ایک عجیب خواہش
محمد بوٹا انجم
دیہاتیوں کی سر شام سو جانے والی عادت کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ آدھی رات تک وہاں محو مطالعہ رہنے کے دوران مجھے کوئی شخص ڈسٹرب نہیں کرتا تھا۔مگر یہ پریکٹس زیادہ دن نہ چل پائی کیونکہ مرکری بلب جیسی ولایتی شمع پر جاں نثار کرنے کے لیے آنے والے دیسی پروانے کسی شعلے کی عدم موجودگی میں جل مرنے کی حسرت تو پوری نہ کر پاتے تھے البتہ اپنی محبوبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے تھک کر گرتے تو ان میں سے ک ±چھ میرے اوپر اور ک ±چھ کھلی کتاب کے صفحوں پر لینڈ کرتے تھے۔بہرحال اس چند روزہ تجربے سے یہ ضرور ثابت ہو گیا کہ بجلی کے بلب کی روشنی دیئے اور لالٹین کی روشنی سے بہتر ہے۔چنانچہ میں نے نائٹ سٹڈی میں سہولت پیدا کرنے کے لیے اپنے گھر کے باالکل سامنے گلی کی دوسری جانب واقع ایک دوست کے گھر کی بیٹھک پانچ روپے ماہانہ پر کرائے پر لے لی کیونکہ وہ گھر بجلی کی سہولت سے آراستہ تھا۔
بیٹھک کا ایک دروازہ باہر گلی میں اور دوسرا مالک مکان کے گھر کے صحن میں کھ ±لتا تھا۔صحن والی سائڈ کے دروازے کو میں نے اندر سے تالا لگا کر مستقل طور پر بند کر دیا اور یوں وہ ایک کمرہ بلا شرکت غیرے میرے تسلط و تصرف میں آگیا۔وہ بیٹھک پکی اینٹوں اور سیمنٹ سے نہیں بنی ہوئی تھی۔ ا ±س کی دیواریں اور فرش مٹی اور گارے سے جبکہ چھت لکڑی کے “ بالوں” اور شہتیروں سے بنی تھی اور وہ پ ±رانی ہونے کے باعث قدرے خستہ حال بھی تھی۔مگر میری ضرورت کے لیے ا ±س میں بجلی کا ایک بلب اور چھت والا پنکھا لگا ہوا تھا۔میں نے ک ±رسی کے ساتھ ایک چارپائی بیٹھک میں ڈال لی جو میری سٹڈی ٹیبل اور سونے کے لیے بیڈ کا دوہرا کام دیتی تھی۔البتہ میرے گھر میں بھی میری چارپائی بچھی رہتی تھی۔موسم کی مناسبت سے میں بیٹھک میں سو رہتا اور کبھی گھر میں جا سوتا کیونکہ گھر کے دروازے اور بیٹھک کے درمیان سڑک کی چوڑائی جتنا فاصلہ ہی تو تھا۔
نویں جماعت کے نوماہی امتحان قریب تھے کہ ایک روز میرے سکول کے مدبر و محترم ہیڈ ماسٹر جناب خ ±دا بخش آسی نے مجھے دفتر میں ب ±لا کر یہ خوشخبری س ±نائی کہ مجھے آٹھ ماہ کے وظیفے کی رقم یکمشت ملنے والی ہے جسے میں خود خرچ کرنے کی بجائے اپنے والدین کے حوالے کر دوں تاکہ وہ ا ±ن کے ہاتھوں میرے بہتر مستقبل کے کام آ سکے۔قارئین کرام!وہ وطن عزیز پاکستان کی تاریخ کا ایسا س ±نہری دور تھا جب خالص دیسی گھی چار روپے سیر(قریباکلو) اور بکرے کا گوشت بھی چار ہی روپے سیر ملتا تھا۔مڈل یعنی آٹھویں کا امتحان مطلوبہ نمبروں کے ساتھ پاس کرنے پر جو وظیفہ عام حالات میں ملتا تھا وہ 16 روپے ماہانہ تھا مگر وظیفہ سے متعلقہ فارم پ ±ر کرتے ہوئے ہیڈ ماسٹر صاحب نے میرے دیہاتی ہونے کا فائدہ ا ±ٹھاتے ہوئے مجھے ڈے سکالر کی بجائے شہر کے بورڈنگ ہاو ¿س کا رہائشی ظاہر کر دیا تھا جس سے وظیفہ کی رقم دگنی ہو کر 32 روپے ماہانہ ہو گئی تھی۔میں نے ہیڈ ماسٹرصاحب سے وعدہ کیا کہ میں وہ ساری کی ساری رقم اپنی والدہ کے حوالے کر دوں گا کیونکہ والد صاحب ا ±ن دنوں کاروبار کے سلسلے میں اندرون سندھ گئے ہوئے تھے۔سکول کا کیشیئر مجھے ساتھ لے کر بینک گیا تو میں نے منیجر سے کہا کہ مجھے 256 روپے کی یہ رقم ایک ایک روپے کے نوٹوں کی شکل میں چاہئے اور ا ±س نے میری درخواست مانتے ہوئے وہ رقم باالکل نئے نوٹوں کی صورت میں دے دی۔سکول تک تو وہ پیسے کیشئیر صاحب اپنے بریف کیس میں ڈال کر لائے تاہم چھٹی کے وقت ا ±نہوں نے وہ رقم کاغذ کے ایک خاکی شاپر میں ڈال کر مجھے دے دی۔جو میں بستے میں رکھ کر بحفاظت گھر لے آیا۔۔۔۔۔مگر میں نے وہ رقم والدہ صاحبہ کے حوالے نہیں کی۔ا ±سے صرف یہ خوشخبری س ±نائی کی کہ ایک آدھ دن میں مجھے وظیفے کی ایک بڑی رقم ملنے والی ہے۔جس پر ماں جیسی شفیق ہستی نے صحت و سلامتی اور روشن مستقبل کے لیے ڈھیروں د ±عائیں دیں۔
در اصل اس رقم کو ایک ایک روپے کے نوٹوں کی صورت میں وصول کرنے اور ا ±سے فوری طور پر والدہ کے حوالے نہ کرنے کی وجہ میری ایک عجیب خواہش تھی۔اور وہ یہ کہ میں اپنی زندگی کی اس پہلی کمائی کی ب ±نیاد پر نوٹوں کی سیج پر سونا چاہتا تھا۔چنانچہ رات کے کھانے کے بعد جب والدہ صاحبہ سو گئیں تو میں نے بستے سے وہ پیسے نکالے اور انہیں بیٹھک میں لے گیا۔اندر سے دروازے کو ک ±نڈی لگائی اور وہ تمام نوٹ چارپائی پر بچھی چادر کے اوپر بکھیر دیئے جن میں سے چند ایک چارپائی سے نیچے بھی گر گئے جنہیں میں نے وقتی طور پر ا ±ٹھانا مناسب نہ سمجھا کہ وہ آخر تھے تو کمرے کے اندر ہی۔ا ±س رات پڑھائی کی چھ ±ٹی کی اور بتی ب ±جھا کر نوٹوں کی سیج پر لیٹ گیا۔نئے نوٹوں کی چرچراہٹ جسمانی لحاظ سے تو سکون آور نہ تھی مگر اپنی اس جھوٹی انا کی تسکین کا باعث ضرور تھی کہ لوگ اگر نوٹوں میں کھیلتے ہیں تو میں بھی کسی سے کم نہیں۔ا ±س رات جب تک نیند کی دیوی نے مجھے اپنی آغوش میں نہیں لے لیا میں اپنے والدین اور اساتذہ کرام کے لیے د ±عا گو رہا کہ ا ±ن کی محبت،شفقت اور رہنمائی مجھے اچھے دنوں کی نوید دے رہی تھی۔اگلے روز علی الصبح آنکھ کھ ±لی تو سب سے پہلے ا ±ٹھ کر نوٹوں کو سمیٹا اور گنا تو وہ 256 کی بجائے 251 نکلے۔دوبارہ اور سہ بارہ گننے پر بھی 251 ہی رہے۔
چارپائی پر بچھی چادر کو ا ±ٹھا کر جھاڑا تو ا ±س میں سے ک ±چھ بر آمد نہ ہوا،تکیے سے غلاف ا ±تار کر دیکھا بھالا تو ا ±س میں سے بھی ک ±چھ نہ ملا،چارپائی کے نیچے اور ارد گرد جھانکا تب بھی نتیجہ صفر،اپنی قمیض کی جیب ٹٹولی کہ کہیں بے خیالی میں ا ±س میں نہ ڈال لیے ہوں مگر یہ بھی بے سود اور دروازے چیک کیے تو ایک طرف اندر سے تالا اور دوسری جانب لگی ہوئی ک ±نڈی دکھائی دی۔عجیب مخمصے میں پڑ گیا کہ یا اللہ! کیا اس بیٹھک میں میرے ساتھ کوئی ہوائی مخلوق بھی رہائش پذیر ہے جو میرے پانچ نوٹ راتوں رات غائب کر گئی ہے۔سر پکڑ کر بیٹھا تھا کہ اچانک بیٹھک کے ایک کونے میں ایک نوٹ پڑا دکھائی دیا۔جلدی سے جا کر وہ ا ±ٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ا ±س جگہ چوہے کا ایک بل یعنی سوراخ تھا۔جس کے اندر سے ایک اور نوٹ کا کونہ جھانک رہا تھا۔انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ملاپ سے ا ±سے باہر کھینچا تو وہ پورا نہیں آدھا تھا کیونکہ ا ±س کا باقی نصف حصہ چوہا ک ±تر کر دیگر چار نوٹوں کے ساتھ اپنی سیج سجانے کے لیے اندر لے جا چ ±کا تھا۔سارا ماجرا سمجھ میں آ گیا۔دل ہی دل میں اپنے ساتھ بیٹھک شیئر کرنے والی اس مخلوق کو بہت ب ±را بھلا کہا کہ کمبخت چوہا نہ ہوا کوئی انکم ٹیکس افسر ہو گیا جو رات بھر میری آمدن ٹیکس کرتا رہا۔دوستو!مورل آف دا سٹوری یہ ہے کہ وعدہ خلافی بھی لالچ کی طرح ب ±ری بلا ہے۔میں نے اگر اپنے ہیڈ ماسٹر صاحب سے کیے گئے وعدے کے مطابق ساری رقم گذشتہ روز والدہ صاحبہ کے حوالے کر دی ہوتی تو میں اس مالی ن ±قصان سے بچ رہتا اور مجھے ذہنی کوفت بھی نہ ا ±ٹھانا پڑتی۔گویا اپنی کسی فضول خواہش کی تکمیل کے چکر میں ہمیں اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔







No comments:
Post a Comment