نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

نثر شعر کی نسبت آسان ، پابندی نہیں اس لئے زیادہ رواج پارہی ہے:اشرف جاوید

نثر شعر کی نسبت آسان ، پابندی نہیں اس لئے زیادہ رواج پارہی ہے:اشرف جاوید






نثر شعر کی نسبت آسان ، پابندی نہیں اس لئے زیادہ رواج پارہی ہے:اشرف جاوید
٭....میں نے پہلا شعر اس وقت کہا جب اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں تھرڈ ائر کا طالب علم تھا،وہ بھٹوصاحب کا زمانہ تھا
 ٭....آج کا معاشرہ سوانح عمری پڑھنا چاہ رہا ہے،وہ تاریخ پڑھنا چاہ رہا ہے،عام آدمی کا رجحان شعر کی نسبت حالات حاضرہ کی جانب زیادہ ہے، اس لئے نثر زیادہ مقبول ہورہی ہے
٭....اب تک چار شعری مجموعے ’ نخل نوا“ ،”آنکھ بھر خواب“، ”داغ چراغ ہوئے“ ، ”نشاط غم “آچکے ہیں ، تحقیق کے حوالے سے میرا داغ دہلوی پر کام بطور خاص قابل ذکر ہے
٭....آج کی غزل انسانیت کی چیخ ہے،سینئر شاعرونقاد اشرف جاوید سے طارق کامران کامران کا نوائے درویش کے لئے خصوصی انٹرویو 
(انٹرویو:طارق کامران ،تصاویر نفیس قادری)


نوائے درویش: شعرگوئی کا سلسلہ کب سے جاری ہے،کیا کسی سینئر شاعر کے سامنے باقاعدہ زانوئے تلمذ طے کیا؟
ج: میں نے پہلا شعر اس وقت کہا جب اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں تھرڈ ائر کا طالب علم تھا،یہ بھٹوصاحب کا زمانہ تھا، جب بھارت کی قیدمیں موجود ہمارے نوے ہزارجوانوں کو رہائی ملی تو میں نے یہ شعر کہا۔
 وطن کے نگہباں چلے آرہے ہیں
خوشی سے پریشاں چلے آرہے ہیں
ہمارے کالج میں اردو کے استاد پروفیسر حمیدکوثر تھے جو ابو الاثر حفیظ جالندھری کے شاگرد تھے اوران کے منہ بولے بیٹے بھی تھے جب میں نے درج بالا شعر کہا تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ یہ شعر تم پروفیسر صاحب کو سنا ﺅ، وہ بتائیں گے کہ یہ شعربھی ہے کہ نہیں، جب میںنے انہیںیہ شعر سنایا تو انہوں نے کہا کہ شعر تو وزن میں ہے،میرا خیال ہے کہ تم مستقبل میں بھی شعر کہو گے،ان کی حوصلہ افزائی کے سبب میں نے شعر کہنے شروع کردیئے اور ان سے اصلاح سخن بھی لیتارہا، پھر میں کالج سے پنجاب یونیورسٹی میں آگیا تب میں نے پہلا باقاعدہ مشاعرہ1977میں پڑھاان دنوں علامہ اقبال کاصدسالہ جشن منایا جارہا تھا،اسی حوالے سے یہ مشاعرہ وائی ایم سی اے ہال میں مشاعرہ ہوا، جس کی صدارت فیض احمدفیض نے کی تھی ، تاہم ادبی حلقوں میں آنا جانا1980میں شروع کیا، ملک میں مارشل لاءلگ چکا تھا،اس وقت حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس لوہاری مسجد کے پاس ہواکرتے تھے، میں حلقہ ارباب ذوق کا رکن اس وقت بنا جب اسکے اجلاس پاک ٹی ہا?س میں ہونے لگے تھے، اگرچہ میں نے کبھی حلقہ ارباب ذوق کے انتخابات میں تو حصہ نہیں لیالیکن جب حلقہ دوسری بار دو لخت ہو اتو اسے ایک کرنے کےلئے میں نے بھرپو ر کردار ادا کیا۔
نوائے درویش: اب تک آپ کے کتنے شعری مجموعے منظرعام پر آچکے ہیں؟
ج۔ اب تک چار شعری مجموعے آچکے ہیں پہلا” نخل نوا“ دوسرا ”آنکھ بھر خواب“تیسرا ”داغ چراغ ہوئے“ اور چوتھا ”نشاط غم “ہے، اس کے علاوہ میں نے تنقید پر جو کام کیا ہے اس کی بھی ایک کتاب” خیال وخد “کے نام سے موجود ہے ، جبکہ تحقیق پر ”خیال وخد سے آگے“ کے نام سے میرے مضامین کا مجموعہ بھی کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے، تحقیق کے حوالے سے میرا داغ دہلوی پر کام بطور خاص قابل ذکر ہے
نوائے درویش : شاعری ہے کیا ؟ کیا یہ محض ذوق وشوق کی تسکین ہے یا اس سے کوئی مقصد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے؟
ج:شاعری انسان کی تہذیب کرتی ہے، دیکھا جائے تو یہی ایک بہت بڑا مقصد ہے، ابتدا میں شاعری کی تعریف کی گئی کہ یہ عورتوں سے باتیں کرنا ہے، یا جنگل میں ہرن کو تیر لگنے پر جو چیخ نکلتی ہے وہ شاعری ہے،ابتدا میں تو یہ تعریف درست ہوسکتی تھی لیکن بعد میں جیسے جیسے حالات بدلے، انسان کا علم سے رشتہ زیادہ مضبوط ہوا،تو غزل گوئی یا شاعری صرف عورتوں سے باتیں کرنے تک محدود نہیں رہی، بدلتے ہوئے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت انسانیت کی جو چیخ نکل رہی ہے، یا انسان کے جن مسائل نے اسے گریہ پر مجبور کردیا ہے، آج کی شاعری اس کی ترجمانی کرتی ہے۔
نوائے درویش: کیا کسی خاص مقصد یا نظریئے کے تحت ہونے والی شاعری یا نثرکو ادب عالیہ تسلیم کیا جاسکتا ہے، یا اپنی تخلیق میں کسی خاص نظریئے کو پیش کرنا درست ہے، یا اس سے ادب کا مرتبہ کم ہوجاتا ہے؟
ج۔ اگر کسی خاص نظریئے کو شاعری میں لانے کی کوشش کی جائے تو وہ شاعری نہیں رہتی ، وہ تو پراپیگنڈہ ہوگا، شعر کی ایک پرت نہیں ہوتی، اس کی کئی پرتیں ہوتی ہیں ، وہ آپ کے جذبات کی ترجمانی بھی کرتی ہے اور آپ پر فکر کادر بھی وا کرتی ہے،اور یہ بات نثری تخلیق پر بھی صادق آتی ہے۔ آج کہاجاتا ہے کہ ادب میں ترقی پسندی روسی نظریات یا شوشلزم کی وجہ آئی ہے، جبکہ میرے نردیک دنیا کے سب سے پہلے ترقی پسند انسان حضرت محمد ﷺ ہیں،جنہوں نے عورت کو عزت دی ،پسے ہوئے طبقات کومعاشرے میں ان کا جائز مقام دلوایا ہے،اورایک اللہ کی حاکمیت کا اعلان کیا، آج کی معروف ترقی پسندی بھی آنحضرت ﷺ کے نظریات سے مستعار لی گئی ہے۔
نوائے درویش: کیا شعروادب سے کوئی بڑی سماجی تبدیلی لائی جاسکتی ہے؟
ج۔جی بالکل لائی جاسکتی ہے جیسا کہ سرسید احمدخان ؒاپنی تحریروں اور علامہ اقبالؒ اپنے اشعار کے ذریعے لائے، سرسید کا کہنا تھاکہ اپنی شاعری میں صرف عورتوں کی باتیں نہ کریں جبکہ انسانی سماج کو جو مسائل درپیش ہیں ، ان کو بھی اپنے اشعار پیش کریںاور علامہ اقبال نے جس طرح اپنی شاعری میں ہماری فکری تربیت کی ،ان دونوں دانشوروں کی فکر کو عملی طورپر اپناتے اور اس کے تحت جدوجہد کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے ہمیں پاکستان جیسا عظیم ملک بنا کردیا ، جس میں ہم عزت وقار کے ساتھ رہ رہے ہیں
نوائے درویش: کیا یہ تاثر درست ہے کہ غزل کی نسبت نظم کا مستقبل زیادہ روشن ہے اور غزل ادبی منظرنامے سے بتدریج غائب ہوتی جائے گی ؟
ج:1960میں بھی یہ بات کہی گئی تھی جب غزل تھوڑی سی کمزور پڑی تھی اور غزل کہنے والے اسی روایت کو قائم رکھے ہوئے تھے جس کے تحت غزل صرف عورتوں سے باتیں کرنے تک محدود تھی ، اس وقت نظم سامنے آئی جو میرا جی اور ن م راشد نے لکھی جس میں عشق وعاشقی کی باتیں نچلی سطح پر چلی گئی تھیں اورانسان کو درپیش مسائل کا بیان زیادہ واضح طورپر سامنے آیاتھا ،جدید نظم میں اپ جو بات کہنا چاہیں وہ آپ آسانی سے کہہ سکتے ہیںاور نظم میں موجود ردیف قافیہ کی بندش بھی اٹھادی گئی تو لوگوں نے نظم میں سہولت محسوس کی اور نظم زیادہ کہی جانے لگی ،اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہا گیاکہ غزل آئندہ چند برسوںمیں یا توختم ہوجائے گی یا پھر بہت کمزور انداز میں موجود رہے گی لیکن آپ نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہوا غزل ایک بہت مضبوط صنف سخن ہے،اس میں بہت وسعت ہے،اس نے ہر موضوع کواپنے اندر سمولیا، میرنے اگر محبوب کی بات کی تو اس نے شہر آشوب کی بھی بات کی،غزل اتنے مضبوط اعصاب کی صنف ہے کہ یہ ختم ہونے والی نہیں اور یہ اپنا تشخص ہر صورت برقراررکھے گی جبکہ نظم کہنے والے آج اس طرح سے نظم نہیں کہہ رہے جس طرح سے انہوں نے بیس سال پہلے آغاز کیا تھا۔
نوائے درویش: کہا جارہا ہے کہ شاعری پس منظر میں جارہی اور نثراپنا راستہ بنارہی ہے؟
ج۔نثر لکھنا شعر کہنے کی نسبت آسان ہے،آپ جانتے ہیں کہ میںنظم ونثر دونوں لکھتا ہوں، شعر قواعد وضوابط کے تحت کہا جاتا ہے،اس کی پابندی کرنا ہوتی ہے جبکہ نثر میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی اس لئے یہ شعر کی نسبت زیادہ رواج پارہی ہے، آج کا معاشرہ سوانح عمری پڑھنا چاہ رہا ہے،وہ تاریخ پڑھنا چاہ رہا ہے،عام آدمی کا رجحان شعر کی نسبت حالات حاضرہ کی جانب زیادہ ہے، اس لئے نثر زیادہ مقبول ہورہی ہے۔
نوائے درویش :کیا خیال ہے کہ اگر کوئی تخلیق کار نظم ونثر میں سے کسی ایک میڈیم کو اپنائے تو وہ تخلیقی طورپر زیادہ توانائی کے ساتھ سامنے آتا ہے؟
ج۔ضروری نہیں کہ کوئی ہروقت شعر میں ہی بات کہے، مثال طور کے طورپر اگر غالب نے شعر کہے تو اس نے خطوط بھی لکھے ہیںجن میں اردونثر میں ایک بڑا مقام ہے،نظم اور نثر دونوں ہی آپ کے اظہار کے وسیلے ہیں،کبھی تخلیق کار اپنا اظہارشعر میں کرنا چاہتا ہے اورکبھی نثر میں زیادہ سہولت محسوس کرتا ہے، تخلیقی رو یک سمتی اور یک جہتی نہیں ہوتی ،تاہم ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی شاعر بہت اچھا ہو مگر نثرنگار اس مقام ومرتبے کا نہ ہواور کوئی دوسرا ممکن ہے نثر نگار بہت اچھا ہے مگر شعر کہنے پر اس کی مہارت اس درجے کی نہ ہو،مگر کچھ ایسے تخلیق کار بھی گزرے ہیں جو نظم ونثر پر یکسا ں عبوررکھتے تھے،جیسا فیض صاحب نے شاعری کی تو کمال کی اور نثر لکھی تو وہ بھی لاجواب تھی ، احمدندیم قاسمی نے افسانے بہت خوبصورت لکھے اور شاعری بھی اعلیٰ درجے کی۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts