نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

مفاہمت ، مزاحمت اور معاملہ فہمی

 مفاہمت ، مزاحمت اور معاملہ فہمی

محمدنویداسلم /نوائے درویش



نتھو اور پھتو آج تو ایک دوسرے کے دست وگریبان تھے، لیکن سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس بات پر بحث مباحثہ کررہے ہیں۔شور کی وجہ سے کوئی بیچ بچائو بھی نہیں کرارہا تھا۔ اتنے میں چپ سائیں چوپال میںآگئے۔۔۔ ا ن کو دیکھ کر سب اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ نتھو اور پھتو بھی رک گئے۔چپ سائیں کی آمد کے بعد کچھ عرصہ تک خاموشی رہی۔۔۔پھر وہ گویا ہوئے کہ بھئی تم دونوں آج کس بات پر دست وگریبان تھے اور ایسی کیا بات ہوگئی کہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔۔۔نتھو بولا پھتو میری بات نہیں مان رہاتھا اور بحث برائے بحث کررہا تھا۔۔۔پھتو بولا میںتو بس یہ کہہ رہا ہوںکہ معاملہ گرم مزاجی سے نہیں بلکہ سرد مزاجی اور معاملہ فہمی سے سلجھانا چاہئے اسی بات کو لے کر ہماری بحث ہورہی ہے۔ ۔۔چپ سائیں جی اب آپ ہی بتائیں کہ کیا کیا جائے اور دونوں میں سے ٹھیک کون ہے۔؟ چپ سائیں توقف کے بعد بولے ۔۔۔دیکھو بھئی بات دراصل یوں ہے کہ ہر معاملہ نہ تو جلد بازی میں حل کیا جاتا ہے نہ ہی گرم مزاجی سے۔۔کبھی کبھی ٹھنڈے دماغ سے کسی کی بات سن کر حل نکالا جاتا ہے۔میرے نزدیک اس کومعاملہ فہمی کہتے ہیں۔۔۔چوپال میں موجود سب لوگ چپ سائیں کی حکمت ودانائی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔

سچ ہے زندگی میں بہت سے معاملات نہ تو مفاہمت سے حل ہوتے ہیں نہ ہی مزاحمت سے بلکہ معاملہ فہمی سے حل نکالنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست بھی اسی طرح کی ہے۔ سیاسی جماعتیںاپنے اپنے بیانئے کی وجہ سے ایک دوسرے پر تنقید کرتی رہتی ہیں اور معاملے کوحل کرنے کی بجائےتنقید برائے تنقید مشن بناہوا ہے۔

بات ہورہی ہے مفاہمت،مزاحمت اور معاملہ فہمی کی توہمارے ملک کی سیاست کی بساط پر مہرے اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور یہ باتیں ہورہی ہیںکہ2023 کے عام انتخابات میں کون سا بیانیہ اپنایا جائے، ن لیگ کی قیادت اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔  ن لیگ کی قیادت فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ مفاہمت کا بیانیہ لے کر بڑھنا ہے یا مزاحمت کا۔پارٹی میں دونوں بیانیوں کی مخالفت اور حمایت موجود ہے۔تاہمشہباز شریف کا بیانیہ جڑ پکڑ رہا ہے۔ان کو یقین ہے کہ نواز شریف بھی اس کے قائل ہو جائیں گے۔تاہم قابل ذکربات یہ ہےکہ مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے مزاحمت کے بیانیے سے ہٹ کر مفاہمت کا بیانیہ پیش کر کے سب کو ششدر کر دیا ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہ کہا کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف ہیں ، پیپلزپارٹی شہباز شریف کے بیانیے کو ہی مسلم لیگ ن کی پالیسی سمجھے گی ۔شہباز شریف  چاہتے ہیںکہ اگلے الیکشن میں مفاہمت یا معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے صرف اورصرف الیکشن پرتوجہ دی جائے لیکن ن لیگ کی سینئر قیادت چاہتی ہے کہ نواز شریف اس حوالے سے واضح فیصلہ لیں۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے نواز شریف کے بیانیہ کی وجہ سے ن لیگ ضمنی انتخابات جیتی، پارٹی میں کوئی گروپ ہے نہ شہباز شریف سے اختلاف ہے۔

تاہم ایک طبقہ فکر کا کہنا ہے کہ مفاہمت اور مصلحت سے راستہ نکلنا ہوتا تو اب تک نکل چکا ہوتا مگر ایسا نہیں ہوا۔امر واقع یہ ہے کہ مریم نواز نے پارٹی کی قیادت کو جس کڑے وقت میں سنبھالا ، ان کوجارحانہ حکمت عملی اپنانا پڑی اس وجہ سے ان کوشدید مشکلات بھی ہوئیںلیکن حکمت عملی حکومت کی مخالفت میں ناکام رہی۔یہ بات واضح ہے کہ ن لیگ کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں سے متعلق دباؤ کے سبب نہ صرف پی ڈی ایم ٹوٹ گئی بلکہ ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی دوریوں میں اضافہ ہوا۔ن لیگ کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ انتخابی سیاست پر توجہ دینا زیادہ سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔

 اگرچہ پارٹی کی مجموعی قیادت نواز شریف کے پاس ہی ہے لیکن کنٹرول شہباز شریف  ہی کررہے ہیں۔تاہم یہ بات حتمی ہے کہ شہباز شریف کی رہائی کے بعد حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی سے جماعت کو ٹوٹنے کا خطرہ نہیں ہے۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار سیاست میں دوبارہ متحرک ہوئے تویہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ ان کا اور شہباز شریف کا رابطہ ہوا ہے، یہ رابطہ اس لحاظ سے اہم ہےکہ چوہدری نثار کا موقف بھی ماضی میں وہی رہا ہے جو شہباز شریف کا ہے۔صاحبو مدعا یہ ہے کہ شہباز شریف کے آصف علی زرداری مفاہمت اور مصلحت سے آگے بڑھ رہے ہیںاور بلاول بھٹو کو چلار ہے ہیں۔ن لیگ کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لئے اسی قسم کی سیاست کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعت کوئی بھی ہو حالات کے مطابق سیاسی بساط پر ’’شہہ اور مات‘‘ کے لئےمعاملہ فہمی توکرنی پڑتی ہے۔




تعارف: محمد نوید اسلم سینئر صحافی ،بلاگر ہیں ،جنگ گروپ سمیت دیگر اخبارات سے منسلک رہے۔ مختلف موضوعات پر کالمز،بلاگز لکھتے  رہتے ہیں۔



نوٹ: یہ کالم نگار بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔




Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts