نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

نوجوانوں میں تاریخ اور ورثے سے محبت کا میٹھا زہرگھول رہا ہوں، فیضان عباس

نوجوانوں میں تاریخ اور ورثے سے محبت کا میٹھا زہرگھول رہا ہوں،  فیضان عباس 



٭میرے نانا بھارتی شہر امرتسر سے لاہور آئے تھے جب کہ دادا جن کا تعلق بھارتی شہر اجنالہ کے گاﺅ ں گھمرائیں سے تھا
٭تاریخ کے شوق اور آثار قدیمہ سے لگاﺅ کی وجہ سے 2009 میں انار کلی بازار کے فٹ پاتھ سے لاہور کے بارے میں ایک کتاب ملی، جو ایک این جی او کی طرف سے شائع کی گئی تھی، پھر راﺅ جاوید اقبال کی کتاب آئی تو انھوں نے آٹو گراف میں میرے نام کے ساتھ لاہور کے کھوجی کا اضافہ کیا، 
٭میں نے لکھنے کا آغاز 2012 سے شروع کیا تھا جب میں ”روزنامہ پاکستان “کے بچوں والے صفحے پر لکھا کرتا تھا،پھر میں ”روزنامہ وقت “کے سنڈے میگزین کے لئے دو سال تک لکھا۔اس دوران روزنامہ جناح ، روزنامہ دنیا ، روزنامہ آن ریکارڈ بعض ہفت روزے اور ماہناموں میں بھی میری تحریریں شائع ہوئیں۔
٭دنیا بھر میں ساری اقوام و قبیلے اپنے ورثے کو بچانے کی کوشش میں ہیں اور ہم سے کافی زیادہ اچھی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں بد قسمتی سے ہم اس میدان
 میں بھی کافی پیچھے ہیں
انٹرویو:” ٹیم نوائے درویش“
پینل: عبدالمعز،محمدوقار

تاریخ کسی بھی قوم کے ماضی کا حال بیان کرتی ہے۔مورخین کا قلم اس کوزندہ رکھتا ہے۔ لاہور شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا“۔لاہورکی تاریخ اورعمارات کے بارے میں بہت سے لوگ کام کررہے ہیں۔ ان ہی میںایک نوجوان جس کو”لاہور کا کھوجی“ کہا جاتا ہے۔ وہ بھی کھوج لگانے میں سرگرم ہے۔”لاہور کے کھوجی“ کا نام ”سید فیضان عباس نقوی“ ہے لیکن سب اسے”کھوجی“ کے نام سے جانتے ہیں۔گذشتہ دنوں ”نوائے درویش“ کی ٹیم ان سے انٹرویو کیا ۔ ان کی باتوں کوشائقین کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔
نوائے درویش: آپ اپنے بیک گراﺅنڈ کے بارے میں بتائیں؟
ج: میرا نام سید فیضان عباس نقوی ہے۔ ہمارا خاندان استاد خاندان کہلاتا ہے، کیونکہ ہمارے خاندان میں جتنے بھی مرد و خواتین ہیں، زندگی کے کسی نہ کسی دور میں وہ معلم کا فریضہ سرانجام دیتے آئے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں اور میں بھی اس روایت کو جاری رکھے ہوئے شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوں۔میرے نانا بھارتی شہر امرتسر سے لاہور آئے تھے جب وہ ملٹری اکاونٹس میں ملازمت کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے لاہور کو ہی انہوں نے اپنا مسکن بنایا۔ جب کہ میرے دادا جن کا تعلق بھارتی شہر اجنالہ کے گاﺅ ں گھمرائیں سے تھا جو ناروال کے دوسری جانب ہے۔وہاں سے چنیوٹ کے نواحی گاﺅں ولانیاوالہ میں مقیم تھے۔میرے والد نے پہلے پاکستان ائیر فورس میں ملازمت کی اس کے بعد لاہور آکر رستم سہراب فیکٹری شاہدرہ میں ملازمت کر کے ریٹائرڈ ہوئے۔ میری پیدائش لاہور میں ہی ہوئی، یعنی میرا خمیر لاہور کی سرزمین سے ہے۔میں نے میڑک کے بعد تین سال کا ڈپلومہ آف آرکیٹیکچر کیا۔اس کے بعد بیچلرز ماس کام اور ایم ایس سی بھی ماس کام میں کی۔ تاریخ سے دلی لگاﺅ کی وجہ سے ایم اے تاریخ کا امتحان پا س کیا اور اب میں ایم پنجابی کر رہا ہوں۔
نوائے درویش : فیضان سے ”لاہور کے کھوجی“ کا سفر بیان کریں؟
ج:میں فیضان سے لاہور کا کھوجی کیسے بنا یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ کیونکہ یہی نام اب میری پہچان ہے، لو گ اب مجھے اسی نام سے جانتے ہیں۔ میری والدہ لیڈی کنیئرڈ سکول میں ای ایس ٹی ٹیچر تھیں، جو کہ حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئیں ہیں، وہ ایم اے تاریخ تھیں، تو ان کی تاریخ کی کتابیں بچپن میں پڑھ لی تھیں، جس کی وجہ سے تاریخ کا بہت شوق تھا۔ کتاب بینی کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ اسکے ساتھ کتابوں کو جمع کرنے اور محفوظ بنانے کا شوق ہے، جسکی وجہ دادا کی چند کتابوں کے حصول اور والد محترم کی طرف سے ملنے والی کتابوں کے بعد اس وقت گھر کی ذاتی لائبریری میں چارہزار سے زائد مختلف کتابوں کا ذخیرہ ہے۔ تاریخ کے شوق اور آثار قدیمہ سے لگاﺅ کی وجہ سے 2009میں انار کلی بازار کے فٹ پاتھ سے لاہور کے بارے میں ایک کتاب ملی، جو کہ لاہور کی تاریخ پر کام کرنے والی ایک این جی او کی طرف سے شائع کی گئی تھی۔ میں اپنے شوق کی خاطر اس کا باقاعدہ ممبر بنا، پھر اس میں ریسرچ کا کام شروع کر دیا اور اپنے طور پر لاہور کی مختلف عمارات اور تاریخ پر کام شروع کر دیا۔ پھر ایک سال بعد جب میرے استاد راﺅجاوید اقبال کی لاہور کی تاریخ پر نئی کتاب آئی تو انہوں نے آٹو گراف میں میرے نام کے ساتھ لاہور کے کھوجی کا اضافہ کیا، تو مجھے اچھا لگا۔ اس کے بعد میں نے 2010 میں سوشل میڈیا پر یہی نام بطور تعارف پیش کیا۔ اپنے کام سے متعلق پرانے لاہور کی تصاویر اور معلومات کی پوسٹنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اب اس وقت وہ لوگ جنکا تاریخ اور ورثے سے لگاﺅ ہے، وہ سب مجھے اسی نام سے جانتے ہیں۔ اس وقت یہ سفر جاری ہے۔ میرے اب تک چھ مختلف کتابچے چھپ چکے ہیں اور پانچ بڑی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ تین مزید کتابوں پر کام جاری ہے جو کہ اسی سال تک منظر عام پر آجائیں گی۔ اب تک پانچ سو سے زائد فیچرز مختلف موضوعات پر مختلف اخبارات، میگزین میں لکھ چکا ہوں۔ اس وقت بھی کچھ پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔
نوائے درویش: لاہور کی تاریخ کے بارے میںکچھ دلچسپ باتیں شیئر کریں؟
ج:لاہور ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخی آثار و باقیات چپے چپے پر بکھرے ہوئے ہیں۔ میں نے لاہور کی تاریخ کے گمشدہ ابواب کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے کردار جو کسی نہ کسی حوالے سے مشترک ہوں۔جیسے قیام پاکستان سے قبل مشترکہ روایات ، تہوار میلے ٹھیلے ان کے مقامات ، ان کو منانے کے طریقہ کار وغیرہ۔ اس کے علاوہ وہ عمارات جو اب متروک ہو چکی ہیں خصوصا غیر مسلموں کی عباد گاہیں۔ جیسا کہ لاہور میں ہر مذہب کی عبادت گاہیں موجود تھیں ، نہ صرف موجودہ عبادت گاہیں بلکہ دیگر مذاہب کی وہ عبادت گاہیں جو کہ اب صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، سب کے بارے میں مفصل تحقیق ہمارے آرکائیوز میں محفوظ ہے۔ لاہور میں جین ازم کی تین بڑی عبادت گاہیں تھیں، جن میں سے ایک بھی باقی نہیں رہی۔ سکھوں کے چالیس کے قریب گردوارے تھے، جن میں سے صرف تین ایکٹیو ہیں۔ جن میں سے بعض کے آثار باقی ہیں۔ سو سے زائد ہندوﺅں کے منادر تھے، جن میں سے دو ایکٹیو ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان نوابوں، گورنروں، وزیروں کی بنوائی ہوئی مساجد و خانقاہیں اور مسلم اکابرین کے مزارات تھے۔ محلہ جات ، علاقہ جات جو اس زمانے کے نامور شخصیات یا مذہبی نظریات پر رکھے یا قائم کئے گئے تھے۔افسوس کہ جن میں سے اکثر کے نام بدل دےئے گئے ہیں۔
نوائے درویش:تحقیق خاصا مشکل کام ہے ، کیسے کرتے ہیں؟
ج:تحقیق کا کام کافی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو تاریخی کتابوں میں موجود عمارتیں جن کا ذکر کیا گیا ہو ان کو نشان زدہ کر کے پھر ان کو ڈھونڈنا پڑتا ہے کو ن سے عمارت ابھی باقی ہے اور کون سے ختم ہو چکی ہے صرف اتنا معلوم کرنے کے لئے ہی طویل سفر اور مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف لوگ جنہوں نے اپنی یاداشتیں مرتب کی ہیں اس میں بیان کئے گئے مقامات یا شخصیات کا تذکرہ ان سے متعلقہ جگہوں کو کھوجنا بھی اہم ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ نے کافی مشکل آسان کر دی ہے لیکن وہاں مستند معلومات کی بہت کمی ہے۔ اس کے علاوہ آرکیالوجی کی رپورٹس ، تعلیمی ریسرچ تھیسز ، کتابیں اور پرانی عمارات کی قدیم تصاویر کے علاوہ ہمیں وہ لوگ مدد دیتے ہیں جن کی عمریں 70 سے زیادہ ہوں ان سے بات چیت سے ہمیں کافی معلومات مل بھی جاتی ہیں بعض کنفرم ہو جاتی ہیں۔
نوائے درویش:”لاہور کا کھوجی“ بننے میں کس طرح اور کس نے مدد کی؟
ج:تاریخ کے شوق اور آثار قدیمہ سے لگاﺅ کی وجہ سے 2009 میں انار کلی بازار کے فٹ پاتھ سے لاہور کے بارے میں ایک کتاب ملی، جو کہ لاہور کی تاریخ پر کام کرنے والی ایک این جی او کی طرف سے شائع کی گئی تھی، میں اپنے شوق کی خاطر اس کا باقاعدہ ممبر بنا، پھر اس میں ریسرچ کا کام شروع کر دیا اور اپنے طور پر لاہور کی مختلف عمارات اور تاریخ پر کام شروع کر دیا۔ پھر ایک سال بعد جب میرے استاد راﺅ جاوید اقبال کی لاہور کی تاریخ پر نئی کتاب آئی تو انھوں نے آٹو گراف میں میرے نام کے ساتھ لاہور کے کھوجی کا اضافہ کیا، تو مجھے اچھا لگا۔ اس کے بعد میں نے 2010 میں سوشل میڈیا پر یہی نام بطور تعارف پیش کیا۔ اپنے کام سے متعلق پرانے لاہور کی تصاویر اور معلومات کی پوسٹنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مجھے لاہور کا کھوجی کا نام دینے والے آج دنیا میں نہیںہیں۔ ان کے علاوہ میں اقبال قیصر صاحب کو اپنا استاد مانتا ہوں جو ہر مرحلے پر نا صرف مدد کرتے ہیں بلکہ اصلاح بھی کرتے ہیں۔ اقبال قیصر بھی تاریخ اور کھوج میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور عالمی شہرت یافتہ کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان کے علاوہ لاہور کے مورخین میں محمد نعیم مرتضی ، ایم آر شاہد ، ڈاکٹر غافر شہزاد ، ڈاکڑ انجم رحمانی ، کامل خان ممتاز ،ڈاکٹر اعجاز انور صاحب مجھے نا صرف معاونت فراہم کرتے ہیں بلکہ میرے کام کی تائید بھی کرتے ہیں۔ باقی میرے وہ دوست ہیں جو میرے تحقیق میں سفر کے دوران میرے ساتھ ہوتے ہیں یا میرے لئے معلومات جمع کرتے ہیں۔ باقی متعلقہ سرکاری ادارے تو ہمیں دیکھ کر اپنا تمام مواد تک چھپا لیتے ہیں کہیں کوئی معلومات ان کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔
نوائے درویش: لاہور کے متعلق کتنی کتابیںاور آرٹیکلز لکھ چکے ہیں ؟
ج:میں نے لکھنے کا آغاز 2012 سے شروع کیا تھا جب میں ”روزنامہ پاکستان “کے بچوں والے صفحے پر لکھا کرتا تھا۔اس کے بعد بہت جلد ہی میرے اساتذہ کی شفقت سے میری تحریر پختہ ہوتی گئی۔پھر میں ”روزنامہ وقت “کے سنڈے میگزین کے لئے دو سال تک لکھا۔اس دوران روزنامہ جناح ، روزنامہ دنیا ، روزنامہ آن ریکارڈ بعض ہفت روزے اور ماہناموں میں بھی میری تحریریں شائع ہوئیں۔اب تک 500کے قریب میرے مضامین اردو میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ روزنامہ اجیت امرتسر اور The Heritage Archive magazine جو دہلی سے شائع ہوتا ہے ، اور انٹرنیشنل جنرل میںمیرے کافی مضامین شائع ہوئے ہیں جن کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ کتاب لکھنا تو جان جوکھوں کا کام ہے ہی لیکن اس کے بعد کتاب کی تیاری اور اس کی اشاعت تک کے مراحل جان لیوا ہیں۔پہلے طویل مطالعہ اس کے بعد متعلقہ مقامات کی آوارہ گردی ا ±ن کو ڈھونڈنا پھر مطالعہ پھر تصویر سازی ان سے متعلقہ امور ، واقعات کی جانچ ، نئی معلومات جمع کرنے کے بعد کتابت اور اغلاط کی درستی سے لیکر اشاعت تک ایک طویل دورانئے کے صبر آزما اور تکلیف دہ مراحل ہوتے ہیں جو کہ کئی بار لکھنے والے کو آئیندہ کسی تصنیف سے بد ظن کر دیتے ہیں۔لیکن کسی بھی کتاب کے قارئین کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی ہی کسی بھی مصنف کو آئندہ لکھنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ میں نے اب تک ایک کتاب نواب وزیر خان اور ان کی یادگاریں فکشن ہاﺅس والوں کی ہے۔ اس کے علاوہ میری دو کتابیں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے سرکاری بجٹ میں شائع کی تھیں۔ لیکن باقی تین کتابیں میں نے خود اپنی فاﺅنڈیشن کے نام سے پرنٹ کروائیں۔ جس کے تمام اخراجات چند دوستوں کی مدد اور اپنی جیب سے مکمل کئے۔پاکستان میں کسی بھی نئے لکھاری کی پبلشر تک رسائی بہت مشکل ہے۔ پھر اس کے بعد پبلشر وں کے ناز نخرے ، اپنی من مانیاں سہنا بھی حوصلے والوں کا کام ہے۔ لکھاری بیچارہ اپنی تحریر کے چھپ جانے کی خوشی میں یہ سب کچھ برداشت بھی کرتا ہے۔
نوائے درویش: وقت کے ساتھ ساتھ لاہور بدل گیا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیںگے؟
ج:ترقی بہت ضرور ی عمل ہے کسی بھی معاشرے میں اگر ترقی نہ ہو تو وہ جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔جس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ لاہورمیں ترقی ضرور ہوئی ہے اور ہونی چاہئے لیکن اپنی تاریخ ، ورثے اور پنی اقدار کی پامالی عمل میں لا کر نہیں کرنی ایسی ترقی۔ بلکہ ان تمام قدروں کی حفاظت کے ساتھ جدت ہونی چاہیے۔ حکومت کے کئی منصوبہ جات لاہو رمیں جاری ہیں جن کے باعث لاہور کے مناظر یکسر تبدیل ہوکر رہ گئے ہیں۔ جہاں ایک طرف عوام کا مالی نقصان اور پریشانی اٹھانا پڑی اس کے ساتھ ہی شہر کی خوبصورتی اور قدرتی مناظر بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ اگر صرف گریٹر اقبال پارک پراجیکٹ کو ہی دیکھا جائے تو کتنی بار منصوبے میں تبدیلی کی گئی اس کا صاف مطلب ہے منصوبہ ساز ناقص ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ اورنج لائن ٹرین بنا رہا۔جس نے شہر کی خوبصورتی کو متاثر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخی عمارت کو بھی شدید خطرات لا حق ہوئے ہیں۔
نوائے درویش:’لاہور“کا کھوجی“ ایک مکمل جاب ہے یا آپ کچھ اور بھی کرتے ہیں؟
ج:”لاہور کا کھوجی“۔۔۔۔ اگر میں صرف اس پیشے سے وابستہ رہتا تو شاید آج دو وقت کا کھانا بھی نہ ملتا۔ لیکن میں نے اپنے گذارا کرنے کے لئے ٹیچنگ کو اپنا پیشہ بنایا۔ میں پارٹ ٹائم مختلف اداروں میں پڑھاتا ہوں۔جس سے میں نوجوانوں میں اپنی تاریخ اور ورثے سے محبت کا میٹھا زہر بھی ڈال رہا ہوں لیکن اس کے علاوہ پنجاب گورنمنٹ کے ادارہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی میں ریسرچ آفیسر کے طور پر اپنی خدمات پیش کر چکا ہوں، ادارے کی طرف سے شائع ہونے والے مواد اور لٹریچر کا سب تحقیقی و تحریری مواد میں ہی فراہم کرتا تھا۔ اس کے علاوہ بڑے تعلیمی ادارے پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی،  LUMS اور کچھ دیگر اداروں کے طلبہ اپنے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے کے لئے مواد اور معاونت حاصل کرتے ہیں۔ جس میں تحریری مواد کے علاوہ پرانی تصاویر بھی ہم فراہم کرتے ہیں۔ جس کا ہم معاوضہ لیتے ہیں۔لیکن میں نے اپنا شوق بھی پیشے سے بڑھ کر پورا کیا ہے۔
نوائے درویش: کیا لاہور کے علاوہ بھی دیگر شہروں کوتلاش کیا ہے؟
ج:جی ابتدامیں میرا دائرہ کار صرف لاہور تک ہی تھا لیکن میں نے دیکھا لاہور سے باہر بھی انتہا قسم کا تاریخی ورثہ پڑا ہوا ہے تو مجھے لگا کے یہاں کے مقامی لوگوں کے پاس ایسے مواقع نہیں شاید جس بنا پر وہ ان کو بچا سکیں یا آواز اٹھا سکیں۔تو میں نے اپنا دائرہ کار پنجاب تک بڑھا لیا۔ میں نے اب تک پنجاب کے 28 ضلع جات کی تحقیق مکمل کر لی ہے۔جس میں تمام تاریخی مقامات اور آثار کو جمع کیا ہے اس پر ایک جامع کتاب شائع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ میں نے گوجرانوالہ کے لوگوں کو جمع کر کے گوجرانوالہ ہیر یٹیج فاﺅنڈیشن بنائی ، اس کے بعد جہلم ہیر یٹیج فاﺅنڈیشن بنائی اور میں ان کا چیف پیٹرن ہوں۔ اس طرح باقی شہروں پر بھی کام جاری ہے۔ جن میں خصوصا اوچ شریف ، چنیوٹ اور دیپالپور قابل ذکر ہیں۔
نوائے درویش: نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیںگے؟
ج:آج کل نوجوانوں کی تر جیحات بہت زیادہ بدل چکی ہیں۔ پہلے نوجوان طبقہ کھیل کے میدان میں نظر آتا تھا جہاں انکی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صلاحیتیوں کو بھی جلا ملتی تھی۔لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ اب انٹرنیٹ اور جدید موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر زنگ لگا دیا ہے۔میرا پیغام ان نوجوانوں کے لئے ہے جو اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں کہ جیسے آپ کی پہچان آپ کے علاقے سے ہوتی ہے ویسے ہی علاقے اور سر زمین کی پہچان بھی وہاں سے جنم لینے والے افراد سے ہوتی ہے۔ اپنی زمین کی تاریخ ،اس کی اہمیت اور یہاں کے تاریخی آثار ہمارا ایک اثاثہ اور پہچان ہوتے ہیں ان کی معرفت رکھنا بہت ضروری ہے۔ ان جگہوں کی سیر کر نی چاہئے اور ان کی بارے میں معلومات جمع کر کے دوسروں سے بھی شئیر کرنی چاہیئے۔اپنے تاریخی آثار سے پیار کیجئے اور اس کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔
نوائے درویش: لوگ اور حکومت کیسے مل کر ثقافتی ورثے کی حفاظت کرسکتے ہیں؟
ج:دنیا بھر میں ساری اقوام و قبیلے اپنے ورثے کو بچانے کی کوشش میں ہیں اور ہم سے کافی زیادہ اچھی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں بد قسمتی سے ہم اس میدان میں بھی کافی پیچھے ہیں۔ہمیں تو ابھی یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارا نظریہ حیات ،رہن سہن کے طریقے ہمارا ادب ،ہماری روایات ، فن تعمیر ، سوچ کے انداز ،ہمارا لباس ،میل جول ،طور طریقے ہماری ثقافت ہے اوریہ ہماری پہچان ہوتی ہے انکا تحفظ ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔دنیا کے تمام مہذب معاشرے اپنے آباﺅ اجداد کے ورثہ کو عزیز رکھتے ہیں۔بد قسمتی سے ہم نے بھی ساری زمہ داری سرکاری اداروں کے سر تھوپ رکھی ہے۔ اگر حکومتی ادارے نہیں بھی کرتے یا ناکام رہتے ہیں ہم با شعور اور اپنے ورثے سے محبت کرنے کا ثبوت دیتے ہوئے مندرجہ زیل اقدامات کر سکتے ہیں۔ یادگاریں، تاریخی عمارات اور میوزیم و غیرہ کا دورہ کرنا۔ کسی ورثاتی جگہ پر رضا کارانہ طور پر کام کریں ، اپنے علاقائی کھیل کی تقاریب جا کر دیکھیں اور کھیلیں، ورثہ کے بارے میں آرٹیکلز لکھیں، بانٹیں یا پھر پڑھیں۔ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ورثہ کی اہمیت کے متعلق بات کریں۔ اگر ممکن ہو تو یادگاروں کی بحالی کے کام کا جائز ہ لیں۔معلومات جمع کر کے اپنے طور پر اس کے نوٹس تیار کر لیں۔
اگر بات کریں حکومتی اداروں کی تو کام تو جتنا بڑھے بڑھانا چاہئے، لیکن کام توجہ اور وسائل ہوں تو بڑھتا ہے، جب آپ کے پاس فنڈز ہوںاور دلچسپی ہو تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔حکومتی سطح پر مندرجہ زیل اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ جوکہ مندرجہ زیل ہیں۔اخبارات میں آرٹیکلز اور میگزین کے ساتھ ساتھ ٹیلیوژن اور ریڈیو پر نشریات کا انتظام کریں۔شہروں کی شاہراہوں پر بینرز لٹکانا یا ایسی جگہوں پر جہاں رش ہوتا ہے جن پر دن کی آگاہی ہو اور ثقافتی ورثہ کی بحالی کا ذکر ہو۔قومی اور بیرونی ماہرین اور شہرت یافتہ لوگوں کو لیکچرز ، کانفرنسز اور انٹرویوز کیلئے دعوت دینا۔ثقافتی اداروں، سٹی ہالز اور دیگر عوامی جگہوں میں جا کر ورثے کے بارے میں گفتگو کا انعقاد کرنا۔ ان اداروں یا لوگوں کے لئے انعامات کی تقسیم ممکن بنانا جنہوں نے ورثے کے تحفظ کیلئے بہت اہم کردار ادا کیا ہو۔ ان لوگوں کے لئے اعزازی سرٹیفیکٹ یا ایوارڈز کا اجر کرنا۔ جنہوں نے ثقافتی ورثہ کے فروغ کیلئے بہترین مضمون یا تصنیف لکھی ہو۔سکول کے بچوں اور جوانوں میں خاص آگاہی کی سرگرمیاں منعقد کرنا۔اور ورثے سے متعلق اسباق کو نصاب کا حصہ بنانا۔تحفظ و آگاہی ورثہ کے فروغ کے لئے چند تنظیموں کے درمیان، انکے تعاون کے ساتھ سپیکرز کا تبادلہ، میٹنگ اور سیمینار کا انعقاد یا پھر مشترکہ اشاعات کی ترمیم کرنا شامل ہیں۔











Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts