نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

باپ ہوں نہ ۔۔۔۔۔

باپ ہوں نہ ۔۔۔۔۔


سوشل میڈیا سے انتخاب


گھر جانے کے لئے گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ نظر ایک بزرگ پر پڑی جو ایک کاغذ ہاتھ میں لیے علی حسنین کا پتہ پوچھ رہے تھے. مجھ پر نظر پڑتے ہی ہاتھ سے روکنے کا اشارہ کیا اور پاس آئے۔کپڑوں کی خستہ حالی اور چہرے پر جھریاں بہت کچھ بتا رہی تھی۔بولے بیٹا یہ میرے پتر کا نام ہے۔سنا ہے وہ اسی اسلام آباد شہر میں اپنے بچوں کے ہمراہ کچھ سال پہلے آیا تھاپھر کاغذ میں لپٹی کوئی چیز نکالی ، یہ کسی کی تصویر تھی۔مگر تصویر میں نظر آنے والا شخص بہت کم عمر نظر آ رہا تھا۔ میں نے پوچھا بابا جی یہ ہیں آپکے بیٹے ؟مگر یہ تو بہت کم عمر نظر آ رہے ہیں۔ بولے پتر یہ تو آرمی میں ٹیسٹ دینے کے لیئے اس نے تصویر بنائی تھی۔ اب تو سنا ہے وہ کرنل بن چکا ہے۔تو بابا جی آپ سے کوئی رابطہ نہیں اور کب سے ؟ لرزتے ہونٹوں سے بولے بیٹا تاریخ یاد نہیں مگر بہت سال پہلے اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی تب اسکی نوکری نہیں تھی۔ آرمی میں ٹیسٹ دیا پھر بیوی کو لے کر شہر آگیا تھا۔
پہلے تو ماں زندہ تھی اب وہ بھی نہیں رہی میں بھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔بڑی مشکل سے پتہ لگا کہ وہ اس شہر میں رہتا ہے۔میں بڑی مشکل سے یہاں آیا ہوں. زندگی کا کیا بھروسہ بس ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں۔
مگر بابا جی آپ کب سے اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہے ہیں؟
بولے کئی دن ہو گئے پتربس چلتا رہتا ہوں اور پوچھتا رہتا ہوں لوگوں سے.جہاں رات پڑے سڑک کنارے ہی سو جاتا ہوں۔
اتنے میں ایک سرد ہوا کا جھونکا میرے جسم کو ٹھٹھرا گیا۔ بابا جی آپکے پاس کوئی ایڈریس نہیں ایسے کیسے آپکو ؟ابھی لفظ منہ میں ہی تھے بولے تو خیر ہے پتر اپنے بیٹے کے شہر میں موت آئی تو اس سے آگے کیا ہے؟
باپ ہوں نا زندگی میں دیکھنا چاہتا ہوںحشر میں تو پتر سنا ہے اپنی اپنی پڑی ہوگی...
میں نے تو حشر نہیں دیکھی بابا جی مگر حشر دیکھ رہا ہوں۔ آنسو میرا چہرہ بھگو رہے تھے۔کہیں اس باپ کی محبت کی قیمت اس شہر کے بیٹوں کو نہ دینی پڑ جائے... ایک دو فون گھمائے اور کرنل علی حسنین کا پتہ چل گیا۔ بابا جی کو اس بدبخت بیٹے کے گھر تک لے کر گیا، بیل بجائی تو بٹ مین باہر آیا، بابا جی نے بتایا کہ وہ کرنل صاحب کے والد ہیں اندر آنا چاہتے ہیں، ملازم نے چونک کر کہا کہ کرنل صاحب تو کہتے ہیں انکے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، اس پر میں نے زور دیا کہ آپ اندر جا کر بتائیں تو کہ باہر کون آیا ہے۔ ملازم سے بحث زور پکڑنے لگی تو بابا جی نے مداخلت کی، بڑے نرم لہجے میں بولے“سویرے کم تے جان لئی تے ایتھوں ای لنگے گا نا ؟میں نے بابا جی سے کہا یہ کیا بات ہوئی آپ مل تو لیں۔ بابا جی مڑے، چلتے ہوئے گیٹ کے سامنے سڑک پار درخت کے نیچے جا بیٹھے اور بولے، بس یہی سے دیکھ لیا کروں گا، اکھاں نوں ڈھنڈ ای چائیدی اے نا۔
بس ایک ہی فقرہ بار بارر ذہن میں گونج رہا ہے باپ ہوں نہ دنیا میں ملنا چاہتا ہوں حشر میں تو پتر اپنی اپنی پڑی ہو گی۔
خدارا قدر کریں اپنے والدین کی۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts