نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

ٹرین حادثات :پاکستان میں سب سے پہلا ریلوے سانحہ1953 میں ہوا


 ٹرین حادثات :پاکستان میں سب سے پہلا ریلوے سانحہ1953 میں ہوا


لاہور( ویب ڈیسک )پاکستان میںٹرین حادثات معمول بنتے جارہے ہیں ۔پاکستان کے قیام سے قبل اٹھارہ سو اکسٹھ میں خطے میں سب سے پہلی ریلوی لائین کراچی اور کوٹڑی کے درمیان بچھائی گئی۔
سب سے پہلا اور ریلوی حادثہ بھی اس ٹریک میں ہوا۔ انیس سو تریپن میں پیش آنے والے اس ریل حادثے کے نتیجے میں دو سو سے زائد ہلاک ہوگئے تھے۔اسی حادثے کے اگلے سال یعنی انیس سو چون میں جہمپیر کے قریب جنگشاہی ریلوے سٹیشن پر ایک اور ریل حادثے میں ساٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔
انیس سو نوے میں سکھر سے دس کلومیٹر دور سانگی کے مقام پر دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی اور نتیجے میں ساڑہ تین سو سے زائد افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ حادثہ پاکستان ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔سن دوہزار پانچ کو گھوٹکی کے مقام پر تین ٹرینوں کا تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک سو بتیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔وسطی سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں پیش آنے والے حادثے میں پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق حادثات ٹریک میں نقص، سگنل یا کانٹے میں خرابی کے باعث پیش آتے ہیں۔
رحیم یار خان سانحے سے قبل ہونے والے حادثات۔
سولہ ستمبر2018:
 سولہ ستمبر 2018 کوایک ٹرین حادثہ پیش آیا تھا جس میں کراچی سے پشاور جانے والی خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی 9 بوگیاں اٹک کے قریب پٹری سے اتر گئی تھیں۔ حادثے میں 20 مسافر زخمی ہوئے تھے
ستائیس ستمبر 2018:
 ستائیس ستمبر کو ایک اور ٹرین حادثہ پیش آیا، جس میں پشاور سے کراچی ا?نے والے ٹرین کی 11 بوگیاں سہون کے قریب ا ±لٹ گئی تھیں۔
اٹھارہ دسمبر 2018:
پنجاب کے علاقے نارووال کے قریب سکول وین اور مسافر ٹرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 12 بچے زخمی ہوگئے تھے۔ مقامی عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ شدید دھند کے باعث پیش آیا تھا، اور اس لیے کہ ریلوے کراسنگ کا گیٹ کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔
نوجون 2019:
رواں سال 9 جون کو کراچی جانے والی مال گاڑی کی 23 بوگیاں سکھر کے قریب پٹری سے اتر گئی تھیں۔
بیس جون 2019:
حیدرآباد کے قریب مکلی شاہ کے مقام پر مسافر ٹرین اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئی تھیں جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
گیارہ جولائی 2019:
پنجاب میں صادق آباد کے قریب کوئٹہ جانے والی ٹرین کارگو ٹرین سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثہ ٹرین کی پٹریوں کو تبدیل کرنے میں تاخیر کے سبب پیش آیا تھا۔
واضح رہے کہ2017 اور 2018 کے مقابلہ میں 2019 میں ریلوے حادثات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات تو آگ لگنے کے ہی ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ 1862 میں آپریشنل ہونے والا محکمہ پاکستان ریلوے اب اپنی عمر پوری کر چکا ہے جبکہ اسے اس حال تک پہنچانے میں ہمارے حکام کی کوتاہیاں بھی شامل ہیں کیونکہ کبھی اسے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts