اداکار محمد علی سے ملاقات
بزم انجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد بوٹا انجم
میں ان دنوں ولایت حسین اسلامیہ کالج،ملتان میں تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا جب والد صاحب کی اچانک وفات کے باعث مجھے کالج کو خیر باد کہنا پڑا۔اب مسئلہ حصول تعلیم کا نہیں بلکہ اپنا اور اپنی والدہ کا پیٹ پالنے کا درپیش تھا۔اس لیے کہ اپنوں کی بے اعتنائی اور سرد مہری نے مجھ پر یہ حقیقت آشکار کر دی تھی کہ
سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی ج ±دا ہوتا ہے انساں سے
میں نے اپنے شہر میاں چنوں اور اس کے گرد و پیش میں کوئی ملازمت تلاش کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی کے باعث مجھے سفر وسیلہ ظفر کے تحت لاہور میں قسمت آزمائی کا سوچنا پڑا۔یہ مئی 1968 کی ایک سہ پہر تھی جب میں میاں چنوں سے بذریعہ ٹرین عازم سفر ہو کر لاہورکے سٹی ریلوے اسٹیشن پر ا ±ترا۔میری جیب میں ا ±س وقت بیس روپے تھے جن کے سہارے میں نے لاہور میں کم از کم بیس دن گزارنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔لاکھوں کی آبادی کے اس شہر میں میرا صرف ایک شخص جاننے والا تھا۔اور وہ تھا میرے گاو ¿ں کا یامین نامی بزرگ جو گلبرگ کی ایک کوٹھی میں بطور مالی کام کرتا تھا۔میں پیسے بچانے کے چکر میں ریلوے سٹیشن سے پیدل مارچ کرتا ہوا گلبرگ پہنچا اور یہ سفر اس لیے مشکل نہیں لگا کہ میرے ہاتھ میں صرف ہلکا پھلکا سا ایک بریف کیس تھا۔جس میں ایک پینٹ شرٹ،ایک شلوار قمیض اور شیونگ باکس تھا۔
یامین کو میں نے والد صاحب کی اچانک وفات اور اپنی حالت زار کے بارے میں بتایا تو ا ±س شریف آدمی نے اپنے مالک سے اجازت لے کر مجھے اپنے ساتھ سرونٹ کواٹر میں رہائش جیسی سہولت فراہم کر دی۔میں ہر صبح ا ±ٹھ کر اپنے میزبان کے ساتھ ک ±چھ دیر باغبانی میں اس کا ہاتھ بٹاتا اور پھر تلاش روزگار کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔
مین مارکیٹ گلبرگ کے ایک جنرل سٹور سے دو آنے کے ایک چھٹانک بھ ±نے ہوئے چنے خرید کر ناشتہ کر لیتا اور کارپوریشن کے کسی نلکے سے پانی پی کر اللہ کا ش ±کر ادا کرتا۔جدھر کو منہ ا ±ٹھتا پیدل چل پڑتا اور راستے میں پڑنے والے ہر دفتر، گھر، ریسٹورنٹ، کلینک، لیبارٹری، نرسری، جنرل سٹور،بیکری اور اکیڈمی وغیرہ میں جا کر اس کے مالک سے نوکری کے لیے سوال کرتا کہ محترم! کام کی کوئی قید نہیں۔صفائی کرانے کے لیے رکھ لو،گیٹ کیپر بنا لو،بیراگیری کروا لو یا ٹیچنگ کروالو الغرض میں کسی بھی قسم کی محنت کرنے کو تیار ہو جس کے عوض مجھے دو سو روپے ماہوار مل جائیں تو اللہ آپ کو جزائے خیر دے گا۔پورا ایک ہفتہ گزر گیا۔صرف ایک نرسری سے پودوں کی دیکھ بھال اور فروخت کے عوض ستر روپے ماہوار کی پیشکش ہوئی جو ناقابل قبول تھی کیونکہ اتنے کم پیسوں میں میری اور میری والدہ کی گزر اوقات نہیں ہو سکتی تھی۔اس پورے ہفتے میں روٹی اور سالن اپنے اوپر حرام کیے رکھا اور محض بھ ±نے ہوئے چنوں اور مکئی کے بھ ±ٹوں پر گزارا کیا۔اس لیے کہ پورے دن میں ایک روپے سے زیادہ خرچ کرنا فضول خرچی کے کھاتے میں ڈال رکھا تھا۔میرا میزبان روز شام کو مجھ سے پوچھتا کہ بیٹا! کہیں کوئی کام ملا؟اور نفی میں جواب دیتے ہوئے مجھے ہر روز یہ ڈر لگا رہتا کہ اگر ا ±س نے اپنے پاس دی ہوئی رہائش کی سہولت مجھ سے واپس لے لی تو میرا کیا بنے گا۔پانچ روز اور گ ±زر گئے اور جیب میں ک ±ل آٹھ روپے رہ گئے۔اس دوران میں نے ایک دن کھانے پینے کے معاملے میں عیاشی بھی کی کہ چنے یا بھٹے کھانے کی بجائے چار آنے کی سبزی کی پلیٹ اور چار آنے کی دو روٹیاں لے کر کھائیں تو سورة رحمان کے ان الفاظ پر یقین محکم ہو گیا کہ” تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو ¿ گے۔” اتنے دنوں بعد روٹی اور سالن من و سلوی سے بھی برتر لگے۔
لاہور میں تیرہواں دن تھا جب ایک اکیڈمی سے بطور ٹیچر ایک سو روپے ماہوار کی آفر ہوئی جسے قبول کرنے کے لیے میں نے یہ شرط رکھی کہ اس اکیڈمی کی عمارت کے کسی کونے کھدرے میں مجھے رہائش کی سہولت دے دی جائے کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ انکل یامین مجھے زیادہ دیر اپنے پاس نہیں رکھ پائے گا۔اکیڈمی کے مالک کے انکار پر ا ±س پیشکش کو بھی ٹھ ±کرانے کے سوا چارہ نہ تھا۔مسئلہ وہی تھا کہ اتنے میں گزارا نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ تمام دن میں نے پیدل مارچ کرتے گزارے تاہم کسی روز اگر بہت تھک جاتا تو دو آنے کا ٹکٹ لے کر اومنی بس میں سفر کر لیتا تھا۔ا ±س شام میں تھکا ہارا گلبرگ اپنے میزبان کے پاس پہنچا تو میری چارپائی کے نزدیک ایک بوسیدہ سا “مصور” نامی فلمی رسالہ پڑا تھا۔میں نے ا ±ٹھا کر ا ±س کی ورق گردانی شروع کی تو ایک جگہ اداکار محمد علی کی تصویر کے ساتھ اس کے حالات زندگی پر ایک آرٹیکل لکھا دیکھا۔پڑھنا شروع کیا تو ریڈیو سٹیشن حیدر آباد میں صداکاری سے لے کر پاکستانی فلموں میں اداکاری کی معراج تک کی داستان حیات میں ایک جگہ یہ فقرہ لکھا ملا۔” محمد علی ایک دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں جو حاجت مندوں کی مدد کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔” یہ فقرہ ایسا ذہن میں اٹکا کہ میں ا ±س رات یہ تہیہ کر کے سو گیا کہ اگلا دن محمد علی سے ملاقات کے لیے وقف کرنا ہے۔چنانچہ اگلے روز صبح اٹھا،وہ رسالہ ہاتھ میں تھاما اور پیدل مارچ کرتا ہوا میکلوڈ روڈ پر واقع “مصور”کے دفتر جا پہنچا۔وہاں ایک شخص کی منت سماجت کر کے محمد علی کے گھر کا ایڈریس لیا جو ان دنوں ماڈل ٹاو ¿ن کے جی بلاک کی کوٹھی نمبر4 میں بطور کرایہ دار قیام پذیر تھے۔میکلوڈ روڈ سے ریگل چوک تک پیدل مارچ کی اور وہاں سے ماڈل ٹاو ¿ن سوسائٹی کی بس میں سفر کرتے ہوئے دوپہر تک محمد علی کی قیام گاہ تک پہنچ گیا۔کوٹھی کے بڑے سے آہنی گیٹ پر دو تین پٹھان نما گیٹ کیپر خوش گپیوں میں مصروف تھے۔میں نے قریب جا کر سلام کیا تو انہوں نے اسے دخل در معقولات جانتے ہوئے بڑی خونخوار نظروں سے مجھے دیکھا۔میں نے محمد علی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ان میں سے ایک نے یہ کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی کہ” کبھی آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔آ گئے ہو اداکار بننے۔” میں نے دست بستہ عرض کی۔” انکل ! میری شکل جیسی بھی ہے اللہ نے بنائی ہے مگر میں اداکار بننے ہرگز نہیں آیا،آپ کی طرح غریب آدمی ہوں اور کسی چھوٹی موٹی ملازمت کے لیے آپ کے صاحب کی منت کرنے آیا ہوں۔” نہ جانے وہ محمد علی سے ملنے کے لیے آنے والے کیسے کیسے لوگوں سے تنگ تھے کہ ان میں سے ایک نے ا ±ٹھ کر مجھے دھکے دیتے ہوئے گیٹ سے دور بھگا دیا۔مگر میں کہیں جانے والا نہیں تھا۔تہیہ کر چکا تھا کہ محمد علی سے مل کر محسن نقوی کی ز ±بان میں یہ ضرور کہوں گا کہ
جب تک تری بخشش کا بھرم کھ ±ل نہیں جاتا
اے میرے سخی میں ترا سائل تو رہوں گا
اور محمد علی سے ملنے کے لیے خواہ مجھے ا ±س کی گاڑی کے آگے لیٹنا ہی کیوں نہ پڑے،جاو ¿ں گا ا ±س سے مل کر ہی۔چنانچہ میں دھکے کھا کر بددل نہیں ہوا اور گیٹ سے دو تین سو گز کے فاصلے پر کوٹھی کی جانب منہ کر کے بیٹھ گیا۔بیٹھے ہوئے کوئی گھنٹہ بھر ہوا ہوگا کہ ایک گورے چٹے سے خوش پوش نوجوان کو کوٹھی کے گیٹ سے باہر آتے دیکھا۔وہ میرے پاس سے گزرنے لگا تو میں نے راستہ روک کر سلام کیا۔اپنی داستان الم سناتے ہوئے اسے ہاتھ میں پکڑا ہوا وہ رسالہ دکھایا اور کہا کہ صاحب!اس میں لکھا ہے کہ محمد علی ایک دردمند دل رکھنے والا انسان ہے جو حاجت مندوں کی مدد کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتا۔کیا یہ سچ ہے ؟ اور اگر سچ ہے تو کیا محمد علی سے ملوانے میں آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔اس شریف آدمی نے اپنا نام زمان خاں بتاتے ہوئے فرمایا کہ وہ علی زیب کا منیجر ہے جو گھر اور آفس میں ان کے کچھ معاملات کا نگران ہے۔اس نے مزید بتایا کہ محمد علی اور زیبا بیگم ان دنوں کابل گئے ہوئے ہیں اور آج سے پانچ دن بعد واپس آئیں گے۔آپ چھٹے روز آ جائیے میں آپ کو محمد علی سے ملوا دوں گا۔الحمد للہ کچھ تو ا ±مید بندھی۔میں زمان خاں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے گلبرگ پہنچا اور اپنے میزبان یامین کو خوشخبری سنائی کہ میں ملازمت کے سلسلے میں پانچ روز بعد اداکار محمد علی سے ملنے والا ہوں۔
اگلے پانچ روز میں حسب معمول گھر سے ضرور نکلتا رہا مگر شہر میں محض آوارہ گردی کے لیے،کیونکہ اب میری نظریں محمد علی سے ملاقات پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں۔چھٹے روز میں علی الصبح پینٹ شرٹ کے دو جوڑوں میں سے بہتر والا جوڑا پہن کر نکلا کہ ملک کی ایک اہم ترین شخصیت سے ملاقات کا امکان تھا۔یہ لاہور میں میرا بیسواں دن تھا اور جیب میں آخری ایک روپیہ باقی تھا۔نو بجے سے قبل میں محمد علی کی قیام گاہ کے باہر کھڑا تھا مگر گیٹ اور گیٹ کیپروں سے قدرے فاصلے پر۔دس بجے کے قریب زمان خاں کوٹھی سے برآمد ہوتا ہوا دکھائی دیا تو امیدوں کے چراغ روشن ہونے لگے۔میں نے سلام کر کے اس کا وعدہ یاد دلایا تو اس نے خوشدلی سے بتایا کہ علی زیب رات کابل سے واپس آ گئے ہیں اور وہ ا ±سوقت ان کے ناشتے کا بندوبست کرنے جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی اس نے کہا کہ وہ مجھے محمد علی سے ملوا ضرور دے گا مگر یہ مت سمجھنا کہ ملاقات ڈرائنگ روم میں ہو گی۔مجھے کوٹھی کے کار پورچ میں بیٹھ کر محمد علی کا انتظار کرنا ہو گا۔اور جب وہ سٹوڈیو روانگی کے لیے کار میں سوار ہونے کے لیے آئیں تو آپ انہیں سلام کر کے اپنا مدعا بیان کر سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس نے گیٹ کیپرز کو اشارہ کیا کہ وہ مجھے کوٹھی کے اندر جانے دیں۔صد شکر کہ آج میں بڑے آرام سے ان کے پاس سے گزر کر گیراج میں جا بیٹھا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے محمد علی کے پاس ا ±ن دنوں شیورلے امپالا گاڑی تھی جس کی نمبر پلیٹ پر درج انگریزی حروف تو مجھے یاد نہیں رہے مگر اس کا نمبر 1000 تھا۔محمد علی سے ملاقات کے امکان سے میں یقینا نروس تھا تاہم وہاں بیٹھے بیٹھے میں نے اردو کے ساتھ ساتھ دو چار انگریزی کے فقرے بھی ذہن میں موزوں کیے تاکہ محمد علی کو یقین دلا سکوں کہ میں ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہوں۔
تھوڑی دیر بعد کوٹھی کا مین گیٹ کھلا اور ایک بڑی سی گاڑی محمد علی کی کار کے پیچھے آ کر رکی۔اس میں سے ایک صاحب نے ا ±تر کر گھر کے اندرونی دروازے پر لگی گھنٹی بجائی تو اندر سے محمد علی نے دروازہ کھولا۔وہ ا ±س وقت تولیہ نما کپڑے کی بنی ہوئی ٹی شرٹ اور پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔چونکہ میرا اور ان کا درمیانی فاصلہ چند فٹ سے زیادہ نہیں تھا اس لیے میں ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بخوبی سن سکتا تھا۔ آنے والے صاحب کوئی فلم ڈائریکٹر تھے جنہوں نے ہیلو ہائے کے بعد محمد علی سے کہا کہ فلم کا سیٹ(Set)تیار ہے اور بس آپ کا انتظار ہے۔جس پر محمد علی نے کہا کہ وہ سٹوڈیو پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں کریں گے۔
ڈائریکٹر صاحب کے جانے کے قریبا ایک گھنٹہ بعد محمد علی اپنی کار کی جانب بڑھتے دکھائی دیے تو دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھنا مشکل ہو گیا تاہم ہمت کر کے میں نے ہاتھ ماتھے تک لے جاتے ہوئے ا ±نہیں سلام کیا تو انہوں نے گاڑی کے قریب رکتے ہوئے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔میں نے اردو اور انگریزی کے ملے جلے فقروں میں جو ک ±چھ ا ±ن سے کہا اس کا لب لباب یہ تھا کہ میں ایک ذہین طالب علم ہونے کے باوجود اپنے والد کی اچانک وفات کے سبب کالج چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔تعلق دور پار کے ایک گاو ¿ں سے ہے اور اپنی والدہ کا واحد سہارا ہوں۔میں گزشتہ بیس روز سے اس اجنبی شہر میں مارا مارا پھر رہا ہوں۔کہیں سے کسی معقول ملازمت کی پیشکش نہیں ہوئی۔مجھے صرف دو سو روپے ماہوار کی ملازمت چاہیے۔جس کے لیے میں کسی بھی فیکٹری،دفتر یا گھر میں کوئی بھی کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔اس کے ساتھ ہی میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا رسالہ”مصور” ا ±سے دکھاتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ محمد علی ایک دردمند دل رکھنے والا انسان ہے جو حاجت مندوں کی مدد کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتا۔یہ سب ک ±چھ ا ±س عظیم انسان نے انتہائی اطمینان سے س ±نا اور پھر فلموں میں س ±نی ہوئی ا ±ن کی پائیدار آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔” اچھا تو آپ کو کام کی تلاش ہے؟ ایسا کیجیے کہ آپ مجھے آج دو بجے کے بعد ایورنیو سٹوڈیو میں مل لیں۔’
’یہ کہہ کر ابھی وہ گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ اچانک خیال آیا کی سٹوڈیو میں مجھے گ ±ھسنے کون دے گا۔اس پر میں نے ا ±ن سے گ ±زارش کی کہ سر! میں سٹوڈیو میں داخل کیسے ہوں گا؟ اس پر محمد علی نے کار کے ڈیش بورڈ سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر ا ±س پر بال پوائنٹ سے مختصر سے دستخط کیے اور وہ مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ یہ دکھاو ¿ گے تو آپ کو سٹوڈیو کے اندر داخل ہونے سے کوئی نہیں روکے گا۔یہ کہہ کر وہ گھر سے روانہ ہو گئے تو میں نے بھی پوچھتے پچھاتے ماڈل ٹاو ¿ن سے ملتان روڈ کا رخ کر لیا۔ٹھوکر نیاز بیگ تک پیدل مارچ کی اور وہاں سے بذریعہ اومنی بس پونے دو بجے ایورنیو سٹوڈیو پہنچ گیا۔میں نے سوچا کہ اگر محمد علی کی دستخط شدہ چٹ میرے پاس نہ ہوتی تو کیا میں سٹوڈیو میں داخل ہو پاتا۔چنانچہ بغیر چٹ دکھائے میں ملتان روڈ پر واقع پہلے گیٹ سے تو اندر داخل ہو گیا مگر اصل سٹوڈیو کی چار دیواری کے قریب پڑنے والے گیٹ پر روک لیا گیا۔میں نے لاکھ کہا کہ بھائی میں محمد علی سے آج صبح ان کے گھر پر ملا ہوں اور انہوں نے دو بجے مجھے سٹوڈیو میں ملنے کے لیے بلایا ہے مگر گیٹ کیپر کا کہنا تھا کہ محمد علی تو سٹوڈیو میں آیا ہی نہیں ہے۔باالآخر مجھے اس چٹ کا سہارا لینا پڑا۔جس پر اس نے مجھے کھا جانےوالی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔” خانہ خراب کا بچہ!یہ پہلے کیوں نہیں دکھایا؟” اس کے ساتھ ہی وہ سٹوڈیو کے دروازے کی جانب منہ کر کے باآواز بلند پکارا۔” علی زیب پروڈکشنز!”اس پر سٹوڈیو سے ایک نوجوان برآمد ہوا جو مجھے اندر لے گیا۔گیٹ کی بائیں جانب پہلے ہی آفس پر”علی زیب پروڈکشنز” کا بورڈ لگا تھا۔میں وہاں تک پہنچا ہی تھا کہ اندر سے محمد علی برآمد ہوئے جنہوں نے مچھیرے کا روپ دھار رکھا تھا۔اور وہ سیٹ(set) پر جانے والے تھے۔مجھے دیکھ کر کہا۔”برخوردار!ادھر انتظار کرو،میں سیٹ سے واپس آ کر آپ سے بات کرتا ہوں۔” مجھے اندر لانے والا نوجوان علی زیب پروڈکشنز کا ملازم تھا۔جس کا نام شاید انور تھا۔اس نے آفس کے دروازے پر کرسی ڈال رکھی تھی۔محمد علی کے سیٹ پر جانے کے بعد اس نے برآمدے میں پڑا ہوا ایک سٹول اپنی کرسی کے قریب کھینچ کر مجھے اس پر بٹھا لیا۔تھوڑی دیر میں ہم نے اداکار علاو ¿الدین کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا۔وہ ہمارے قریب آ کر رک گئے تو ہم دونوں احتراما کھڑے ہو گئے۔انہوں نے انور سے پوچھا کہ کیا محمد علی دفتر میں ہیں؟ انور نے بتایا کہ وہ آج آفس ضرور آئے ہیں مگر اس وقت سیٹ پر ہیں۔علاو ¿الدین نے یہ سن کر علی زیب پروڈکشنز کے دفتر کا دروازہ کھولا اور اندر جا کر بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد معروف ہدایتکار ریاض شاہد(اداکار شان کے والد) اور حسن طارق آگئے۔انہوں نے بھی انور سے وہی سوال کیا جو علاو ¿الدین نے کیا تھا اور انور سے ویسا ہی جواب س ±ن کر وہ بھی دفتر میں داخل ہو گئے۔اتنے میں محمد علی کی بیگم اداکارہ زیبا بھی ہاتھ میں ٹفن تھامے پہنچ گئیں۔یوں لگتا تھا کہ محمد علی اور زیبا بیگم کی چند روزہ غیر ±حاضری کے باعث ان کے بہت سے ساتھی انہیں مس کر رہے تھے۔کیونکہ اگلے آدھ پون گھنٹے میں اداکار قوی خان،رنگیلا،یوسف خاں ،اداکارہ شبنم اور ا ±س کے شوہر موسیقار روبن گھوش بھی علی زیب کے آفس کی رونق کا حصہ بن چکے تھے۔چار بجے کے قریب محمد علی سیٹ سے واپس آ کر اپنے دفتر کی چہل پہل میں شامل ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد انور کو اندر بلا کر حاضرین کے لیے چائے لانے کو کہا گیا۔اس وقت علی زیب کے آفس میں چائے بنانے کا بندوبست ناپید تھا اور چائے سٹوڈیو کے گیٹ کے سامنے واقع ٹی سٹال سے بنوا کر لانی تھی۔انور چائے لینے چلا تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا۔چائے تیار ہو گئی تو میں نے دس بارہ خالی کپ پکڑ لیے جبکہ انور اور ٹی سٹال کے ملازم نے چائے سے بھری دو تین چینکیں ا ±ٹھا لیں۔اور یوں چائے علی زیب کے آفس میں پہنچ گئی۔جب انور اور میں مہمانوں کو چائے پیش کر رہے تھے تب محمد علی نے حاضرین کو مخاطب کیا اور میری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان آج صبح مجھے میرے گھر پر ملا تھا۔کالج میں بی اے کا طالب علم تھا کہ والد کی اچانک وفات کے باعث تعلیم کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو گیا ہے۔اپنی والدہ کا واحد سہارا ہے اور روزگار کی تلاش میں ہے۔کیا آپ میں سے کوئی اس ضرورتمند کی مدد کر سکتا ہے؟ یہ سن کر علاو ¿الدین نے جیب سے بٹوہ نکالا اور ا ±س میں سے ایک سو روپے والا نوٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔اس کی دیکھا دیکھی ریاض شاہد،حسن طارق اور حاضرین میں سے دو ایک اور صاحبان نے بھی اپنی جیبوں سے کچھ نوٹ نکال کر علاو ¿الدین کے حوالے کر دیے۔اس نے وہ پانچ چھ سو روپے میری جانب بڑھاتے ہوئے کہا کہ علی بھائی کے کہنے پر ہم آپ کی یہ مدد کر سکتے ہیں۔میں نے اپنا ہاتھ علاو ¿الدین کے بڑھے ہوئے ہاتھ کی جانب نہیں بڑھایا اور اسے کہا کہ محترم! میں ایسی مدد کا طلبگار ہرگز نہیں ہوں، مجھے روزگار کی صورت میں مستقل مدد کی ضرورت ہے۔اس پر یوسف خاں نے کہا کہ فی الحال آپ یہ مدد تو قبول کریں،کسی وقت جاب بھی مل جائے گی مگر میں نے وہ پیسے لینے سے سختی سے انکار کر دیا۔اس پر ریاض شاہد نے محمد علی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نئی فلم پروڈیوس کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں،اس کا حساب کتاب رکھنے کےلئے اس نوجوان کی خدمات کیوں نہیں لے لیتے۔واضح ہو کہ علی زیب پروڈکشنز کے بینر تلے محمد علی”آگ” نام کی ایک فلم پہلے بنا چکے تھے جو باکس آفس پر خاصی کامیاب رہی تھی اور اب وہ “ جیسے جانتے نہیں” کے نام سے دوسری فلم بنانے جا رہے تھے۔ریاض شاہد کی بات سن کر محمد علی کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر مجھے مخاطب کر کے کہا۔” ینگ مین! تجھے گھر سے نکلے بہت دن ہو گئے،جاو ¿ اپنی ماں سے ملو،اس کی دعائیں لو اور ایک ہفتہ بعد واپس آ جاو ¿۔سمجھو تمہیں ملازمت مل گئی ہے۔” یہ سن کر خوشی اور تشکر کے ملے جلے جذبات کے تحت میری پلکیں بھیگنے لگیں تو میں نے سلیوٹ کے انداز میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ دفتر سے نکل گیا۔یہ زندگی میں میری خودداری اور عزت نفس کی انتہاتھی کہ میں نے اس وقت سینکڑوں روپے کی امداد قبول کرنے سے انکار کر دیا جب ایک اجنبی شہر میں میری جیب میں ایک روپے سے بھی کم ریزگاری تھی اور شاید خودداری کا یہ مظاہرہ ہی محمد علی کو متاثر کر گیا جو ا ±س نے مجھے ملازمت دینے کا وعدہ کر لیا۔
نوٹ: یہ بلاگر، کالم نگار کی ذاتی رائے ہے اس سے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیںہے۔







No comments:
Post a Comment