نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

آم۔۔۔ایساپھل جو لوگوں کے دل میں بستا ہے

 آم۔۔۔ایساپھل جو لوگوں کے دل میں بستا ہے

اے۔اے




آم پاکستان کا قومی پھل ہے۔ ماہرین کو قومی پھل کے انتخاب میں کتنی مشکل ہوئی ہو گی۔ آم صرف پاکستان کا قومی پھل نہیں بلکہ بھارت اور فلپائن کا بھی قومی پھل ہے۔ جبکہ آم کا درخت بنگلہ دیش کا قومی درخت ہے۔ 

ہمارے خطے میں آم سے محبت کی مثال کے لیے اس کی اقسام ہی کافی ہیں۔ قلمی ہو یا تخمی، آم لوگوں کے دل میں بستا ہے۔ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں 1500 سے زیادہ اقسام کے آم پائے جاتے ہیں۔ جبکہ 225اقسام کے دعویدار تو ہم پاکستانی بھی ہیں۔

اس کا موسم ابھی شروع ہوتا ہی کہ کوئی سندھڑی کی بات کر تا ہے تو کوئی چونسا کا دیوانہ ہے اور کوئی انور رٹول کا۔ کسی کو لنگڑا پسند ہے تو کوئی دسہری کا طلب گار۔

آم برصغیر کی مشترکہ ثقافت اور تہذیب کو جوڑتا ہے۔ ابھی آم کی فصل اتری نہیں کہ انڈو پاک کی عوام پرجوش ہو جاتی ہے۔ ان کے نعروں کی گونج سوشل میڈیا پر نظر آنے لگتی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’ہمارا چونسا سب سے اچھا، تو کہیں سے آواز آتی ہے کہ ہمارے لنگڑے اور الفانسو کا تو کوئی جوڑ ہی نہیں۔

آم کی کوئی بھی قسم ہو، یہ عام آدمی سے لے کر خواص تک، سب کے دل خوش کرتا ہے۔

آم کھانے کے بھی کچھ آداب ہیں۔ ہمیں آموں کو اس کے پورے آداب سے کھانا ہی پسند ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی نیت اور پیٹ آم کی قاشوں سے بھر جاتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگ آم ایسے مزید مہذب طریقے سے کھاتے ہیں کہ ہاتھ گندے نہ ہوں۔ لیکن آم کو کانٹے سے کھانا ہم جیسے لوگوں کی طبیعتوں پر سخت گراں گزرتا ہے۔ آم تخمی ہوں یا قلمی، لیکن میٹھے، پیلے، رسیلے اور گودے دار ضرور ہونے چاہیں۔ 

 آم کھانے کا دوسرا حق یہ ہے کہ انہیں خوب ٹھنڈا کر کے کھایا جائے۔ تیسری اہم بات یہ کہ آم، ایک دو سیر نہ ہوں۔ بلکہ جب تک آپ کی طبعیت سیر نہ ہو جائے آم ختم نہ ہوں۔ لیکن آموں کے ساتھ مسئلہ وہی ہے کہ پیٹ بھر جاتا ہے دل نہیں بھرتا۔ پیلا اور رسیلا آم بازار میں مئی تک پہنچتا ہے، لیکن گھروں میں اس کا ذکر آم کے بور سے شروع ہو جاتا ہے۔

جون جولائی کی چبھتی ہوئی گرمی، مون سون کی موسلادھار بارشوں کا سلسلہ اور میٹھے، رسیلے اور خوشبودار آم ہی آم۔ یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ اگر گرمی اور بارش کے بغیر آم کھانے پڑیں تو آم بے مزہ لگتا ہے۔ 

تحائف کا لین دین ہمارے رواج کا حصہ ہے۔ ہم بنیادی طور پر روایتی لوگ ہیں۔ عید ہو یا کوئی اور تہوار۔ یا پھر شادی بیاہ کی تقریبات، تحفے پورے چاؤ کے ساتھ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ جب بات ہو آم بطور تحفے کی تو ماضی میں روایت تھی کہ ادھر آم کے باغوں میں آم پک کر تیار ہوئے اور بیٹی، بہن اور عزیزوں کے گھروں میں ’موسم کا پہلا پھل‘ بھیجا جاتا۔

اب وہ روایتی انداز تو نہیں رہا۔ لیکن اب بھی خاندانوں میں بازار سے خرید کر موسم کا پہلا پھل ’آم‘ ایک دوسرے کے گھر بھجوانے کی روایت ہے۔ امیر غریب اپنی اپنی استطاعت کی مطابق آموں کے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔

آج کل مینگو پارٹیوں کا بڑا شور ہے۔ آموں کا موسم آتے ہی آپ کے پاس آم پارٹی کی دعوت آنے لگتی ہے۔ ان آم پارٹیوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سی سیاسی جماعتیں بھی مینگو پارٹیوں کا احتمام کرتی ہیں، اس طرح ان کے سماجی رابطے بڑھتے ہیں۔


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts