نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

چار اکتوبر،شاہد آفریدی کے لئے اہم کیوں؟

 چار اکتوبر،شاہد آفریدی کے لئے اہم کیوں؟



چاراکتوبر شاہد آفریدی کے لئے اہم کیوںہے۔ستمبر 1996 میں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھی۔ یہ دورہ ٹیم کی کارکردگی سے زیادہ اس کے ایک کھلاڑی ذیشان پرویز کے مبینہ طور پر ریپ کے الزام میں گرفتار ہونے اور معاملہ عدالت تک جانے کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آچکا تھا۔ اسی دوران ٹیم کے منیجر کو یہ پیغام ملتا ہے کہ لیگ سپنر شاہد آفریدی کو فوراً دورے سے واپس بھیج دیا جائے۔

دراصل پاکستانی کرکٹ ٹیم نیروبی میں جنوبی افریقہ، سری لنکا اور کینیا کے ساتھ چار قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کھیل رہی تھی اور تجربہ کار لیگ سپنر مشتاق احمد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹیم کو لیگ سپنر کی ضرورت تھی اس لیے قرعہ فال شاہد آفریدی کے نام نکلا۔شاہد آفریدی ویسٹ انڈیز سے کراچی پہنچے اور پھر فوراً نیروبی روانہ ہو گئے۔

شاہد آفریدی نیروبی پہنچنے پر جس ٹیم میں شامل ہوئے اس میں اکثریت سٹار کرکٹرز کی تھی لیکن ان تمام سینئر کھلاڑیوں نے پہلی بار ٹیم میں شامل ہونے والے نوجوان شاہد آفریدی کو خوش آمدید کہا اور انھیں اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں دیر نہیں لگی۔شاہد آفریدی کہتے ہیں پاکستانی ٹیم کی نیٹ پریکٹس میں جب مجھ سے بیٹنگ کے لیے کہا گیا تو مجھے حیرانی ہوئی کہ میں لیگ سپنر کے طور پر یہاں آیا ہوں تو پھر یہ بیٹنگ‘شاہد آفریدی نے نیٹ میں وسیم اکرم، وقاریونس، ثقلین مشتاق اور اظہر محمود کے خلاف اعتماد سے بیٹنگ کی بلکہ ان کی گیندوں پر کھل کر سٹروکس کھیلے۔

 اگلے دن نیٹ پریکٹس میں انھوں نے محسوس کیا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کی گیندوں کی رفتار تیز ہوگئی ہے لیکن ان کی گیندیں جتنی تیزی سے ان کی طرف آتیں اتنی ہی قوت والے شاٹس انھیں دور کا راستہ دکھاتے۔میں اس نیٹ بیٹنگ سے لطف اندوز ہورہا تھا کہ میرے کانوں میں سینئر کھلاڑیوں کی آوازیں آئیں کہ آفریدی کو اوپنر یا ون ڈاؤن کے طور پر آزمایا جا سکتا ہے۔

دو اکتوبر کو پاکستان کا مقابلہ کینیا سے تھا جس میں شاہد آفریدی نے اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کرنا تھا۔ انھیں اس بات کی اس قدر خوشی تھی کہ وہ رات صحیح طور پر نہ سو سکے۔شاہد آفریدی نے کینیا کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا لیکن اس میچ میں ان کی بیٹنگ نہیں آئی جبکہ بولنگ میں انھوں نے دس اوورز میں بتیس رنز دیے لیکن انھیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔4 اکتوبر کو پاکستانی ٹیم ورلڈ چیمپئن سری لنکا کے مقابل تھی۔ نیروبی جم خانہ گراؤنڈ میں تماشائیوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ آج وہ ایک ریکارڈ ساز اننگز دیکھنے والے خوش قسمت شائقین بننے والے ہیں۔

کریز پر آنے والے نئے بیٹسمین شاہد آفریدی تھے۔آفریدی نے پہلی گیند روکی لیکن اگلی ہی گیند پر انھوں نے چھکا مار دیا۔ سری لنکن بولرز جن میں چمندا واس، سجیوا ڈی سلوا، سنتھ جے سوریا، دھرما سینا اور متایا مرلی دھرن شامل تھے یہ سوچتے ہی رہ گئے کہ آفریدی کو ایسی کونسی گیند کریں جسے وہ باؤنڈری کا راستہ نہ دکھا سکیں۔سنتھ جے سوریا کے ایک اوور میں شاہد آفریدی نے تین چھکے اور دو چوکے مارے۔ دو مرتبہ گیند کار پارکنگ میں جا گری۔شاہد آفریدی جس بے رحمی سے ہر گیند کو کھیل رہے تھے ان کے ساتھ کریز پر موجود سعید انور ہر چھکے اور چوکے پر ان کے پاس آ کر حوصلہ افزائی کررہے تھے۔ 

اس اننگز میں سعید انور نے بھی تین ہندسوں کی خوبصورت اننگز کھیلی تھی۔شاہد آفریدی نے مرلی دھرن کی گیند پر لیگ سائیڈ پر چوکا لگا کر اپنی سنچری 37 گیندوں پر مکمل کی جس میں 6 چوکے اور بھرپور قوت والے 11 چھکے شامل تھے۔ وہ چالیس گیندوں پر 102 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

 شاہد آفریدی سے قبل ون ڈے انٹرنیشنل میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ سنتھ جے سوریا کا تھا جنھوں نے نیروبی کے اس ٹورنامنٹ سے چھ ماہ قبل سنگاپور میں پاکستان کے خلاف 48 گیندوں پر سنچری مکمل کی تھی۔شاہد آفریدی نے جس بیٹ سے یہ مشہور اننگز کھیلی وہ دراصل انڈین بیٹسمین سچن تندولکر کا تھا جو انھوں نے پاکستان کے فاسٹ بولر وقاریونس کو تحفے میں دیا تھا۔ شاہد آفریدی کا 37 گیندوں پر سنچری کا عالمی ریکارڈ 17سال تک قائم رہا۔ یکم جنوری 2014 کو نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کوئنز ٹاؤن میں آفریدی سے ایک گیند کم کھیل کر یعنی 36 گیندوں پر سنچری مکمل کی اور شاہد آفریدی کو ان کے ورلڈ ریکارڈ سے محروم کردیا لیکن اٹھارہ جنوری 2015 کو جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جوہانسبرگ میں غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 31 گیندوں پر سنچری بناڈالی اور ون ڈے انٹرنیشنل میں تیز ترین سنچری کے مالک بن گئے۔ اے بی ڈی ویلیئرز نےاس اننگز میں صرف 44 گیندوں پر149 رنز اسکور کیے تھےجن میں 16 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے۔


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts