نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

سموگ کس بلا کا نام ہے، بچنے کے لئے کیا کریں؟


سموگ کس بلا کا نام ہے، بچنے کے لئے کیا کریں؟
محمدنویداسلم


نوائے درویش


لاہور اور گردونواح کے علاقوں کے رہائشی ”سموگ“ کے مسئلہ سے دو چار ہیں۔ پچھلے دو تین برسوں میںسردیوں سے قبل آسمان سموگ کی لپیٹ میںہوتا ہے لیکن ہم اسے فوگ یعنی دھند سمجھ رہے ہوتے ہیں۔دراصل سموگ ہے کیا اوراس سے کس طرح سے بچا جاسکتا ہے ۔سموگ دھوئیں اور دھند کے مرکب کو کہا جاتا ہے جب یہ اجزا ملتے ہیں تو سموگ پیدا ہوتی ہے۔ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائید، نائڑوجن آکسائیڈ میتھن جیسے زہریلے مواد شامل ہوتے ہیں۔گلے میں خراش ہونا، ناک اور آنکھوں میں چھبن کا احساس ہونا انسانی جسم پر سموگ کا پہلا اٹیک ہے۔ جبکہ ایسے لوگ جو سینے پھیپھڑے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ان کے لیے سموگ مزید بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
سموگ ایک ہوائی آلودگی ہے جو انسان کی دیکھنے کی صلاحیت کم کردیتی ہے۔ یہ لفظ پہلی دفعہ 1900 میں دھواں اور دھند کے ملاپ کے لیے سننے میں آیا تھا۔ یہ دھواں کوئلہ جلنے سے بنتا ہے۔ صنعتی علاقوں میں سموگ واضح کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے اور یہ شہروں میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔امریکہ اور بہت سے ممالک نے سموگ میں کمی کے قوانین ترتیب دیے۔ کچھ قوانین فیکٹریوں میں خطرناک اور بے وقت دھواں کے اخراج پر پابندی لگاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر فاضل مواد جیسا کہ پتے ضائع کرنے کے لیے مخصوص جگہیں بنائی گئی ہیں جہاں دھواں کم خطرناک ہو کر ہوا میں خارج ہو جاتا ہے۔
سموگ کو زمینی اوزون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک وزنی پیلی سرمئی دھند کی مانند ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق فیکٹریوں کا اور گاڑیوں کادھواں ، درختوں کا کاٹا جانا صورتحال کو مزید پریشان کن کردیتا ہے۔دھواں، گرد اور دھند کی آمیزش سے بننے والے سموگ (دھندلا بادل) سے احتیاط برت کر اسکے تمام تر زہریلی اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔سرجیکل یا چہرے کا کوئی بھی ماسک استعمال کریں۔ کونٹیکٹ لینسز کی بجائے نظر کی عینک کو ترجیح دیں۔ تمباکو نوشی کو ترک کریں اگر ممکن نہیں تو کم کردیں۔ زیادہ پانی اور گرم چائے کا استعمال کریں باہر سے گھر آنے کے بعد اپنے ہاتھ ، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو صابن سے دھوئیں۔ غیر ضروری باہر جانے سے پرہیز کریں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے کھلے حصوں پر گیلا کپڑا یا تولیہ رکھیں۔ فضا صاف کرنے کے آلات کا استعمال کریں۔ گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ زیادہ ہجوم والی جگہیں خصوصاً ٹریفک جام سے پرہیز کریں۔
 سموگ میں شہری چہرے کو ڈھانپ کر رکھیں اور صبح اور شام کے اوقات میں گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر کے رکھیں۔سموگ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ درختوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے سموگ کی وجہ سے درختوں کے مسام بند ہو جاتے ہیں جو آکسیجن کی کمی کا سبب بنتے ہیں۔
 دوران سفر تیزرفتاری سے گریز اور مکمل توجہ کے ساتھ ڈرائیونگ کی جائے تاکہ باآسانی سامنے کے منظر کو دیکھا جا سکے اور حادثات سے محفوظ رہا جا سکے۔ گاڑی میں دھند میں استعمال ہونے والی فوگ لائٹس لگی ہونی چاہئیں۔ دوران ڈرائیونگ ہیڈ لائٹس کو لو بیم پر رکھا جائے تاکہ سامنے سے آنے والی ٹریفک متاثر نہ ہو اور حادثہ کا احتمال نہ ہو۔
 یہ انسانی جسم کےلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔سموگ نظر کی خرابی کے علاوہ گلے کی خراش، سینے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کے موسم میں کھلے ماحول میں گھومنے پھرنے سے پرہیز کیا جائے، منہ اور ناک پر ماسک وغیرہ پہن کر رکھیں،پانی کا استعمال زیادہ کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ اب ایک اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مستقبل میں سموگ اور اس طرح کی دوسری فضائی آلودگی سے کیسے نمٹا جائے تو چونکہ یہ مسئلہ دنیا بھر کے ممالک کو درپیش ہے اسی لئے اس کے سد باب کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ ہمیں بھی اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔کم ازکم ایسے اقدامات ضرور اٹھانا ہوں گے کہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والے عوامل میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے تو یہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ ہے جس کےخلاف مناسب حکمت عملی اپنائی جائے، اس لئے حکومتی سفارشات پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائیں۔
 سموگ سے بچاو ¿ کے لیے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہو ہوگی۔ کھیتوں میں موجود بھوسے کو تلف کرنے کرنے کے لیے آگ لگانے کی بجائے نئے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔ کسانوں کو روٹاویٹر یا دیگر مشینوں کو سستے داموں مہیا کرنا ہوگا۔ گاڑیوں میں فضا کو آلودہ کرنے والے ایندھن کی جگہ ماحول دوست ایندھن کو اپنانا ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو سستا اور پھیلانا ہوگا تاکہ لوگ اپنی نجی گاڑیوں کی جگہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ نئے ماحول دوست درخت لگانے ہوں گے اور پرانے درختوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔ روایتی اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی اس کی جگہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ روایتی بھٹوں کے مقابلے میں زگ زیگ بھٹے میں ایندھن یعنی کوئلے کی کھپت میں 30 فیصد تک کمی ہوتی ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والی آلودگی میں 70 فیصد کمی آتی ہے، فیکٹریوں میں باقاعدہ فلٹریشن کے آلات کی تنصیب کو یقینی بنا نا ہوگا۔ کیونکہ اب یہ ہمارامسئلہ نہیں بلکہ آنے والی تمام نسلوں کا ہے۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts