نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

’’باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں‘‘

 ’’باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں‘‘




محمدنویداسلم /نوائے درویش



اخبار کی ایک خبر سناتے ہوئے چپ سائیں کی آنکھ اشک بار ہوگئی۔۔۔نتھو،پھتو سمیت چوپال میں موجود سب لوگ ایسے خاموش ہوگئے جیسے ا ن کو سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔خبر کچھ یوں تھی کہ تحفظ والدین آرڈیننس 2021 کے تحت پہلے کیس کا فیصلہ سنادیا گیا۔ مظفر گڑھ  میں بیوی کے کہنے پر ضعیف والدین کو تشدد کا نشانہ بناکر انہیں گھر سے بیدخل کرنے والے بیٹے کو ایک ماہ کیلئے جیل بھیج دیا گیا۔ ملزم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے پولیس کو نافرمان بیٹے سے اس کے والدین کا گھر 3 روز میں خالی کروانے کی ہدایت کی۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد ملزم کی والدہ گھروں میں کام کرکے گزارہ کرتی رہی جبکہ قوت سماعت سے محروم والد رات مجبوراً  قبرستان میں بسر کرتا تھا۔افسوس صد افسوس۔۔۔نتھو اورپھتو ہمت کرکے بولے۔۔سائیں جی۔۔۔میں نے کل ایک کمرشل دیکھا۔۔۔ اس میں ایک بزرگ اور بچہ اولڈ ہومز میںکھیل رہے تھے۔۔۔ بچے سارا دن کھیلنے کے بعد بس میںسوار ہونے لگے توایک بچہ بزرگ کے پیچھے چھپ گیا۔۔۔بزرگ نے گارڈین سے کہا۔۔۔کہا ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔۔۔بزرگ بولے۔۔۔’’انہوںنے اپنوں کوکھویا ہے اور ہم نے اپنے‘‘۔۔۔پھرسب میں خوشی کی ایسی لہر دوڑ گئی جیسے بے سہارالوگوںکو سہارا مل گیا ہو۔۔۔

چپ سائیں سرد آہ بھر کربولے۔۔۔والدین شجر سایہ دارکی طرح ہوتے ہیں۔۔۔جس طرح درخت جتنا بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی جڑیںاتنی مضبوط ہوتی جاتی ہیں اسی طرح والدین بھی گھر میں صرف موجود ہوںتو ان کے ہونے سے رونق اور برکت ہوتی ہے لیکن تف ہے ا ن لوگوں پر جووالدین کوبوجھ سمجھتے ہیں اور ان کوبیویوںکے کہنے پر گھر سےباہر نکال دیتے ہیں۔ یہ سب مغرب کی’’ ہوا‘‘کا اثر ہے۔۔۔چپ سائیں مغموم لہجے کے ساتھ دوبارہ چپ کرگئے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں

میرا ہاتھ پکڑ لینا تم، تیز اپنی رفتار نہ کرنا

بھول نہ جانا، میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا

میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا


اولڈ ایج ہومز میں آنے والے ماں باپ اپنی اولادوں اور ان کے بچوں کے چہرے دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔تاہم حالیہ آرڈیننس تحفظ والدین 2021 معمر افراد کو ان کی اولاد کی طرف سے گھروں سے نہ نکالنے کے حوالے سے مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔قانون کے اندر اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اگر اولاد کی طرف سے والدین کو اذیت کا سامنا ہو تو وہ اولاد کو گھر سے نکال سکتے ہیں۔ ماں باپ کا رشتہ بھی ایسا  ہے کہ اس میں پیار ہی پیار بسا ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ اولاد کا پیار ماں باپ کے لیے ہر چیز سے عزیز رکھا ہے، ہم انسان تو انسان مگر جانور، پرندے اور دوسرے جاندار بھی اپنی اولاد کے پاس کسی خطرے کو بھٹکنے نہیں دیتے۔

کسی نے سنہری بات کی ہے!

شاندار کل تم جان سکو گے، اس ماں کو پہچان سکو گے

گرچہ جیون کی اس دوڑ میں، میں نے سب کچھ ہار دیا ہے

لیکن میرے دامن میں جو کچھ تھا تم پر وار دیا ہے 

تم کو سچا پیار دیا ہے


شاعر نے جذبات کی عکاسی انتہائی خوبصورت الفاظ میں کی ہے

میرے بچو، گر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو

اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو

مشکل ماہ و سال میں دیکھو

صبر کا دامن تھامے رکھنا

کڑوا ہے یہ گھونٹ پہ چکھنا

’’اُف‘‘ نہ کہنا، غصے کا اظہار نہ کرنا

میرے دل پر وار نہ کرنا


ماں باپ جو وقت کے ساتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں ، جسمانی اور مالی طورپر کمزور ہوجاتے ہیں اور انہیںعمر کے اس حصے میں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ایک ایک کرکے بیٹے چلے جاتے ہیں اور اگر بیٹیاں ہیں تو ان کی شادی ہوجاتی ہے، رشتے دار بھی منہ موڑ لیتے ہیں، اب اس عمر میں اگر وہ بیمار پڑجائیں تو علاج و معالجے کے لیے ان کے پاس رقم نہیں ہوتی اور کوئی ان کی تیمار داری کرنے والا نہیں ہوتا، اولاد انہیں دھوکے سے یا علاج کے بہانے اولڈ ہومز میں چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے، جہاں پر انہیں رہنے کی سہولت اور کھانا پینا تو مل جاتا ہے لیکن وہ گھر کا ماحول اور آزادی نہیں ملتی۔


میری کھانسی سُن کر گر تم سوتے سوتے جاگ اُٹھو تو

مجھ کو تم جھڑکی نہ دینا

یہ نہ کہنا، جانے دن بھر کیا کیا کھاتی رہتی ہیں

اور راتوں کو کھوں کھوں کر کے شور مچاتی رہتی ہیں

بھول نہ جانا میں نے کتنی لمبی راتیں

تم کو اپنی گود میں لے کر ٹہل ٹہل کر کاٹی ہیں


آج کی اولاد والدین کی خدمت کو اپنا فرض نہیں بلکہ انہیں ایک بوجھ سمجھتی ہے۔ میرے خیال میں نوجوانوں میں اخلاقی پستی کی اہم وجہ مغربی تہذیب ہے اور مغرب کی ظاہری شان وشوکت سے آج ہر شخص مرعوب ہے حتیٰ کہ بول چال ، اٹھنا ، بیٹھنا ، کھانا پینا ، رہن سہن ، تعلیم و تہذیب ، اخلاق وآداب ہر طریقہ ،ہر اصول ہر چیز مغربی کی پس خوردہ ہے۔ مشرقی تہذیب پر مغربی تہذیب اس قدر اثر کررہی ہے کہ مغربی علوم فنون کی چھاپ صاف طورپر نظر آرہی ہے۔ اگر لوگ سوچتے ہیں تو مغرب کے دماغ سے، لوگ دیکھتے ہیں تو مغرب کی آنکھوں سے نیز اسی کے بخشے ہوئے افکار و خیالات پر زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں مصروف ہیں جو مغربی تہذیب کی عطا کردہ ہے۔

مغربی ، مشرقی تہذیب سے بالکل جدا اور مختلف ہے۔ مغربی تہذیب میں مشترکہ خاندان کا رواج نہیں پایا جاتا ہے۔بعض لوگ بوڑھے ماں باپ کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ ان پر احسان کر رہے ہیں وہ یہ جان لیں ماں باپ کا قرض کبھی نہیں اتار سکتے۔ یہ جو اتنا سب کچھ ہے یہ ان کی محنت کی وجہ سے ہے۔ جب یہ چلے جاتے ہیں تو برکتیں اور رونقیں بھی چلی جاتی ہیں۔

والد کے بارے میں کسی نے کیا خوب بات کہی تھی کہ

’’باپ نے بیٹے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ! بتاؤ دنیا کا طاقتور انسان کو ن ہے بیٹے نے جواب دیا کہ میں ہوں۔ پھر باپ نے کندھوں سے ہاتھ ہٹا کر پوچھا کہ دنیا کا کمزور انسان کون ہے تو بیٹے نے جواب دیا میں ہوں۔ باپ نے پوچھا کہ کیوں ! تو بیٹا بولا کہ جب آپ کا ہاتھ میرے کندھے پر تھاتو میںخود کو دنیا کا طاقت ور ترین انسان سمجھا تھا اور جب آپ نے ہاتھ اُٹھا یا تو میں دنیا کا کمزور انسان بن گیا۔‘‘

ماں کے بنا پورا گھر بکھر جاتا ہے پر باپ کے بنا پوری دنیا ہی بکھر جاتی ہے۔

پرانا سوٹ پہنتا ہے کم وہ کھاتا ہے

 مگر کھلونے میرے سب خرید کے لاتا ہے !

وہ مجھ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہے جی بھر کے

نجانے سوچ کے کیا کیا وہ مسکراتا ہے !

میرے بغیر ہیں سب خواب اس کے ویران سے

یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے !

شاعر نے کیا خوب کہا !


ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں

باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں



تعارف: محمد نوید اسلم سینئر صحافی ،بلاگر ہیں ،جنگ گروپ سمیت دیگر اخبارات سے منسلک رہے۔ مختلف موضوعات پر کالمز،بلاگز لکھتے  رہتے ہیں۔


نوٹ: یہ کالم نگار بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


Share:

1 comment:

Recent Posts