سفاک تھے، چالاک تھے، مکار تھے دشمن
سفاک تھے، چالاک تھے، مکار تھے دشمن
اس پہ یہ میرا وہم کہ دو ، چار تھے دشمن
مقتل میں ان کو رو برو دیکھا تو رو پڑا
کوئی اور نہیں، صرف میرے یار تھے دشمن
پیوستگلو تیر کا اندازستم خیز
ٹوٹا یہ زعم صاحب کردار تھے دشمن
میں نے بھی کی تھی جہدِجراحت ہزار بار
ہر بار میری راہ کی دیوار تھے دشمن
ساغر سماعتوں کی بھی محرومیاں رہیں
اور اس پہ ستم یہ کہ خوش گفتار تھے دشمن







No comments:
Post a Comment