نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

’’گا میرے منوا گاتا جارے…‘‘

 



محمدنویداسلم 





وہ باضابطہ طور پر پہلی بار پنجابی فلم ’’جٹی‘‘ میں نمودار ہوئے، مخصوص سٹائل نے انہیں اس راہ پر لا کھڑا کیا جس پر چلتے چلتے یہ شہنشاہ کامیڈین بن گئے



انہوںنے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوںکا لوہا منوایااور 4دہائیوں تک فلمی شائقین کو اپنے فن سے محفوظ کیا



ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلے پاکستانی فنکار ہیں جن کے اپنے نام پر فلم’’رنگیلا‘‘ ،فلم ’’دورنگیلے ‘‘ اور فلم ’’ رنگیلا اور منورظریف ‘‘ بنیں اور بہت کامیاب رہیں



سعید خان رنگیلا




’گا میرے منوا گاتا جارے جانا ہے ہم کا دور

 فلم تھی ’’دیا اور طوفان‘‘…اس گانے کے شاعر اور گانے والے رنگیلا خود ہی تھے۔وہ  روتے ہوئوں کوہنسانے کا فن جانتے تھے۔انہوںنے المیہ اور طربیہ دونوں طرز کی کمال اداکاری کی۔اداکار رنگیلا کو کون نہیں جانتا وہ اپنی مثال آپ تھے۔ ان کا انداز جداگانہ اور سب سے نرالا تھا۔ ان جیسا کوئی تھا نہ کوئی ان جیسا ہو گا۔وہ  پاکستانی فلموں کا جانا پہچانا نام ہے۔ ان کی شخصیت اپنے اندر کئی پہلولئے ہوئے تھی۔ وہ اداکار، گلوکار، ڈائریکٹر ، مصنف اور ناجانے کیا کیا تھے۔

ان کا نام تو سعید خان تھا مگر انہوںنے رنگیلا کے نام سے شہرت پائی۔ 1 جنوری 1937 میں پیدا ہوئے۔ تعلیم سے زیادہ تن سازی اور فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا اور یہی مقصد انہیں لاہور لے آیا۔ فلموں کے سائن بورڈ بنانے کا کام کرنے لگے۔ نوجوان ہونے کی حیثیت سے وہ باڈی بلڈنگ میں دلچسپی رکھتے تھے اور روزانہ جسمانی مشقوں میں حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے کشتی کے کئی مقابلے جیتے لیکن جب پہلی بار ’’بجلی پہلوان ‘‘ نے انہیں شکست دی تو انہوں نے پہلوانی چھوڑ دی۔ اس کے علاوہ پاکستانی تفریحی صنعت میں شاندار کردار سے پہلے وہ روزی کمانے کے لئے لاہور میں بل بورڈ پینٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ فلمی بورڈز پینٹ کرنے کے حوالے سے رنگیلا کا فلم سٹوڈیو میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ ایک روز سٹوڈیو میں کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی تو اس فلم میں ایک کامیڈی کردار کی ضرورت تھی۔ فلم کے پروڈیوسر نے سعید خان سے کہا کہ وہ اس فلم میں کامیڈی رول ادا کریں۔ وہ پہلے تو بہت حیران ہوئے اور گھبرا گئے لیکن پھر جب انہوں نے یہ رول ادا کرنا شروع کیا تو وہاں موجود سب لوگ بہت لطف اندوز ہوئے۔ اس طرح رنگیلا باضابطہ طور پر پہلی بار پنجابی فلم ’’جٹی‘‘ میں نمودار ہوئے۔ ان کے مخصوص سٹائل نے انہیں اس راہ پر لا کھڑا کیا جس پر چلتے چلتے یہ شہنشاہ کامیڈین بن گئے۔

رنگیلا کا ابتدائی فلمی کیریئر سخت محنت اور جدوجہد سے بھرپور تھا اور انہوں نے 1957سے 1963تک فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ادا کئے۔ انہوں نے فلمی کیرئیر کا اغاز1957 میں فلمساز و ہدایتکار ، عطااللہ ہاشمی کی فلم ’’داتا ‘‘ میں مختصر کردار ادا کر کے کیا۔ 1958 میں فلم ’’جٹی‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار ملا۔ یہ دور نذر، ظریف، اور آصف جاہ جیسے مزاحیہ اداکاروں کا دور تھا مگر رنگیلا محنت اور ایک سمت پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ پرعزم ثابت ہوا۔ 1963 تک کا دور آسان نہیں تھا۔انہوںنے فلم انڈسٹری کے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوںکا لوہا منوایا اور بیک وقت اداکار، شاعر، موسیقار، ہدایت کار، کہانی نویس، غرضیکہ ہر شعبے سے انصاف کیا اور 4دہائیوں تک فلمی شائقین کو اپنے فن سے محفوظ کیا۔ رنگیلا اپنی کامیڈی اور اداکاری کے ذریعے لوگوں میں خوشیاں بانٹتے رہے ۔

 ’’گہرا داغ‘‘ میں اسے قدر بہتر کردار ملا مگر شہرت کی طرف اسے فلم ’’ہتھ جوڑی‘‘ نے دھکیلا جس میں اس نے اس وقت کے نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔پاکستان کی پہلی پلا ٹینیم جوبلی فلم ’’جی دار‘‘ میں اس جوڑی نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ فلم ’’منجی کتھے ڈاہواں‘‘ میں مرکزی کردار رنگیلا کا تھا جس کا ایک گانا ’’منجی کتھے ڈاہواں‘‘ بہت مشہور ہوا۔ ان کی فلموں میں ’’عجب خان، نوراں، گہرا داغ، دیا اور طوفان، رنگیلا، دوستی، دو تصویریں، ہیرہ، انٹرنیشنل گوریلے، عورت راج، دل اور دنیا، انسان اور گدھا، بازار حسن، میڈم باوری، کبڑا عاشق، رنگیلے جاسوس اور منجی کتھے ڈاہواں، ہتھ جوڑی، جگری یار، سنگدل، پگڑی سنبھال جٹا، دو بدن، ساجن رنگ رنگیلا، لاڈلہ پتر اور بیشمار فلموں کے ساتھ ساتھ بطور ہدایات کار، موسیقار، مصنف اور گائک کے بھی اپنا لوہا منوایا۔

 1963 تک ریلیز ہونے والی بیشتر فلموں میں رنگیلاچھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آتا رہاجن میں فلم ’’چوڑیاں‘‘ اورفلم’’موج میلہ ‘‘ شامل ہیں لیکن 1964 رنگیلا کے لیئے بہت اہم سال ثابت ہوا کہ اس سال فلم’’گہرا داغ‘‘ میں پہلی بار رنگیلا کواہم کردار میں کاسٹ کیا گیاجبکہ 1965 میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی پنجابی پلاٹینم فلم’’جی دار‘‘میں رنگیلاکو پہلی بار بھرپورکامیابی اور شہرت حاصل ہوئی۔

برصغیر کی فلموں میں شرو ع سے ہی دو طرح کے کامیڈین کو پسند کیا گیا ایک وہ جو اپنی شکل وصورت اور اپنی جسمانی حرکات کے ذریعے لوگوں کو ہنسایا کرتے تھے اور ایک وہ جواپنے شگفتہ ،برجستہ اور ذومعنی جملوں سے لوگوں کو ہنسایا کرتے تھے۔پاکستان میں جسمانی حرکات کے ذریعے لوگوں کو ہنسانے والے اداکاروں میں سب سے بڑا نام رنگیلا کا تھاجبکہ سنجیدہ کامیڈی اداکاری کرکے اپنے جملوں سے لوگوں کو ہنسانے والے فنکاروں میں اداکار لہری  کا نام سرفہرست ہے۔قدرت نے ان کو ایسے چہرے،جسمانی خدوخال اور سراپے سے نواز تھا کہ وہ جیسے ہی سینما سکرین پر نمودار ہوتے تھے تو ان کا چہرہ دیکھتے ہی لوگ ہنسنا شروع کردیتے تھے اور پھر جب رنگیلا اپنی جسمانی حرکات کے ساتھ شگفتہ جملوں کی منفرد ادائیگی کیا کرتے توسینما ہال تالیوں سے گونج اٹھتے تھے۔ایکشن کامیڈی کرنے والے اداکاروں میں ایسی مثالی شہرت اور کامیابی بہت کم لوگوں کو ملی جیسی رنگیلا کو نصیب ہوئی۔ ایک زمانے میں جب رنگیلا اپنے عروج پر تھے اور ان کی ایکشن کامیڈی کے دلدادہ فلم بین ان کی فلموں کو دیکھنے کے لیئے سینماؤں پر جوق درجوق آیا کرتے تھے اور ان کی فلمیں بڑی بڑی جوبلیاں منایا کرتی تھیں ،رنگیلا نے اپنے وقت کے تقریباً تمام نامور فنکاروں کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی فلمی جوڑی سب سے زیادہ اداکار منورظریف مرحوم کے ساتھ کامیاب ہوئی ان دونوں نے بہت سی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا اور پسند کیئے گئے،منورظریف کے بعد ان کی جوڑی اداکار ننھا کے ساتھ بھی مشہور ہوئی لیکن منورظریف کے ساتھ ان کی جوڑی فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔

انہوں نے ہدایتکاری کے شعبے میں قدم رکھا اور پہلی فلم’’دیا اور طوفان‘‘ڈائریکٹ کی۔ اس فلم نے بھی ان کی شہرت کو چار چاند لگائے۔ اس کے بعد انہوں نے بطور فلمساز بھی قسمت آزائی کا فیصلہ کیا اور’’رنگیلا پروڈکشن‘‘ کے بینر تلے فلمسازی شروع کردی۔ انہوں نے کئی فلمیں پروڈیوس کیں جنہیں بہت پسند کیا گیا۔11 ستمبر 1970 کو ان کی فلم’’رنگیلا‘‘ ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے ٹائٹل رول ادا کیا تھا۔ یکم اکتوبر 1971کوان کی ایک اور کامیاب ترین فلم’’دل اور دنیا‘‘ ریلیز ہوئی جس میں انکے علاوہ حبیب اور آسیہ بھی تھیں۔’’ گدھا اور انسان ‘‘ ان کی وہ یادگار فلم تھی جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ رنگیلا نے دل اور دنیا، میری زندگی ہے نغمہ، رنگیلا، نوکر تے مالک، سونا چاندی، مس کولمبو، باغی قیدی اور فلم تین یکے تین چھکے جیسی کامیاب فلموں کے لئے بطور بہترین سکرین پلے رائٹر، بہترین کامیڈین، بہترین مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے 9مرتبہ نگار ایوارڈ زحاصل کئے جو ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔

رنگیلا کو یہ انوکھا اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلے پاکستانی فنکار ہیں جن کے اپنے نام پر فلم’’رنگیلا‘‘ ،فلم ’’دورنگیلے ‘‘ اور فلم ’’ رنگیلا اور منورظریف ‘‘ بنیں اور بہت کامیاب رہیں۔ان کی کامیڈی فلموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اگر ہم ان کی خاص خاص فلموں کا تذکرہ کریں تو ان کی شاہکار فلموں میں فلم’’انسان اور گدھا‘‘ ،فلم’’پردہ نہ اٹھاؤ‘‘، فلم ’’میری زندگی ہے نغمہ ‘‘فلم’’رنگیلا‘‘ فلم’’دیا اور طوفان‘‘،فلم’’بھریا میلہ ‘‘،فلم ’’دورنگیلے‘‘،فلم ’’پگڑی سنبھال جٹا‘‘،فلم ’’دوسری شادی ‘‘،فلم ’’باؤجی ‘‘،فلم ’’بدلہ ‘‘ ،فلم ’’بابل دا وہیڑہ ‘‘،فلم’’عورت راج‘‘ اور فلم’’رنگیلا اور منورظریف‘‘ ،وہ فلمیں ہیں جنہیں رنگیلا کی عمدہ اداکاری کی وجہ سے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ان کی دیگر کامیاب فلموں میں فلم’’منجھی کتھے ڈاھواں‘‘, ہتھ جوڑی ،جگری یار،سنگدل،ثریا،گہرا داغ ،پگڑی سنبھال جٹا،دوستی اور چند دیگر فلمیں قابل ذکر ہیں۔

1967 میں ریلیز ہونے والی فلم’’یار مار‘‘ایک بڑی فلم تھی اور اس فلم میں رنگیلا کا ایک مکالمہ ’’اس دنیا نے غرق ہوجانا ہے لشکری‘‘ بڑا مقبول ہوا تھا جبکہ ایک اور یادگارفلم’’دل داجانی‘‘ میں رنگیلا کا کردار’’مسٹر ہانگ کانگ‘‘ اور اس فلم میں اداکیا ہوا اس کا ایک مکالمہ 

’’کم ازکم ہانگ کانگ میں تو اتنا ہاضمہ کسی کا نہیں تھا‘‘ 

اتنازیادہ مشہور ہوا کہ اگلے سال ریلیز ہونے والی ایک شاہکاراردو فلم’’سنگدل‘‘میں بھی ذرا سی تبدیلی کے ساتھ دہرایا گیا ۔1968میں ہدایتکار ظفر شباب کی فلم ’’سنگ دل‘‘ میں ان کا ایک مکالمہ 

’’میں نے ہانگ کانگ کے نلکوں کا پانی پیا ہے‘‘ 

زبان زد عام ہوا۔ انہوں نے سنگ دل، دیا اور طوفان، دو رنگیلے، دل اور دنیا، رنگیلا، اور ،انسان اور گدھا سمیت سینکڑوں کامیاب فلمیں بنائیں۔فلم ’انسان اور گدھا‘ میں ان کی اداکاری ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست اور عہد اقتدار پر ایک بالواسطہ جگت تھی۔معروف افسانہ نگارشوکت تھانوی کے ایک افسانے ’’الٹی گنگا‘‘ کو رنگیلا نے ’’عورت راج‘‘ کے نام سے فلم میںڈھالا ۔اس فلم میں انہوں نے اپنے دور کے نامور اور کامیاب سپر سٹاروحیدمراد اور سلطان راہی کوپہلی بار زنانہ کرداروں میں کاسٹ کرکے ایک انوکھا تجربہ کیا جو کامیاب رہا اس فلم میں رنگیلا کی اداکاری اور ہدایتکاری بے مثال تھی جبکہ اردوفلموں کے پہلے سپر اسٹار اداکار وحیدمراد اور پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ سلطان راہی نے بھی زنانہ کرداروں میں نہایت عمدہ پرفارمنس کا مظاہر ہ کرکے داد حاصل کی ۔عورت راج کا شمار رنگیلا کی مشہور اورکامیاب فلموں میں کیا جاتا ہے۔اسی طرح  فلم’’پردہ نہ اٹھاؤ‘‘ میں انہوںنے4 کرداروں میں اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کرکے داد حاصل کی۔وہ پہلے پاکستانی فنکار تھے جنہوں نے کسی فلم میں پہلی بار 4 کردار اداکئے ۔ انہوںنے اس فلم میں دادا،بیٹا،پوتا اور پڑپوتا کا کردار ادا کرکے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیااس فلم میں رنگیلا اور دیگر فنکاروں پر فلمایا ہوا سپرہٹ گانا

’’ دادا جی اپنے بیٹے کو سمجھاؤ‘‘

 ایک سٹریٹ سانگ تھا جو آج بھی شوق سے سنا جاتا ہے۔رنگیلا نے ایک گلوکار کے طور پر بھی نمایاں شہرت اور کامیابی حاصل کی اور بہت سی یاد گار نغمہ بارفلموں میں نہایت عمدہ گلوکاری کرکے ثابت کیا کہ ایک عام سی شکل وصورت کا کم تعلیم یافتہ شخص بھی بغیر کسی سفارش کے محض اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پرنام کماسکتا ہے۔اور گلو کاری کے حوالے سے ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی آواز میں اتنا درد تھا کہ سننے والوں کی آنکھیں نم ہوجاتی تھیں۔

انہوںنے منور ظریف، ننھا، لہری، خلیفہ نذیر اور نذر جیسے مزاحیہ اداکاروں کے درمیان رہ کر بھی اپنی منفرد اور الگ شناخت بنائی۔

پاکستانی فلموں کے کامیڈی اداکاروں میں یوں تونذر،ظریف ، منورظریف،آصف جاہ ،ننھا، نرالا، لہری ،علی اعجاز،عمرشریف  کوبھی بہت زیادہ شہرت اور کامیابی حاصل ہوئی لیکن رنگیلاکی طرح فلم کے بہت سے شعبوں میں ایک ساتھ کام کرنے کا ریکارڈ کوئی دوسرا فنکار آج تک نہیں توڑ سکا۔اداکار رنگیلا محض اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے ایک عام کامیڈی اداکار سے ہیرو کے کرداروں تک پہنچے۔ان جیسا کوئی دوسرا کامیڈین نہ ان کے دور میں تھا اور نہ ہی آج تک لالی وڈ ان کا کوئی نعم البدل پیدا کرسکی ہے۔

 رنگیلا کی فلم ’’انسان اور گدھا‘‘ کو اگر معاشرے کی تلخیوں کا ترجمان کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا اور یہ فلم بہت کامیاب ثابت ہوئی۔ وہ لالی وڈ کے کئی نامور ہیروز کے ساتھ فلموں میں جلوہ گر ہوئے جن میں ندیم، محمد علی، وحید مراد شامل تھے۔ انہوں نے مصنف رشید ساجد اور ہدایت کار اقبال کشمیری کی فلم ’’ہم ایک ہیں‘‘ میں ڈبل رول بھی کیا تھا۔ فلم میں ان کے ساتھ نیپال اور بنگلہ دیش کے اداکاروں نے بھی اداکاری کی تھی اور یہ فلم بھی باکس آفس پر کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی۔

 ان کو گردوں، جگر اور پھیپھڑوں کا عارضہ لاحق تھاجس کے علاج کے لئے انہیں کئی کئی مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے۔ بالآخر وہ انہی امراض کے ہاتھوں 24 مئی 2005کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی آٹھ بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں۔ ان کے دو بیٹوں سلمان رنگیلا اور کامران رنگیلا نے فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

بہترین اداکار، کہانی نویس، پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور کامیڈین ہونے کی حیثیت سے انہیں بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ انہیں حکومت کی طرف سے 2005میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔





Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts