’’ٹانگے والا خیر منگدا۔۔۔‘‘
مسعود رانا کی 25 ویں برسی ، مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ
لاہور(نوائے درویش) معروف گلوکار مسعود رانا کو بچھڑے 25 برس بیت گئے ہیں ۔ مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔مسعود احمد رانا 9جون 1938ء کو میرپور خاص کی مشہور زمیندار فیملی میں پیدا ہوئے، ان کے آبائواجداد کا تعلق جالندھر سے تھا جو قیام پاکستان سے قبل ہی ہجرت کرکے سندھ میں رہائش اختیار کر چکے تھے۔
مسعود رانا نے کسی سے موسیقی کی تعلیم حاصل نہیں کی،وہ محمد رفیع سے متاثر تھے۔بطور پلے بیک سنگر انہیں شہرت باباجی اے چشتی کی بنائی ہوئی دھن پرفلم ’’ڈاچی‘‘ کے گیت ’’ٹانگے والا خیر منگدا ‘‘سے ملی۔انہوں نے 5 ہزار سے زائد فلمی و غیر فلمی گیت گائے۔
مسعود رانا نے تین عشروں تک فلمی موسیقی پر حکمرانی کی۔مسعود رانا 1964ء میں لاہو رمنتقل ہوئے اور وہ جلد ہی اردو اور پنجابی فلموں کے مقبول ترین گلوکار بن گئے۔ انہوں نے اردو اور پنجابی زبانوں میں تین تین سو سے زائد گیت گائے جن کا آج بھی کوئی نعم البدل نہیں اور ساڑھے پانچ سو سے زائد فلموں کیلئے گانے ریکارڈ بھی کروائے۔مسعود رانا 4 اکتوبر 1995ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔







No comments:
Post a Comment