فیصلے
کی گھڑی قریب؟
معاشرے
میں خوف کی فضا،ایک گھٹن سی ہے،
ہربندے کی سوچ اپنی ذات تک محدود ہے
اثبات کی جانب قدم اٹھانے کی ہرکسی کی خواہش توہے مگرکوئی یہ قدم اٹھانے میں پہل کرتاکم ہی نظرآتاہے
ہرکوئی
خوف اورگھٹن کے ماحول کادائرہ توڑنے
کاخواہش مندتو ہے مگر چاہتاہے توقدم اٹھانے کاحوصلہ دوسراہی کرے،اس خوف،انتشاری کیفیت
اورمثبت سوچ کو عملی قدم کی صورت دینا کیے ممکن ہے؟یہی ملین ڈالرسوال ہے۔
زمانے
کی جدت اور خاص طورپر کورونا کی وباکے بعد سے ٹیکنالوجی کے فروغ سے کاروباری زندگی
کی ہیئت ہی بدل چکی ہے۔ پراڈکٹس کی فروخت کے لیےبڑے بڑے شورومز لاکھوں روپے کرائے
کی دکانوں میں سجانے کی بجائے ان کی آن
لائن نمائش اور کمپین ٹرینڈز بن چکے ہیں۔ وہ وقت بھی آچکاہے کہ آن لائن ٹیچرز،ڈاکٹرز
،وکلا،آن لائن مکینکس،پلمبر،الیکٹریشن اوردیگرماہرین بھی دستیاب ہیں۔ شورومزوالوں
نے اپنی پیچ اوراپنی ویب سائٹس بنالی ہیں۔
ان
حالات میں میڈیا کی بات کی جائے تو میڈیا پروفیشنلز کارجحان بھی اب اپنے چینلز،اپنے پیجز اور اپنی ویب
سائٹس کی جانب ہوگیاہے۔ پھر چینلز مالکان
بھی ہواؤں کارخ اور معاشرتی رجحان دیکھ کر اپنے چینلز کوسوشل میڈیا پربھی لارہے ہیں۔
یہ رجحان،یہ چلن معاشرتی سوچ پربھی اثرانداز ہواہے۔ آن لائن ایکسپوژرکے ذریعے
ہرکوئی اپنےروز مرہ مصروفیت اپنے مشاہدات،اپنے تجربات اور اپنے عمل کو آن
لائن لے کرآرہاہے۔ جس کامعاشرے پرفرق یہ
پڑاہے کہ بات بتانے،اپنی دانست میں خدائی خدمت کرنے والوں کی تعداد قارئین،ناظرین
اورسامعین سے زیادہ ہورہی ہے۔
میڈیا
کے بڑے بڑے اینکرز،رپورٹرز اور ادارتی عمل کاحصہ بننے والے اپنے اپنے چینلز شروع
کرتے اور جاننے والوں سے لائیک اورسبسکرائب کرنے کاکہتے ہیں۔اب لگتاہے کہ یہ ریکوئسٹ
بھیجنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لگ ایسے رہاہے کہ ہرکسی کو اپنے اپنے
قاری،اپنے اپنے سامع اور اپنے اپنے اپنے ناظرزیادہ کرنے کی فکرہے۔ قاری ،سامع اور
ناظرکی اہمیت کچھ یوں بڑھی ہے کہ وہ صاحب اختیار لگنے لگاہے۔ اس کاجی چاہے تو کسی
کی تحریر پڑھے،جی چاہے تو کسی کی آوازسنے اور جی چاہے تو کسی کی ویڈیولائیک کرے۔
ٹی وی کاریمورٹ کنٹرول بھی افراد کے
ہاتھوں میں آگیاہے۔
افراد
کو کوئی اوراہمیت دے یا نہ دے میڈیا میں افراد کو اہمیت دینے کاٹرینڈچل پڑاہے۔ہرکسی
کو اپنے قدردان چاہئیں،ہرکسی کو پذیرائی چاہئے۔ ایسے میں عام آدمی ہی سب کا سافٹ
ٹارگٹ ہے۔ مگرکیا کیاجائےعام آدمی تو خوف کی فضا اورمعاشرتی گھٹن کے احساس سے
دوچارہے، وہ اپنی ذات سے بڑھ کرکچھ اورسوچنے سے ڈررہاہے،وہ اثبات کی جانب قدم
بڑھاناچاہتاہے مگر غیرمحفوظ ہونے کے احساس نے اسے بزدل بنادیاہے۔ اگروہ اس خوف اورگھٹن ،اپنی ذات کے حصار اورغیرمحفوظ
ہونے کے احساس سے کچھ آگے بڑھ کرسوچے تو حقیقت یہ ہےکہ وہ میڈیا کے کرداروں کے لیے
اہم ہے۔ میڈیا کا پہلا ہدف عام آدمی ہے اور اگرعام آدمی چاہے تو میڈیا کو اپنی
طاقت بنالے۔ وہ قاری،سامع اور ناظربننے کااپنااختیار تواستعمال کرسکتاہے۔ وہ چینلز
بدلنے کے لیے ریموٹ کنٹرول کوتواپنی مرضی سے استعمال کرسکتاہے۔
یہی
وہ اختیار ہے جو عام آدمی میں بتدریج اپنا مثبت کرداراداکرنے کے لیے حوصلہ پیداکرسکتاہے۔
وہ چاہتے توکسی کی تحریرپڑھے چاہے تو کسی اور تحریر کی طرف چلاجائے،چاہے توکسی کی
بات سنے یاان سنی کردے۔ وہ چاہے تو اپنے کمپیوٹریاموبائل پر لائک اورسبسکرائب کرنے
کی ریکسوئسٹ پرکان دھرے نہ دھرے۔ یہ سب کچھ ہرکوئی کرسکتاہے۔ریکوئسٹ اس کی ایک کلک
پرہوتی ہے۔ہرکوئی اپنی ایک کلک کے اختیارکی طاقت کااحساس کرے تو ملک میں 24کروڑ سے
زیادہ افراد ہیں۔
کروڑوں
افراد ایک ایک اوردوگیارہ کافارمولاکوسمجھیں
اورایک کلک کی طاقت کے اختیارکے اجتماعی شعور کامظاہرہ کریں تو معاشرے کی بہت سی
قباحتیں اجتماعی سوچ کی ایک کلک پرہیں۔ اپنے اختیار کی ایک کلک ،اپنے اختیارکامثبت
استعمال،اپنے مفاد کے لیے اجتماعیت ناممکنات میں نہیں۔ مگرسوال اس سوچ کوعملی جامہ
پہنانا کس نکتے پر امکانات کی راہیں کھولے گا۔ وہ نکتہ ہے اپنا مفاد۔ کیا اپنی
بہتری کے لیے ایک کلک پرنہیں آیاجاسکتا؟میڈیا اور سوشل میڈیا کولائیک کی ایک کلک
کے لیے اپنے مفاد سے مشروط کردیاجائے تو ریکوئسٹ بھیجنے والے قاری،سامع اورناظر کی
خواہش کی طرح اپنے مفاد کے لیے بھی اپنی آواز معاشرے کی اجتماعی آواز میں ملانے
پرمجبورہوں گے۔
قومی
اجتماع سوچ اور مفاد کے نکتے کی اہمیت کامشن ہمارے دیارغیرکے ایک ساتھی کے دل کی
آواز ہے جو چاہتاہے کہ اجتماعی تبدیلی کاعمل
اس نکتے سے شروع ہوناچاہئے کہ عام ہویاخاص اپنی ایک کلک کواپنے قومی مفاد
سے مشروط کردے اور ہردوسرافردبھی کم ازکم اپنے مفاد اور قومی مفاد میں اس کی آواز
ملادے تومثبت تبدیلی کاسفرشروع ہوجائے گا۔ ذاتی
اورملکی مفاد کایہ عمل بتدریج ترقی کرے اور قومی سطح پرجائے تو کوئی وجہ نہیں
کہ قوم کی تقدیرافراد کے ہاتھوں میں نہ آئے اور وہ ملکی مقدرکاستاہ نہ بن جائے۔
نوٹ : یہ بلاگر کی
ذاتی رائے ہے اس سے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں ہے







No comments:
Post a Comment