پیار کے دیپ جلانے والے
تحریروترتیب :محمد ارشد لیئق
پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
اپنی جان سے جانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
جان سے پیارے لوگوں سے بھی کچھ کچھ پردہ لازم ہے
ساری بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
سعید واثق کا تمام ترشعری سفرمحبتوں سے عبارت ہے۔اسی محبت کے بیچوں بیچ وہ زمانے کے نشب و فراز کی باتیں کرنے کا ہنر بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔اب تک ان کے پانچ مجموعہ ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں۔”کہاں ہوتے ہو؟ “سے لے کر ”ہر طرف محبت ہے“ سبھی کو ان کے چاہنے والوں کی جانب سے بھر پورپذیرائی حاصل ہوئی۔مشاہدہ ہے کہ ذرا سی مقبولیت بیشتر لوگوں سے زمین پہ کھڑے ہونے کی صلاحیت چھین لیتی ہے لیکن سعید واثق پہ اس کا چنداں اثر نہیں۔وہ اپنی شاعری پہ زیادہ نازاں اور شاداں نہیں۔کبھی ظاہر نہیں کرتے کہ انہوں نے ایسا کچھ کیا ہے جو پہلے نہ ہوا ہو۔ یہ وہ صورتحال ہے جس نے انہیں ادبی حلقوں سے دور رکھا۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب وہ ”ہوا کے دوش“ پہ ہوتے ہیں تو اپنے مداحوں کو شاعری سنا کر ان کی دلی تسکین ہو جاتی ہے۔ ان کا حلقہ احباب ان کے ذاتی دوست ہیں اورانہیں کسی لابی کی ضرورت ہے نہ پروا۔وہ خود شناس ہیں اور ڈاﺅن ٹو ارتھ رہتے ہیں۔مالک کی عطا کردہ نعمتوں پہ اس کے شکر گزار ہیں۔مشاعروں سے دور۔ادبی تقریبات میں کوئی زبردستی لے جائے تو ست بسم اللہ۔۔
تاہم اس سے یہ معنی ہر گز اخذ نہ کئے جائیں کہ وہ کوئی گوشہ نشین قسم کی شخصیت ہیں۔وہ بذلہ سنج،مجلسی اوردل موہ لینے والی شخصیت ہیں۔دوستوں کے حلقے میںہنسی مذاق کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔
دریائے جہلم کے کنارے پہ آباد خوشاب شہر میں پیدا ہونے والے سعید واثق پیشہ کے اعتبار سے صحافی ہیں۔بچپن سے ہی لکھنے لکھانے کے شوقین۔عزیز اثری مرحوم کے امروز ”بچوں کی دنیا “ میں سعید احمد خوشنود کے نام سے کہانیاں اور نظمیں لکھتے تھے۔کالج پہنچنے تک یہ سلسلہ جاری رہا جو غالباً چھٹی کلاس سے شروع ہوا۔بہاولپور کے صادق ایجرٹن کالج میں زیر تعلیم رہے۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے ماسٹرز کیا۔لاہور آتے ہی اخباری دنیا سے وابستہ ہوگئے۔روزنامہ” وفاق“ سے ابتدا کی۔لاہور سے” خبریں“ اخبار کا آغاز ہوا تواس سے منسلک ہوئے۔ برسوں نیوز روم اور پھر شعبہ میگزین میں رہے۔یہیں رپورٹنگ بھی کی۔ان کا خیال ہے کہ اخباری دنیا میں ضیا شاہد جیسا استاد صحافی کوئی دوسرا نہیں۔وہ ایسی ہستی ہیں جو پتھر کو ہیرا بنا دیتے ہیں۔سعید واثق کی ایک بڑی پہچان براڈ کاسٹر کے طور پر ہے۔وہ پاکستان کے سب سے پہلے ایف ایم چینل FM100 کے مقبول پریزنٹر ہیں۔بطور صدا کار وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔وہ بولتے ہیں تو پروگرام میںان کا صحافتی پس منظر بھی بولتا ہے۔ان کے اندر کا شاعر بھی بولتا ہے۔وہ ”غزل ٹائم“ پیش کرتے ہیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ کوئی شو ہے۔یہ شعرو ادب کی ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس میں سعید واثق کے اندر کا انسان پوری طرح موجود ہوتا ہے۔موسیقی کا انتخاب ہو یا عوام الناس سے بات کرنے کا ہنر۔وہ سب سے منفرد نظر آتے ہیں۔انہیں افسوس ہے کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پہ نمودار ہونے والے بیشتر اینکر پرسنز تلفظ کی اہمیت سے نا واقف ہیں۔وہ روز غلط بولتے ہیں اور کبھی اپنی تصحیح کرنے کا تردد بھی نہیں کرتے۔
سعید واثق کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ان کی نثر بھی شاعری کی طرح جاندار ہے کہ بیشتر شعرا کی نثر لکھتے ہوئے جان جاتی ہے جوبے تاثیر ہوتی ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی گروپ کے جس اخبار میں وہ بطور میگزین انچارج کام کر تے رہے اس کے صفحہ نمبر3پہ شائع ہونے والا”سنڈے سپیشل“ خاصے کی چیز تھا جوان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کا نچوڑ تھا۔ان دنوں وہ ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں
سعید واثق کی کتب میں سے کچھ منتخب غزلیں اور نظمیں۔۔
غزل
ہجر میں خون رلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
جب بھی ملتا ہے کوئی شخص بہاروں جیسا
مجھ کو تم کیسے بھلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
یاد آتی ہیں اکیلے میں تمہاری نیندیں
کس طرح خود کو سلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب ِنظر ہو کس کے
آجکل کس کو مناتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے
اپنے دکھ کس کو سناتے ہو،کہاں ہوتے ہو؟
موسمِ گل میں نشہ ہجر کا بڑھ جاتا ہے
میرے سب ہوش چراتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
سرد راتوں میں تمہیں کیسے بھلا سکتا ہوں؟
آگ سی دل میں لگاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لئے بچھڑے تھے
اب اگر اشک بہاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
شہر کے لوگ بھی واثق یہی کرتے ہیں سوال
اب بہت کم نظر آتے ہوں، کہاں ہوتے ہو؟
......................
غزل
خواہش ہے کہ اس طور سے جیون کو گزاروں
ہر عکس ترے حسن کا آنکھوں میں اتاروں
وہ تشنہ لبی ہے کہ سمجھ کچھ نہیں آتا
دریا صدا دُوں کہ سمندر کو پکارُوں
جیون بھی تو الجھی ہوئی ڈوروں کی طرح ہے
اس سوچ میں گم ہوں کہ اسے کیسے سنواروں؟
اب اِس کے سوا میرا کوئی خواب نہیں ہے
ہر سانس کو خوشنودی جاناں پہ میں واروں
بہتر ہے کہ اب موت کو سینے سے لگا لوں
اس من کو ترے ہجر میں اب کتنا میں ماروں
پہلے تو فقط حسرت دیدار تھی واثق
اب یہ بھی طلب ہے کہ ا ±سے جیت کے ہاروں
......................
غزل
پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
اپنی جان سے جانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
ہجر کے گہرے زخم ملے تو مجھ کو یہ احساس ہوا
پاگل کو سمجھانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
جان سے پیارے لوگوں سے بھی کچھ کچھ پردہ لازم ہے
ساری بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
خوابوں میں بھی پیا ملن کے سپنے دیکھتے رہتے ہیں
نیندوں میں مسکانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
اس جھوٹی نگری میں ہم نے یہی ہمیشہ دیکھا ہے
سچی بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
پیار جنہیں ہو جائے اُن کو چین بھلا کب مل پاتا ہے؟
شب بھر اشک بہانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
اپنی ذات کے اجڑے گلشن سے وہ پیار کہاں کرتے ہیں؟
اوروں کو مہکانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
اس کے عشق میں بھیگ کے واثق ہم کو یہ احساس ہوا
دل کی بات میں آنے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
۔۔۔۔۔
One Sided Love
محبت کے سبھی جذبوں کو
دل کی خوب صورت شاخ پہ
تحریر کرنا
اور تمہارے گیت گانا
کیا فقط میرے فرائض میں ہی شامل ہے؟
کہ تم سے رابطوں کی پاسداری کو نبھانا
گر کسی کا فرض ہے؟
توصرف میرا ہے؟
اگر تم سے کبھی ملنے کی خواہش ہو تو!!
دروازہ سوالی کی طرح سے کھٹکھٹانا
صرف میری ذمہ داری ہے؟
تمہاری کوئی خواہش!
تشنہ رہ جائے
تو اس پہ غمزدہ ہونا
بہت رونا!
مری قسمت میں لکھا ہے؟
کہ اے جان وفا!
تم کو
مرے جذبات کا احساس ہی کب ہے؟
مرے جیون کے اس صحرا سے
تم کو ربط رکھنے کی
ضرورت ہے نہ پروا ہے
مری سانسوں پہ ہر لحظہ اداسی کاڑھنے والی
مجھے بس اتنا بتلا دے
کہ کیا؟
خوابوں کے اس ویراں جزیرے کی حفاظت
ایک بس!
مجھ پر ہی لازم ہے؟
خداﺅں کی طرح سے بے نیازی اوڑھنے والی
محبت کی یہ ساری پالنا بھی
بس مجھی پہ فرض ہے؟
اور تم!!!
اور تم فلک پہ بیٹھ کر
سارا تماشا دیکھی جاﺅ!
......................






ReplyDeleteپیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
اپنی جان سے جانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
جان سے پیارے لوگوں سے بھی کچھ کچھ پردہ لازم ہے
ساری بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
Boht Khub
bhot khub
ReplyDeleteBohat khuub...
ReplyDelete