مثبت پاکستان
سید محمود شیرازی۔۔۔۔۔۔فکر محمود
ہمارے ایک بہت ہی مہربان دوست ہیں جناب عثمان بھٹی صاحب ان کا کہنا ہے کہ میں آپ کے کالم پڑھتا ہوں آپ حکومت پر تنقیدی کالم زیادہ لکھتے ہیں لیکن اچھے کاموں کی تعریف کم کرتے ہیں تو عرض کیا آپ حکومت کے مثبت کام گنوا دیں ہم اس کو قرطاس پر تحریر بھی کر دیں گے۔لیکن اگر ہم حکومتوں کو چھوڑ کرعوام کے کاموں کی جانب دھیان دیں تو بہت سے لوگ اپنی سطح پر مثبت کام کر رہے ہیں جنہیں سراہا جانا چاہئے نہ وہ حکومت سے کسی انعام کے متمنی ہیں اور نہ ہی ان کا مطمع نظر کسی بیرونی فنڈنگ کا حصول ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کی مرحوم شہزادی ڈیانا کے نام پر قائم کئے گئے ڈیانا ایوارڈ نے پانچ پاکستانی نوجوانوں کو یہ ایوارڈ دیا ہے اور خصوصا یہ ایوارڈ نوجوانوں کو دیا جاتا ہے جو سماجی کام کرتے ہیں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان پانچ نوجوانوں میں ایک با ہمت طالبہ نبیلہ عباس ہیں جن کا تعلق ڈیرہ غازی کے علاقے چوٹی زیریں سے ہے،واضح رہے کہ یہ علاقہ سرداروں کا علاقہ کہلاتا ہے،پاکستان کے پہلے پی ایچ ڈی صدر جناب فارق لغاری کا علاقہ بھی یہی ہے۔نبیلہ عباس گزشتہ برس امریکہ میں ہونے والی انٹرنیشنل کانگرس برائے نوجوانان میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں کی خواتین کو تعلیم یافتہ بنوانا اور انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ با اختیار بنانا ہے تا کہ پاکستان جیسے مردانہ معاشرے میں خواتین بھی اپنا آپ منوا سکیں۔
نبیلہ عباس نے ہوا بازی میں اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور پی آئی اے کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے بھی اس طرح کے نوجوانوں کو اگر سول ایوی ایشن کے شعبہ میں کام کرنے دیا جائے تو یقینا پاکستان کا ایوی ایشن محکمہ اور اس کی ایئر لائن دوبارہ ہواو ¿ں میں اڑ سکتی ہے۔ اسی ڈیرہ غازی خان سے محکمہ ماحولیات جیسی اہم وزارت پر زرتاج گل صاحبہ بھی موجود ہیں جو اپنے بیانات کے ذریعے ماحولیات کو ماخولیات میں بدل رہی ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی پاکستان کے نوجوانوں کو اسی طرح جنوبی پنجاب سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان ہیں ضلع رحیم یار خان کے احمد طورہیں جو الیکٹریکل انجینئر ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ میپس نامی ایک ادارہ کے صدر بھی ہیں جو پاکستانی بچوں کو اور نوجونوں کو گائیڈ کر تا ہے کہ انہوں نے کون سی ڈگری لینی ہے کس شعبے میں جانا ہے اور ان کیلئے کون سا کام بہترین کام رہے گا۔ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ہی کیریئر کونسلنگ کا ہے کیوں کہ ہمارے ہاں اکثر نوجواں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔ میٹرک وہ سائنس میں کرتے ہیں، پھر انٹر آرٹس میں کر کے انہیں یاد آتا ہے کہ گریجوایشن میں اکاو ¿نٹس کی تعلیم حاصل کرنی ہے جب تک اکاو ¿نٹس کی تعلیم مکمل کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ میڈیا انڈسٹری کا بڑا زور ہے اور پھر جب میڈیا میں ماسٹر ڈگری لیتے ہیں تو پھر جاب نہیں ملتی اور اگر مل بھی جائے تو اس میں کامیابی کی شرح تقریبا ایک فیصد ہے تو پھر اپنا کاروبار کرنے کی سوچتے ہیں غرض ساری عمر اسی چکر میں گزار دیتے ہیں کہ کرنا کیا ہے ہم دنیا میں آئے کیوں ہیں ہمیں کیا بننا چاہئے۔ اس کے مقابلے میں یورپ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ دیگر ممالک میں کیریئر کونسلنگ کی بڑی اہمیت ہے۔بچہ جب ہائی سکول میں جاتا تب ہی پوچھا جاتا ہے اس کے رجحانات کے بارے میں معلومات لی جاتی ہے آیا وہ آرٹسٹ بننا چاہتا ہے، انجینئر کو اپنا پیشہ بنائے گا، طب، ہوا بازی، فنانس الغرض ہر شعبہ کے بارے میں بچے کو بتایا جاتا ہے اس کے بارے میں باقاعدہ وہاں ادارے بنے ہوئے ہیں جو کیریئر کونسلنگ یا کیریئر گائیڈنس کا کام کرتے ہیں۔
یہاں کی طرح نہیں ہے کہ ایک سال اکاو ¿نٹس میں لگائے تو کامیاب نہیں ہوئے تو چلو مارکیٹنگ میں چلے جاتے ہیں وہاں بھی نہ چلے تو کسی تیسرے شعبہ میں خود کو آزما لیتے ہیں اور اگر کہیں بھی نہ چلے تو اگر کچھ سرمایہ موجود ہے تو کاروبار اچھے سے کر لیا اگر نہیں ہے تو کریانہ یا پرچون کی دکان ڈال لی کہ اپنا کاروبار اپنا ہی ہوتا ہے کا نعرہ لگا دیا۔ احمد طور اسی طرح کی پریشانی سے بچانے کیلئے ایک ادارہ چلا رہے ہیں جو اب تک ایک رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ کے قریب بچوں کو رہنمائی فراہم کر چکا ہے کہ ان کیلئے کون سا شعبہ بہترین رہے گا۔ ان نوجوانوں کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پاکستان کا مثبت چہرہ ہیں نا کہ وہ لوگ جنہیں ہم اپنا رول ماڈل بناتے ہیں پھر انہیں اقتدار بھی دلاتے ہیں اور بعد میں وہی شکوہ کرتے ہیں کہ مجھے ٹیم اچھی نہیں ملی۔ کام کرنے کی لگن ہو تو ایک آدمی بھی ہزاروں پر بھاری پڑ سکتا ہے اور ااگر لگن کے ساتھ ساتھ مہارت اور تعلیم کا تڑکہ بھی لگ جائے تو پھر سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔ خالی لگن بھی کچھ کام کی نہیں ہے اور خالی تعلیم بھی کچھ کام کی نہیں اگر یہ سارے لوازمات پورے نہیں ہوں گے تو آپ کچھ نہیں کر پائیں گے،ایک آدمی میں پاکستان کو درست کرنے کی لگن ہے لیکن اسے تجربہ نہیں ہے یا اس کے پاس ایسے لوگ نہیں یا اس کے ساتھی نکمے ہیں تو وہ جتنا مرضی لگن لگن کی رٹ لگائے ملک درست سمت میں گامزن نہیں ہو سکتا اور اگر ایک بندے کے پاس تعلیم، شعور، تجربہ سب کچھ ہے لیکن اس میں کام کرنے کی لگن نہیں ہے تو اس کی خصوصیات بھی کسی کام کی نہیں ہیں۔ اس لئے پاکستانی نوجوانوں کو احمد طور اور نبیلہ عباس جیسے لوگوں کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم کا حصول جاری رکھنا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد لوگوں کی مدد کا جذبہ بھی ہو تو پھر اس مٹی سے کئی نبیلہ عباس اور احمد طور جیسے نوجوان پیدا ہو سکتے ہیں۔







No comments:
Post a Comment