پی ایس ایل8۔۔سنسنی خیز مقابلہ۔۔۔ٹرافی لاہورقلندرز کے نام
پی ایس ایل 8 کا فائنل لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے درمیان کھیلاگیا۔لاہورقلندرز دوسری بار پی ایس ایل کا فاتح بن گیا۔
قلندرز کی ٹیم نے مقررہ اووروں میں 200 رنز بنائے اور مخالف ٹیم کو بڑا ہدف دیا۔
پاکستان سپر لیگ سیزن 8 کے فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ فخر زمان اور مرزا طاہر بیگ اوپنگ کیلئے آئے تو دونوں نے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا۔مرزا طاہر بیگ نے 18 گیندوں پر 30 رنز بنائے ۔فخر زمان کا ساتھ نبھانے عبد اللہ شفیق آئے ۔ ٹیم کا مجموعی سکور 95 پر پہنچایا۔ اس کے بعد فخر زمان 39 رنز بنا کر اسامہ میر کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔عبد اللہ شفیق کا ساتھ دینے کیلئے آنے والے سیم بلنگز، احسن بھٹی بھی زیادہ دیر کریز پر موجود نہ رہ سکے اور 111 کے مجموعی سکور پر دونوں آؤٹ ہو گئے۔
سیم بلنگز اور احسن بھٹی کی طرح سکندر رضا بھی اچھی بیٹنگ نہ کر سکے اور اگلے ہی اوور میں 1 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ ان کے بعد آنے والے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کریز پر موجود عبد اللہ شفیق کا ساتھ دیا اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی سکور 178 تک پہنچا دیا، اس کے بعد عبد اللہ شفیق ہمت ہار بیٹھے اور 40 گیندوں پر 65 رنز کے ساتھ انور علی کے گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
کپتان شاہین آفریدی نے آخر تک شاندار بیٹنگ کی 15 گیندوں پر 44 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے، یوں لاہور قلندرز کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 200 رنز بنائے اور مخالف ٹیم کو بڑا ہدف دینے میں بھی کامیاب ہو گئی، ملتان سلطانز کی طرف سے اسامہ میر نے 3 کھلاڑی، انور علی، احسان اللہ اور خوشدل شاہ نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
ہدف کے جواب میں ملتان سلطانز کی جانب سے کپتان محمد رضوان اورعثمان خان نے بیٹنگ کا آغاز کیا ۔ عثمان خان 18 رنز بنا کربولڈ ہو گئے،ریلی روسو اور محمد رضوان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی سکور 105 پر پہنچا یا۔ریلی روسو نے 32 گیندوں پر شاندار 52 رنز کی اننگز کھیلی۔ کیرن پولارڈ اور محمد رضوان کا ساتھ 122 کے مجموعی سکور تک رہا ۔محمد رضوان بھی 34 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے، ٹم ڈیوڈ بھی 20 رنز بنا کرآئوٹ ہوگئے۔انور علی ایک، اسامہ میر صفر ، خوشدل شاہ 25 رنز ، عباس آفریدی 17 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ ملتان سلطانز کی ٹیم مقررہ اوورز میں 199 رنز بنا سکی۔ لاہور قلندرز کیطرف سے شاہین آفریدی 4، راشد خان نے 2 کھلاڑیوں اور ڈیوڈ ویزے نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
ایوارڈز ملتان سلطانز
ملتان سلطان کی ٹیم اگرچہ فائنل ٹرافی تو نہ اٹھا سکی لیکن بیشتر ایوارڈ جیت کر شائقین کی داد حاصل کی۔
بہترین آل راؤنڈ پرفارمنس پر شاہین شاہ آفریدی کو میچ کا بہترین کھلاڑی،ملتان سلطانز کے احسان اللّٰہ کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی ،ملتان سلطانز کے عباس آفریدی کوٹورنامنٹ کا بہترین بولر ،سلطانز کے کپتان محمد رضوان 550 رنز بناکر ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹسمین،کیرون پولارڈ بہترین فیلڈر قرار پائے۔
لاہور قلندرز کے بیٹسمین فخر زمان کو ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والا بلے باز قرار دیا گیا ،کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم ٹورنامنٹ کے بہترین آل راؤنڈر قرار پائے۔
ملتان سلطانز ہی کے باؤلر احسان اللہ پی ایس ایل ایٹ کے بہترین باؤلر قرار پائے، انہوں نے ٹورنامنٹ میں 22 وکٹیں حاصل کیں اور پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈحاصل کیا۔
لاہورقلندرز کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میںکامیاب رہی ،جیت پرآتش بازی بھی کی گئی،قلندر زنے جیت کر لاہوریوں کو ٹرافی کا تحفہ دیا اور ساتھ ہی لاہوریوں کے دل بھی جیت لئے۔
کون سی ٹیم کب چیمپئن بنی؟
پی ایس ایل میں شامل تمام ٹیمیں چیمپئن بننے کا مزہ چکھ چکیں ہیں۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے 2 اور بقیہ ٹیموں نے ایک ایک بار ٹرافی اٹھائی۔
لیگ کا آغاز دوہزارسولہمیں یواے ای سے ہوا، جس میں مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے میلہ لوٹا اور فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دی۔ دوہزارسترہ میں پی ایس ایل سیزن 2 کا فائنل لاہور میں ہوا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایک بار پھر ٹائٹل اپنے نام کرنے میں ناکام رہی اور پشاور زلمی نے میدان مارا۔
اس کے بعد دوہزار اٹھارہ میں پی ایس ایل سیزن تھری میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پھر سے بازی مار لی ، اس بار انہوں نے دفاع چیمپئن پشاور زلمی کو شکست دی۔دو ہزار انیس میں پی ایس ایل سیزن فور میں بلآخر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قسمت جاگی اور پشاور زلمی کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔دوہزار بیس میں سیزن فائیو میں کراچی کنگز پی ایس ایل کا نیا چیمپئن بنا، فائنل معرکے میں لاہور قلندرز کو شکست دی۔
پی ایس ایل سیزن 6 کا فائنل کورونا کے باعث ابوظہبی میں کھیلا گیا، فائنل میں محمد رضوان قیادت میں ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو پچھاڑ کر ٹرافی اپنے نام کی۔اب بات کی جائے لاہور قلندرز کی تو ملسلسل 6 ایونٹ میں ناکام رہنے والی لاہور قلندرز کی قسمت دوہزاربائیس میں جاگی۔
پہلی بار لاہور قلندرز کی قیادت کرنے والے نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ٹیم کو چیمپئن بنوایا اور فائنل میں دوہزاراکیس کی دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز کو زیر کیا۔












No comments:
Post a Comment