”اکیلے ناجانا“،”کوکورینا“،”جانے تمناخط ہے تمہارا“
احمد رشدی....جن کے بغیر فلمی گائیکی کی تاریخ مکمل نہیں
پاکستان کے پہلے پاپ سنگر منفرد گلوکار احمد رشدی کی37 ویں برسی آج منائی جارہی ہے
محمدنویداسلم
پاکستان کے پہلے پاپ سنگر منفرد گلوکار احمد رشدی کی برسی آج منائی جارہی ہے۔انہیں مداحوں سے بچھڑے 37برس بیت گئے لیکن ان کی آواز آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے۔احمد رشدی پاکستان کی فلمی تاریخ کا اتنا بڑا نام ہے کہ جس کے ذکر کے بغیر فلمی گائیکی کی تاریخ کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔60 کے عشرے میں ہر دوسری یا تیسری فلم میں ان کے گیت لازمی ہوتے تھے۔اس دور میں وہ نوجوان فلم بینوں کے سب سے مقبول ترین گلوکار تھے اور تقریبا ہر قسم کے گیت گانے میں ماہر تھے ، لیکن شوخ وچنچل، چھیڑ چھاڑ کرنیوالے کامیڈی اور پیروڈی گانے میں لاثانی تھے۔ احمد رشدی کو پاکستان کا پہلا پاپ گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔
”بندرروڈ سے کیماڑی، میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر“1955 میں پہلی بار یہ نغمہ ریڈیو پاکستان کراچی سے نشر ہوتے ہی زبان زد عام ہوگیا۔احمد رشدی24 اپریل، 1934 کوپیدا ہوئے۔ پاکستان کی فلمی صنعت کے ایک مایہ ناز اور ورسٹائل گلوکار تھے۔ بر صغیر پاک وہند میںرشدی کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
آواز کے اس جادوگر نے ریڈیو پر نغموں سے اپنے سفر کی ابتدا کی۔ نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انہوں نے اردو، گجراتی، بنگالی، بھوجپوری کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ احمدرشدی کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے، اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔ آج کے دور میں فلموں کے کئی مشہور گلوکار رشدی کو ہی اپنا استاد مانتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً 583 فلموں کے لیے 5000 گانے گائے۔
احمد رشدی کا تعلق سید گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید منظور احمد حیدرآباد دکن میں عربی اور فارسی کے استاد تھے۔ ان کا رشدی کے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔وہ بچپن سے ہی موسیقی کے شوقین تھے۔ انہوں نے پہلا گیت ہندوستان کی فلم ”عبرت“ (1951) کے لیے گایا۔پھر پاکستان آ کر 1954 میں ”بندر روڈ سے کیماڑی” گا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد انہوںنے کبھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا۔
اپنے پہلے مشہور زمانہ ریڈیو گیت ”بند روڈ سے کیماڑی، میری چلی ری گھوڑا گاڑی ، بابو ہوجانافٹ پر “ سے بے پناہ شہرت حاصل کی جو انھیں فلموں میں بھی لے آئی۔ فلم ”کارنامہ“ میں پہلی بار گایا لیکن فلم ”انوکھی“ پہلے ریلیز ہوگئی تھی جس میں ایک کامیڈی گیت ”ماری لیلی نے ایسی کٹار“ جو لہری پر فلمایا گیا تھا۔ احمد رشدی کو فلمی گلوکار بننے کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی جس کی ایک وجہ ابتدائی دور میں کراچی کی فلموں میں گانا تھا لیکن جب 1961ءمیں لاہور کی فلم ”سپیرن“ میں منظور اشرف کی دھن پر ”چاند سا مکھڑا گورا بدن “ ان کی ملک گیر پہچان بن گیا تو اگلے سال فلم ”مہتاب“ کا سدابہار شوخ وچنچل گیت ”گول گپے والا آیا ، گول گپے والا “ نے انھیں صف اول کا گلوکار بنادیا۔
