نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

ساہوکارکی غریب کش پالیسیاں۔۔۔۔

 ساہوکارکی غریب کش پالیسیاں۔۔۔۔



ذہنی زرخیزی کی امارات اور معاشی غربت کےشکاروطن عزیزکابظاہر سب سےبڑ ا انحصارعالمی قرضوں پرہے۔سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے عالمی قرضے نہ ملنے کی وجہ سے زرعی ملک پاکستان گندم کی فصل تیارہونے سے قبل گندم کے بحران کاشکارہے اورعوام دووقت کی روٹی کوایک تصوراتی ضرورت سمجھنے لگے ہیں۔ پاکستان خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خودانحصارہونے کی بجائے اجناس کی درآمد پرمجبورہورہاہے۔ بائیس کروڑ کی آبادی کے وطن کواگرصنعتی ملک قراردیاجائے تومصنوعات اوربرآمدات  کابحران بھی منہ کھولے کھڑاہے۔ برآمدات نہ ہونے کے برابرہیں۔ خوراک سمیت ہرقسم کی مصنوعات ہم درآمدکرنے پرمجبورہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہماری ترجیحات کی سمت ہی متعین نہیں ہوسکی۔ 
آج بھی ہم آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کی طرف دیکھ رہے ہیں مگرعالمی سامراج کایہ ادارپاکستان کو سوئی کے نکے سے گزاررہاہےمگر قرضے کی قسط جاری نہیں کررہا۔ 
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ آئی ایم ایف، امریکا یا دوسری عالمی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں کاذیلی ادارہ ہے اور یہ اُنہی کے ایما پر پالیسیاں مرتب کرتا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محاذ آرائی نے خطے میں گروپنگ کی شکل اختیار کرلی ہے، ایک طرف امریکا، بھارت کو خطے میں اپنا حامی سمجھتا ہے جس کے ذریعے وہ ایشیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کا خواہاںہے تو دوسری طرف پاکستان کو چین کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ، آئی ایم ایف کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے، اسی لئے آئی ایم ایف پاکستان سے معاہدے کی بحالی میں تاخیری حربے اختیار کرتے ہوئے نت نئی شرائط عائد کررہا ہے۔
امریکا کی یہ حکمت عملی ہے کہ پاکستان کے موجودہ معاشی بحران میں چین، پاکستان کو معاشی بیل آؤٹ دے لیکن اگر چین مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیتا اور پاکستان ڈیفالٹ ہوتا ہے تو چین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور پاکستانی عوام میں یہ منفی پروپیگنڈہ کیا جائے کہ چین جسے پاکستانی عوام اپنا دیرینہ دوست تصور کرتے ہیں اور ہم سی پیک میں چین کے پارٹنر ہیں، نے پاکستان کو برے وقت میں تنہا چھوڑ دیا۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک  بھی  اگر مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی مدد کو نہیں آتے تو پاکستانی عوام میں یہ تاثر دیا جاسکے کہ برے وقت میں دوست ممالک نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔ آئی ایم ایف اپنے سرپرستوں کے مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے چاہتا ہے کہ قرض دینے میں مزید تاخیری حربے استعمال کیے جائیں تاکہ پاکستان کی مشکلات برقرار رہیں اور ڈیفالٹ کی تلوار لٹکتی رہے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کا  طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف کی قسط سے پہلے حکومت نے آئی ایم ایف کی مشکل ترین شرائط پوری کیں جس سے غریب طبقے کاکچومرنکل گیا۔ آئی ایم ایف  بھی کیساادارہ ہے ملکی حکومتوں کی طرح اس کاسارازوراورساری توجہ غریب طبقے کومزیددبانے پرہے۔ اس نے کبھی یہ فرمائش نہیں کی کہ اشرافیہ کے تعیشات پرپابندی لگائی جائے۔ پٹرول اور آٹے پرسبسڈی کی مضحکہ کوششیں آئی ایم ایف نے خس وخاشاک کی طرح بہادیں۔ آئی ایم ایف نے کھلے لفظوں میں کہاہے کہ غریبوں کورعایت دینے میں اسے اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ گویاآئی ایم ایف نے ببانگ دہل قراردے دیا کہ غریب کواتنادبائیں جتنادب سکتاہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کمٹنٹ تھی یاکیاتھا کہ عالمی منڈی میں تیل سستاہونے کافائدہ  بھی غریب عوام تک منتقل نہیں ہوسکا۔  
اس بات میں بھی شبہ نہیں کہ موجود ہ حالات میں صرف پاکستان ہی نہیں پوری عالمی معیشت  دباؤ کاشکارہے مگر عالمی وباکے بعد سے پاکستان کی معیشت کے مارجن اورآپشن سکڑتے جارہے ہیں۔  یہاں دیگرممالک کی مثال دیتے ہوئے بات کرتے ہیں جاپان کی معیشت کی جسے کبھی دنیا میں ابھرتی ہوئی معیشت قراردیاجاتاتھا اور امریکا اور یورپ جاپان کی معیشت سے اسی طرح خوفزدہ تھے جس طرح وہ آج چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے ڈرتے ہیں۔تاہم دنیا کو جاپان کے جس عروج تک جانے کی توقع تھی وہ کبھی نہیں آیا۔ سنہ 1980 کی دہائی میں جاپان کے لوگ امریکیوں سے بھی زیادہ امیر تھے لیکن ایک جائزے کے مطابق آج وہ برطانوی شہریوں سے بھی کم کماتے ہیں۔
دنیاگلوبل ولیج ہے مگر عالمگیریت کو سب سے زیادہ دھچکا کووڈ وبا سے لگا، جس کی وجہ سے بہت سے ممالک نے نہ صرف اپنی سرحدیں بند کر دیں بلکہ ماسک سے لے کر ویکسین تک جو وائرس سے نمٹنے کے لیے ضروری تھا تمام طبی آلات کی برآمد بھی روک دی تھی۔اس کے بعد یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں بہت سے یورپی ممالک کے پاس وہ گیس بھی ختم ہو گئی جو وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ملک سے درآمد کرتے تھے، اور یوکرین کے اناج تک دوسروں کی رسائی بھی محدود ہو گئی، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
عالمی معیشتوں کی بات کی جائے تو جاپان کی معیشت کئی دہائیوں سے سست روی کا شکار ہے حالانکہ ایک دورمیں بڑی عالمی طاقتیں جاپان کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے اسی طرح خائف تھیں جیسے آج کل چین سے ہیں۔ جاپان کی معیشت کی سست روی کی کی بڑی وجہ تبدیلی کے خلاف شدید مزاحمت اور ماضی سے چمٹے رہنے کی ضد سمجھی جاتی ہے۔ایک جانب جہاں جاپان کی اکثریت آبادی ضعیف العمری میں ہے وہیں آبادی کی شرح بھی سکڑ رہی ہے۔  نئی اورنوجوان نسل کی تعدادنہ بڑھنے کی صورت حال میں جاپان پھنس کر رہ گیا ہے۔ جاپان قرضوں کی مد میں دنیا کے سب سے بڑے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا ہے اور اس بوجھ سے نمٹنے کے لیے عمر رسیدہ آبادی مدد نہیں کر سکتی جو صحت کی دیکھ بھال کےنظام اور پنشن پر دباؤ کی وجہ سے ریٹائر نہیں ہو سکتی۔
آج دنیا کے تقریباً تمام ممالک اپنی خوراک کا کچھ نہ کچھ حصہ درآمد کرتے ہیں، لیکن زیادہ سے زیادہ لوگ مقامی طور پر تیار کی جانے والی چیزوں کو استعمال کرنے کے خیال کا دفاع کر رہے ہیں۔کیونکہ خوراک کے شعبے میں خود کفیل ہونا ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو کم کر سکتا ہے اور اس طرح موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈیا میں نریندر مودی جیسی نئی سیاسی شخصیات نے اپنی ضروریات خود پوری کرنے یعنی خود کفیل ہونے جیسے خیال کو ترجیح دینے کے عمل کو فروغ دینا شروع کیا اور یورپ میں برطانیہ نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا اور یورپی یونین سے خود مختاری حاصل کر لی۔
ایسے حالات میں پاکستان کو بھی قرضوں پرانحصارکم کرکے خودانحصاری پرتوجہ دیناہوگی۔ اپنے وسائل سے مزیدوسائل اوراپنے ذرائع سے مزید ذرائع پیدا کرناہوں گے۔ ورنہ آئی ایم ایف کاہاتھ اورہماری گردن ہوگی۔ اس صورتحال میں آئی ایم ایف کی شرائط اتنی خوفناک اورناقابل عمل ہیں کہ خداکی پناہ۔ یہ شرائط ماننے کی صورت میں تباہی ہے ۔ نہ ماننے کی صورت میں معیشت کی بربادی ہے۔ 



نوٹ : یہ  بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ہمارا متفق ہونا ضروری  نہیں ہے 


تعارف: محمدفاروق سپرا سینئر جرنلسٹ ہیں،وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا معتبر نام  ہیں۔روزنامہ وفاق، روزنامہ خبریں، روزنامہ  صحافت،دوپہر، روزنامہ انصاف، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ وقت،وقت نیوزٹی وی، سٹارایشیا،پنجاب ٹی وی ،دنیا نیوز،ایکسپریس نیوز میں  مختلف پوزیشنزپر کام کرچکے ہیں اور آج کل92نیوز میں کام کررہے ہیں۔


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts