نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

ڈراموں میں مسائل پیش کرنے کا مقصد صرف فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے، ثانیہ سعید

ڈراموں میں مسائل پیش کرنے کا مقصد صرف فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے، ثانیہ سعید


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیٹ نیوز)مشہور ڈرامہ آرٹسٹ ثانیہ سعید نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں موجودہ پاکستانی ڈراموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے۔ 1989 سے سٹیج اور ٹی وی کے درجنوں ڈارموں میں اپنی شاندار اور ورسٹائل اداکاری کا لوہا منوانے والی اداکارہ ثانیہ سعید اج کل چھوٹے پردے سے بالکل غائب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے کسی ڈرامے کی کہانی کا مقصد سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں سمجھنا اور حل کرنے کی کوشش کرنا ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب یہ سوچ بدل چکی ہے۔
ثانیہ سعید کے مطابق، آج کے پاکستانی ڈراموں میں صرف وہی مسائل پیش کیے جاتے ہیں جن سے ہم سب پہلے ہی واقف ہیں اور شاید ان کا سامنا بھی کرچکے ہیں۔ آج کے ڈراموں میں ایسے مسائل پیش کرنے کا مقصد صرف اور صرف فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے۔ ”یہ سوچ درست نہیں،“ انہوں نے کہا۔
ثانیہ سعید کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کے اداکار بھی عام لوگوں سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے، اس لیے نہ تو وہ عام لوگوں سے کچھ خاص واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے کام میں انسانی جذبات کا صحیح طور پر اظہار کرپاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ثانیہ سعید ماضی میں آہٹ، ستارہ اور مہرالنساء، وعدہ، خاموشیاں، کلموہی، زرد موسم، اسیر زادی، کتنی گرہیں باقی ہیں، تلاش، چوبیس گھنٹے، پ ±تلی نگر، فرار، اب تم جاسکتے ہو اور ساتواں آسمان جیسے ڈراموں اور ٹیلی فلمز کے علاوہ فلم ”منٹو“ میں بھی صفیہ منٹو کے کردار میں جلوہ گر ہوچکی ہیں۔ وہ اپنی بہترین اداکاری کےلئے 1991 میں پی ٹی وی ایوارڈ کے علاوہ چار مرتبہ ”لکس سٹائل ایوارڈ“ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔
c
Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts