انتظار حسین کی بستی اور عورت مارچ
نقطہ نظر....عثمان امجد بھٹی
سردی سال بھر کے لیے اداس چھوڑ کر خدا حافظ کہتی ہوئی دروازہ سے نکل رہی تھی کہ چوکھٹ تھام کر ایک نظر دیکھنے کو پلٹی۔ میں نے دیکھا آنکھ اسکی بھی نم تھی ! مگر یہ الوادع ہوتے ہوئے پلٹ کر دیکھنا کلیجہ چیر جاتا ہے۔ اس ایک اداس لمحے نے میرے دل میں سوئے کتنے ہی اداس لمحوں کو بیدار کر دیا ہے۔ میرا ایک معصوم ، چھوٹا سا دل اورسینکڑوں اداس لمحے !!
آج کی دھوپ اچھی تھی اور اسے چہکتے پرندوں اور انتظار حسین کی بستی نے چار رنگی بنا دیا۔ گھر کے اندر باہر اور آس پاس درخت ہوں تو پرندے چہکنے کو آجاتے ہیں
بستی سنگ میل نے چھاپی ہے اور کاغذ اور طباعت اور حاشیہ اسے دلکش بنا دیتا ہے اور پھر انتظار حسین کی نثر !!!
چند صفحوں نے ہی ایسا لطف دیا کہ آپ سے کہے بنا رہ نہیں پایا۔ انتظار حسین تسی مرنا نا ہیں گور پیا کوئی ہور !!!
( ہر طرف عورت مارچ کر رہی ہے اور میں کیا لے بیٹھا !!! )
ہر طرف عورت مارچ کر رہی ہے اور میں خود کو مجرم سا مانتا ہوا گھر میں دبکا بیٹھا ہوں کہ کہیں دبوچ نہ لیا جاو ¿ں۔ اگر آپکی اس مارچ میں کوئی شنوائی ہے تو محترم خواتین کو یاد دہانی ضرور کروائے گا کہ مارچ کے راستے میں رشتوں کا کوئی بھی پ ±ل آئے تو ردھم توڑ دیں ورنہ رشتوں کا پ ±ل ٹوٹ جانے کا خطرہ ہے!!
اور ہاں پیارے مومنو ! اگر آپنے عورت بارے قران کے احکامات اور ہدایات اور پیارے نبی حضرت محمدﷺ کے ارشادات اور سنتوں پر عمل کیا ہوتا تو آج عورت کو یوں باہر نہ نکلنا پڑتا اور نہ ہی آپ تردید کرتے اور اسلام کی دوہائیاں دیتے ہانپ رہے ہوتے !
ہم مذہب کے نہیں رسم و رواج ( کلچر ) کے تابع ہیں !!!!







No comments:
Post a Comment