ماں جی کی دوسری برسی کا پرسہ
محمد شجاع الدین۔۔۔۔قبر کی تلاش
آبادیوں جیسی آبادی تھی۔اپنی دیکھی بھالی بھی تھی۔ پھر میں کوئی پہلی بار تویہاں نہیں آیا تھا ، جو آج اتنی بیگانگی محسوس ہو رہی تھی۔وہی قطار اندر قطار بنی رہاشگاہیں ، وہی کیاریاں ، جہاں رنگ رنگ کے پھول بوٹوں کی بہار ، وہی کبھی سیدھی تو کبھی دائیں بائیں مڑتی روش ، کہیں پختہ اینٹیں جڑی بیٹھی تھیں اور کہیں پکی مٹی کی پگڈنڈی۔
سب کچھ وہی تھا جو بچپن سے دیکھتا چلا آیا تھا۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی دونوں ہی ہر عید نماز سے فارغ ہو کر والد صاحب کے پیچھے پیچھے چلتے مسجد سے سیدھا یہیں پر پہنچتے تھے۔ ہاں البتہ نکڑ کی دکان سے پھول پتیاں ، اگربتی کے پیکٹ اور ماچس کی ڈبیہ لینا نہیں بھولتے تھے۔
عید، بقرعیدہو۔۔ شب برات ہو یا رمضان شریف کی ستائیسویں رات، اس آبادی میں آنیوالوں کی تعداددوچند ہوتی۔ کیا بچہ کیا بزرگ ، کیا جواں سال مرد کیا خاتون خانہ ، سبھی کے قدم اس آبادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ،ہر ایک کے دل دماغ دور کہیں بہت دوراپنی اپنی یادوں کی دنیا میں کھوئے ہوئے ہوتے ، اس آبادی کی طرف رخ کرنیوالوں میں ایک قدر مشترک ضرور تھی ، وہ تھی آنکھوں کی نمناکی اور تھرتھراتے لبوں پر حرف دعا۔
ہر ذی نفس منزل پر پہنچ کر برسہا برس سے بند کواڑ کے سامنے اپنی سسکیوں آہوں اور آنسوو ¿ں کے پرسے کا گلدستہ رکھ کر واپس مڑ جاتا۔ ایک عمر تک میرا بھی یہی معمول رہا لیکن آج کیا ہوا۔ منزل تھی کہ مل کے ہی نہیں دے رہی تھی۔
حد ادب کا تقاضا پورا کرتے میں اس آبادی میں جب بھی آتا ہوں جوتے صدر دروازے پر اتار کر اندر داخل ہوتا ہوں۔ مجھے کبھی دقت نہیں ہوئی۔ قدم کتنے بھی بوجھل ہوتے منزل پر پہنچ کر خود ہی تھم جاتے لیکن آج پاوں شل ہو گئے۔ ذہن ماﺅف ہو گیا۔ بارہا آنکھوں میں اترتا پانی صاف کر کے ایک ایک نام کی تختی کو کئی کئی بار پڑھا مگر وہ تختی نہ ملی جس کی مجھے تلاش تھی۔
اس آبادی کے مکینوں کے ناموں کی تختیاں بھی عجب بہار دکھاتی ہیں۔کچھ ایسی روشن کہ چاند تارے کی لو بھی شرما جائے۔ تحریر اتنی صاف اور شستہ کہ جانئے سونے چاندی کی تاروں میں گندھی ہو۔ دلپذیر اتنی کہ مانو آنکھوں کے سامنے گزری ہوئی تاریخ کا نقشہ کھنچ جائے۔ اپنے وقتوں کے شہسواروں نے آنے والے ہر زمانے کو بھی فتح کیا اورخود کو کبھی ماضی کا قصہ نہ بننے دیا۔ میری بھٹکتی ہوئی نگاہیں سیپ اور موتیوں سے جڑی ایک تحریر پر آ کر ٹھٹھک گئیں۔ آنکھوں سے ٹپکتا پانی سیل رواں کی طرح بہہ نکلا۔ ہچکی ایسی بندھی کہ موت کے سناٹے کو چیرتی عرش تک جا پہنچی۔ بدن پر لرزہ طاری ہوا اور میں دھڑام سے نیچے آ گرا۔
یکایک کیا دیکھتا ہوں کہ ہر سو چہل پہل ہے۔ کہیں مکان کہیں بنگلہ تو کہیں محل نما فلک کو چھوتی عمارت تنی کھڑی ہے۔ بے داغ لباس میں ملبوس ہر کوئی اپنی دھن میں مگن نظر آیا۔ بس ایک میں ہی جینز اور ٹی شرٹ میں بھٹکتا حیران نظروں سے اپنی منزل کے نشان کھوجتا پھر رہا تھا۔ ایک آدھ سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی لیکن سعی لاحاصل ثابت ہوئی۔
تھک کر چور قدموں میں ایک لمحے کیلئے سرعت آئی اور پھر ڈگمگانے لگے۔ اس سے پہلے کہ میں اوندھے منہ گر جاتا ایک ہاتھ میرے کندھے پر آ ٹکا۔ آواز آئی۔ کس کا گھر ڈھونڈتے ہو بیٹا ؟ ماں جی کا۔ اپنے خیالوں میں گم میں نے کہا۔ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو۔ آواز پھر ابھری۔
جب تم پہلا قدم اٹھانے کی کوشش میں گرے تھے تو بسم اللہ۔۔ ستے خیراں۔۔ کہنے والی تمہاری ماں تھی۔۔۔۔ کچی کا قاعدہ ہاتھ میں تھامے سکول کے گیٹ تک لانے والی۔۔ تمہاری پہلی شرارت پر تمھیں تھپڑ مار کر خود ہی رو دینے والی۔۔ رات بھر چھت کی منڈیر پر کھڑی رہ کر تمہاری آوارہ راتوں کا پہرہ دینے والی۔ تمھاری ماں ہی تو تھی۔
جوانی کے منہ زور گھوڑے پر سوار جب تم ناراض ہو کر بھوکے پیاسے کالج چلے جاتے تو خالی پیٹ شام ڈھلے تک دہلیز پے کھڑی تمہارا انتظار کرنیوالی۔۔۔ تمہیں نئے کپڑے دلانے کیلئے اپنے دوپٹے کے چھید چھپانے والی۔۔۔ تمھاری ماں ہی تو تھی۔۔۔ یاد کرو جب تم نے پہلا سگریٹ پیا تھا اور بوگن ولیا کی بیل کے پتے چباتے گھر واپس آئے تھے تو تمھاری ماں نے جانتے بوجھتے صرف اتنا کہا تھا بیٹا صحت خراب ہو جاتی ہے۔۔۔
اور پھر تمہارے پہلے پیار کی چوری بھی تو تمہاری ماں نے ہی پکڑی تھی کیونکہ وہ تمھاری آنکھیں پڑھنے کا ہنر جانتی تھی۔۔ تمہارے سہرے کے پھول سجاتے سجاتے نجانے کتنے کانٹوں نے اس کی انگلیاں چھلنی کی تھیں۔۔ لیکن وہ ہر بار انگلیوں سے رستے لہو کے قطروں کو اپنے آنسوو ¿ں سے دھو ڈالتی کہ کہیں خون کے دھبے تمہاری سیج خراب نہ کر دیں۔۔۔ تمہاری ہر تکلیف پر صدقے واری جانے والی بھی تمہاری ماں ہی تو تھی۔ اسی لئے تو تمہیں کچھ تکلیف دیئے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئی۔۔
اور آج جب تم بھرے بازار میں خود کو تنہا محسوس کرتے ہو۔۔ محفل کو ویرانہ جانتے ہو۔۔ دنیا کے کرب و بلا سے گھبرا جاتے ہو۔۔ کبھی سوچا باد سموم کے جھلسا دینے والے دنوں میں آسمان پر اڑتا بادل کا ایک ٹکڑا تمہارے سر پر سایہ کیوں کئے رکھتا ہے ؟ کبھی سوچا غم و اندوہ میں ڈوبی۔۔ یاسیت بھری راتوں میں ایک چمکتا ستارہ تمہارے لئے مشعل راہ کیوں بن جاتا ہے۔۔ ؟
اس لئے کہ مائیں مرتی نہیں زندہ رہتی ہیں۔۔اپنے بچوں کے سائے کیساتھ چلتی ہیں۔ بچوں کے سر پر سایہ فگن رہتی ہیں۔ مائیں قبروں میں نہیں اپنے بچوں کے دلوں میں رہتی ہیں۔۔۔۔
میں نے یکلخت مڑ کر دیکھا۔۔۔ ماں جی آپ ؟ میرے منہ سے بے اختیار نکلا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔۔ ایک دم سر میں ٹیس سی محسوس ہوئی۔میں مٹی کے ایک ڈھیر پر اوندھا پڑا تھا۔ آنکھوں سے بہتا سیلاب خشک ہو چکا تھا۔۔ آہوں اور سسکیوں کی آوازیں کہیں دور ڈوب گئی تھیں۔۔۔ ہاں۔۔ دل کی دھڑکن ذرا تیز تھی۔۔ کوئی آہستہ آہستہ دستک دے رہا تھا۔۔۔ کیونکہ
مائیں قبروں میں نہیں اپنے بچوں کے دلوں میں رہتی ہیں۔۔۔
رہے نام اللہ کا
نوٹ: یہ کالم نگار، بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔







No comments:
Post a Comment