خالص ترین شہد
بزم انجم۔۔محمدبوٹا انجم
سلمان نامی ایک دوست جو کچھ ہی عرصہ پہلے جرمنی میں قیام پذیر ہوئے تھے ایک روز گروسری کرنے کے لیے سٹور پر گئے۔اشیائے ضرورت ٹرالی میں بھر کر بل کروانے کے لیے کاونٹر پر پہنچے۔سامان میں شہد کی ایک بوتل بھی تھی۔بل کلرک ایک خوبصورت خاتون تھی جسے دیکھ کر موصوف کو احمد ندیم قاسمی کا یہ مصرعہ یاد آ گیا کہ
میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں
چنانچہ جیسے ہی خاتون نے بل کرنے کے لیے شہد کی بوتل پکڑی سلمان نے سوال داغ دیا۔” مس! کیا یہ شہد خالص ہے؟”۔اس نے کہا۔”میں ک ±چھ سمجھی نہیں۔” موصوف نے فرمایا۔” میرا مطلب ہے کہ کیا یہ اصلی یعنی شہد کی مکھیوں ہی کا تیار کردہ ہے؟”۔وہ ستم ظریف بولی۔” جی باالک ±ل شہد کی مکھیوں ہی کا تیار کردہ ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اور کوئی جانور شہد نہیں بناتا۔”
دوستو! ہمارے پاکستانی بھائی کا ایک جرمن خاتون سے کیا ہوا یہ سوال بظاہرمضحکہ خیز لگتا ہے مگر نہیں،ایسا ہرگز نہیں ہے۔اس لیے کہ ایک ایسے پاکستانی سے جو ابھی تازہ تازہ پاکستان چھوڑ کر گیا ہو،یہ سوال قطعا ± ± خلاف توقع نہیں کیونکہ پاکستان میں ایسے سوال کا پورا جواز موجود ہوتا ہے۔یقین نہ آئے تو میرے دوست شیخ سجاد کے ساتھ پیش آنے والا درج ذیل واقعہ ملاحظہ فرما لیں:-
شیخ صاحب ایک روز لاہور میں اپنی گاڑی پر سوار باغ جناح کے پاس سے گزر رہے تھے کہ مال روڈ پر واقع اس کے مین گیٹ پر اکبری منڈی کے ایک کاروباری دوست کو کھڑے پایا۔گاڑی سڑک کی ایک جانب روک کر ا ±س کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ سیٹھ صاحب! یہاں کھڑے ہیں،کیا گاڑی کو کوئی مسئلہ پیش آگیا ہے؟ سیٹھ صاحب بولے۔” نہیں بھائی! ایسی کوئی بات نہیں،میں دراصل اس باغ کے ہیڈ مالی کے انتظار میں ہوں جس سے میں نے کچھ پیسے لینے ہیں۔شیخ سجاد نے پوچھا کہ ہیڈ مالی سے کس چیز کے پیسے لینے ہیں؟ سیٹھ نے کہا کہ یہ صاحب مجھ سے خاصی بڑی مقدار میں چینی اور شہد خریدتے ہیں۔شیخ صاحب نے حیرت سے کہا کہ اگر کوئی مالی کھاد یا کیڑے مار دوائیں خریدے تو ا ±س کی سمجھ آتی ہے مگر ا ±س کا بڑی مقدار میں چینی اور شہد خریدنا میری سمجھ سے بالا تر ہے۔جس پر سیٹھ نے ہنستے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب! جس طرح ہر باورچی کی اپنی ایک الگ ریسیپی ہوتی ہے اسی طرح ہر کاروباری شخص کا اپنے بزنس سے متعلق ایک”گ ±ر” ہوتا ہے جو وہ حتی الامکان کسی سے شیئر کرنا نہیں چاہتا۔شیخ صاحب نے پوچھا کہ یہ آپ اپنے بزنس سیکرٹ کی بات کر رہے ہیں یا کہ ہیڈ مالی کے؟ تو سیٹھ صاحب نے جمبو سائز آہنی گیٹ کی سلاخوں کے ساتھ لٹکے ایک بورڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ذرا بورڈ پر درج عبارت کو پڑہئے۔شیخ صاحب نے دیکھا۔اس پر لکھا تھا
” لاہور کے وسیع و عریض اور سر سبز باغ جناح کا خالص شہد موقع پر موجود گاہکوں کے سامنے شہد کی مکھیوں کے چھتے سے نکال کر دیا جاتا ہے۔”شیخ صاحب نے پوچھا کہ اس بورڈ پر درج شہد کا آپ سے خریدی گئی چینی اور شہد سے کیا تعلق ہے؟۔سیٹھ صاحب بولے کہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ شہد ہمارے ہاں زیادہ تر چینی ہی سے نمو پاتا ہے۔
شیخ سجاد نے ک ±چھ نہ سمجھتے ہوئے اپنے دوست سے اس بات کی وضاحت چاہی تو ا ±س نے بڑے رازدارانہ انداز میں بتایا کہ اس باغ کے مالیوں نے ایکا کر کے ایک سائڈ بزنس شروع کیا ہوا ہے۔ کرتے یہ ہیں کہ بازار سے خریدے گئے شہد اور چینی کے شیرے کو کسی خاص تناسب سے مکس کرکے”باغ جناح کا خالص شہد” تیار کرتے ہیں۔ا ±سے چھوٹی چھوٹی بالٹیوں میں ڈال کر ہر ا ±س درخت پر کسی ایسی اونچی جگہ پر پتوں کے پیچھے چھ ±پا کر لٹکا دیتے ہیں جس پر شہد کی مکھیوں نے چھتہ بنا رکھا ہو۔جب کوئی شہد کاشوقین گاہک آتا ہے تو شہد ا ±تارنے والا مالی ا ±سے درخت پر لگا ہوا شہد کی مکھیوں کا چھتہ اور اپنے ہاتھ میں پکڑی خالی بالٹی دکھاتا ہے۔خود منہ اور سر پر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور گاہک سے کہتا ہے کہ وہ اب وہاں سے ذرا دور ہو کر کھڑا ہو کیونکہ شہد نکالتے وقت مکھیاں ا ±ڑیں گی جو ا ±سے کاٹ بھی سکتی ہیں۔
وہ دور جا کھڑا ہوتا ہے اور مالی ا ±س کی نظروں کے سامنے درخت پر چڑھ کر ک ±چھ وقت وہاں گ ±زارتا ہے اور پھر وہ خالی بالٹی اوپر چھوڑ کر پہلے سے وہاں موجود خالص شہد والی بالٹی لے کر نیچے ا ±تر آتا ہے۔اور یوں یہ۔۔آنکھوں دیکھا حال۔۔۔گاہک کو یقین کامل دلا دیتا ہے کہ وہ خالص ترین شہد مہنگے داموں خرید کر گھر لوٹ رہا ہے۔ذہانت آمیز بددیانتی پر مبنی مالیوں کا یہ بزنس سیکرٹ جان کر شیخ صاحب کا محظوظ ہونا یقینی تھا۔
تو دوستو! ثابت یہ ہوا کہ جرمنی میں تو شہد صرف شہد کی مکھیاں ہی بناتی ہیں مگر پاکستان میں یہ کام ایک اور جانور بھی کرتا ہے۔اور وہ ہے دو ٹانگوں اور دو بازووں والا سوشل انیمل یعنی سماجی جانور۔۔آدمی۔







No comments:
Post a Comment