روٹھ گئی پھولوں سے خوشبو
سعید واثق
شہنشاہ ظرافت امان اللہ کے کے لئے سعید واثق کا منظوم خراج عقیدت
کس کو علم تھا؟
داتا کے دربار کے باہر
لچھے ٹافیاں بیچنے والا
اک دن وہ فنکار بنے گا
جس کی باتیں،جس کے جملے
خوشیوں کی پھوہار بنیں گے
جس کی باتیں سب ہونٹوں پہ
اک ایسی مسکان بنیں گی
جن کا جادو ختم نہ ہو گا
جس کا نام علامت ہوگا
پیار ،محبت اورچاہت کا
داتا کے دربار کے باہر
لچھے ٹافیاں بیچنے والا
طنزو مزاح کی اک دنیا میں
ایک شہنشاہ بن جائے گا
فن کی اوج پہ پہنچے گا اور
طنزو مزاح کی اس دنیا میں
کوئی نہ ہو گااس کے جیسا
جب اسٹیج پہ وہ آ ئے گا
اپنے فن سے چھا جائے گا
روتے دھوتے ،غمگیں چہرے
بس اس کی آواز آ تے ہی
پھول کے جیسے کھل جائیں گے
داتا کے دربار کے باہر
لچھے ٹافیاں بیچنے والے
تو روٹھا توطنزو مزاح کی اس دنیا میں
سناٹوں کا راج ہے ہر سو
روٹھ گئی پھولوں سے خوشبو







No comments:
Post a Comment