نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

دنیا سے جانے والے جانے چلےجاتے ہیں کہاں...................نصرت بیگ کی یاد میں


نصرت بیگ کی یاد میں


 رفتارادب........طارق کامران




آج پریس کلب میں داخلے کے فوری بعد حسب معمول نوٹس بورڈ پرنظر ڈالی تو ایک دکھ بھری خبرمیری منتظر تھی،جس کے مطابق ہنس مکھ اور وضع دار دوست مرزا نصرت بیگ ہم سے جدا ہوگئے تھے۔
ایک دن رخصت توسب نےہی اس جہان فانی سے ہونا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے،مگرکچھ خبریں اس قدراچانک اورخلاف توقع ہوتی ہیں کہ آدمی ہل کر رہ جاتا ہے، اور دنیا کی حقیقت ایک لمحے میں اس پرروشن ہوجاتی ہے، نصرت بیگ کے انتقال کی اطلاع بھی ایسی ہی دکھ بھری ہے۔
نصرت سے سالوں کا تعلق تھا،اس سےپہلی ملاقات 2003میں روزنامہ انصاف کےدفتر میں ہوئی تھی،جہاں وہ ہمارا کولیگ تھا اورڈسٹرکٹ نیوز ڈیسک پر زاہدرفیق بھٹی کےساتھ کام کرتا تھا، کچھ دنوں میں ہی طبعیت اس سےکچھ ایسی ہم آہنگ ہوئی کہ دوستی کا رشتہ استوار ہوگیا،وہ کچھ سیماب صفت ساتھا، کچھ عرصہ کہیں کام کیا، اوراچانک چھوڑ چھاڑکرازخود ایک لمبی رخصت لےلی،یہ شاید اس لئے بھی تھا کہ اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے وہ مالی طورپر قدرے آسودہ تھا ، مہمان نوازتھا،اس کی کوشش ہوتی تھی کہ کلب میں اپنی میز پر آنے والے ہر دوست کا بل وہ ہی اداکرے۔ صاحب مطائعہ اورباخبر شخص تھا،اس سےمل کر معلوما ت میں اضافہ ہوتا تھا، ایک سال قبل جب جنگ گروپ سے ہماری جبری رخصتی ہوئی تونصرت سےکلب میں روزانہ ملاقات ہونے لگی، وہ ایف بلاک میں پلاٹ ملنے پر بہت کچھ خوش تھا، اوروہاں اپنا ذاتی گھر تعمیرکرنے کی آرزو رکھتا تھا،ایک بار ہم دونوں اس حوالے سے کچھ معلومات حاصل کرنے کےلئے جرنلسٹ کالونی بھی گئے تھے، افسوس اپنے اس خواب کی تعبیر اس کے مقدر میں نہ تھی۔

آخری اطلاعات کے مطابق وہ ایک ویب سائٹ کےلئے کام کررہا تھا،جہاں تنخواہ تو کم کم ہی ملتی تھی تاہم دوپہر کا کھانا اور چائے ضرور مل جایا کرتی تھی،ان دنوں بیشتر صحافتی اداروں کے حالات کچھ ایسے ہی ہیں،چند ماہ قبل اس نےاچانک کلب آنا بند کردیا، میں سمجھا شاید حسب سابق اپنے گائوں چلا گیا ہے، واپس آجائے گا جب دوبارہ بتیاں دیکھنے کو دل مچلے گا۔

مگراس بارتو وہ وہاں چلا گیا ہے جہاں سےواپسی کسی کے بس کی بات نہیں



دنیا سے جانے والے جانے چلےجاتے ہیں کہاں



 رفتارادب........طارق کامران


 نوٹ:

 یہ کالم نگار،بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس کیلئے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں ہے


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts