نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

سفیدپوشوں کامذاق

 سفیدپوشوں کامذاق 



بدلتی ہوئی معاشرت یہ ہے کہ معاشرتی قدریں تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں۔بدلتی ہوئی معیشت یہ ہے کہ کم ترین معاشرتی اسٹیٹس والا کماؤ پوت ہے اور وہ اس سے مانگ رہاہے جس نے سفید کپڑے توپہنے ہوئے ہیں مگرآن گراؤنڈاس کی آمدن مانگنے والے سے کم ہے۔  تہذیب اورتمدن کی ہمارے سامنے نسل درنسل کی اقدارمیں ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں۔بڑے کااحترام،والدین کاتقدس ،سینئرز کے حقوق اپنے طورپردینے کی سپرٹ بدل رہی ہے۔ بڑاکسی بات سے روکے توناگواریت اور سردمہری کاردعمل اپنا حق سمجھا جاتاہے۔

والدین کونسلوں کی تربیت کے امین ہوتے ہیں روک ٹوک کریں تو بے زاری کااظہارعام سامظہربنتاجارہاہے۔ اپنی رعایت سے دستبردارہوکر کسی بزرگ کے لیے گنجائش پیداکرنا ہماری اخلاقی ترجیحات کی فہرست میں نیچے جارہاہے۔دوران سفر،اجتماعات میں اورخوشی غمی کے موقع پر آپ ہاتھ پھیلانے والوںبھکاریوں کوکم ترنہیں سمجھاجاسکتا۔ وہ بظاہر ہاتھ پھیلارہے ہوتے ہیں مگر ان کاپھیلایاہواہاتھ جب شام کو واپس جیب میں جاتاہے تو کسی کی دیہاڑی5ہزارروپے سے کم نہیں ہوتی۔ وہ سارادن ان سفیدپوشوں سے بھی مانگ رہے ہوتے ہیں  جوپورامہینہ محنت مشقت کرکے بھی بمشکل ہزار،ڈیڑھ ہزار،دوہزارروپے کی دیہاڑی کماتے ہیں۔ بدلتی ہوئی معاشرت یہ ہے مانگنے والا دن کا5سے10ہزاراورجس سے مانگا جارہاہوتاہے وہ  دن کے ہزاردوہزاریابہت چھلانگ لگالے تو تین ہزارروپے روزانہ کی اجرت پر مشقت کرتاہے۔پھرصاف ستھرے کپڑوں میں اپنے ماضی قریب کی خوشحالی کاتاثردے کر مانگنے کارجحان بھی نظرآرہاہے۔ 

 بدلی ہوئی معاشرت اور معیشت یہ ہے کہ سفیدپوش  اپنے رکھ رکھاؤمیں آکر اپنی کم مائیگی کارونانہ رونے پرمجبورہوتاہے، اس کی جیب خالی ہوتی ہے مگر مانگنے والے کی جیب بھی پیسوں سے بھری ہوتی اور وہ اس کے سامنے آکر اللہ کے واسطے ڈال رہاہوتاہے کہ اس کاخیال کرے۔ بات اسی پرہی ختم نہیں ہوتی ہمارے مذہب میں مانگنے کواچھافعل نہیں سمجھاجاتا،معاشرے میں بھی بظاہرایساہی چلن ہے مگر جوں جوں وقت آگے بڑھ رہاہے مانگنا اور ہاتھ پھیلانا عیب نہیں سمجھاجارہا بلکہ ہمارے اپنے اندرہی لوگ موجود ہوتے ہیں جویہ جواز پیش کررہے ہوتے ہیں کہ مہنگائی اورغربت اتنی بڑھ رہی ہے کہ ہربندہ مانگ کرگزارہ کرنے پرمجبورہے۔ 

سفیدپوشی کے ساتھ اپنی کم مائیگی اور وسائل کی قلت کارونارونے والوں میں  پیش پیش طبقے میں تنخواہ دارطبقہ بھی شامل ہے۔ جوروزمرہ سفرمیں اورسرراہ چلتے چلتےایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں  اور باتوں ہی باتوں میں ایک دوسرے سے بات کردیتے ہیں کہ  یہ سفیدپوشی کابھرم رکھنابھی مشکل ہورہاہے۔ پھرساتھ ہی کوئی مانگنے والا اورمانگنے والی سامنے آجائے تویہ تبصرہ متفقہ ہوتاہے کہ یارہم سے اچھے سے تولوگ ہیں جو کم از کم ہاتھ توپھیلاسکتے ہیں۔ ہم توہاتھ بھی نہیں پھیلاسکتے۔

 ہمارے ہم عصر اور کامیاب صحافیوں میں سے ایک ایاز خان کے وہ یادگارالفاظ اب بھی ناقابل فراموش ہیں جوانہوں نے کئی سال پہلے کہے۔ فرمانے لگے لگی بندھی آمدن10لاکھ روپے بھی ہوتوکم ہوتی ہے۔کیونکہ تنخواہ بڑھنے کے ساتھ آپ کی ضروریات کی فہرست بھی طویل ہوتی جاتی ہے ۔ سب کچھ لگ لگاکے مہینے کے آخر تک آپ کبھی ایک توکبھی دوسرے ہاتھ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کئی سال بعد آج بھی ان کے یہ الفاظ یاد ہیں۔ ہاتھ پھیلانے کاحوصلہ کرلینے والےفی زمانہ کامیاب  نظرآتے ہیں ۔ وہ مانگ لیتے اور انہیں مل بھی جاتاہے۔ حافظ طارق نے کہا کہ بھیک مانگنے کے بہت سے جواز پیداکرلیے گئے ہیں۔ مانگنے کے اسٹائل بدل لیے گئے ہیں جن کی پذیرائی ہم خود بھی کرتے ہیں۔ 

مثال کے طورپرآپ اورنج ٹرین  یا کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکررہے ہوتے ہیں تو چھوٹی موٹی چیز بیچنے کانام پربھی مانگنے والوں سے سامنا ہوجاتاہے۔ کوئی بچہ پنسل بیچ رہاہے،کوئی بچی ٹافیاں بیچ رہی ہوتی ہے اورہم جیسے سفید پوش اپنی آمدنی اورکم مائیگی کاعلم ہونے کے باوجود ان سے پنسل یا ٹافیاں خریدنے کی بجائے انہیں ویسے ہی 50یا100روپے یہ خود ساختہ جواز پیداکرکے دے رہے ہوتے ہیں  کہ مانگ تونہیں رہا یانہیں رہی،محنت ہی کررہے ہیں جس کی قدرکرنی چاہئے اوردیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے آخری سے پہلے ڈبے تک جانے تک ہم جیسے درجنوں افراد انہیں50اور100کے بے شمارنوٹ دے چکے ہوتے ہیں۔ گویاوہ بچے ایک ہی چکرمیں  ایک دن میں دینے والوں کی یومیہ آمدن سے کہیں زیادہ پیسے کمالیتے ہیں۔

 یہاں فاضل دوست،خوبصورت شخصیت کے مالک اورعامل صحافی حاجی آصف شہزاد کاتذکرہ بھی ضروری ہے جنہوں نے عالم شباب  میں عمرہ کیا اوروالدین کے ساتھ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے عمرہ اورحج کے لیے سعودیہ جانے والے بہت سے پاکستانی وہاں جاکرہاتھ پھیلاناشروع کردیتے ہیں اور مانگنے کواپناپیشہ بنالیتے ہیں یہ رجحان دنیا کے دیگرمسلمان ممالک کے مقابلے میں پاکستانیوں میں بہت زیادہ ہے۔ یعنی بغیر محنت کمائی کاذریعہ جوبھی ہواسے جائزسمجھنا ہماراقومی مزاج  کاحصہ ہے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں وزارت اوورسیز پاکستانی کے سیکریٹری ذوالفقار حیدر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ بیرون ملک گرفتار ہونے والے 90 فیصد بھیک مانگنے والوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیق سے علم ہوا کہ ایک منظم طریقے سے پاکستان میں موجود ایجنٹ بھکاریوں یا ضرورت مند افراد کو اس مقصد کے تحت مشرق وسطیٰ کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، ایران اور عراق بھجواتے ہیں جہاں بھیک سے حاصل ہونے والی رقم میں اِن ایجنٹس کو بھی حصہ ملتا ہے۔تاہم حال ہی میں سعودی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے باضابطہ شکایت کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کو اس مسئلے کا تدارک کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے مطابق حالیہ دنوں میں ملتان اور سیالکوٹ سے چند گروہ گرفتار ہوئے ہیں جو لوگوں کو عمرے کے بہانے سعودی عرب لے کر جاتے  اوران سے بھیک منگواتے ہیں۔بات بھیک مانگنے یانہ مانگنے کی نہیں بلکہ یہ ہے کہ بھیک کومعاشرتی برائی اورناسورسمجھنے کارویہ کمزورپڑرہاہے۔ جس کی بڑی وجہ ہماری قوم کی صدقہ اورخیرات دینے کی خود ساختہ سوچ بھی ہے اورمانگنے والوں کی آسان ذریعہ آمدن اپنانے کاآپشن بھی۔ بھکاریوں کی بہت بڑی تعداد ان افراد پربھی مشتمل ہے جومختلف اشیااٹھائے محنت مشقت کاڈھونگ رچاکرخریدارکے سامنے کچھ اس انداز میں اپنی داستان دکھ بیان کرتے ہیں کہ وہ خواہ مخواہ ان کاہمدرد بن جاتاہے۔ہاتھ پھیلانا صرف ایک بارمشکل پھرعادت بن جاتی ہے ۔ اس کے بعدبھیک مانگنے والے ہمارے معاشرے میں متوسط اور سفیدپوش طبقے کا مذاق اڑاتے نظرآتے ہیں۔



نوٹ : یہ  بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ہمارا متفق ہونا ضروری  نہیں ہے 



 

تعارف: محمدفاروق سپرا سینئر جرنلسٹ ہیں،وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا معتبر نام  ہیں۔روزنامہ وفاق، روزنامہ خبریں، روزنامہ  صحافت،دوپہر، روزنامہ انصاف، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ وقت،وقت نیوزٹی وی، سٹارایشیا،پنجاب ٹی وی ،دنیا نیوز،ایکسپریس نیوز میں  مختلف پوزیشنزپر کام کرچکے ہیں اور آج کل92نیوز میں کام کررہے ہیں۔



Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts