نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

بچوں اوربڑوں کے انکل

 


بچوں اور بڑوں میں  مقبول  انکل سرگم اس دنیا میں نہیں رہے۔جس دور میںتفریح کاذریعہ صرف اور صرف ٹی وی تھا۔بچے اور بڑے ’’کلیاں‘‘ میں انکل سرگم،ماسی مصیبتے اور ہیگا کا انتظار کیا کرتے تھے۔،اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ انکل سرگم کون ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کو علم ہوا انکل سرگم درحقیقت فاروق قیصر ہیں۔ فاروق قیصر حرکت قلب بند کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے

وہ 13 اکتوبر 1945 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے،انہوںنے 1976 میں انکل سرگم کے کردار سے شہرت پائی ۔

وہ این سی اے اور فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی میں تدریس سے بھی منسلک رہے۔

ان کی زندگی کے حوالے سے بات کریں تو انہوںنے پشاور سے میٹرک، کوئٹہ سے ایف اے اور لاہور کے این سی اے میں زیر تعلیم رہے، فائن آرٹس میں ماسٹر کی تعلیم حاصل کرنے رومانیہ چلے گئے اور پھر 1999 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ماس کمیونی کیشن میں بھی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

اپنے استاد شعیب ہاشمی کو مشعل راہ سمجھنے والے فاروق قیصر کو 1970 میں پہلی مرتبہ اکڑ بکڑ کے ذریعے ٹی وی پر متعارف کرایا گیا لیکن انہیں اصل شہرت 1976 میں ڈرامہ کلیاں میں اپنے کردار انکل سرگم سے ملی ۔انکل سرگم ایک پپٹ تھاجسے پاکستانی بچوں کے ٹی وی شو کلیاں میں پہلی مرتبہ متعارف کرایا گیا وہ اس میں اہم سماجی مسائل کو اجاگر کرتے تھے۔

فاروق قیصر کی فنی خدمات کے اعتراف میں 1993 میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ رواں سال یوم پاکستان پر صدر مملکت عارف نے بھی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے فاروق قیصر کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ سے تعزیت کی۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی معروف فنکار کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاانہوں نے پاکستان میں فن کے شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ہردلعزیز کردار انکل سرگم سے اہم سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔

اپنے ٹویٹ میں صدر مملکت نے کہا کہ فاروق قیصر کو تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز دینا ریاست کے لیے اعزاز کی بات تھی ۔ ان کے جانے سے پاکستان میں شعبہ فن کا اہم باب بند ہو گیا ہے۔


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts