صبح ہونے دو
وہ جو حق بات سرِ دار نہیں کہہ پایا
اور ہو گا کوئی سرشار نہیں ہو سکتا
میں جو خود کو محبت کا پی ایچ ڈی سمجھتا تھا آج اس مضمون میں استاد اکرام الحق سرشار کا شاگرد ہونے کو ہوں۔ ابھی استاد کے شعری مجموعے ’’صبح ہونے دو ‘‘ نے دستک دی تو صبح ہو چکی تھی مگر یہ وہ صبح ہر گز نہ تھی جسکی تمنا کرتے کرتے استاد شام کی دہلیز سے آ لگا ہے۔ یہ تو اس لم یزل کی صبح تھی جو وہ اپنی مخلوق پر ہر رات کے پردے سے ابھارتا ہے کہ وہ نہایت شفیق اور مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ وہی رحیم اور وہی کریم کہ جسکا بھیجا ہوا اندھیرا بھی رحم ہے اور اور جسکی پھیلائی ہوئی روشنی بھی کرم ہے۔ استاد سرشار تو اس صبح کا تمنائی ہے جو صبح اللہ کے بندے ، اللہ کے بندوں پر اترنے نہیں دیتے !
سو استاد سرشار کی صبح ہونے کی یہ تمنا ہمیں آج صبح ہی صبح موصول ہوئی ، اور بہت بے صبری سے اسے کھولا گیا۔ انتساب کے صفحے پر دوطرفہ محبت کے ناموں میں ایک نام میرا بھی تھا ! محبت اور تعلق نبھانے کا یہ سلیقہ ! میرا دل خوشی سے لبریز ہوا اور آنکھ محبت سے نم ہوئی ! میں کہ کسی شمار میں نہیں اور یہاں استاد سرشار کے دل میں ہوں ! انکی کتاب کے صفحے پر ہوں ! محبت کے اظہار کا ایسا ذوق !
اپنے اساتذہ کی تحدیثِ نعمت کی خاطر ‘‘ ریاضت نیم شب کا مضمون باندھا اور تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس تذکرے میں میرے والد مرحوم ماسٹر اللہ بخش رح کا ذکر بھی کیا۔ یہ سعادت ، ریاضتِ نیم شب کے بنا کیسے ملتی !
استاد سرشار کا ایک شعر اوپر آپکے ذوقِ شاعری اور مردم شناسی کے لیے پیش کیا ہے۔ ایک سخن اور پیشِ خدمت ہے







No comments:
Post a Comment