عبوری ضمانت خارج،شہباز شریف کمرہ عدالت سے گرفتار
لاہور (نوائے درویش )لاہور ہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی درخواست ضمانت خارج کردی ، نیب حکام نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس سرداراحمد نعیم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی درخواست ضمانت پرسماعت کی۔ شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے ، شہباز شریف کو ضمانت میں توسیع نہ ملی جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
قبل ازیں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویزنے دلائل میں کہا کہ ریکارڈ پر ہے نیب نے افسانوی کہانی بنائی، پتہ نہیں یہ کیس کیوں بنایاگیا، ریفرنس دائر ہوچکا،تحقیقات مکمل ہوچکی ہے، اب گرفتاری کی کیا وجوہات ہیں۔ شہباز شریف نے عدالت سے چند گزارشات کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا آپ سے چند منٹ چاہیے، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آپ کے وکیل نے بات نہیں کرنی توجو رہ جائےوہ آپ بتا دیجئے گا۔
وکیل شہباز شریف نے کہا کہ پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے وہ ثابت کرے پبلک آفس استعمال کرکے پیسہ بنایا، عدالت نے کہا آپ یہ تمام دلائل پہلے دےچکے ہیں تو امجد پرویز کا کہنا تھا کہ جو بات کر رہاہوں یہ کیس کےمیرٹ کی بات ہے، گرفتاری کے 6ماہ بعدبری ہوجاتےہیں توریاست کی ساکھ کیارہ جاتی ہے۔
امجد پرویز نے سوال کیا کہ عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہوگئے پھرگرفتاری کا کیا جواز ہے؟ شہبازشریف کا نام اسی کیس میں ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، لاہورہائی کورٹ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالناغیرقانونی قراردیا، قانون کے مطابق پراپرٹی بنانا کوئی جرم نہیں ہے۔
یاد رہے لاہور ہائی کورٹ میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی عبوری ضمانت کیس میں نیب نے ممکنہ جواب میں کہا تھا کہ شہبازشریف کےلندن میں 4ذاتی فلیٹس ہیں، تفتیش میں اس حوالے سے شہباز شریف نے نیب میں کوئی جواب نہیں دیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اپنی آمدنی کے 3 ذرائع ظاہر کیے، زرعی آمدن، کاروبار اورتنخواہ ذرائع آمدنی میں ظاہر کی گئی، ذرائعِ آمدنی سے شہباز شریف کے اثاثے زیادہ ہیں، زرعی آمدن سے 18کروڑ کی وصولی ظاہرکی گئی جبکہ پٹواری رپورٹ کے مطابق زرعی آمدن 3کروڑ سے زائد نہیں بنتی۔نیب کے مطابق شہباز شریف کاروبار کی آمدن بتانے میں ناکام رہے ہیں، کیا کاروبار کرتے ہیں نیب کو نہیں بتایا گیا، شہباز شریف کی اہلیہ کو 18کروڑ روپے بذریعہ ٹی ٹی موصول ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ کو خاندانی جائیداد وراثت میں نہیں ملی۔نیب ذرائع نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے پیسے سے ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک میں گھرخریدا گیا، اسی گھر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کادرجہ دیاگیا، ایچ بلاک والے گھر کے تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیےگئے۔ذرائع کے مطابق سلمان شہباز کے پاس صرف 40لاکھ روپے تھے، اب سلمان شہباز شریف کے اثاثے 4ارب سےزائدہیں، ان معاملات کی تفتیش نہیں ہوسکی کیونکہ ملزم بیرونِ ملک فرارہوگیا۔







No comments:
Post a Comment