بیٹا والد کے نقش قدم پرشہید
محمدنویداسلم
اپنے لہو سے جلائے ہیں چراغ زندگی ہم نے
وطن کی آبرو رکھی ہے ہم نے جان و دل دے کر
پاک فوج کا ایک جوان اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہید ہوگیا۔لیفٹیننٹ ناصر خالد وزیرستان میں ہونے والے دھماکے میں شہید ہوگئے۔
لیفٹیننٹ ناصر حسین کی والدہ کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر ماں کا دل دہل گیا ہوگا لیکن سلام ہے اس ماں پر جس نے اس ارض پاک پر پہلے اپنے شوہر کی قربانی دی اوراس کے بعد اپنا اکلوتا بیٹا اس پاک وطن پر قربان کردیا۔لیفٹیننٹ ناصر خالد کے والد بھی شہادت کے رتبے پر فائض ہیں۔وہ پولیس کے محکمے میں ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے کہ اس دوران شہید ہو گئے۔
یہ وطن یہ پاک وطن ایسے ہی حاصل نہیں ہوا، اس کے لئے بہنوں نے اپنے بھائ، سہاگنوں نے سہاگ اور مائوں نے اپنی گودیں اجاڑی ہیں۔کسی نے خیا خوب کہا ہے
یہ جو امن کی بستی ہے
اس کے پیچھے وردی ہے
لیفٹیننٹ ناصرحسین شہیدایک بہترین اورزبردست کیڈٹ تھے۔انہوں نے پی ایم اےمیں غیرمعمولی کارکردگی کامظاہرہ کیا، کارکردگی پرلیفٹیننٹ ناصرحسین کورائل ملٹری اکیڈمی ڈنٹرون آسٹریلیابھیجا گیا تھا۔پاکستان ہمیں بے شمار قربانیوں او رعظیم جدو جہد کے بعد حاصل ہوا۔ قیام پاکستان کی جدوجہد اوراستحکام و بقاء پاکستان کے پس منظر میں ہمارے اسلاف اور ہزاروں شہدا کی دی گئی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ آج پاکستان کو خطہ میں اس کی جغرافیائی اور دفاعی حیثیت کی وجہ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔
جو لوگ زندگی جیسی نعمت کو کسی عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتے ہیں،وہ حیات جاوداں پا لیتے ہیں۔ دین اسلام میں اللہ کی راہ میں اپنی زندگی قربان کر دینے والوں کو شہید کہا جاتا ہے یعنی وہ اپنی جان قربان کر کے دراصل اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ زندگی رب العزت ہی کی امانت تھی، لہٰذا اسی کو یہ امانت لوٹا رہے ہیں۔ پاکستان چونکہ قائم ہی دین اسلام کے نام پر ہوا ہے، اس لیے پاک سرزمین کی حفاظت پر مامور افواج پاکستان کے ہر شیر دل سپاہی کے دل میں یہ تمنا بے تاب رہتی ہے کہ کسی بھی طرح اسے مادرِ وطن پر جان قربان کر دینے کی سعادت نصیب ہو جائے۔ 1948ء میں کشمیر کے محاذ پر لڑی جانے والی جنگ، 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں نیز سیاچن اور کارگل کے معرکوں میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے جس بہادری سے اپنی جانیں وطن پر نثار کیں، عصر حاضر میں ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔
اس دھرتی کا تحفظ کرتے ہوئے ہمارے یہ بھائی بھری جوانی میں مٹی کی ردا اوڑھ کر سو گئے
مگر قرآن مجید کی سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جا رہا ہے۔‘‘
اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
وطن کے ان سپوتوں نے جام شہادت نوش کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ دھرتی ماں کی آن اور شان اور اس کی آزادی کے لئے ذات قبیلہ فرقہ کوئی معانی نہیں رکھتا وطن کے لئے صرف ایک ہی جذبہ کام آتا ہے اور وہ جذبہ وہ عزم وہ لگن وطن کا تحفظ اور حفاظت ہے۔
خونِ دل دے کے نکھاریں گےرُخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
ان مائوں کو سلام جو ایسے سپوتوں کو پروان چڑھاتی ہیں اور وقت آنے پر اپنا آخری سہارا وطن کی حفاظت کے لئے بطور نذرانہ پیش کر دیتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ شہید زندہ و جاوید ہوتے ہیں ۔
اپنے لہو سے جلائے ہیں چراغ زندگی ہم نے
وطن کی آبرو رکھی ہے ہم نے جان و دل دے کر











No comments:
Post a Comment