راولپنڈی ٹیسٹ،شاہینوں کے لئے امتحان
٭....سعید انور نے راولپنڈی میں 6میچز کھیل کر سب سے زیادہ 546 رنز جبکہ سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ انضمام الحق اور عامر سہیل کے پاس ہے جنہوں نے مجموعی طور پر 323 رنز کئے،راولپنڈی کی پچ بیٹسمینوں کے ساتھ باﺅلروں
کے لیے بھی معاون رہی ہے
٭.... وسیم اکرم، وقار یونس، محمد زاہد اور ثقلین مشتاق نے ایک ایک جبکہ مشتاق احمد نے دو بار پانچ پانچ کھلاڑی آﺅٹ
کئے، کورٹنی والش، سٹورٹ میک گل، کرس کینز اور زمبابوین ہیتھ سٹریک بھی ٹیسٹ اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں لے چکے ہیں
ٹیم نوائے درویش
راولپنڈی سٹیڈیم میں ہونے والا ٹیسٹ شاہینوں کے لئے ایک امتحان سے کم نہیںہے۔ شاہین جیت کے لئے پرعزم ہیں اور آئی لینڈرز ان کی جیت کو شکست میں بدلنے کے لئے حوصلے بلند کئے ہوئے ہیں۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی آمد کے حوالے سے ناصرف پاکستانی قوم بلکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی انتہائی خوش ہے بلکہ وہ بہترین پرفارمنس بھی دکھانا چاہتی ہے۔
راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم اپنے قیام سے اب تک 8ٹیسٹ میچز کی میزبانی کر چکا ہے جس میں سے تین میں پاکستان کو شکست اور تین میں فتح نصیب ہوئی جبکہ دو میچ ڈرا ہوئے۔کرکٹ ورلڈ کپ 1996 کی میزبانی پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے حصہ میں آئی تو پاکستان نے عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں راولپنڈی میں 19 جنوری 1992 کوسٹیڈیم قائم کیا اور 9دسمبر کو سے اس سٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلا گیا جس میں قومی ٹیم 52رنز سے فتحیاب رہی۔
دوسرا ٹیسٹ پانچ اکتوبر سے نو اکتوبر 1994 کو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا جو ڈرا ہونے کے باوجود یادگار رہا۔اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ آسٹریلیا کی پہلی اننگز کے سکور 521رنز 9کھلاڑی آو ¿ٹ پر ڈکلیئر کی تو پاکستانی ٹیم 260رنز پر ڈھیر ہو کر فالوآن سے دوچار ہو گئی۔
فتح کی متمنی آسٹریلین ٹیم نے پاکستان کو فالو آن کرایا لیکن کپتان سلیم ملک آسٹریلیا اور فتح کے درمیان حائل ہو گئے اور 237 رنز کی اننگز تراشی جو اس گراو ¿نڈ پر اب تک کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کا سب سے بہترین سکور ہے۔پاکستان نے دوسری اننگز میں 537رنز اور میچ ڈرا کرنے میں کامیاب رہا لیکن اس میچ میں ایک اور ڈرامائی موڑ اس وقت آیا تھا جب آسٹریلین فاسٹ باو ¿لر ڈیمیئن فلیمنگ نے میچ میں عامر ملک، انضمام الحق اور سلیم ملک کولگاتار گیندوں پر آو ¿ٹ کر کے ہیٹ ٹرک نے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور یہ اس گراو ¿نڈ پر ٹیسٹ کرکٹ میں کی گئی واحد ہیٹ ٹرک ہے۔اس سٹیڈیم نے 28نومبر سے یکم دسمبر 1996 کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے لیے نیوزی لینڈ کی میزبانی کی اور پاکستان نے اس میچ میں کیویز کو ایک اننگز اور 13رنز سے شکست دی تھی۔یہ میچ ڈیبیو کرنے والے محمد زاہد کے لیے یادگار تھا جنہوں نے ڈیبیو میچ میں ہی 11وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی جانب سے ڈیبیو پر بہترین باو ¿لنگ کا ریکارڈ قائم کردیا تھا اور یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔
1997 میں 6 سے 10اکتوبر کو پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان چوتھا ٹیسٹ ہوا، یہ میچ بھی بے نتیجہ رہا۔پانچویں ٹیسٹ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کاآمنا سامنا ہوااور 29 نومبر سے 3دسمبر 1997 کو کھیلے جانے والے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ایک اننگز اور 29 رنز سے ناکامی سے دوچار ہوانا پڑا۔
چھٹا میچ یکم سے 5اکتوبر 1998 کے درمیان کھیلا گیا اور اس میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک اننگز اور 99رنز سے پچھاڑ دیا۔ساتواں میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 26 فروری سے یکم مارچ 2000 کو کھیلا گیا اور سری لنکا نے مذکورہ میچ میں پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو وکٹوں سے شکست دی۔
آٹھواں میچ پاکستان اورانڈیاکے درمیان2004میں 13 سے 16اپریل کو ہوا اور بھارت نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 131 رنز سے شکست دے کر سیریز بھی اپنے نام کر لی تھی۔اس میچ کی خاص بات راہول ڈریوڈ کی 270رنز کی اننگز تھی جو اس گراو ¿نڈ پر کسی بھی بلے باز کی جانب سے کھیلی گئی سب سے بڑی اننگز ہے۔
اس کے بعد یہ میچ مزید 15سال کسی بھی ٹیم کی میزبانی نہ کر سکا لیکن ان آٹھ ٹیسٹ میچوں میں دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے نامور کھلاڑی اس شہر کے مہمان بنے، کئی ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی پرانے ریکارڈٹوٹے ۔
کرکٹ کے حوالہ سے راولپنڈی کا ذکر آئے تو شعیب اختر کا نام لیے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔شعیب اختر راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور ہوئے۔بیٹسمین راولپنڈی کی پچ پر اب تک چودہ ٹیسٹ سنچریاں کرچکے ہیں جہاں اس میدان پر پہلی سنچری بنانے والے مائیکل سلیٹر کے ساتھ ساتھ سابق مایہ نازاوپننگ بلے باز سعید انور بھی راولپنڈی میں دو سنچریاں بنانے کا اعزاز رکھتے ہیں۔اس میدان پر سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے بازوں میں اعجاز احمد، علی نقوی، اظہر محمود، عامر سہیل، انضمام الحق اور یونس خان شامل ہیں۔
سابق آسٹریلین کپتان سٹیو وا نے بھی راولپنڈی میں ٹیسٹ سنچری کرکے یہاں کے شائقین کو اپنی بلے بازی کے جوہر دکھائے عظیم سری لنکن بیٹسمین رویندرڈی سلوا بھی یہاں سنچری بنانے والوں کی صف میں شامل ہیں۔سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ راہول ڈریوڈ کے پاس ہے جنہوں نے 270رنز کی باری کھیلی جبکہ پاکستان کی جانب سے یہ ریکارڈ سلیم ملک کا ہے جنہوں نے 237رنز بنائے تھے
سعید انور نے راولپنڈی میں 6میچز کھیل کر سب سے زیادہ 546 رنز جبکہ سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ انضمام الحق اور عامر سہیل کے پاس ہے جنہوں نے مجموعی طور پر 323 رنز کئے۔راولپنڈی کی پچ بلے بازوں کے ساتھ گیند بازوں کے لیے بھی معاون رہی ہے جہاں وسیم اکرم، وقار یونس، محمد زاہد اور ثقلین مشتاق نے ایک ایک جبکہ مشتاق احمد نے دو بار پانچ پانچ کھلاڑی پویلین بھیجے۔
اس کے علاوہ عظیم ویسٹ انڈین باو ¿لر کورٹنی والش، سٹورٹ میک گل، کرس کینز اور زمبابوین ہیتھ اسٹریک بھی ٹیسٹ اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں لے چکے ہیں۔محمد زاہد چھیاسٹھ رنز کے عوض اننگز میں 7وکٹیں لے کر راولپنڈی میں اب تک کے سب سے کامیاب باﺅلر رہے ہیں جبکہ وقار یونس نے پانچ میچ کھیل کر سب سے زیادہ 23 وکٹیں حاصل کیں۔
پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران فوج، رینجرزاور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے مستعد ہیں۔پہلے ٹیسٹ کیلئے سکیورٹی اداروں نے اپنی تیاریاں مکمل کی ہوئی ہے ٹیموں کے روٹس اور سٹیڈیم کے اطراف میں ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہوئے چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، فوج، رینجرز اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنی ڈیوٹیز سنبھالے ہوئے ہیں۔ساتھ لائے جانے والے سامان کو چیک کرنے کے بعد سٹیکرز چسپاں کیے گئے ہیں۔







No comments:
Post a Comment