آج بھی شادی بیاہ ہو یا کوئی اور خوشی کا تہوار’کوکورینا‘ لازمی گایا، بجایا جاتا ہے اور یہ گانا جسے پاکستان فلم انڈسٹری کا پہلا پاپ سانگ کہا جاتا ہے ساﺅتھ ایشیا کے پہلے پوپ سنگر احمد رشدی نے گایا تھا۔ احمد رشدی ہلکے پھلکے، ہپ ہوپ قسم کے گانے اتنے مزے لے لے کر گاتے تھے کہ دیکھنے اورسننے والے بھی جھوم جھوم اٹھتے تھے۔
1962میں ریلیز ہونے والی فلم ’مہتاب‘ کا گانا ’گول گپے والا، آیا گول گپے والا‘ آپ کو آج بھی کسی نہ کسی گلی سے گزرتے ہوئے گول گپے کے ٹھیلے پر گونجتا سنائی دے گا۔احمد رشدی کی آواز سب سے زیادہ جس ہیرو پر سوٹ کرتی تھی وہ تھے وحید مراد اور شاید یہی وجہ ہے کہ رشدی وحید مراد کے گانے زیادہ ڈوب کر گایا کرتے۔رشدی کے گائے 150گانے وحید مراد پر پکچرائز کئے گئے۔
احمد رشدی صرف پاپ یا ہلا گلا والے گانے ہی مہارت سے نہیں گاتے تھے۔ جب جب انہوں نے ٹریجڈی گانے گائے، سننے والوں کی آنکھوں میں نمی ضرور آئی۔ 1966میں فلم” ارمان“ کا گانا ”اکیلے نہ جانا، ہمیں چھوڑ کر تم، تمارے بنا ہم بھلا کیا جئیں گے“ ہو یا فلم دوراہا کا نغمہ ’بھولی ہوئی ہوں داستاں‘ رشدی کی آواز اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔فلم ’نصیب اپنا اپنا‘ کا گانا ’اے ابر کرم آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں‘ اچھی موسیقی سننے والوں کے لئے برسات کے موسم میں پہلی چوائس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ’کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے‘ میں رشدی کی آواز ایک نئے انگ میں سنائی دیتی ہے۔
5000 سے زیادہ نغمے گائے اور وہ سارے گیت آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔رشدی نے بہت خوبصورت تلفظ کے ساتھ نہ صرف اردو بلکہ بنگالی، اوڑیا، کناڈا، پنجابی، تامل، تیلگواو ر مراٹھی میں بھی اپنی آواز پیش کی۔ کئی مرتبہ انہوں نے بغیر پیسے لئے موسیقاروں کے لیے گیت گائے۔ احمد رشدی نے پس پردہ گلوکاری میں بہت نام کمایا۔ انہوں نے نامور گلوکاروں کے مقابل وقت کے معروف موسیقاروں کی دھنوں کو پوری فنی مہارت سے گایا۔ فلمی موسیقی کے زرخیز دور میں رشدی کو پسندیدہ ترین گلوکار کا درجہ حاصل رہا۔گلو کار احمد رشدی نے اپنے دور کے نامور موسیقاروں نثار بزمی ، ایم اشرف ، اے حمید ، کریم شہاب الدین ، ماسٹر عنائت حسین ، کمال احمد لال ، محمد اقبال ، روبن گوش ،خورشید احمد ، جے اے چشتی
اور دیگر کی موسیقی میں ان گنت گیت گائے۔
”روک اینڈ رول “کے بادشاہ اور آواز کے جادوگر احمدرشدی 11 اپریل 1983 کو کراچی میں 48 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے. آپ کو کراچی میں ہی دفن کیا گیا. ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو مرنے کے بعد بھی دنیا میں بہت زیادہ مقبول ہیں۔احمد رشدی کو مالا کے ساتھ فلموں میں 100 سے زائد دوگانے، گانے کا اعزاز بھی حاصل ہے جو پاکستانی فلمی تاریخ میں کسی اور جوڑی کے حصے میں نہیں آسکا۔ احمد رشدی کے طویل اور تابناک فلمی کیرئیر میں ایک کمزور پہلو پنجابی فلموں میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ احمد رشدی کو اداکاری کا بھی شوق تھا اور انھوں نے ایک درجن کے قریب فلموں میں ثانوی کرداروں میں بھی کام کیا مگر اس میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔پاکستانی فلمی گائیکی پرانمٹ نقوش چھوڑنے والے احمد رشدی اپنی آخری عمر میں خرابی صحت کی بنا پر گانا نہیں گاسکتے تھے لیکن گزر اوقات کے لیے میوزک کمپوز کرنے لگے اور گیارہ اپریل 1983کو کسمپرسی کی حالت میں انتقال کرگئے ، ا ن کا سحر آج بھی برقرار ہے۔








No comments:
Post a Comment