیا تھا۔بیٹنگ پر نظر دوڑائیں تو پاکستان کے ٹاپ تھری یعنی فخر زمان، امام الحق اور بابر اعظم تینوں ہی آئی سی سی ون ڈے بیٹنگ رینکنگ میں پہلے پانچ درجوں میں سے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین پانچ ہزار رنز مکمل کرنے والے بابر اعظم پہلے، امام الحق تیسرے جبکہ فخر زمان پانچویں نمبر ہیں،

فاسٹ بولنگ پر نظر دوڑائیں تو حارث رؤف، شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے بیک اپ بولرز جیسے محمد وسیم جونیئر اور فہیم اشرف بھی اچھی فارم میں ہیں۔ شاہین آفریدی بولرز کی رینکنگ میں نویں نمبر پر ہیں۔

سپن آ ل راؤنڈرز میں شاداب خان اور محمد نواز انڈین پچزکے لیے موزوں ہیں اور گذشتہ کئی میچوں سے لیگ سپنر اسامہ میر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح مڈل آرڈر میں محمد رضوان اور سلمان علی آغا کی بہترین کارکردگی بھی حوصلہ افزا رہی ہے اور ڈومیسٹک کے اعداد و شمار کے مطابق ون ڈے کرکٹ افتخار احمد کا فیورٹ فارمیٹ ہے۔س 2011 اور سنہ 2015 کے ورلڈکپ سے قبل شاہد آفریدی اور مصباح الحق کی کپتانی سے متعلق تنازع چلتا رہا تھا، جبکہ  2003 کے ورلڈ کپ سے قبل یہی کشمکش وسیم اکرم اور وقار یونس کے درمیان تھی۔

اس مرتبہ بھی رواں برس کے آغاز میں افغانستان کے خلاف سیریز سے قبل ایسی خبریں گردش کرنے لگی تھیں جن میں بابر اعظم کی کپتانی کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے اور اس حوالے سے پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی کے بیانات بھی حوصلہ افزا نہیں تھے۔تاہم پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے اس دوران بابر اعظم کے لیے ہمت کے پیغامات سے یہ تاثر زائل ہوا اور اب نیوزی لینڈ سے سیریز جیتنے کے بعد بابر اعظم کو ورلڈ کپ سے قبل کپتانی سے ہٹانا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔

مجموعی طور پر اگر یہ کہاجائے کہ پاکستان کی یہ ٹیم متحدہے تو کوئی دورائے نہیں ہے لہذا اس وقت جیت اور پاکستان کی ون ڈے پر حکمرانی پر خوش ہوناچاہئے اور ٹیم کی کامیابی کے لیے دعاکرنی چاہئے۔ یہ پاکستان کرکٹ کا بہترین دور ہے۔



نوٹ ـ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ہمارا متفق ہونا ضروری  نہیں ہے 


 محمد نویداسلم سینئرصحافی ہیں ،روزنامہ خبریں،نیا اخبار،صحافت ،دوپہر، روزنامہ وقت (جنگ گروپ ) کے ساتھ وابستہ رہے۔ نوائے درویش سمیت مختلف ویب سائیٹس کے لئے بلاگنگ کررہے ہیں،حالات حاضرہ ،شوبز،سپورٹس سمیت دیگر امور پرگہری نظر رکھتے ہیں۔


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts