تم تو کہتے تھے
تم تو کہتے تھے تمہیں مجھ سے محبت ہے میاں!
یہ محبت ہے؟ کہ حدت نہ شدت ہے میاں!
رقص طاءوس کی طرح دل میں بھنور پڑتے ہیں
یہ جو تعلق ہے ہمارا ' فقط مروت ہے میاں!
غیر کی فطرت ہے کہ پیدا کرے وسوس و وہم
اس پہ شک کرنا تو محبت میں بدعت ہے میاں!
کیا کہیں گے زمانے کو کہ بچھڑے کیوں ہیں؟
تم کو مجھ سے' مجھے تم سے نسبت ہے میاں!
اشک آنکھوں میں' زخم دل میں' کسک باتوں میں
ہر زمانے میں محبت کی یہی اجرت ہے میاں!
(شاعر: نعمان ساغر ۔ غیر مطبوعہ کلام سے اقتباس)







No comments:
Post a Comment