نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

”تو مینوں سیریس نئیں لے ریا“


”تو مینوں سیریس نئیں لے ریا“



”انکل کیوں“ عمر بھر لوگوں میں مسکراہٹیں بکھیرتے رہے



 وہ57برس کی عمر میں دنیائے فانی سے رخصت ہوئے،آج ان کی 9 ویں برسی منائی جارہی ہے 



[[مرتضی حسن المعروف مستانہ نے فنی سفر کاآغاز1973ءمےں کیا،پہلا ڈرامہ اوپن ایئرتھےٹر باغ جناح میں”ویزہ پاسپورٹ“ کے نام سے تھا، جملہ ”تو مینوں سیریس نئیں لے ریا“اتنے شاندار انداز میں ادا کیا کہ لوگوں کے دلوں کو بھا گیا

[[ان کے مشہور ڈراموں میں”شرطیہ مٹھے“، ”باجے والوں کی بارات“ ،”کڑیاں شرارتی“،”کوٹھا“،”چپ“ ، ”بابا ڈانگ“،”شاباش بیگم “اور دیگرشامل ہیں۔مستانہ ، ببو برال، سہیل احمد، امان اللہ کے ساتھ مل کر سٹےج کی کامیابی کی ضمانت بن گئے]]



محمد نوید اسلم



موت زندگی کی شام کانام ہے۔ موت اس عارضی زندگی سے اخروی زندگی مےں داخل ہونے کانام ہے۔ اکثرلوگ سمجھتے ہےںکہ موت آئی اورزندگی ختم ہوگئی ....ایسا کچھ نہیں۔ موت سے زندگی ختم نہں ہوتی بلکہ زندگی کودوام ملتا ہے۔ ایسی ہی کچھ یادیں ، کچھ باتیں راہ زندگی پر نقش چھوڑنے والی ان ہستیوں میں ایک نام کامیڈین مستانہ کاہے۔ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا مشکل ترین کام سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ صلاحیت بھی خداداد ہوتی ہے، کچھ لوگ اپنے فی البدیہہ جملوں،حرکات وسکنات سے سنجیدہ سے سنجیدہ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتے ہیں۔انہی ناموں مہں سے ایک نام مستانہ کاتھا، جن کانام اورکام رہتی دنیا تک رہے گا۔
مرتضی حسن جوپرستاروں میں مستانہ کے نام سے مقبول ہوئے،انہوںنے فنی سفر کاآغاز1973ءمےں کیا۔ ان کا تعلق پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے تھا۔ وہ شوبز میں قدم رکھنے سے قبل ملبوسات پرکڑھائی کاکام کرتے تھے ، ان کی حاضر جوابی اوردلچسپ گفتگو کی وجہ سے ان کے دوست احباب انہےں سٹےج ڈراموں سے وابستگی کا مشورہ دیتے۔ ان کاگوجرانوالہ مےں پہلاسٹیج ڈرامہ ”ہوئی نہ بات“تھا ،لاہور میں پہلا ڈرامہ اوپن اہئرتھیٹر باغ جناح میں”وہزہ پاسپورٹ“ کے نام سے تھا۔ان کے بارے میں  کہاجاتا ہے کہ وہ سٹیج اداکار فخری احمد کے شاگرد تھے۔مستانہ کواداکاری کابہت شوق تھا وہ شوبز کی دنیا مےںاپنے منفرد انداز سے نام کمانا چاہتے تھے۔انہوںنے آنکھوں میں کاجل لگا کرپنجابی لب ولہجہ سے شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے مستانہ نے لڑکپن میں ہی اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا اور چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک سٹیج اور ٹی وی پر اپنے فن کا جادو جگاتے رہے۔

انہوں نے پنجابی اور اردو دونوں زبانوں کے ڈراموں میں کام کیا۔وہ پنجابی ڈراموں میں اتنی عمدگی سے مکالمہ بولتے کہ ان پر نسلاً پنجابی ہونے کا گماں ہوتا اور جب اردو مکالمے کی باری آتی تو لگتا کہ اردو ان کی مادری زبان ہیں۔انہیں فی البدیہہ مکالمے کی ادائیگی کا استاد کہا جاتا تھا۔مستانہ نے ایک ڈرامے میں ایک جملہ ”تو مینوں سیریس نئیں لے ریا“اتنے شاندار انداز میں ادا کیا کہ لوگوں کے دلوں کو بھا گیا، بعد میں یہ جملہ انہوں نے بہت سے ڈراموں میں استعمال کیا۔ان کا سب سے مشہور ڈرامہ ”کوٹھا“تھا۔انہوںنے بحثیت مصنف کئی ڈرامے بھی لکھے۔ان میں”کوٹھا“ نامی ڈرامہ تاریخی حیثیت کاحامل تھا۔ عطاءالحق قاسمی کے لکھے ہوئے ایک ڈرامے”شب دیگ“ میں ان کا ”انکل کیوں“کا کردار بھی عوام میں بے حد مقبول ہوا جو کہ ہر معاشرتی برائی پرسوالیہ نشان اٹھاتا تھا۔ٹی وی ڈرامے میں ان کاایک جملہ ”آخر کیوں؟“نوے کی دہائی میں بہت مقبول ہوا۔ان کے مشہور ڈراموں میں”شرطیہ مٹھے“، ”باجے والوںکی بارات“،”کڑیاں شرارتی“،”کوٹھا“،”چپ“،”بابا ڈانگ“،”شاباش بیگم “،”نظام سقہ“ ، ”سواسےر“اور دیگرشامل ہیں۔

مستانہ ، ببو برال، سہےل احمد، امان اللہ کے ساتھ مل کر سٹےج کی کامےابی کی ضمانت بن گئے۔ وہ چھوٹے چھوٹے کردار کرتے سٹےج پر چھاگئے۔ انہوں نے ایسا کلچر متعارف کرایا جس کودےکھنے کے لئے گوجرانوالہ،فےصل آباد کے شائقےن بھی لاہور کارخ کرتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ےہ تھی کہ وہ اپنے کردارکے حوالے سے بہت زےادہ حساس تھے اوراس کے ساتھ انصاف کرتے تھے۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گیٹ اپ اورسٹائل کے ساتھ شائقین کوزےادہ سے زےادہ تفریح مہیا کریں۔ وہ دوسروں کوہنسانا ایک عبادت تصور کرتے تھے۔

مستانہ نے لگ بھگ38 برس کے دوران تقریبا دو ہزار تھیٹر ڈراموں میں کام کیا۔انہوں نے 5برس قبل تھیٹر ڈراموں میں کام کرنا چھوڑ کر گمنامی کی زندگی اختیار کرلی تھی۔ 

مستانہ نے شوبز کوخیر باد کہنے کے بعد باقاعدہ دارٹھی رکھ لی تھی اور ان کازیادہ تروقت بزرگان دہن کی درسگاہوں پرگزرتا تھا۔ مستانہ ہیپا ٹائیٹس کے وائرس سے متاثر ہوئے، جگر کا کینسر شدت اختیار کرگیا اور وہ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرواتے رہے۔ ان کے اکلوتے بیٹے سعد نے انہیں بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال میں داخل کرایا جو ان کی زندگی کا آخری ٹھکانہ ثابت ہوا۔

ان کوشوگر،سانس اور بلڈ پریشر کا مرض بھی تھا۔ وہ57برس کی عمر میں دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔ آج ان کی 9 ویںبرسی منائی جارہی ہے۔ان کے کام کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔



Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts