اسلامی تہذیب وتمدن کامرکز۔۔۔۔بخارا
مرزا جنیداسلم بیگ
بخارا، ازبکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔بخارا جسے اسلامی تہذیب و تمدن میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ آج بھی یہاں کئی مساجد اور مدرسے قائم ہیں لیکن شہر کا سب سے بڑا تعارف امام بخاری ہیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ یہیں پیدا ہوئے اور پھر علم کے حصول کے لیے کئی مقامات کے دورے کئے۔یہ شہر چنگیز خان کی بربریت کا نشانہ بھی بنا جس کے بعد مختلف ادوار میں یہ چغتائی سلطنت، تیموری سلطنت اور خان بخارا کی حکومت میں شامل ہوا۔
یوں تو بخارا شہر اب کافی پھیل چکا ہے لیکن یہاں دیکھنے کے لائق تاریخی عمارتیں اور یادگاریں شہر کے مرکز ہی میں ہیں۔ بخارا شہر کا مرکزی مقام ’پوئی کلیان سکوائر‘ ہے، جو 3 اطراف سے عظیم الشان تاریخی ورثے سے گھرا ہوا ہے۔ خدائے برحق کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے پرشکوہ مسجد، علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے شاندار مدرسہ اور ان دونوں عمارتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے والوں کی عظمت بیان کرتا بلند و بالا مینار، یہ سب ہی کچھ بلاشبہ متاثر کن ہے۔یہاں موجود وسیع و عریض اور خوبصورت تاریخی مسجد کا نام کلیان مسجد ہے۔ اس مسجد کو 1514 میں تعمیر کیا گیا اور یہاں 12 ہزار سے زائد افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ یہ مسجد تیموری دور کے منفرد طرزِ تعمیر کی خوبصورت مثال ہے۔ مسجد کے دونوں اطراف 2 بڑے، نیلے رنگ کے دیدہ زیب گنبد موجود ہیں جبکہ مسجد کے اندرونی صحن کے اطراف میں 208 ستون اور 280 سے زائد چھوٹے گنبد موجود ہیں جو اس مسجد کو دیگر روایتی مساجد سے منفرد اور ممتاز بناتے ہیں۔
کلیان مسجد کے بالکل سامنے، میر عرب مدرسہ موجود ہے۔ مدرسہ کی تعمیر یہاں کے حکمران عبیداللہ خان کے حکم سے سن 1535 میں ہوئی۔پوئی کلیان سکوائر کی تیسری اہم یادگار، کلیان مینار ہے۔ تقریباً 9 صدی پرانا یہ بلند مینار شہر کی پہچان ہے۔
بخارا صدیوں سے تہذیبی اور ثقافتی مرکز تو رہا ہی ہے لیکن اس شہر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم پہلو، اس شہر کا تجارتی ورثہ بھی ہے۔ شاہراہِ ریشم کے اہم مقام پر موجود ہونے کے سبب، تجارتی قافلے یہاں آتے، منڈیاں سجتی اور خوب خرید و فروخت ہوتی۔ یہ روایت آج بھی چلی آرہی ہے۔بخارا کے قدیم بازار، اسی طرح آباد ہیں اور یہاں ہر وقت چہل پہل رہتی ہے۔
تاریخی طور پر بخارا ایک طویل عرصے تک مختلف فنون اور مہارتوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں کی تعمیراتی یادگاروں کے ساتھ ساتھ یہاں بسنے والے افراد کی محنت اور کاریگری بھی کسی سے کم نہیں۔ بخارا کے قدیم شہر میں موجود ’سلک کارپٹ فیکٹری‘ جانے کا بھی موقع ملا جہاں کے ہاتھ سے بنے قالین کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔ یہ فیکٹری ابھی تک دستکاری کے قدیم ورثہ کو سنبھالے ہوئے ہے۔بخارا میں کی جانے والی سنہری کڑھائی کی دھوم بھی دور دور تک ہے۔ اس اہم فن کے راز کو نسل در نسل نہایت جانفشانی کے ساتھ منتقل کیا گیا۔لیکن اب بھی ایک فن ایسا ہے جس کے لیے مرد ہی زیادہ موزوں ہیں۔ لوہے اور مختلف دھاتوں کو محنت اور مہارت سے مختلف شکلوں میں ڈھالنے اور پھر استعمال میں لانے کا ہنر۔ نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ ہنر بھی بخارا کے قدیمی شہر کا ورثہ ہے اور آج بھی یہاں ایسے کارخانے موجود ہیں جہاں ماہر کاریگر اس فن کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
بخارا میں رات کے ایسے راہی، مختلف علاقوں کی آوارہ گردی کے بعد ’لب حوض سکوائر‘ میں جمع ہوجاتے ہیں، جہاں کے نظارے اور پ ±رسکون ماحول تھکان اتارنے کے لیے کافی ہے۔ حوض کے اردگر کرسیاں اور میزیں پڑی ہیں جہاں بیٹھ کر رات گئے تک گپ شپ کی جاسکتی اور ساتھ ازبک چائے یا قہوہ کے دور بھی چلتے ہیں۔16ویں صدی سے آباد یہ چوک تاریخی طور پر مسافروں کی آرام گاہ رہا ہے۔ طویل مسافتوں سے آنے والے افراد، تالاب کے کنارے کچھ دیر سستا لیتے یا یہاں موجود سرائے میں رہائش اختیار کرتے۔ ’آرک فورٹرس‘ یا ’بخارا آرک‘ کے نام سے معروف یہ قلعہ بعض روایات کے مطابق پانچویں صدی میں تعمیر ہوا۔ بخارا کے اس قدیم اور وسیع و عریض قلعے کو کئی بار شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا۔ کتنی ہی بار یہ تباہ ہوا اور کتنی ہی بار اس کی دوبارہ تعمیر کی گئی۔ قلعے کے بالکل سامنے ’بولو حوض مسجد‘ ہے۔ یہ تاریخی مسجد 1712 میں، بخارا کے امیر کی جانب سے تعمیر کروائی گئی۔
مسجد کا طرزِ تعمیر اگرچہ سادہ ہے لیکن پھر بھی یہ خوبصورتی اور جاذبیت میں کسی اور مسجد سے کم نہیں۔ ایک لمبے عرصہ تک خواص اور عوام کے زیرِ استعمال رہنے والی یہ مسجد آج بھی عبادت کے لیے کھلی ہے۔ اسے 40 ستونوں والی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد کے عین سامنے ایک حوض ہے اور مسجد کے برآمدے میں لکڑی کے 20 ستون نصب ہیں۔ بخارا ہی نہیں بلکہ موجودہ ازبکستان کے ہر ہر شہر میں علم، تہذیب، ثقافت اور اسلامی جاہ و جلال کی نشانیاں موجود ہیں ۔








ma sha ALLAH , good piece of knowledge , keep it up
ReplyDeleteThank u brother
ReplyDelete