نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

لتا منگیشکر۔۔سروں کی دیوی،بلبل ہند ۔۔۔خاموش ہوگئی


لتا منگیشکر۔۔سروں کی  دیوی،بلبل ہند ۔۔۔خاموش ہوگئی















برصغیر پاک وہند کی تاریخ بہت پرانی ہے،یہاں پر بہت سے موسیقاروںنے جنم لیا۔سروںکی ملکہ لتا منگیشکر بھی ان ہی میں سے ایک تھی، وہ اب ہم میں نہیںرہیںلیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔

 ماضی میں موسیقار گھرانے ہی فن کوآگے بڑھاتے تھے اورگائیک کے بیٹے بیٹیاں ان کی جگہ لیتے تھے۔پنڈت دینا ناتھ منگیشکر بھی ان ہی میںسے تھے، جوتھیٹر کے اداکاراور کلاسیکل گائیک تھے۔ اس گھرانے کے لئے سنگیت اس طرح تھا جیسے سانس لینے کے لئے آکسیجن ضروری ہوتی ہے، بنیادی طورپرا ن کے خاندان کاتعلق گووا کے شہر منگیشی سے تھا ۔ پنڈت دینا ناتھ نے اسی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ منگیشکر کا اضافہ کیا۔ ان کی بیٹی لتا منگیشکر والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نام کمارہی ہیں۔

سروں کی ملکہ لتا منگیشکراٹھائیس ستمبر1929 کو ہندوستانی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پیداہوئیں۔انھوں نے اردو فلموں کے لئے پہلا گانا 1946 میں’’آپ کی سیوا‘‘ نامی فلم کے لئے گایا۔

بالی وڈ میں ان کی شہرت کا آغاز 1948 میں فلم ’’مجبور‘‘کے گیت دل میرا توڑا سے ہوا جبکہ فلم ’’محل‘‘ کے گیت’’ آئے گا آنے والا‘‘ کے بعد وہ فلمی صنعت کی ضرورت بن گئیں۔لتا منگیشکر فلمی موسیقی کا وہ عظیم نام تھا جسے سریلے گلوکاروں کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا

ان کی تین بہنیں(آشا، اوشا، مینا) اور ایک بھائی ہری دیناناتھ تھا۔سنگیت منگیشکر خاندان کااوڑھنابچھونا تھا۔ انہوں نے پانچ برس کی عمر سے ’’سنگیت ناٹک ‘‘ کے نام سے تھیٹر میں پیش کئے جانے والے مراٹھی میوزیکل پلیز سے کام شروع کیا۔ اسی دوران دینا ناتھ نے اپنی بیٹی کی صلاحیتوںکوپرکھ لیاتھا۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دینا ناتھ کوفلمی موسیقی پسند نہیںتھی۔وہ کندن لال سہگل(کے ایل سہگل) کے سوا کسی کونہیں سنتے تھے۔لتا جی کوبھی کندن لال سہگل کی آواز بہت پسند تھی۔ وہ بچپن ہی سے سہگل کے مشہور گیت محفلوں میں گایاکرتی تھی۔

1942  میںوالد کی وفات کے بعد بڑی ہونے کی وجہ سے گھر کی ذمہ داری ان کے نازک کاندھوں پرآگئی،اس وقت لتاصرف 13برس کی تھیں۔1945 کا دور ہے، ریاست مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک دبلی پتلی اور معمولی نقش و نگار کی حامل سانولی، سلونی مراٹھی زبان بولنے والی لڑکی اپنے گھریلو معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے موسیقی کی دنیا میں داخل ہونا چاہتی تھی اس لیے کہ قدرت کی طرف سے اسے خوب صورت آواز سے نواز اگیا تھا۔ وہ سُر سنگیت کی باریکیاں بھی سمجھتی تھی۔ 

لتانے اپنا پہلا گانا1942میں مراٹھی فلم ’’کتّی ہاسّل‘‘ میں گایا جو نشر نہ ہوسکا۔انیس سو بیالیس ہی میں مراٹھی کی مقامی فلم ’’پہیلی منگل گور‘‘میں گانا گایا جو ان کا روشن ترین دن کہلایا ۔انہوںنے اس فلم میں اداکاری بھی کی۔لتا جی کوفلموںمیں اداکاری کرنا پسند نہیںتھا مگر گھر کاچولہاجلانے کے لئے انہوں نے فلموں میںاداکاری کی۔لتا نے ’’منگل گور‘‘سمیت دس فلموں میں اداکاری بھی کی جس میں انیس سوپینتالیس میں ’’بڑی ماں ‘‘،1946 میں ’’جیون یاترا‘‘، 1948میں ’’مندر‘‘ شامل ہیں۔

 1947ء میں لتا کو باقاعدہ طور پر فلموں میں گانے کا موقع ملا۔ لتا نے فلم ’’آپ کی سیوا میں‘‘کے لیے گلوکاری کی۔ اس کے بعد وتا دیوجے کار نے لتا سے فلم ’’مجبور‘‘کے گانے انہیں دیئے۔ ان میں دوگانے ’’مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تیرے پیار نے‘‘اور ’’انگریزی چھورا چلا گیا‘‘مقبول ہوئے مگر لتا کو صحیح معنوں میں 1949ء میں بریک تھرو  فلم ’’محل‘‘سے ملا۔ اس میں ایک گیت ’’ آئے گا آنے والا ‘‘ جو مدھو بالا پر پکچرائز ہوا بہت مقبول ہوا۔کھیم چندپرکاش کی موسیقی میں لتا کاگایاہوا گیت ’’آئے گاآنے والا‘‘ آج بھی کانوںمیںرس گھولتا ہے۔اس گانے نے دھوم مچادی اورہرطرف لتا کے چرچے ہونے لگے۔ شنکر جے کشن کی موسیقی میںفلم ’’برسات‘‘ کے گانے بہت سراہے گئے۔اسی سال راج کپور نے فلم ’’برسات‘‘کے گانے لتا کی آواز میں ریکارڈ کرائے۔اس فلم کے بھی دو گانے ’’جیابے قرار ہے‘‘اور ’’چھوڑ گیا بلم‘‘سپر ہٹ ہوئے ۔یہیں سے لتا کی کامیابیوں کا سفر شروع ہوا۔

1949 میں فلم’’محل‘‘ریلیز ہوئی اس سے لتا کی بہت سے مشکلات حل ہوگئیں۔ 1950 کی دہائی ان کے لئے انتہائی کامیاب رہی۔انہوں نے انیل بسواس، شنکر جے کشن ، نوشاد،ایس ڈی برمن، سی رام چندر، سالیل چودھری ، خیام ، راوی ، سجاد حسین، روشن ،کلیان جی آنند جی، سدھیر پھاڈکے،مدن موہن اور اوشا کھنہ کے ساتھ کام کیا۔شنکر جے کشن نے فلم’’نگینہ‘‘ میں لتا جی سے’’تونے ہائے میرے جگر کوچھولیا‘‘گوایا توسب حیران رہ گئے۔ ہیمنت کمار کی موسیقی میں’’چمپا کلی‘‘ کاگانا’’ چھپ گیا کوئی رے‘‘ کو شائقین آج بھی یاد کرتے ہیں۔فلم’’انوپما‘‘، ’’خاموشی‘‘ جیسی فلموںمیں لتا کے گائے ہوئے گیت لازوال حیثیت رکھتے ہیں۔شنکر جے کشن اورحسرت جے پوری کے ساتھ لتا جی نے کئی یادگار گیت دیئے۔

لتا منگیشکر نے نوشاد کے ساتھ بھی کام کیا ،انہوں نے’’بیجو باورا‘‘ ،’’ مغل اعظم‘‘ اور ’’کوہ نور‘‘ میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔فلم’’مغل اعظم‘‘ میںلتا کے گانے آج بھی شائقین کے کانوںمیںرس گھولتے ہیں۔گانے’’موہے پنگھٹ پہ‘‘،’ پیار کیاتوڈرناکیا‘‘، ’’بے کس پہ کرم کیجئے‘‘بے مثال شاہکار ہیں۔ ان گانوں کومدھو بالا کے رقص نے جلابخشی ۔ لتا کی آواز اورمدھو کے رقص کوشائقین آج بھی یاد کرتے ہیں۔1960 میں فلم’’ دل اپنا پریت پرائی‘‘ کا گانا’’ عجیب داستان ہے یہ‘‘ بھی مقبول ہوا اس کی عکس بندی مینا کماری پر ہوئی تھی۔

1961میںلتا منگیشکر نے دوبھجن ’’اللہ تیرو نام‘‘اور’’پربھو تیرونام‘‘گائے توسب نے ان کی صلاحیتوں کومان لیا، ان کی موسیقی سچن دیو برمن کے اسسٹنٹ جے دیو کی تھی۔ان  کو 1962 میں گانے’’ کہیںدیپ جلے کہیںدل‘‘ کی وجہ سے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازاگیا۔ اس کوہیمنت کمار نے کمپوز کیاتھا۔

انہوںنے1962 میں مدن موہن کے ساتھ فلم’’ ان پڑھ‘‘ میں کام کیا اور’’آپ کی نظروں نے سمجھا‘‘ جیساگانا تخلیق کیا۔1964 میں فلم’’ وہ کون تھی‘‘ کاگانا’’ نیناں برسے رم جھم‘‘ ، ’’جہاں آرا‘‘ کا گانا ’’ وہ چپ رہیںتو‘‘،’’میرا سایہ ‘‘کاگانا‘‘ توجہاں جہاں چلے گا‘‘ بہت مقبول ہوئے۔فلم’’گائیڈ‘‘ کے لئے لتا کے گائے ہوئے گیت بہت پسندکئے گئے ۔فلم ’’جیول تھیف‘‘کے گانے’’ہونٹوں پہ ایسی بات‘‘ کوپسند کیا گیا۔ انہوں نے ایس ڈی برمن اورشیلندر کے ساتھ بہت کام کیا۔ان کے گیت’’ آج پھر جینے کی تمناہے‘‘کانوں میںرس گھولتاہے۔

کلیان جی آنند جی نے لتا کے ساتھ بہت کام کیا، ان کولتا کی آواز بہت اچھی لگتی تھی۔’’سرسوتی چندر‘‘ کاگیت، چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لئے‘‘ اور مکیش کے ساتھ ڈواٹ’’پھول تمہیں بھیجا ہے‘‘ لوگوں کے دلوںمیںاترگیا۔لتا جی ،لکشی کانت پیارے لال اورآنند بخشی کے ساتھ نے لازوال کام تخلیق کیا۔سچن دیو برمن کے بیٹے آر ڈی برمن نے بھی لتا کے ساتھ کام کیا۔1972 میں مینا کماری کی فلم ’’پاکیزہ‘‘ ریلیز ہوئی اس میں لتا منگیشکر کے گانوں’’چلتے چلتے‘‘اور ’’انہی لوگوں نے‘‘ پسند کیا گیا، غلام محمد نے اس کو کمپوز کیا تھا۔لتا نے ایس ڈی برمن کی فلموں’’پریم پجاری‘‘ میںگانا’’رنگیلا رے‘‘،فلم’’شرمیلی‘‘ کا گانا’’کھلتے ہیں گل یہاں‘‘اور فلم ’’ابھیمان‘‘ میں گانا’’ پیا بنا رہا جائے  نہ‘‘ میں اپنی آواز کاجادو جگایا۔

لتا نے 1973 میں بہترین فی میل پلے بیک سنگر کا نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ ان کو فلم ’’پریچے‘‘ کے گانے’’ بیتے نہ بتائے‘‘ کی وجہ سے ملا۔1975 میں ان کو یہی ایوارڈ دوبارہ فلم ’’کورا کاغذ‘‘  کے گانے’’روٹھے روٹھے پیا‘‘ کی وجہ سے ملا اسے کلیان جی آنند جی نے کمپوز کیا تھا۔ان کاپہلا بین الاقوامی کنسرٹ1974 میںرائل البرٹ ہال لندن میں تھا۔ اس وقت ان کی شہرت بیرون ملک میں بھی ہونے لگی۔1980 میں لتا نے  یش راج بینر اور راج شری پروڈکشن ہائوس کے ساتھ کام کیا۔  لتا نے جن کمپوزرز کے ساتھ کام کیابعد میںا ن کی اولاد کے لئے بھی گیت گائے۔ اس میںروشن کے بیٹے راجیش روشن،چتر گپت کے بیٹوںآنند ملند،سردار ملک کے بیٹے انوملک کے لئے لتا جی نے گیت گائے۔گویا انہوں نے کمپوزرز کی دوسری نسل کے لئے بھی کام کیا۔

وہ ایشیا کی پہلی گلوکارہ ہیں، جنہیں پلاٹینم ڈسک آف ای ایم آئی ملنے کا اعزاز ملا۔ 1984ء میں مدھیہ پردیش کی حکومت نے لتا کے اعزاز میں لتا منگیشکر ایوارڈ کا اجرا کیا، جس میں ایوارڈ کے ساتھ ایک لاکھ نقد انعام بھی شامل ہے۔ اس کا سب سے پہلا ایوارڈ اپنے طرزکے بڑے موسیقار نوشاد کو دیا گیا۔ لتاکے نام سے پرفیوم بھی بھارت کی مارکیٹ میں آچکا ہے۔ لتا ایشیا کی وہ واحد گلوکارہ ہیں جن کے سب سے زیادہ گانے موبائل فون کی گھنٹی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔انہوں نے 1990 میں اپنا پروڈکشن ہائوس بنالیا۔ان کے پروڈکشن ہائوس تلے ایک فلم ’’لیکن‘‘ بنی جوکامیاب نہ ہوئی۔تاہم اس فلم کی موسیقی کوسراہاگیا۔’’یاراسلی سلی‘‘کاشمار ان کے بہترین نغمات میں ہوتا ہے۔

’’میںنے پیا رکیا‘‘، ’’ہم آپ کے ہیںکون‘‘ راجشری پروڈکشنز کے تحت بننے والی فلمیںتھیں۔لتا نے یش راج بینر کے لئے گایا اور فلم ’’چانندنی‘‘،’’لمحے‘‘،’’ ڈر‘‘،’’یہ دل لگی‘‘،’’دل والے دلہنیا لے جائیںگے‘‘،’’دل تو پاگل ہے‘‘،’’مجھ سے دوستی کروگی‘‘،’’ویر زارا‘‘ جیسی فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔

 اے آر رحمان کو بھی ان کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملا انہوں نے ’’جیا جلے‘‘(دل سے )،’’خاموشیاں گنگنانے لگیں‘‘(ون ٹو کافور)،’’اک توہی بھروسہ‘‘ (پکار)،’’پیارا ساگائوں‘‘( زبیدہ)میں اپنی آواز کاجادو جگایا۔

ان کو بے شمار ایوارڈز ملے جس میں بھارت کا سب سے بڑا سویلین اعزاز بھارت رتنا بھی ہے وہ بھارت کی دوسری گلوکارہ ہیں جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ 1974 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں انکا نام دنیا میں سب سے زیادہ گانے گانے والی گلوکارہ کے طور پر آیا۔ان کوداداصاحب پھالکے ایوارڈ بھی مل چکاہے۔لتا منگیشکر کو فرانس کے اعلی اعزاز ’’لیجن ڈی آنر‘‘سے بھی نوازاگیاہے ۔یہ اعزاز1802 سے فوجی اور سول افراد کو اپنی فیلڈ میں نمایاں خدمات انجام دینے پر دیا جاتا ہے۔انہوںنے پونہ میں ماسٹر دینا ناتھ منگیشکر کے نام سے ہسپتال بنایاہے۔ وہ راجیہ سبھا کی رکن بھی نامزد ہوئیں۔انہوںنے ہر صنف میں گائیکی کی۔

گائیکی کے نصف صدی سے زائد کے کیریئر میں آج بھی ان کی آواز 16سالہ لڑکی کی آواز کی طرح جوان اور کھنکتی  تھی۔ بھارت فلم انڈسٹری میں مدھو بالا سے مادھوری اور پھرکاجل سے پریتی زنٹا تک، ہر بڑی اور مشہور ہیروئن پر اس خوب صورت آواز میں گانے پکچرائز ہو چکے ہیں۔ہندی فلم انڈسٹری میں ہزاروں نغمے گانے والی لتا کی میٹھی آواز کا آج تک کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ دنیا بھر میں لتا کی آواز کے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں۔ 


محمد نویداسلم سینئرصحافی ہیں ،روزنامہ خبریں،نیا اخبار، صحافت ،دوپہر، روزنامہ وقت (جنگ گروپ ) کے ساتھ وابستہ رہے۔ان کے مضامین  ملک کے موقر جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔آجکل نوائے درویش سمیت مختلف ویب سائیٹس کے لئے بلاگنگ کررہے ہیں،حالات حاضرہ ،شوبز،سپورٹس سمیت دیگر امور پرگہری نظر رکھتے ہیں




Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts