جانگلوس کا سفر
نقطہ نظر....عثمان امجد
کافی طویل تھا جانگلوس کا سفر ، دو ہزارصفحوں کا ! طویل تواسے ہونا ہی تھا کہ یہ کئی زندگیوں کاسفر تھا ، کئی تہذیبوں کا سفر تھا اور تقریباً آدھے پاکستان کا سفر تھا ! طویل تو تھا مگر تیز رفتار بھی تھا۔ مگر یہ تیز رفتاری میرے سامنے ایک سوال رکھ گئی ، بہت تیز دھار سوال جو منیر نیازی کے سامنے بھی آیا تھا
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
غریب انسان کے جو مسائل اور وڈیروں کی زور آوریاں جس تفصیل کے ساتھ شوکت صدیقی نے اس وقت لکھیں جبکہ پاکستان ابھی نو زائیدہ تھا ، کم و بیش وہی حالات آج بھی درپیش ہیں !
کوئی صورت ہو کہ مشکل میری آساں ہو جائے ، مگر کوئی صورت آج تک نہیں نکلی 72 سال ہونے کو آئے،
جانگلوس کی عمومی بات جب بھی ہوتی وہ اسکے پولینیسین کلب کی وجہ سے ہوتی جس میں افسر اپنی بیویاں بدلتے۔ حالانکہ یہ ذکر 2000صفحوں کے ناول میں محض 50صفحوں پر مشتمل ہے۔ یہ تو کوئی نفسیات دان ہی بتا سکتا ہے کہ اس ناول کی وجہ شہرت پولینیسین کلب ہی کیوں بنی ؟ جبکہ یہ ناول تاریخ پاکستان کا ایسا المیہ ہے جسکی سسکیاں آج بھی سناءدیتی ہیں ! مگر سماعتوں کے تمام با اختیار در آج بھی بند ہیں !!
شوکت صدیقی کا جانگلوس انگریزوں کے ساتھ جنگ اور انگریزوں کے ساتھ مفاہمت کے نتائج کو بیان کرتا ہے اور آج کے وڈیروں کی جاگیروں کے نیچے آزادی کے مجاہدوں کی لاشیں دکھاتا ہے۔ وہ ان مفلوک الحال خاندانوں کا ذکر کرتا ہے جو کبھی زمیندار تھے مگر انگریز سے بغاوت کے جرم میں انکی جاگیریں چھین لی کئیں اور آج انکی اولادوں کو یہ بھی علم نہیں کہ جن وڈیروں کو وہ ووٹ دیتے ہیں انکی اکثریت انکے دادوں پردادوں کی قاتل ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ حریت پسندوں کی اولاد ہیں کہ انکے آبا انگریزوں کے سامنے بے ساماں بھی سینہ سپر رہے ہیں !!
اس ناول نے چار موضوعات پر میرے علم میں اضافہ کیا ہے
جاگیرداروں کی اصلیت ، یعنی انہیں جاگیریں کیسے ملیں
تقسیمِ ہند کے وقت دو طرفہ بربریت ( ظلم وستم یا قتل و غارت جیسے الفاظ صحیح تصویر کشی نہیں کرتے)
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جعلی کلیم کے ذریعے لوگ کس طرح کارخانوں ، کوٹھیوں اور زمینوں کے مالک بنے۔
وڈیروں اور جاگیرداروں کا طرز حیات (خوفناک )
مگر یہ مت جانیے کہ جانگلوس کوئی مضمون ہے یا تاریخ کی کوئی کتاب ہے۔ یہی شوکت صدیقی کا کمال ہے کہ اس نے اپنے دو کرداروں ،رحیم داد اور لالی کے ذریعے ایسی کہانی بنی ہے کہ چند مقامات کے علاوہ ، وہ قاری کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔میں ایک قاری ہوں اور وہ بھی کافی کم علم۔اس لیے میں کوئی ناقدانہ را ئےنہیں دے سکتا۔ کیوں کہ مجھے قطعاّ علم نہیں ہے کہ ناول نگاری پر” قبل از فلاں” یا “بعد از فلاں کے کیا اثرات ہیں” اور نہ ہی مجھے کئی طرح کی “تحریکوں “وغیرہ کے بارے میں علم ہے۔ میری را? تو خالصتاً تاثراتی ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ کہانی پر شوکت صدیقی کا قابو کہیں بھی کمزور دکھائی نہیں دیتا۔کردار نگاری پر انہیں عبور حاصل ہے۔ اور وہ اپنے کرداروں کی نفسیات سے خوب واقف ہیں اور پڑھنے والے تک اسے خوبی سے پہنچاتے ہیں۔انکی کہانی یا کردار جہاں بھی جاتے ہیں وہاں کے موسم ، فصلیں اور رسم ورواج کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں۔ مگر یہ معلومات یا مباحث کسی تقریر کی صورت اختیار نہیں کرتے ( عموماً ) بلکہ کہانی میں گندھے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری ایسے مواقع پر کئی صفحے بنا قرات کے آگے نہیں جاتا۔ ( یہ لکھتے ہوئے جانے کیوں مجھے بار بار “ حاصل گھاٹ “ یاد آتا رہا جو نہ جانے ادب کی قسم میں ناول کیوں گردانا گیا )
ناول کا پلاٹ بہت سادہ ہے اور کہانی ایک تسلسل کے ساتھ چلتی ہے۔ یہ ناول “ اتفاقات “کے ذریعے آگے بڑھتا ہے جو کہ بعض مقامات پر غیر حقیقی بھی لگے ہیں۔
جب شوکت صدیقی نے یہ ناول لکھا تھا تو ممکن ہے کہ اس وقت تک “ فلیش بیک “ یا “ فلیش فارورڈ “ کی تکنیکس چالو نہیں ہوءتھیں۔ اور شائد یہ بھی نہیں کہ ایک کہانی میں بیک وقت تین یا چار کہانیاں متوازی چلتی ہیں اور کوئی ایک نقطہءاتصال بنتا ہے ( خس و خاشاک زمانے )
اگر یہ ناول ( تین جلدوں میں ، رکتاب نے چھاپا ہے ) آپنے نہیں پڑھا تو ضرور پڑھیے ، آپ کو اچھا لگے گا !!








No comments:
Post a Comment