نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

آن لائن کلاسزاور خدشات

آن لائن کلاسزاور خدشات

ملک آصف محمود۔۔۔گمان



آن لائن کلاسز کا تجربہ تعلیمی اداروں کے لئے نیا ہے،اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم بری چیز نہیں ہے لیکن نتائج کوئی حوصلہ افزا نہیں ہیں اس کی وجہ اس کے انعقاد کے مسائل ہیں۔کورونا نے جہاں دنیا بھر کے معمولات کو روک لگا کے رکھ دیا ہے، وہاں تعلیمی ماحول کوبھی بالکل بدل دیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں روزانہ حاضری، کلاس روم، اساتذہ کے روبرو لیکچر کے بہ جائے اب معاملہ ’سکرین‘ کا محتاج ہو گیا ہے۔ ’کورونا‘ کے سبب چوں کہ فروری سے ہمارے تعلیمی اداروں میں معمول کی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں، چنانچہ اب اس خسارے کو ’آن لائن‘ ذریعہ تعلیم سے پوراکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ابتداً یہ سلسلہ نجی یونیورسٹیوں سے شروع ہوا، اور اب اسکولوں میں بھی اس حوالے سے عمل درآمدہورہاہے۔ اس رجحان نے تعلیمی ماہرین میں بہت سارے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان میں ’یونیسکو‘ اور ’یونیسیف‘ کے افراد بھی شامل ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ خوفزدہ ہیں کہ ڈیجیٹل شفٹ معاشی طور پر پس ماندہ طلبا کو الگ کر سکتا ہے۔ جنھیں ڈیجیٹل اسباق کی ضرورت ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔کورونا وائرس کے نتیجے میں دنیا بھر کے سکول بند ہیں۔ جس کی وجہ سے 120 کروڑ سے زائد بچے کلاس روم سے باہر ہیں۔ اس وجہ سے ای لرننگ (E-LEARNING) کے مخصوص عروج کے ساتھ، تعلیم ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ جس کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ آن لائن سیکھنے میں معلومات کی برقراری کو بڑھاوا دیا گیا ہے۔
یونیسیف نے کہا ہے کہ کورونامیں لاک ڈاو¿ن کے دوران ان کی زندگیوں میں تیزی سے آن لائن تعلیم کے اضافے کے باعث لاکھوں بچوں کو نقصان کا خطرہ لاحق ہے۔کورونا کی وجہ سے بچوں کی زندگی صرف اپنے گھروں اور سکرینوں تک سکڑ کر رہ گئی ہے۔یونیسیف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہینریٹافورنے کہا کہ ہمیں بچوں کو اس نئی حقیقت کو تسلیم کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔
’آن لائن‘ کلاس کی تعریف کی جائے تو ایسی کلاس ہے، جس میں طلبا کسی بھی ’کمیونیکیشن سافٹ ویئر‘ کے ذریعے اپنے اساتذہ سے منسلک ہوتے ہیں اور درس و تدریس کا عمل سر انجام پاتا ہے۔ ’آن لائن‘ کلاسوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ’ای لرننگ‘ سے نا آشنائی ہے۔ تعلیمی اداروں نے ’ای لرننگ‘ ای باکس (یا ٹیسکٹ باکس)، ای ریڈر، ای سکولنگ، اور موبائل لرننگ پر کوئی توجہ نہیں دی، کیوں کہ ہمارا واسطہ اس سے پہلے کبھی کسی وبا سے نہیں پڑا تھا۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس طرح تعلیم کے دروازے اساتذہ اورطلبا کے لیے بند ہو جائیں گے۔
آن لائن کلاسوں میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کا ہے ، جو لگاتار چھے سے سات گھنٹے آن لائن کلاسوں کے لیے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، یا موبائل کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ساتھ والدین بھی ان ’آن لائن‘ کلاسوں سے بے حد پریشان ہیں۔ اکثروالدین کا کہنا ہے کہ ہمیں بھی ’آن لائن‘ کلاسوں کا طریقہ کار سمجھ میں نہیں آتا، تو ہم اپنے چھوٹے بچوں کو کیسے پڑھائیں گے۔تاہم والدین کوٹیکنالوجی کوسیکھنا چاہئے تاکہ آنے والے دور کا مقابلہ کیا جاسکے۔


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts