نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

میرے سجن میرے بیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



 کامیڈی جینیئس ۔۔۔۔ببوبرال




 ایوب اخترالمعروف ببوبرال موسیقار نذیر علی کے بھتیجے تھے ،وہ پیروڈی کے ساتھ ساتھ ڈھولکی بہت اچھی بجاتے تھے، انہوں نے 1982ءمیں  گوجرانوالہ میں ڈرامے”پکھے ہتھ بٹیرا“سے فنی سفر کا آغاز کیا 


محمد نویداسلم


موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں جب جس کا وقت آجائے تو چاہے بادشاہ ہو یافقےر، سفیر ہو یا مشیر....اس کوجاناہی پڑتا ہے ،چاہے زمین کی سات تہوں میں چھپ جائیں یاآسمان کی وسعتوں میں محفوظ ہوجائیں لیکن موت وقت مقررہ پرآکر رہتی ہے ۔سٹیج، ٹی وی اور فلم کاایک معروف ستارہ ببو برال کی آج نویںبرسی ہے۔ان کانام ان کے کام کی وجہ سے ہمےشہ امر رہے گا۔
ببو برال کاتعلق گکھڑ منڈی سے تھا۔ ان کااصل نام ایوب اختر تھا۔ تاہم اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ ایوب اختر ببو برال کے نام سے جانا جائے گااور لوگوں کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرے گا۔وہ موسےقار نذیر علی کے بھتیجے تھے ۔ان کو شروع سے ہی سٹریٹ تھےٹر سے لگاﺅ تھا ۔ وہ مختلف فنکشنز میں ون مین شو کی حیثیت سے پرفارم کیا کرتے تھے ۔ان کومزاح کے ساتھ ساتھ گائےکی اور آلات موسےقی پرعبور حاصل تھا۔ وہ پیروڈی کے ساتھ ساتھ ڈھولکی بہت اچھی بجاتے تھے ۔اس دور میں نہ تو میڈیا اس قدر جوبن پر تھا جیسا آج ہے اور نہ ہی اس میں کام کرنے کا معاوضہ اتنا ملتا تھا کہ فنکار صرف فنکار ہی رہ سکتا چنانچہ ببوبرال بطور پائپ فٹر بھی کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان کے من میں شروع سے ہی بہت کچھ کرنے کی لگن تھی ۔انہوںنے فنی سفر کاآغاز 1982ءمیں گوجرانوالہ میں ںڈرامے”پکھے ہتھ بٹیرا“ سے کیا جس کے رائٹر وڈائرہکٹرسید جبار بخاری تھے ۔ 
ہہ وہ زمانہ تھا جب گوجرانوالہ میں تھیٹر کے ڈراموں کے لئے  فنکار لاہور سے  بلائے جاتے تھے۔ببو برال کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ پنج پٹےا فنکار تھے ےعنی وہ ہرکام کرنے مہں ماہر تھے۔انہوں نے شوق کی وجہ سے گوجرانوالہ سے لاہور کارخ کیا۔ اس وقت لاہور میں سہیل احمد،مستانہ اوراشرف راہی اپنے کام کی وجہ سے شہرت حاصل کررہے تھے۔ببو برال نے1986ءمیں لاہور میں اوپن ایئر تھیٹر سے کام شروع کیا۔ان کی ملاقات ےہاں پرڈائریکٹر فخری احمد اورطارق جاوےد سے ہوئی۔ ان کوآغاز میں اتنی کامیابی نہ ملی جس کی ان کو توقع تھی، وہ ا س سے خاصے دلبرداشتہ ہوئے اور مایوس ہوکرراولپنڈی چلے گئے ،وہاں شی میل ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن الماس بوبی کے گروپ میں چارسال تک پرفارم کرتے رہے۔ ان کواداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کابھی شوق تھا، ان کی آواز میں کمال کی اٹھان تھی،جس کی وجہ سے ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ اونچے سر کے گلوکار تھے۔ببوبرال کو رنگیلا سے عقیدت تھی انہوں نے لاہور آکر انہی کی شاگردی اختیار کی ۔
تین عشروں پر محیط فنی زندگی میں ببو برال نے اداکاری کے علاوہ سٹیج ڈرامے لکھے اور ہدایات کاری بھی کی۔وہ جب راولپنڈی سے واپس لاہور آئے تو اورا نکے ڈرامے’ ’شرطیہ مٹھے“ کواتنی کامیابی ملی کہ وہ راتوں رات شہرت کی بلندےوں پرپہنچ گئے۔ اس کے بعدڈرامہ” کچھ نہ کہو“ نے بھی بے پناہ کامےابی حاصل کی،اس کے بعد ان کا شمار سٹیج کے بہترین اداکاروں میں ہونے لگا۔کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ سٹیج پر اداکاری کے لئے انہیں امریکہ سے بلاوا آگیا۔ وہ کافی عرصہ تک امریکہ میں مقیم رہے اور 1992ءمیں لاہورآئے ۔”شرطیہ مٹھے“ ،”باباڈانگ“ ،” سوئے لال“،”عاشقو غم نہ کرو“ اوردیگران کے مشہور ڈرامے  ہیں۔ان کی اداکاری کے سبب انہیں وہ شہرت ملی کہ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ہوگیا۔ اخبارات ان کا مقابلہ اس دور کے دیگر فنکاروں سے کرنے لگے۔ اسی اثنا ءمیں انہیں حقیقی عوامی فنکار بننے کا بھی موقع ملا۔
ببوبرال کو بیک وقت کئی بیماریوں نے آگھیرا تھا۔ ذیابےطس کا مرض انہیں 1999ءمیں ہوا لیکن اس پر انہوں نے خاطر خواہ توجہ نہ دی نہ ہی صحیح علاج کرایا۔ اس مرض میں ان کے گردے بھی جاتے رہے۔ پھر ہیپاٹائٹس نے بھی انہیں آگھیرا ۔ بیماریوں کے سبب وہ بستر سے لگ گئے اور سٹیج پر کام کرنے کے بھی قابل نہ رہے،کام چھوٹ جانے کے سبب تنگ دستی نے پیچھا لے لیا۔ ےہ ان کامشکل وقت تھا۔رواں ماہ شوگر کا مرض اس قدر بڑھا کہ ڈاکٹروں کو پہلے دائیں پاﺅں کی انگلیاں کاٹنا پڑیں پھرٹانگ کاٹنے کا فیصلہ بھی کیاگیالےکن غنودگی کی وجہ سے ےہ آپرہشن نہیں کیاجاسکا ۔ انہیں گردے کی بھی تلاش تھی۔ اتنی بیماریوں کا علاج کراتے کراتے ساری جمع پونجی خرچ ہوگئی، مجبوراً دوستوں اور حکومت سے امداد مانگنا پڑی۔ پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ کچھ قریبی دوستوں اور کچھ سیاسی رہنماﺅں نے بھی مالی مدد کی لیکن موت کے فرشتے کے آگے سب بیکار ثابت ہوا۔انہوں نے دوشادیاں کیں۔ ان کی پہلی بےوی مسرت جب کہ دوسری بےوی اداکارہ ثوبےہ ہے ۔ببو برال کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔
  پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے 2010ءمیں ببوبرال کی لاجواب فنی خدمات کے عوض انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔نہوں نے گلوکاری کے لئے ملکہ ترنم نور جہاں کے استاد غلام محمد کے بیٹے نعیم خان کی شاگردی اختیار کی۔اس دوران بطور گلوکار اپنا ایک البم ”بیتیاں رتاں“بھی ریکارڈ کرایا ۔انہوںنے اس البم کے ایک گیت کی ویڈیو بھی بنائی جس کوبہت یادہ سراہاگیا۔وہ رنگیلااورمنور ظریف سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ وہ رنگیلا کی شاگردی اختیار کرنے پرفخر کیاکرتے تھے۔ ان کی یادگار فلموں میں”چوڑیاں“،”مجاجن“ اور”چناں سچی مچی“شامل تھیں۔ پروڈیوسر اعجاز باجوہ کی فلم ”چناں سچی مچی“ان کی آخری فلم تھی۔
ببوبرال اورمستانہ جگری دوست تھے۔سٹیج کی دنیا کے یہ دونوں نام زندگی بھر ایک دوسرے کے گہرے دوست رہے، ساتھ ساتھ کام کیا، ساتھ ہی ساتھ فن کی دنیا میں شہرت حاصل کی۔ دونوں کی جوڑی نے کئی لازوال ڈرامے دیئے۔ ایک مشترکہ فلم”شرطیہ مٹھے“ بھی بنائی،دونوں ایک ہی مہینے میں ایک ہی مرض میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ان کا انتقال16پریل2011 کوہوا تھا۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہو ا ہے وہ کبھی پر نہں ہو سکتا۔



Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts