نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

ماحولیاتی آلودگی

            ماحولیاتی آلودگی      

 کالم نگار:کامران خان یوسفزئی


انسانی زندگی کے ارتقا کے ساتھ ہی انسان کی ضروریات نے جنم لے لیا یہ ضروریات چاہے اسکی خوراک تھی یاپہنے کے کپڑے ، جوتی ،سواری رہنے کے لیے گھر یا پھر آجکے دور کی جدید سہولیات جیسے ٹی وی،کمپیوٹریا موبائل چناچہ انسان نے ان کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا شروع کی۔
انسان اس انڈسٹریلائزیشن کی بنیاد ڈال کر بڑے فخر سے اس کودنیا کی ترقی تو مانتا ہے مگر یہ ترقی کتنی نقصان دے ہے اس پر نظر ثانی نہیں کرتا۔دنیا کے بڑے بڑے ترقیافتہ ممالک اس دوڑ میں لگے ہیں کی ایک دوسرے کو انڈسٹریلائزشن میں پیچھے دھکیل دیا جائے مگر اس کے مضر اثرات پر کوئی بھی ملک سنجیدگی سے نہیں سوچتا۔
چین، امریکہ،روس،فرانس ،برطانیہ،جیسے ممالک بھی کسی نہ کسی طرح آلودگی پھیلانے میںشامل ہیں۔پاکستان اور بھارت بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ آلودگی ایک سنگین اور عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس پر کوششیںبھی عالمی سطح پر ہونی چاہیں لہٰذا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دیگر ذیلی ادارے اور تنظیمیں عالمی سطح پر آلودگی میں کمی کی طرف اقدامات کر رہے ہیں۔
دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور فیکٹریوں پر قوانین بنائے گئے ہیں،فیکٹریوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے ٹھیک طریقہ کار بنائے گئے ہیں ،درختوں کو بلا وجہ کاٹنے پر سخت قانون بنائے گئے ہیں اور مزید شجر کاری کی طرف توجہ جا رہی ہے۔دوست ماحول ٹیکنالوجی کی جانب پیش قدمی کی جارہی ہے ۔بحثیت پاکستانی ہمیں جن اقدامات کرنے کی ضرور ہے وہ یہ ہیں کے گاڑیوںکی بروقت مرمت سے دھوئیں میں کمی لائی جاسکتی ہے۔گھاس پھونس اور کوڑے کرکٹ کو آگ نہ لگائی جائے بلکہ اس کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگا یا جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جاسکے۔

نوٹ: یہ کالم نگار،بلاگر کی ذاتی رائے ہے، اس سے ہم متفق ہوں ضروری نہیں 

Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts